
Gilgit Baltistan Tourism.
@GBTourism_ • 135,851 subscribers
1st Iconic Tourism Platform of Gilgit-Baltistan | Pakistan’s 2nd Largest Tourism Account on X | Showcasing Original GB Beauty.
Shorts
Videos

گلگت بلتستان کی سیاحت کے لیے ایسے لوگ ناسور ہیں! یہ گلگت بلتستان کا وہ علاقہ ہے جہاں اٹلی سے آئے سیاحوں پر ایک مقامی شخص ہاتھ میں ڈنڈا لیے چڑھائی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بظاہر وجہ صرف یہ ہے کہ جس مقام پر یہ سیاح کھڑے ہیں، وہاں کوئی باقاعدہ ٹکٹ نہیں، مگر جناب کو زبردستی ٹکٹ کے نام پر پیسے لینے ہی لینے ہیں۔ سیاح حضرات، خصوصاً غیر ملکی مہمانوں سے مقررہ فیس کے علاوہ کسی بھی قسم کے ایکسٹرا چارجز وصول کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ اگر کسی مقام پر سرکاری فیس مقرر ہے تو اس کی باقاعدہ رسید اور واضح طریقۂ کار ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کو ڈنڈا لے کر سیاحوں سے زبردستی رقم وصول کرنے یا انہیں ہراساں کرنے کا اختیار ہو۔ ہمارے گلگت بلتستان کی ٹورزم کے لیے ایسے لوگ ناسور ہیں۔ ایک فرد کی ایسی حرکت نہ صرف غیر ملکی سیاحوں کو برا تاثر دیتی ہے بلکہ پورے گلگت بلتستان کی سیاحتی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ مقامی لوگوں اور گلگت بلتستان حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں، بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور قانون کے مطابق قرارِ واقعی سزا دی جائے۔ سیاح ہمارے مہمان ہیں، انہیں عزت، تحفظ اور خوشگوار ماحول دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ سیاحت کے نام پر زبردستی وصولی اور بدتمیزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔
Gilgit Baltistan Tourism.88,667 görüntüleme • 10 gün önce

کل گلگت بلتستان میں پہاڑ کی چوٹی سر کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والی آسمہ قیصر کی یہ ویڈیو ملاحظہ کیجیے، شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔ 💔 سکائی سر کو سر کرنا بھی آسمہ کی ایک خوبصورت خواہش تھی جو آخرکار پوری ہوئی مگر اس سفر میں آسمہ قیصر اپنے چھوٹے بھائی کو بہت یاد کر رہی تھی شاید اسے بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ سفر اس کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا زندگی واقعی بہت بے یقینی کا نام ہے کسی کو نہیں معلوم اگلا لمحہ کیا لے کر آئے گا کچھ خواب پورے ہو جاتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنی منزل تک پہنچ کر بھی اپنوں کو ہمیشہ کے لیے اداس کر جاتے ہیں
Gilgit Baltistan Tourism.81,170 görüntüleme • 11 gün önce

گلگت سے تاوبت کشمیر تک نئی سڑک۔۔ تاریخ کا ایک نیا باب، مگر ترقی کے نام پر کہیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی یہ سرسبزی ختم نہ ہو جائے۔۔۔ گلگت سے تاوبت کشمیر تک بننے والی نئی سڑک بلاشبہ ایک اہم اور تاریخی منصوبہ ہے، جو گلگت بلتستان، منی مرگ، گریز اور تاوبت کے درمیان رابطے، سیاحت اور مقامی ترقی کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ لیکن اس خوبصورت منصوبے کے ساتھ قدرتی ماحول کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دینا ہوگی۔ تصویر میں جس سرسبز و شاداب علاقے سے سڑک گزاری جا رہی ہے، وہی اس خطے کی اصل خوبصورتی اور قدرتی دولت ہے۔ سڑک کی تعمیر کے دوران اگر درختوں، جھاڑیوں اور قدرتی سبزے کو بے دریغ ختم کیا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ترقی کی یہ سڑک ہمیں ہماری قدرتی خوبصورتی سے ہی محروم کر دے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعمیراتی کام کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کا باقاعدہ نظام بھی بنایا جائے، غیر ضروری درختوں کی کٹائی روکی جائے، جہاں ممکن ہو سڑک کا ڈیزائن قدرتی ماحول کے مطابق رکھا جائے اور تعمیر کے بعد متاثرہ علاقوں میں دوبارہ شجرکاری کی جائے۔ سڑکیں بننی چاہئیں، ترقی بھی ہونی چاہیے، لیکن ایسی ترقی جو قدرت کو تباہ کرنے کے بجائے قدرت کے ساتھ چلنا سکھائے۔۔۔ گلگت بلتستان سے آزاد کشمیر کے خوبصورت علاقے تاوبت تک نئے روڈ کی تعمیر کا آغاز ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ سڑک نہ صرف گلگت بلتستان اور کشمیر کے درمیان زمینی رابطے کو مزید مضبوط کرے گی بلکہ وادیٔ منی مرگ، گریز اور تاوبت جیسے قدرتی حسن سے مالا مال علاقوں کو بھی ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں نئی سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ جہاں کبھی صرف پیدل راستے اور انتہائی مشکل سفری گزرگاہیں تھیں، وہاں آج مشینری پہاڑوں کو کاٹ کر ایک نئے سفری راستے کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ یہ منصوبہ صرف ایک سڑک کی تعمیر نہیں بلکہ سیاحت، تجارت، روزگار اور مقامی ترقی کے نئے دروازے کھولنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے درمیان یہ رابطہ مکمل ہونے کے بعد مقامی آبادی کے لیے سفری سہولیات بہتر ہوں گی اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو ان حسین وادیوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی۔ منی مرگ اور گریز کے سرسبز پہاڑ، بلند چوٹیاں، قدرتی مناظر اور تاوبت کی خوبصورتی پہلے ہی اپنی مثال آپ ہیں۔ اگر اس پورے روٹ کو جدید اور محفوظ سفری سہولیات سے جوڑ دیا جائے تو یہ خطہ پاکستان کے اہم ترین سیاحتی روٹس میں شامل ہو سکتا ہے۔ گلگت سے تاوبت تک یہ راستہ صرف فاصلے کم نہیں کرے گا، بلکہ دو خوبصورت خطوں کو مزید قریب لائے گا اور مستقبل میں پورے خطے کی معاشی و سیاحتی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے
Gilgit Baltistan Tourism.35,511 görüntüleme • 10 gün önce
0:46
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

کالام ویلی کی ایک منفرد اور پراسرار شخصیت فردوس اپنی حیران کن خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔ ذہنی طور پر وہ شدید عدم استحکام کا شکار ہے، لیکن جسمانی طاقت ایسی رکھتا ہے کہ لوگ اسے دیومالائی قوت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک وقت میں اتنا کھانا کھا لیتا ہے جو تقریباً پچاس افراد کے لیے کافی ہو۔ سخت سردیوں میں، جب درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے بھی نیچے چلا جاتا ہے، وہ بغیر کپڑوں کے کھلے آسمان تلے رات گزارتا ہے اور روزانہ برفانی گلیشیئر کے یخ پانی میں نہاتا ہے۔
Gilgit Baltistan Tourism.93,283 görüntüleme • 2 ay önce

منظر واقعی تشویشناک ہے۔ گلگت بلتستان سیلابی ریلے کے دوران گلیشیئر کی برف اتنی زیادہ بہہ رہی ہوتی ہے کہ اگر آپ ہاتھ پانی میں ڈالیں تو برف کے ٹکڑے آپ کے ہاتھ میں آ جاتے ہیں۔جُوچر نالہ، گلمت گوجال (ہنزہ) میں بھی ایسا ہی منظر دیکھنے میں آیا جو گلیشیئرز کی بڑھتی ہوئی سرگرمی اور ممکنہ
Gilgit Baltistan Tourism.47,047 görüntüleme • 29 gün önce

گلگت میں سیاح نے گاڑی سے کچرا سڑک پر پھینکا، اور جب راہگیر نے قریب رکھی ڈسٹ بن استعمال کرنے کا کہا تو سیاح موصوف کا غرور دیکھیے کہنے لگے کہ "یہ روڈ تمھارے باپ کا ہے جو منع کرتے ہو۔نوجوان نے بھی کمال خودداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے وہی کچرا اٹھایا اور واپس ان کی گاڑی میں پھینک دیا۔ شاباش ہے ایسے باشعور نوجوان کو! صفائی صرف حکومت کی نہیں، ہم سب کی ذمے داری ہے۔ اپنے خوبصورت سیاحتی مقامات کو کوڑے دان مت بنائیں
Gilgit Baltistan Tourism.22,353 görüntüleme • 14 gün önce

ہنزہ گلگت بلتستان کی مہمان نوازی کی ایک خوبصورت مثال ❤️ ایبٹ آباد سے آئی ایک سیاح فیملی ہنزہ کی سیر کے دوران دوپہر تقریباً 2 بجے غلکین گاؤں میں پانی کے چینل (نالے) کے کنارے بیٹھی تھی کہ اچانک گاڑی کا ریموٹ تیز بہاؤ میں گر گیا۔ پانی کا بہاؤ اتنا شدید تھا کہ ریموٹ کا ملنا تقریباً ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔ مگر غلکین کے نوجوان ہمت نہ ہارے۔ انہوں نے دوپہر 2 بجے سے رات 3 بجے تک برفیلے گلیشیئر کے ٹھنڈے پانی میں مسلسل تلاش جاری رکھی۔ ادھر مہمان اپنی گاڑی اور واپسی کے حوالے سے شدید پریشان تھے۔ گلگت سے مکینکس بھی بلائے گئے، لیکن گاڑی نئے ماڈل کی ہونے کی وجہ سے بغیر اصل ریموٹ کے مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ آخرکار ایبٹ آباد سے مکینک بلانے کا سوچا جا رہا تھا۔ اسی دوران گاؤں کے نوجوانوں نے ایک بار پھر تلاش شروع کی، اور اللہ کے فضل سے جہاں ریموٹ گرا تھا، وہاں سے تقریباً 600 میٹر دور وہ مل گیا۔ یہ کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری برادری کے جذبۂ خدمت اور مہمان نوازی کا ثبوت ہے۔ گلگت بلتستان میں مہمان کو صرف سیاح نہیں بلکہ اپنے گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے۔ ایسے بے شمار واقعات یہاں روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں، اور یہی وہ خوبصورت روایت ہے جس پر ہمیں ہمیشہ فخر رہے گا۔ سلام ہے غلکین کے ان نوجوانوں کو، جنہوں نے ثابت کیا کہ گلگت بلتستان کی مہمان نوازی صرف ایک روایت نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافت ہے۔ ❤️
Gilgit Baltistan Tourism.57,762 görüntüleme • 1 ay önce

کوہستان کے اس پہاڑ پر اگر پتھر مارا جائے تو عجیب سا دھماکہ نما ردِعمل سامنے آتا ہے۔ یہ قدرت کا ایک پراسرار منظر ہے، جس کی اصل وجہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہم صرف دیکھ سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں، کیونکہ قدرت کے بہت سے راز آج بھی انسان کی سمجھ سے باہر ہیں.. ویڈیو ملاحضہ کیجیے۔۔
Gilgit Baltistan Tourism.175,562 görüntüleme • 7 ay önce

🚨 سکردو میں ایک سیاح کا غیر ذمہ دار رویہ! بشوویلو (سلطان آباد سے اوپر) میں ایک سیاح کی گاڑی خراب ہوئی۔ مقامی مکینک پہاڑ پر گیا، گاڑی ٹھیک کی، خود پرزے لایا، 70,000 روپے خرچ آیا۔ سیاح نے وعدہ کیا کہ سکردو پہنچ کر پیسے دے گا — لیکن اگلے دن پتہ چلا کہ وہ “جگلوٹ روڈ” کی طرف فرار ہو چکا ہے۔ مقامی مکینک کی محنت اور ایمانداری کا یہ صلہ ملا؟ 🙏 سیاحوں سے گزارش ہے: گلگت بلتستان کے شریف لوگوں کی دیانتداری کا غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ یہ لوگ دن رات محنت کرتے ہیں، صرف آپ کی مدد کے لیے۔ 📢 جس سیاح نے یہ حرکت کی ہے، برائے مہربانی فوراً واجب الادا رقم ادا کرے
Gilgit Baltistan Tourism.266,211 görüntüleme • 1 yıl önce

آج کل گلگت شہر میں جگہ جگہ پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ افراد خود کو پنجاب کے مختلف علاقوں کا رہائشی بتاتے ہیں۔ بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ بھیک مانگنا ان کا خاندانی پیشہ ہے اور گرمیوں کے موسم میں یہ گلگت کا رخ کرتے ہیں۔ شہریوں کے مطابق ایسے گروہوں کی موجودگی کے ساتھ چوری، منشیات کی خرید و فروخت اور دیگر جرائم کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماضی میں بھی بعض ایسے گروہوں پر اغوا سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ لہٰذا گلگت بلتستان پولیس سے گزارش ہے کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے، مکمل تحقیقات کرے، قانون کے مطابق کارروائی کرے، اور اگر کوئی فرد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Gilgit Baltistan Tourism.36,393 görüntüleme • 1 ay önce

جو لوگ اعتراض کرتے کہ امام حسین علیہ سلام اور آل پہ مسلمان آج تک روتے کیوں ہے۔۔ ان کے لیے شام غریبان کی ایک منطر کشی کی گئی جب کے یہ صرف کچھ لوگ ہے کربلا میں 9 لاکھ یزیدی فوج تھی جب کہ اہلبیت ع کئ صرف عورتیں اور بچے رہ گے تھے🥹 #عاشورہ #شام_غریبان
Gilgit Baltistan Tourism.42,329 görüntüleme • 2 ay önce

Spring 2023 Majesty ♥️🌸 Stunning View of Mehdiabad Kharmong, Skardu Gilgit Baltistan 🇵🇰
Gilgit Baltistan Tourism.484,523 görüntüleme • 3 yıl önce

گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایسا منظر بہت کم دیکھنے کو ملا ہے۔ اب آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح یہ آبی بلا مچھلی کو پکڑ کر کھا رہا ہے۔ 🦦🐟 قدرت کا ایک نایاب اور دلکش منظر، جو گلگت بلتستان کی جنگلی حیات کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔ 📍 Gilgit Baltistan 🇵🇰
Gilgit Baltistan Tourism.115,705 görüntüleme • 7 ay önce

پاکستان کی وہ جگہ جہاں دریائے لداخ اور دریائے کرگل آپس میں ملتے ہیں! آج میں آپ کو گلگت بلتستان کی ایک ایسی جگہ دکھا رہا ہوں جسے شاید بہت کم لوگوں نے دیکھا ہوگا۔ ضلع کھرمنگ کے گاؤں مرول (Merol) میں وہ دلکش مقام موجود ہے جہاں دریائے لداخ اور دریائے کرگل ایک دوسرے سے آ ملتے ہیں۔
Gilgit Baltistan Tourism.26,026 görüntüleme • 1 ay önce

الحمدللہ! بروقت کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ آج ناران کے قریب سیاحتی مقام دھم دھمہ میں دریائے کنہار کے ساحل پر ایک ویگو ڈالا اچانک دریائے کنہار کی نذر ہو گیا۔ گاڑی میں سوار چار نوجوان شدید خطرے میں پھنس گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریور رافٹنگ ایسوسی ایشن کے بہادر اور تربیت یافتہ نوجوانوں نے فوری طور پر ریسکیو بوٹ دریا میں اتاری اور پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاروں نوجوانوں کو بحفاظت بچا لیا۔ ان کی بروقت کارروائی کی بدولت ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔ تمام آنے والے سیاح بھائیوں سے گزارش ہے کہ دریائے کنہار کے کنارے غیر ضروری طور پر گاڑی لے جانے یا خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ دریا کا بہاؤ کسی بھی وقت اچانک تیز ہو سکتا ہے، اس لیے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسافروں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ریور رافٹنگ ایسوسی ایشن کے بہادر نوجوانوں کو ان کی اس عظیم خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔ محفوظ سیاحت، خوشگوار سیاحت۔ ❤️
Gilgit Baltistan Tourism.37,101 görüntüleme • 2 ay önce
2:04
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

حال ہی میں فحاشی پھیلانے کے الزام میں ایک ٹک ٹاکر سیاح کو سکردو بدر، گلگت بلتستان بدر کیا گیا تھا۔ آج وہی ٹک ٹاکر سوشل میڈیا پر دوبارہ اعلان کر رہی ہے: “اب میں سکردو آؤں گی، دلہن کے روپ میں، نکاح کے لیے… روک سکتے ہو تو روک لو!” یہ اعلان حقیقت ہے یا صرف شہرت کا کھیل؟ 🤔 سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو چکی ہے
Gilgit Baltistan Tourism.98,293 görüntüleme • 7 ay önce