Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

This week, we deepened U.S.-Pakistan ties through economic engagement, innovation, and education. From Islamabad to Karachi, Peshawar, Punjab, and Sindh, our diplomatic engagements are strengthening security and prosperity for Americans and Pakistanis day by day. Take a look at this week's highlights. #Freedom250 اس ہفتے ہم نے معاشی شعبہ...

17,125 views • 6 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

Here are the latest highlights in the U.S.-Pakistan relationship. President Trump and Vice President Vance recognized Pakistan’s continued leadership, diplomacy, and statesmanship during U.S.-Iran negotiations. Here in Pakistan, Pakistan-U.S. Alumni Network hosted a masterclass on e-commerce and digital trade to spur innovation and we also highlighted entrepreneurship in the arts at our recent showcase – both part of our #Freedom250 celebration. And as the World Cup continues – GO TEAM USA! 🇺🇸 #USAinPakistan امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق تازہ ترین خبریں۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ-ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی مسلسل قائدانہ صلاحیت، مؤثر سفارت کاری اور دانشمندانہ کردار کو سراہا۔ پاکستان-امریکہ المنائی نیٹ ورک (پی یو اے این) نے ای کامرس اور ڈیجیٹل تجارت پر ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا تاکہ نوجوانوں اور کاروباری افراد کو نئے مواقع اور جدت کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں، ہماری فریڈم 250 تقریبات کے تحت فنونِ لطیفہ کے شعبے میں ابھرتے ہوئے کاروباری اور تخلیقی افراد کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اور آخر میں، ورلڈ کپ کا جوش و خروش جاری ہے۔ امریکی ٹیم کے لیے نیک تمنائیں۔

U.S. Embassy Islamabad

11,537 views • 1 month ago

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان اورچین کی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کی بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور چینی کمپنیوں کے مابین فارما سیوٹیکلز کے شعبے میں 44کروڑ ڈالرسے زائد مالیت کے 9معاہدوں کا خیرمقد م کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی نجی کمپنیوں کے مابین اشتراک سے پاکستان میں فارما سیوٹیکلز کے شعبوں کو ترقی ملے گی، چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست اور اس کی معاشی و تزویراتی ترقی دنیا کےلئے ایک مثال ہے،چینی شہریوں کی سلامتی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء، معاونین خصوصی اور اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ پاکستان میں چین کے سفیر اور ملکی و چینی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ وزیراعظم نے کانفرنس کے انعقاد اور اس میں چینی و پاکستانی سرمایہ کاروں کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی فارماسیوٹیکلز کمپنیوں کے مابین 44کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے علاوہ وفاقی وزیر صحت ، معاون خصوصی برائے صنعت وپیداوار، پاکستان میں چین کے سفیر اور چین میں پاکستان کے سفیر کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ معاہدے عملی شکل اختیار کریں گے۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہرمشکل گھڑی میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، چین نے تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی حمایت کی ، سی پیک ون کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ۔ وزیراعظم نے چین کی غیرمتزلزل حمایت پر چینی قیادت کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ وژنری لیڈر ہیں جنہوں نے چینی معاشرے اورمعیشت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ انہوں نے چینی ترقی کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی ترقی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ وزیراعظم نے چینی عوام کی تعلیم ، ریسرچ و ڈویلپمنٹ سمیت ہر شعبے میں بے مثال محنت اور کارکردگی کو بھی سراہا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ فارماسیوٹیکلز کی ترقی اور سرمایہ کاری کےلئے آج بڑا موقع ہے ، دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے مابین مینوفیکچرنگ ، ویکسین کی تیاری اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں اشتراک سے فارماسیوٹیکلز کے تمام شعبوں میں ترقی ہوگی ۔ وزیراعظم نے خطے میں حالیہ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران نے دنیا بھرکےلئے بڑے مسائل پیدا کردیئے ہیں ، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی میں اہم کردار ادا کیا جس کےلئے چین سمیت دوست و برادر ممالک نے بھرپور تعاون کیا ، صدر شی جن پنگ نے بہت خلوص سے ان کوششوں کی بھرپورحمایت کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے ہونے ہونے والی’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ میں پاکستان ثالث ہے ۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ان کا کردار یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے عالمی رہنمائوں سے رابطے کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند ، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ وزیراعظم نے چین سے 300وفود کی فارماسیوٹیکلز کانفرنس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی ہمارے لئے سب سے اہم ہے، اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا، چینی شہری ہمارے مہمان ہیں، ان کی خوشی ہماری خوشی ہے۔ کانفرنس میں پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان فارماسیوٹیکل سے متعلقہ شعبوں کے حوالے سے 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے جن میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ہیپاٹائٹس سے بچائو سے متعلق معاہدے شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام کے حوالے سے تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا۔

Prime Minister's Office

16,363 views • 22 days ago

اسلام آباد: 17 جولائی 2026۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے "اُڑان اوورسیز پاکستان سمر اسکالرز پروگرام" کے اسکالرز کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی. اسکالرز وزارتِ منصوبہ بندی و ترقیات کے تحت پاکستان کو درپیش مسائل پر تحقیق کے لیے چھ ہفتوں کی انٹرن شپ کر رہے ہیں. وزیرِ اعظم نے دنیا کی ممتاز جامعات میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کا پاکستان میں انٹرنشپ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا. وزیرِ اعظم نے اسکالرز کو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر بریفنگ دی اور انکے سوالات کے جوابات دیے. گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ قومی ترقی میں نوجوانوں کا کلیدی کردار ہے. پوری دنیا میں آج پاکستانی طلباء و طالبات ملک کا نام روشن کر رہے ہیں. ماضی میں جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا تھا تب ہنگامی معاشی اصلاحات کے ذریعے استحکام کا حصول ممکن ہوا. جامع اصلاحات میں ایف بی آر کی ڈیجیٹائز یشن اور محاصل میں اضافہ، کاروبار میں آسانی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، زرعی شعبے کی ترقی، نوجوانوں کو بااختیار بنانا، قابل تجدید توانائی کا فروغ اور پائیدار معاشی ترقی سمیت اصلاحات شامل ہیں. مؤثر انفورسمنٹ اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال کے دوران ایف بی آر نے 800 ارب روپے سے زائد اضافی محصولات جمع کیں. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات کا مقصد مضبوط، خود کفیل اور برآمدات پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھنا ہے. فیلڈ مارشل کی قیادت اور قوم کی بھرپور حمایت سے پاکستان نے مئی 2025 میں بھارت کو شکست دی. امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ رکوانے میں پاکستان کی ثالثی کا کردار پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے. پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) طے پائی، جو عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے. وزیرِ اعظم نے اسکالرز پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور عالمی تجربے کو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لائیں۔ اجلاس میں طلباء و طالبات نے مختلف شعبوں میں بہتری کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا. اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی, وزیر مملکت برائے قومی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیحہ قمر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Prime Minister's Office

11,445 views • 22 days ago

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو میں شرکت میرے لئے باعث مسرت ہے،اس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے،یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا،آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی،اس جہت نے اکیڈمیا، انڈسٹری، سٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ وزیراعظم نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں ،زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت،موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے،آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے،آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے،فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز سو فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں،ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے، معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا،معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابراور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شاندار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں،ٹیکنالوجی کی ترقی اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا،دفاعی شعبے میں شاندار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا،دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں،بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہئے، کسانوں کی حالت بہتر ہو،چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والے خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے۔محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لئے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہئے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا جس کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جائے گا اس سے کاروبار کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے۔وزیراعظم نے 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ روزگار میں بدلیں گے،دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کے محتاج نہیں بلکہ اپنی تقدیر خود لکھیں گےانتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لئے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔ تقریب میں آمد پر وزیراعظم کو جامع بریفنگ بھی دی گئی اور تقریب میں راس انڈس ایکسپو سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

Prime Minister's Office

23,895 views • 17 days ago

وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس خطاب کیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار استقبال اور بھرپور میزبانی پرصدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے استنبول کو خوبصورت شہر اور مشرق و مغرب کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام ایک دوسرے سے گہری محبت اور وابستگی رکھتے ہیں ۔ دونوں کے درمیان قلبی تعلق ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ترکیہ کی جنگ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں نے بھرپور حمایت کی اور ماؤں بہنوں نے اپنے زیورات تک عطیہ کردیے ۔ یہ منفرد تعلق مشترکہ عقیدے، ثقافت، تاریخ، باہمی اخوت اور قربانیوں کی بنیاد پر استوار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک شاندار تاریخ ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیا۔ جنگ ہو یا زلزلہ ، قدرتی آفات ہوں یا سیلاب، ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ مظفر گڑھ اور سیلاب سے متاثرہ دوسرے علاقوں میں ترکیہ کی مدد تاریخ کا حصہ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان خود اپنی اہلیہ کے ہمراہ سیلاب متاثرہ مظفر گڑھ آئے اور ترک صدر کی اہلیہ نے اپنے گلے کا ہار تک متاثرین کیلئے عطیہ کردیا ،ان کے اس عمل نے پاکستان کے عوام کے دل جیت لیے۔ وزیر اعظم نے قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں جدید ہسپتال اور سکولز قائم کرنے اور سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ترکیہ کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم فخر کرتے ہیں کہ پاکستان اور ترکیہ یک جان دو قالب ہیں۔ مولانا جلال الدین رومی اور علامہ اقبال کی فکر ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ کی تمام شعبوں میں بے مثال ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ترکیہ کے ساتھ اپنی دوستی پر فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی ٹو بی فورم میں ترکیہ کی کاروباری شخصیات سے اہم نشست ہوئی۔ صدر اردوان کے ساتھ جامع اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ ہم نے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری میں اضافے پر گفتگو کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم دوطرفہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے عالمی و علاقائی تنازعات پر دونوں ممالک کے مشترکہ مؤقف اور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف رکھنے پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابی ترکیہ کی کامیابی اور ترکیہ کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور ترکیہ کی شراکت داری کو نئی جہت دینی ہے۔ قبل ازیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ان کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ انہوں نے بلوچستان میں گزشتہ روز حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد امن مفاہمتی یادداشت سے پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے. ترک صدر نے اس سلسلے میں کاوشوں پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترکیہ نے بھی اس کیلئے اپنا تعاون فراہم کیا۔ اور خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ترکیہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ترکیہ کے صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور امن اور خوشحالی کے لئے کوششوں کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے امن ، ترقی اور خوشحالی کےلئے پاکستان کے اقدامات کو قابل ستائش قرار دیا۔ ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی انتظامیہ امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہی ہے اور اپنی سیاسی بقا کیلئے کشیدگی کو ہوا دی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے تجارت ، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافے سے متعلق گفتگو کی۔خصوصی اقتصادی زونز کے حوالےسے متعلقہ وزارتیں قریبی روابط جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ انہوں نے دفاعی تعاون، توانائی، آئی ٹی، ٹرانسپورٹیشن اور منرلز سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں ترکیہ کی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

Prime Minister's Office

14,865 views • 1 month ago

اعلامیہ تحریک تحفظ آئین پاکستان تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ایک اہم سربراہی اجلاس زیرِ صدارت محمود خان اچکزئی، قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی، منعقد ہوا۔ اجلاس میں علامہ راجہ ناصر عباس (قائد حزب اختلاف سینیٹ)، سلمان اکرم راجہ (سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف)، بیرسٹر گوہر خان (چیئرمین پاکستان تحریک انصاف)، فردوس شمیم نقوی (ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی)، صاحبزادہ حسن رضا(سربراہ سنی اتحاد کونسل)، سید زین شاہ (سربراہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی) ، ساجد خان ترین (سینئیر راہنما بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل)، محمد زبیر (سابق گورنر سندھ)، مصطفی نواز کھوکھر، ڈاکٹر عمار علی جان (چیئرمین حقوق خلق پارٹی، حسین احمد یوسفزئی (ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اور خالد یوسف چوہدری (وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان ) شامل تھے۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، علاقائی حالات بالخصوص ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، بلوچستان کے حالات، آئندہ احتجاجی حکمت عملی، اور عمران خان کے ساتھ جاری ناانصافی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین اس پر مکمل عملدرآمد کریں گے، جس سے خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ایران کے ساتھ ساتھ لبنان، شام اور غزہ کے مسائل کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ تحریک نے عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے چین میں منعقدہ پاکستان افغانستان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا اور علاقائی ترقی اور امن و امان کے کے لئے پڑوسیوں سے سنجیدہ مکالمہ اور بات چیت ہی سب سے بہترین راستہ ہے۔ تحریک تحفظ آئین کا مؤقف جنگ کے بجائے مذاکرات، قومی سلامتی اور علاقائی امن کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کسی بھی تنازع کا حل فوجی تصادم نہیں بلکہ بامعنی مکالمہ ہے۔ اجلاس میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملکی سیاست میں مکالمے، قانون کی حکمرانی اور مفاہمت کو فروغ دے، کیونکہ عوامی رائے کا احترام ہی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ داخلی بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔ بلوچستان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ جاری آپریشن فوری طور پر بند کیے جائیں، اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں اور پرامن جمہوری ماحول بحال کیا جائے۔ اس ضمن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت اور کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید برآں بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف مقدمات کے خاتمے اور صوبے کے وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کو روکنے پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے اقدام کا خیر مقدم کیا گیا اور سپریم کورٹ آف پاکستان و اسلام آباد ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام مقدمات، ضمانتوں اور ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے اور جیل میں قید قائد تحریک انصاف کی وکلاء، اہلِ خانہ اور سیاسی رفقاء سے ملاقاتوں کو فوری بحال کیا جائے اور اڈیالہ جیل حکام عمران خان کے سپریم کورٹ کے لئے قانونی دستاویزات جلد مکمل کروائیں۔۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان آئین کی بحالی، سیاسی قیدیوں بشمول عمران خان کی رہائی اور عوام کو معاشی ریلیف دینے کے مطالبات کے حق میں 25 اپریل کو ملک گیر ضلع وائز جلسے منعقد کیے جائیں گے۔ شرکاء نے اسیر راہنما سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا ، ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ ، علی وزیر ،صمد وزیر کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی اور ان کی جلد رہائی کی مطالبہ کیا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے۔ اجلاس میں عمران خان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ یکم مئی کے موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان ملک بھر میں محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالے گی اور معیشت کی بحالی کے لیے متبادل اقتصادی ایجنڈا پیش کرے گی۔ ملک کی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مہنگائی نے غریب، کسان اور مزدور طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس سلسلے میں کسانوں اور مزدور تنظیموں کو متحد کر کے مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا گیا۔ تحریک نے تنظیمی سطح پر پنجاب اور سندھ میں صوبائی کمیٹیوں کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ پنجاب میں تنظیم سازی کی ذمہ داری ڈاکٹر عمار علی جان جبکہ سندھ میں سید زین شاہ کو سونپی گئی۔ اجلاس میں 20 مئی 2025 کے مبینہ “مورو کیس” میں گرفتار کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا گیا اور سندھ میں دفعہ 144 کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ عوام کو پرامن سیاسی سرگرمیوں اور اظہار رائے کی آزادی حاصل ہو سکے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام، عوامی حقوق کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہر مثبت اقدام میں قومی مفاد کو مقدم رکھے گی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

18,323 views • 4 months ago

بلوچستان اور خیبر میں ہم کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست اور حکومت ایک پالیسی کے تحت ایک دفاعی جنگ اپنی سرحدوں کے اندر لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ‌۔۔۔ جبکہ پوری دنیا سے دہشت گردوں کی قیادت اور سپلائی لائن محفوظ ہے ‌۔‌ ہم زمین پر ان کے چند کتے مار بھی دیتے ہیں تو اس تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے پاس مزید ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد موجود ہیں اور ان کی سپلائی لائن افغانستان بھارت متحدہ عرب امارات، ایران اور اسرائیل کے ذریعے کھلی ہوئی ہے۔۔۔ ان کی قیادت یورپ میں محفوظ ہے۔ ہم کو اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر دشمن پر ضرب لگانی ہوگی۔۔ ہم افغانستان میں جا کر چھوٹی موٹی بمباری کر دیتے ہیں مگر کام مکمل نہیں کرتے۔ لندن میں اور یورپ میں ان دہشت گردوں کی پوری قیادت کھل کر اس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔۔۔ ہم ان کو واپس کیوں نہیں لا سکے؟ کوئی سرکاری طور پر مطالبہ بھی نہیں کیا گیا برطانیہ سے اور سوٹزرلینڈ سے کہ اس قیادت کو ہمارے حوالے کیا جائے ‌۔۔ ہم نے بھارت کے اندر ابھی تک کیوں نہیں جواب دیا؟ خالصتان کی تحریک اور کشمیر کی تحریک ازادی کو کیوں نہیں بھڑکایا؟ افغان طالبان کی قیادت کو ابھی تک قتل کیوں نہیں کیا؟ افغان طالبان کے مخالف دھڑوں کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کی؟ ان کو بلائیں اسلام اباد میں ان سے کہیں اپنا دفتر کھولو ہم کھل کر تمہاری مدد کریں گے۔۔ طالبان کو تو ویسے بھی دنیا میں کوئی پسند نہیں کرتا۔۔‌ ہم کلبوشن یادیو کو ابھی تک پنجرے میں بند کر کر چھپا کر کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ دشمن کا اتنا بڑا مہرہ ہماری قید میں ہے اس کو ہم پوری دنیا کے سامنے تماشہ کیوں نہیں بناتے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے؟ نہ ہم ابلاغی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم عسکری جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم سیاسی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں ‌۔۔ نہ کوئی ہمارا مرکزی لیڈر ہے جو سامنے ا کر ان دہشت گردوں کو جواب دے اور قومی بیانیہ بنائے۔۔۔ جبکہ فضلو جیسے حرام خور مسلسل ریاست اور فوج پر حملے کر رہے ہیں۔۔۔ اس جنگ میں اگر ہمارا نقصان ہو رہا ہے تو اپنی نااہلی کوتاہی غفلت اور خیانت کی وجہ سے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ دشمن بہت ہوشیار ہے۔۔ اس لیے کہ اپنی صفوں میں غداری اور خیانت ہے۔ کوئی سیاستدان ذمہ داری لینا نہیں چاہتا مگر ملک پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔۔ کیا زرداری نواز شریف یا کسی اور بڑے سیاستدان نے بی ایل اے اور جہنم کے کتوں کے خلاف سٹینڈ لیا؟ صرف ریاست اور فوج کو گالی دیں گے کہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔۔ اس سے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ ان جہنم کے کتوں اور دہشت گردوں کو معاف کر دیں اور ان کے خلاف اپریشن بن کر دیں۔ موجودہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے۔ ہمیں جارحانہ انداز میں اگے بڑھ کر ہما جہتی پالسی بنانی ہوگی جیسا ہم بتا رہے ہیں ‌۔ بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہم کو ایک ہی غلطی دہراتے ہوئے اور یہ توقع کرتے ہوئے کہ نتیجہ اپ کی دفعہ مختلف نکلے گا۔۔۔ اسی کو پاگل پن کہتے ہیں۔ صرف اس سال کے چھ مہینوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہمارے افسر اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔۔ اب چپ رہنے کا وقت نہیں ہے۔۔ مصلحت کا وقت نہیں ہے۔۔ زمین پر کتوں کے خلاف فوجی اپریشن کرنے سے یہ دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔۔۔ اپ کو بہت اوپر سے شروع کرنا پڑے گا۔۔۔ ان کے سیاسی سہولت کار ان کے میڈیا میں سہولت کار ان کے مولویوں میں سہولت کار ان کے عالمی دہشت گرد ریاستوں میں سہولت کار۔۔۔ ان سب کو تو ہم نے ہاتھ ہی نہیں ڈالا اب تک۔۔۔ صرف روز اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور لگتا ہے جیسے سب اس پر راضی ہیں۔۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ہزاروں شہید ہو گئے ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں۔۔۔ جمہوریت تو چل رہی ہے۔ سیاست دانوں کے پیٹ تو بھر رہے ہیں۔۔۔ فضلو کو بھونکنے کی اجازت ہے۔۔اس کا مطلب ہے سب اچھا ہے۔ ☹️

اللہ کے بندے۔۔۔

15,381 views • 18 days ago

پوری دنیا لمحہ بہ لمحہ کا حال جاننا چاہتی تھی میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو جانتے ہیں کہ اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہفتے کی صبح دو بجے سے اتوار کی صبح آٹھ بجے تک جو ہوا اس پر تو Netflix کی International Thriller بن سکتی ہے اس دوران ہوٹل عملا” تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا ایک حصہ امریکا کے وائس پریزیڈنٹ JD Vance اور امریکی delegation کے پاس تھا ایک حصے میں ایرانی لیڈرشپ اور درجنوں ماہرین پر مشتمل ایرانی ماہرین براجمان تھے اور ایک حصے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ڈپٹی پرائم منسٹر اسحٰق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی اور دوسرے پاکستانی حکام کے ساتھ امریکی اور ایرانی وفود کے جذبات احساسات اور نکات کے سمجھنے سمجھانے میں مصروف تھے باقی تفصیلات کسی اور موقع کے لئے محفوظ کرتے ہیں بہر حال امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں طویل مذاکرات کے باوجود فوری معاہدہ نہ ہو سکا لیکن اہم بات یہ ہے کہ باخبر زرائع پر امید ہیں کہن بات چیت کا عمل جلد وہیں سے شروع ہوگا جہان سے ٹوٹا تھا ان باخبر ذرائع کے مطابق دونوں مذاکراتی فریقوں کے درمیان اب بھی ایک خاموش اور غیر اعلانیہ سمجھوتہ موجود ہے کہ 7 اپریل سے شروع ہونے والی 15 روزہ جنگ بندی ہر صورت 21 اپریل تک برقرار رکھی جائے گی اور اس دوران کسی نئی عسکری کارروائی یا کشیدگی سے گریز کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد اپنی “Best and Final Offer” ایران کے سامنے رکھ چکا ہے جبکہ تہران کے باضابطہ جواب کا انتظار جاری ہے۔ اگرچہ مذاکرات میں فوری breakthrough نہیں آیا لیکن صدر ٹرمپ کی بھی truthSocial پر پوسٹس اشارہ کررہی ہیں کہ سفارتی دروازے بدستور کھلے ہیں اور ماحول مکمل collapse کی طرف نہیں گیا۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایران امریکی پیشکش قبول کرے گا یا 21 اپریل کے بعد خطہ ایک بار پھر خطرناک موڑ لے سکتا ہے؟مکمل تجزیے کیلئے نیچے موجود YouTube link پر کلک کیجیے۔

Kamran Khan

44,741 views • 3 months ago

اب فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے جج اپنی عدالتی حیثیت کو مجروح کر چکا ہے ہم عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ہیں عدلیہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ اگر اس کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے دو چار جج قربان ہوجائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسلام میں عدل و انصاف کا معیار ہے بندیال صاحب آپ کو پارلیمنٹ کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ہتھوڑا گردی نامنظور تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ اگر سیاست کرنی ہے تو اس بلڈنگ سے باہر آ پتہ چل جائے گا اس بازار میں آپ کی قیمت کیا ہے، ہم کہتے ہیں کہ کہاں وہ جتھہ وہ دہشت گرد تحریک انصاف کا دہشت گرد ،میں کہتا ہوں کہ ساری پولیس ہٹ جائے ہم اس عمارت کی حفاظت کریں گے اس عمارت کے تحفظ اور وقار پر سودا نہیں کیا جاسکتا۔ 2018 کے انتخابات میں ننگی دھاندلی ہوئی تو ہم میدان میں نکلے اور پھر یہ نہیں دیکھا کہ کوئی جنرل ناراض ہوتا ہے،اس وقت اسی جگہ مظاہرہ کیا لیکن کوئی سومو ٹو ایکشن نہیں لیا گیا جب آزادی مارچ کیا اور پندرہ لاکھ لوگ شریک ہوئے تو آپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی آج جب نکے کے ابا نے اس سے ہاتھ اٹھا لیا تو آپ اس کا ابا بننے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ کو اس کا ناجائز ابا تسلیم نہیں کیا جائے گا ہم نے ہمیشہ غلامی کی زنجیریں توڑی ہیں اور آج بھی غلامی کی زنجیریں توڑنا جانتے ہیں چیلنج کرتا ہوں اس ایک مہینہ میں کتنا مس کنڈکٹ کیا ہے اپنی عدالت۔ وزیر اعظم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا اگر تم نے حکومت پر ناجائز ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو پارلیمان وزیر اعظم کا تحفظ کرے گی اور تمھیں پریشانی ہوگی تحفظ کی جگہ نہیں ملے گی۔ 60۔ارب کی کرپشن کا مجرم جبکہ اس کے خلاف ریمانڈ دیا جا چکا ہے کیا اس کو کبھی ضمانت ملی ہے امریکی کانگریس کے اندر ایک یہودی جو فرینڈز آف اسرائیل کمیٹی کا چیئرمین ہے وہ بھی آرمی چیف کے خلاف ہے سی آئی اے سبکدوش افغان نژاد امریکی ایجنٹ بھی اور عمران بھی آرمی چیف کے خلاف ہے تکلیف کیا ہے ان کو کیا اس وجہ سے تکلیف نہیں کہ وہ حافظ قرآن ہے ۔ عمران خان بلا وجہ فوج کو نشانہ نہ بناؤ آرمی چیف سنیارٹی کی بنیاد پر آیا ہے ۔ جی ایچ کیو پشاور لاہور کور کمانڈرز کے گھروں قلعہ بالا حصار میانوالی کی ائیر بیس پر حملوں اور شہداء کی یادگاروں کو اکھاڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہو گی ۔ عدالتیں مجرموں کو تحفظ نہ دیں ۔ کیا کسی جج کی تربیت میں فرق رہ گیا ۔ ہر ناجائز بات کو دستور کے مطابق قرار دے رہے ہیں ۔ چیف جسٹس سن لو یہ دستور ہم نے ہی بنا کر آپ کے پاس بھیجا ہے جس قانون کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہو وہ ہمارے ہاں سے بن کر گیا ہے ۔ آپ جانتے اور ہم نہیں جانتے ۔ پاکستان میں یہودی لابی نہیں چلے گی اسرائیل کو تسلیم کرنے اور قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان بنانے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آئین کی اسلامی حیثیت کا مکمل تحفظ کیا جائے گا ۔ عمران خان نے امریکی وساطت سے مودی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہوئے اسے کشمیر کی حیثیت سے متعلق شق 370 ختم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ پاک فوج نظریہ پاکستان اور خارجہ پالیسی کی صحیح سمت میں تحفظ کر رہی ہے پہلے بھی فوج کے شانہ بشانہ رہے ہیں آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ نظر آئیں گے ۔ باجوہ کو بھی کہا تھا کہ احساس کرو صحیح سمت نہیں ہے ملک پر مشکل وقت آیا تو یہ یوتھیے اور تتلیاں نہیں ہمارے یہ جانباز کام آئیں گے ۔ جرنیلوں ، ججزوں ، امریکا ہو یورپی یونین ہو بھارت ہو سب کے سامنے حق بات بولیں گے آج عمران خان کے پرتشدد واقعات اور حملوں کے حوالے سے بھارتی فوج میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور بھارتی فوج کہہ رہی ہے بھارت کا بھائی عمران خان سب سے پیارا عمران خان ۔ دشمن خوشیاں منا رہا ہے کہ عمران خان نے پاکستان کا ستیاناس کر دیا ۔ پاک فوج ملک کو متحد رکھنے کی طاقت ہے جو فوج کو کمزور کرے گا ایسا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہو گا اور عمران خان اسی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ۔ جب عوامی قوت شاہراہ دستور پر آ گئی تو ججز کے تیور بدلے ہوئے تھے اور ایک ہفتے کے لیے کیس چھوڑ کر چلے گئے ۔ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے یہ مجمع پھر آئے گا اب دو تین کے نوٹس پر آیا ہے پھر ایک دن کے نوٹس پر اس سے دگنا آئے گا جو گھروں میں رہ گئے ہیں وہ بھی آئیں گے ۔ پھر جھنڈے لہرائے جائیں گے عوامی عدالت لگی ہے عوامی فیصلے ہوں گے کسی اور کے فیصلے نہیں چلنے دیں گے ۔
33:11

Sensitive content

اب فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے جج اپنی عدالتی حیثیت کو مجروح کر چکا ہے ہم عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ہیں عدلیہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ اگر اس کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے دو چار جج قربان ہوجائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسلام میں عدل و انصاف کا معیار ہے بندیال صاحب آپ کو پارلیمنٹ کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ہتھوڑا گردی نامنظور تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ اگر سیاست کرنی ہے تو اس بلڈنگ سے باہر آ پتہ چل جائے گا اس بازار میں آپ کی قیمت کیا ہے، ہم کہتے ہیں کہ کہاں وہ جتھہ وہ دہشت گرد تحریک انصاف کا دہشت گرد ،میں کہتا ہوں کہ ساری پولیس ہٹ جائے ہم اس عمارت کی حفاظت کریں گے اس عمارت کے تحفظ اور وقار پر سودا نہیں کیا جاسکتا۔ 2018 کے انتخابات میں ننگی دھاندلی ہوئی تو ہم میدان میں نکلے اور پھر یہ نہیں دیکھا کہ کوئی جنرل ناراض ہوتا ہے،اس وقت اسی جگہ مظاہرہ کیا لیکن کوئی سومو ٹو ایکشن نہیں لیا گیا جب آزادی مارچ کیا اور پندرہ لاکھ لوگ شریک ہوئے تو آپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی آج جب نکے کے ابا نے اس سے ہاتھ اٹھا لیا تو آپ اس کا ابا بننے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ کو اس کا ناجائز ابا تسلیم نہیں کیا جائے گا ہم نے ہمیشہ غلامی کی زنجیریں توڑی ہیں اور آج بھی غلامی کی زنجیریں توڑنا جانتے ہیں چیلنج کرتا ہوں اس ایک مہینہ میں کتنا مس کنڈکٹ کیا ہے اپنی عدالت۔ وزیر اعظم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا اگر تم نے حکومت پر ناجائز ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو پارلیمان وزیر اعظم کا تحفظ کرے گی اور تمھیں پریشانی ہوگی تحفظ کی جگہ نہیں ملے گی۔ 60۔ارب کی کرپشن کا مجرم جبکہ اس کے خلاف ریمانڈ دیا جا چکا ہے کیا اس کو کبھی ضمانت ملی ہے امریکی کانگریس کے اندر ایک یہودی جو فرینڈز آف اسرائیل کمیٹی کا چیئرمین ہے وہ بھی آرمی چیف کے خلاف ہے سی آئی اے سبکدوش افغان نژاد امریکی ایجنٹ بھی اور عمران بھی آرمی چیف کے خلاف ہے تکلیف کیا ہے ان کو کیا اس وجہ سے تکلیف نہیں کہ وہ حافظ قرآن ہے ۔ عمران خان بلا وجہ فوج کو نشانہ نہ بناؤ آرمی چیف سنیارٹی کی بنیاد پر آیا ہے ۔ جی ایچ کیو پشاور لاہور کور کمانڈرز کے گھروں قلعہ بالا حصار میانوالی کی ائیر بیس پر حملوں اور شہداء کی یادگاروں کو اکھاڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہو گی ۔ عدالتیں مجرموں کو تحفظ نہ دیں ۔ کیا کسی جج کی تربیت میں فرق رہ گیا ۔ ہر ناجائز بات کو دستور کے مطابق قرار دے رہے ہیں ۔ چیف جسٹس سن لو یہ دستور ہم نے ہی بنا کر آپ کے پاس بھیجا ہے جس قانون کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہو وہ ہمارے ہاں سے بن کر گیا ہے ۔ آپ جانتے اور ہم نہیں جانتے ۔ پاکستان میں یہودی لابی نہیں چلے گی اسرائیل کو تسلیم کرنے اور قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان بنانے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آئین کی اسلامی حیثیت کا مکمل تحفظ کیا جائے گا ۔ عمران خان نے امریکی وساطت سے مودی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہوئے اسے کشمیر کی حیثیت سے متعلق شق 370 ختم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ پاک فوج نظریہ پاکستان اور خارجہ پالیسی کی صحیح سمت میں تحفظ کر رہی ہے پہلے بھی فوج کے شانہ بشانہ رہے ہیں آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ نظر آئیں گے ۔ باجوہ کو بھی کہا تھا کہ احساس کرو صحیح سمت نہیں ہے ملک پر مشکل وقت آیا تو یہ یوتھیے اور تتلیاں نہیں ہمارے یہ جانباز کام آئیں گے ۔ جرنیلوں ، ججزوں ، امریکا ہو یورپی یونین ہو بھارت ہو سب کے سامنے حق بات بولیں گے آج عمران خان کے پرتشدد واقعات اور حملوں کے حوالے سے بھارتی فوج میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور بھارتی فوج کہہ رہی ہے بھارت کا بھائی عمران خان سب سے پیارا عمران خان ۔ دشمن خوشیاں منا رہا ہے کہ عمران خان نے پاکستان کا ستیاناس کر دیا ۔ پاک فوج ملک کو متحد رکھنے کی طاقت ہے جو فوج کو کمزور کرے گا ایسا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہو گا اور عمران خان اسی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ۔ جب عوامی قوت شاہراہ دستور پر آ گئی تو ججز کے تیور بدلے ہوئے تھے اور ایک ہفتے کے لیے کیس چھوڑ کر چلے گئے ۔ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے یہ مجمع پھر آئے گا اب دو تین کے نوٹس پر آیا ہے پھر ایک دن کے نوٹس پر اس سے دگنا آئے گا جو گھروں میں رہ گئے ہیں وہ بھی آئیں گے ۔ پھر جھنڈے لہرائے جائیں گے عوامی عدالت لگی ہے عوامی فیصلے ہوں گے کسی اور کے فیصلے نہیں چلنے دیں گے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

134,497 views • 3 years ago

"شوکت خانم ہسپتال کراچی - ایک بچہ جس کی ماں کھو گئی ہو" آج اگر عمران خان صاحب آزاد ہوتے ' تو شاید شوکت خانم کراچی کو اپنی تکمیل کیلئے ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو اس وقت کرنا پڑرہا ہے - اس وقت شوکت خانم کراچی یتیم ہے - اس بچے کی مانند جس کی ماں کھو جائے اور اس کو صبح کے وقت سکول کیلئے تیار کرنے والا کوئی نہ ہو - اس بچی کی مانند جس کا باپ بے گناہ قید کردیا جائے اور اس کو گھر چلانے کیلئے سکول چھوڑ کر لوگوں کے گھروں میں کام کرنا پڑے - آج مجھے شوکت خانم کراچی ایسا ہی مجبور اور مغضوب نظر آتا ہے جو کب کا مکمل ہوچکا ہوتا اگر عمران خان ٹی وی پر آکر بس ایک ٹیلی تھون کردیتا - اس کے ایک دفعہ "إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ " کہنے سے لوگ اتنا ڈونیٹ کرتے کہ سارا خسارہ ختم ہوجاتا اور یہ نامکمل در و دیوار کب کے مکمل ہو کر بیمار انسانیت کیلئے شفا خانے بن چکے ہوتے - کاش ایک کینسر زدہ ماں شوکت خانم کی محبت میں اس کے بیٹے کی طرف سے شروع کی گئی اس کوشش میں حریف سیاست سے زیادہ انسانیت کرتے ' اور اس میں ہر اس ماں کا چہرہ دیکھتے جس کو کینسر نے وقت سے پہلا بوڑھا اور لاغر اور اس کے بچوں کو کمسنی میں مسکین اور لاوارث کر دیا ہے - پاکستان جیسے ملک میں جہاں 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے ' وہاں کینسر جیسے مرض کا پتا چلنا ہی اکثر اوسان کی موت کا سبب بن جاتا ہے - انسان ہمت ہار جاتا ہے کہ اس بیماری کے ٹیسٹ اورعلاج کیلئے جانا کہاں ہے ؟ چولہا روٹی تو ہوتا نہیں ؛ اس بیماری سے کیسے نمٹنا ہے جسکا اوسط خرچہ دس لاکھ روپے ہے - اس ملک میں جہاں کینسر سکریننگ کا کوئی رجحان نہیں ہے وہاں اکثر ایسے کینسر سٹیج سوم یا آخری سٹیج پر تشخیص ہوتے ہیں ' جس کا مطلب صرف سرجری نہیں بلکہ کیموتھراپی جیسا مہنگا علاج ہوتا ہے - ایسے میں انسان کی رہی سہی امید بھی دم توڑ جاتی ہے اور وہ اپنا علاج کرنے کا سوچنے کی بجاے جمع پونجی اولاد کیلئے چھوڑنے کا سوچنے لگتا ہے - ایسے ملک اور ایسی آبادی کیلئے شوکت خانم ہسپتال کسی نعمت سے کم نہیں ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے 75 فیصد مریضوں کا بالکل مفت کینسر علاج ہوتا ہے - 29 دسمبر 1994 کو جس شوکت خانم کی بنیاد عمران خان نے رکھی تھی آج اس کی تیسری برانچ تعمیرکے مرحلے میں ہے جہاں کراچی میں شوکت خانم ہسپتال بن رہا ہے جس کا سائز لاہور والے کیمپس سے دوگنا ہے - دس لاکھ سکیر فٹ پر محیط اس ہسپتال میں 288 کمرے ' کیموتھراپی کے 69 انفیوزن کمرے ' 47 آوٹ پیشنٹ کلینک' 16 آپریشن تھیٹر اور 24 آئ سی یو بیڈز ہیں جہاں کراچی کی دو کروڑ آبادی جس میں منہ اور آنت کے کینسر کی بڑی تعداد موجود ہے اس کے علاج کا انتظام کیا جارہا ہے - شوکت خانم ہسپتال اور ریسرچ سینٹر پاکستان کے ان تین ہسپتالوں میں سے ایک ہے جو امریکی ادارے "جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل " (Joint Commission International) Joint Commission Int سے منظور شدہ ہے - اس کے علاوہ آغا خان کراچی اور شفا ہسپتال اسلام آباد وہ ہسپتال ہیں جو اس کمیشن سے منظور شدہ ہیں - یہ سند اپنے آپ میں نہ صرف شوکت خانم کی کلینکل اور پیشہ ورانہ ایکسیلینس کی دلیل ہے بلکہ اس سے منظور ہونے کی شرایط میں مالی آڈیٹ بھی شامل ہے - یہ اس پروپیگنڈے کا جواب ہے جو پچھلے کئی سالوں سے وقتا فوقتا اس ہسپتال کے خلاف دیکھنے میں آتا ہے جہاں مخالفین اور انسانیت سے عاری لوگ سیاست کو انسانیت سے اس بے رحمی سے گڈ مڈ کرنے لگتے ہیں کہ جیسے ان کو خود اوپر والے نے یہ گارنٹی دے رکھی ہو کہ وہ خود یا ان کے پیارے کبھی کینسر جیسے مرض کا شکار نہیں ہونگے - کبھی کسی پی ٹی وی پر ایک نان میڈیکل اور غیر پروفیشنل اینکر بیٹھ کر کیموتھراپی پر غیر سائنسی اور غیر منطقی بات کرکے عمران خان کے بغض میں شوکت خانم کو نشانہ بناتا ہے اور کبھی اس ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کیلئے شہر میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں - ہوٹل بک نہیں ہونے دیے جاتے ' فنڈ ریزنگ ایونٹ نہیں کرنے دیے جاتے اور یوں روز کسی نہ کسی کینسر کے مریض کی جان سے کھیلا جاتا ہے جو شاید بچ جاتا اگر ان رکاوٹوں سے آج شوکت خانم کراچی کا یوں راستہ نہ روکا جاتا - میرے نزدیک آج عمران خان اور شوکت خانم کے خلاف جتنا پروپیگنڈا ہورہا ہے اس کا جواب اس کیمپین میں بڑھ چڑھ کر ڈونیٹ کرنا ہے - جب جب کوئی اینکر پی ٹی وی پر کسی شوکت خانم کے خلاف پروگرام کرے ' تب تب پاکستانیوں کو اس میں ڈونیٹ کرنا چاہیے - جب جب اس کے بانی پر کوئی کیس بنے ' تب تب عوام کو اس کے اس نیک مقصد کو اور آگے بڑھانا چاہیے ------ اسی مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے ہم اس ہفتے کولمبس اوہایو میں بروز 7 فروری شوکت خانم کراچی کیلئے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ منعقد کر رہے ہیں جس میں ہم ہر ایسے پروپیگنڈے کا جواب شوکت خانم کو عطیات دے کر کریں گے - میری اس کالم کو پڑھنے والے تمام ان لوگوں سے جو اوہایو میں رہنے والے ہیں ؛ ان سے گزارش ہے کہ وہ اس ایونٹ میں شرکت کریں - اور باقی لوگ شوکت خانم کی ویب سائٹ پر جاکر ڈونیٹ کریں تاکہ ہم کینسر زدہ انسانیت کو سیاست اور بغض سے بچا لیں - میرے نزدیک ہماری یہ کوشش انسان سے محبت ہے - ہماری یہ کاوش پاکستان سے محبت ہے - ہماری یہ کیمپین عمران خان سے محبت ہے - Event: 7th Feb 2026 at 6 pm at The Makoy-5462 Center Street, Hilliard, OH 43026 Link to Buy tickets: Link to donate to Shaukat Khanum

Dr Waqas Nawaz

37,514 views • 6 months ago

منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ عاصم منیر کا سالا محسن نقوی اور شریف-زرداری-اسٹیبلشمنٹ کرپشن نیٹ ورک تحریر پڑھنے سے پہلے مندرجہ ذیل ویڈیو اور تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔ گزشتہ دنوں آپ کو بتایا تھا کہ آئی ایس آئی کے معتبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈی جی ایکس میجر جنرل شہباز تبسم نے ڈی جی آئی جنرل ندیم انجم کو اطلاع دی ہے کہ آرمی چیف کے رائٹ ہینڈ مین، سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان سے امریکہ 16 ارب روپے سے زائد کی رقم بھجوائی ہے۔ یہ رقم مبینہ طور پر ایک بلین ڈالر کی گندم کی درآمد سے کمیشن کے طور پر حاصل کی گئی۔ ڈی جی آئی نے یہ معلومات اپنے بہت سے قریبی دوستوں کے ساتھ شیئر کی تھیں لیکن عاصم منیر کو اپنی کرپشن چھپانے اور اپنی نوکری بچانے کے خدشات کے باعث مطلع کرنے سے کتراتا رہا۔ "کوئی بھی ایجنسی اس رپورٹ کی تحقیقات کر سکتی ہے۔ ثبوت موجود ہیں۔" ذرائع نے دعویٰ کیا۔ پی ایم ایل این کے سپریمو نواز شریف سے منسلک پاکستانی میڈیا بھی گندم سکینڈل کی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ یہ گندم انوار الحق کاکڑ اور محسن نقوی وغیرہ کی پچھلی کٹھ پتلی حکومت میں درآمد کی گئی تھی جو موجودہ انتخابات میں دھاندلی سے پہلے فوجی جنتا نے لگائی تھی تاکہ عمران خان کو احتساب کے خوف سے اقتدار سے باہر رکھا جا سکے۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس میگا کرپشن سکینڈل میں آرمی چیف عاصم منیر اور اسکا خاندان مکمل طور پر ملوث ہے۔ محسن نقوی بھی عاصم منیر کا سسرالی رشتہ دار ہے۔ نیچے دیکھی جاسکتی تصویر میں وحیدز کراچی پر بیٹھے محسن نقوی کے ساتھ دھاگا کباب انجوائے کرتے حکومت سندھ کا وزیر علی حسن زرداری بیٹھا ہے جو رپورٹس کیمطابق آصف زرداری کا سندھ میں فرنٹ مین ہے اور سندھ میں کرپشن کا سارا پیسہ اس کے پاس جمع ہوتا ہے۔ نیچے شامل ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ کیسے یہ پیسہ ڈالرز میں تبدیل ہوتا ہے، جسے کراچی بیٹھے ملک بوستان جیسے آئی ایس آئی ٹاوٹس منی چینجر ڈالرز میں تبدیل کرتے ہیں اور پھر جو پیسہ پہلے فشریز ڈیپارٹمنٹ کی لانچز میں دوبئی جاتا تھا اب وہی پیسہ جیٹ طیاروں میں بیرونی ممالک جاتا ہے کیونکہ اس کھیل میں اب طاقتور جرنیل اور ادارے بھی شامل ہیں۔ مگر ڈالرز دوبئی پہنچنے کے بعد پوری دنیا میں محفوظ طریقے سے چھپانے کے لئے محسن نقوی جیسے منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ کی ضرورت تو پیش آتی ہی ہوگی نا۔۔۔ پانامہ پیپرز میں شریفوں کی منی لانڈرنگ پکڑے جانے کے بعد اسپیشلسٹ انٹرنیشنل وارداتیوں کی مزید ضرورت پڑی جو منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ بھی ہوں اور مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان پر اعتبار بھی کرتی ہو تاکہ دہشتگردی کے قوانین کی زد میں نا آیا جاسکے۔ اس منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا فائدہ پاکستان میں حرام کمانے والے تمام سیاستدان، افسران اور ادارے تک کررہے ہیں! شروع میں یہ کام غیر ملکیوں سے لیا گیا مگر ان کے ریٹ بے تحاشا ہیں اور نخرے الگ۔ اوپر سے وہ چھپائے گئے ڈالرز کے کنٹرول میں بھی ہوتے ہیں مگر ان پر پاکستانی حرامخوروں کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ ایسا کام کرنے کے لئے محسن نقوی جیسے پرزے سے موزوں بھلا کون ہوسکتا ہے؟ محسن نقوی کی دنیا کے منی لانڈرنگ کیپیٹل کمبوڈیا کے اعزازی سفیر لگنے سے اس رپورٹ کا براہ راست تعلق بتایا جاتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ محسن نقوی جسے زرداری اپنا بیٹا کہتا ہے، عاصم منیر اپنا سالا اور متعدد جرنیل اپنا دوست، کیا اقتدار تک منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ ہونے کی وجہ سے پہنچا؟ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کو محسن نقوی, زرداری، عاصم منیر اینڈ کمپنی کے لیے منی لانڈرنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے؟ محسن نقوی اور ویٹیکن بینک کے درمیان کیا تعلق ہے؟ محسن نقوی نے آئرلینڈ میں کن فنانشل کمپنیوں سے ملاقات کی اور کیا ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ لگایا؟ محسن نقوی پرائیویٹ جیٹ میں کیوں سفر کرتا ہے، اور اس کے طیارے میں سفارتی سامان کے بڑے بڑے بکسوں میں کیا سامان ہوتا ہے؟ ان سوالات کی تحقیق اور جواب میں سارا کرپشن کا کاروبار چھپا ہوا ہے جو چوری کا پیسہ ہے اور بقول اردھشیر کاوسجی "چور چوری کے بعد رسید نہیں چھوڑتا" مگر کھرا تو چھوڑتا ہے نا!

Adil Raja

186,413 views • 2 years ago

ہم اس ملک میں جنگوں کے متحمل نہیں ہیں۔ ذرا سوچو، خدا کے لیے — حکمران ہو تو ذرا سوچو۔ سن 1950ء سے لے کر امریکی قرضے لے-لے کر تم نے آج تک صرف ان کے قرضوں پر اپنی زندگی گزاری۔ آج تمہارا حشر کیا ہے؟ ہندوستان معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، چین ترقی کر رہا ہے، بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، افغانستان کی حالت ہم سے بہتر ہے، ایران ترقی کر رہا ہے — اور اس پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کس پالیسی کی وجہ سے ڈوب رہا ہے؟ تمہاری غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ تمہارے اندر خودداری نہیں ہے، تم فکری طور پر غلام ہو۔ تمہیں صرف اپنے قوم کے بچوں کو قتل کرنا آتا ہے، تمہارے اندر پاکستان کو ترقی دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج چین کا اعتماد اٹھ رہا ہے، خطے میں پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور افغانستان سے بھی لڑائی، ایران سے بھی لڑائی — کہاں گئی ہماری خارجہ پالیسی؟ پرامن خارجہ پالیسی کہاں گئی؟ پاکستان کے بقا و استقلال کی پالیسی کہاں گئی؟ پروپیگنڈوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ پروپیگنڈی کی زبان روک دو، جنگ کی زبان روک دو۔ میں افغانستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور پاکستان سے بھی کہہ رہا ہوں: افغانستان-پاکستان کی لڑائی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ ایک طرف ہم بھارت سے لڑیں، دوسری سرحد پر افغانستان سے لڑیں — ہم نے پاکستان کو کہاں کھڑا کر دیا ہے؟ جب ہم جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں تو صرف جنگ بندی کے لیے نہیں، زبان بندی کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولنا روکو، غلط پروپیگنڈے روکو۔ ایک کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”۔ ایک کہتا ہے “میں صرف دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”۔ ان چیزوں سے مقام نہیں بنتا۔ جمعیت علماءِ اسلام نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اس سفارتی کردار میں ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کام جو تمہاری پوری وزارتِ خارجہ نے حاصل نہیں کیا، ایک سیاسی جماعت نے حاصل کیا۔ جب تم نے الیکشن میں دھاندلی کی اور جمعیت علماءِ اسلام اپوزیشن میں بیٹھی تو بنی بنائی باتیں تمہارے ہاتھوں بگڑ گئیں۔ تمہارے اندر معاملات کو آگے بڑھانے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں۔ ہم آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کردار کے لیے سازگار ماحول درکار ہوگا۔ دنیا چاہتی ہے، امریکہ چاہتا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ افغانستان میں اسلام کیوں آیا، امارتِ اسلامیہ کیوں قائم ہوئی — ان کے پیٹ میں درد ہے۔ ہم نے بہت پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ جب کمیونسٹ آئے تو ہم نے مجاہدین کا ساتھ دیا؛ جب مجاہدین آپس میں لڑے تو ہم نے دوسرے مخالف کا ساتھ دیا؛ طالبان آئے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دیا؛ طالبان کے خلاف ہم نے کرزئی کا ساتھ دیا۔ ہم نے اڈے دیے، امریکہ کو اڈے دیے — اُن کے طیارے ہمارے فضائوں سے گزرے اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے۔ آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت ہے، قابض حکومت — کیوں؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا: ملا عمر بھی تو جنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا۔ آپ نے انہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے وہاں سفارتخانہ دیا اور یہاں بھی انہوں نے سفارتخانہ قائم کیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارتی معیار پر قائم رکھا — آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بحث نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں — پرامن ہوگا تو پھر پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی مسلح گروہ موجود ہیں، اور آپ جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے — نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر جنگ کا جواز فراہم کرنا اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ چالیس، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں: آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں — اس کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو، بیٹھ کر دوبارہ سوچو۔ میں اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں: دوسروں کا گلہ نہ کیا کرو، ذرا اپنے گھر کی صفائی بھی کر لو۔ کہیں تم اپنے اندر گھس بیٹھے ہوئے مسائل کو نہیں دیکھ رہے تو بس حالات ایسے ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ امکان افغانستان میں بھی ہے، اور یہاں بھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور یہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دو ممالک امن میں نہیں رہے تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے ہاں ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ پھر سے شروع ہو۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

23,884 views • 9 months ago

جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔ اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔ میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔ (چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں) میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں "پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔ جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔ میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔ Shah e Rawan نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔ ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔ اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔ اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔ صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔ اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔ ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔ شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔ اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔ حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت اپنے ایک پاو گوشت کے لیے عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔ یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔ حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ویسے۔۔ان کا یار امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔ پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔ کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔ (اسد آر چوہدری) Nawaz Sharif Shehbaz Sharif DG ISPR Maryam Nawaz Sharif Shahid Khaqan Abbasi

Asad R Chaudhry

42,131 views • 4 months ago