Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

Water shortage due to data centers یہی ہم نے اپ کو بتایا تھا نا۔۔ ارٹیفیشل انٹیلیجنس کا ڈیٹا سینٹر صرف اپ کے شہر کا پانی نہیں پی جاتے۔۔۔ وہ پورے شہر کے اندر کا درجہ حرارت بڑھا دیتے ہیں جس سے انسانی جان اور پرندے اور جانور ہلاک ہوتے...

40,450 просмотров • 18 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

السلام علیکم یہ ایک ویڈیو کلپ میں شیئر کر رہا ہوں سب کے لیے سارے دوست جو ان لائن جابز کے لیے اپنے شہر سے کسی دوست شہر میں جاتے ہیں یا کسی کی افس میں جاتے ہیں یا ان کو بلایا جاتا ہے کہ جی اپ فلاں جگہ پہ اپنے سی وی لے کے ائیں اور وہاں جا کے اپ انٹرویو دیتے ہیں یا دینے کے لیے کوئی لوگ اپ کو کسی جگہ پہ بلاتے ہیں لیکن جب وہ اپ ان کو ملنے کے لیے ان کی پن پوائنٹ لوکیشن پہ جاتے ہیں تو وہ اپ کو وہاں سے نہیں ملتے اپ سے ملاقات نہیں کرتے فون نمبر بند کر دیتے ہیں تو اس صورت میں بہت سارے فراڈ ہیں جو پہلے بھی ہو چکے ہیں دوبارہ بھی ہو رہے ہیں تو یہ اپ ایسا نا کریں تو میں سب کو نا گزارش کرتا ہوں کہ سارے دوست ایسے فراڈاور دھوکے سے بچئں اپنے پیاروں کے پاس رہیں اپنے گھر کے پاس رہین جب تک کنفرمیشن اچھی برینڈ سے اچھی کمپنی سے کسی مختلف کمپنی سے مشہور کمپنی سے اپ کو نہ بلایا جائے تو بالکل بھی اپ کسی کے پاس نہ جائیں تاکہ اپ اس طرح کی بھوک پیاس اور پریشانی سے بچ سکیں ۔۔

AlphaWhaleCalls

33,369 просмотров • 2 месяцев назад

ایران کے شہر ہمدان میں ایک زیر زمین آبی غار ہے جس میں کشتیاں چلتی ہیں۔ ان میں سوار ہو کر اپ کئی کلومیٹر پانی کے اندر جاتے ہیں۔ غار میں routabouts بھی ہیں۔ اسمبلی ہالز بھی اور میوزک کے لئے مخصوص جگہیں بھی ہیں۔ سیڑھیاں بھی ہیں۔ یہ غار دنیا کا ایک خوبصورت ترین عجوبہ ہے جسے ایران اور دنیا بھر سے سیاح دیکھنے آتے ہیں۔ رات غار کے دھانے کے نزدیک ٹینٹوں میں سوتے ہیں کہ صبح سویرے اسے دیکھنے کے لئے جا سکے ہیں۔ شہر سے سو کلومیٹر دور ہے۔ شہر میں قیام کر کے آئیں تو باری نہيں آتی۔ یہ لڑکیاں شیخ سعدی اور حافظ کے شہر شیراز کی ہیں۔ میں نے انہيں غار کے اندر سنا تھا۔ دل کیا تھا کہ وقت رک جائے اور میں سنتا رہوں۔ ان کا سنگیت کبھی ختم نہ ہو۔ انگریز شاعر ولیم ورڈزبرتھ یاد آیا تھا جس نے گندم کے کٹائی کے موقعے پر ایک لڑکی کے مدھر گیت کو سن کر اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ اگر ورڈبرتھ زندہ ہوتا اور ہمدان کی اس غار میں شیراز کی ان لڑکیوں کا سنگیت سن لیتا تو ایک دیوان ان کے سریلے گیتوں پر لکھتا۔

Jimmy Virk - Imranian 🇵🇰

174,919 просмотров • 11 месяцев назад

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 просмотров • 3 месяцев назад

عمران خان صاحب، اپ کا اج انتہائی مشکور ہوں کہ اپ کو احساس ہوا اور اپ نے مان لیا کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات بلکل ختم ہو چکے ہیں۔ معزرت سے، لیکن اج اس معاشرے میں جتنا بھی اخلاقیات کا فقدان ہے، اس میں سب سے بڑا کردار اپ کا ہے۔ اپ کی حقیقی ازادی کی تربیت نے اپ کے پیروکاروں کو ایسے ازاد کر دیا کہ شرم، حیا، تہذیب، تمیز سب کچھ مٹی میں مل گئے۔ گالم گلوچ، بہتان تراشی، کردار کشی، جھوٹ، جس کے منہ پر جو ایا سامنے والے کو کہہ ڈالا اور کوئی افسوس نہیں۔ بلکہ فخر سے کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی ہمیں خان صاحب نے تربیت دی۔ نوجوانوں کے ذہن اپ نے نفرت سے بھر دیے ہیں۔ وہ کسی رشتے کے اخلاقی طور پر پابند نہیں رہے۔ اپنوں سے الجھ پڑے ہیں، ریاست سے الجھ پڑے ہیں، صرف اپ کی سیاست کی خاطر۔ اپ کی اپنی پارٹی میں بھی کچھ ایسا ہی معیار تھا اپ کے قریب ہونے کے لئے اور اپ کا دل جیتنے کے لئے۔ جو جتنا منہ پھٹ اور بد تمیزی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرتا تھا، جو اوروں کو بےعزت کرنے، ان کی تذلیل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور خود بھی اپنی عزت کی پرواہ نہیں کرتا تھا، وہ ہی اپ کو سب سے قبول ہوتا تھا، اپ کا فیوریٹ ہوتا تھا۔ وہ ہی اپ کے تھنک ٹینک اور کچن کیبینٹ کا حصہ ہوتا تھا۔ اسی کو ہی عہدوں اور منصبوں سے نوازا جاتا تھا۔ کیا ریاست مدینہ طرظ کی ریاست کی بنیاد ایسے کردار رکھ سکتے تھے؟ اپ نے سب سے زیادہ ظلم ان نوجوانوں کے والدین سے کیا جو اپ کے عشق میں ہر حد پار کرنے کو تیار ہوۓ۔ یہ وہ ہیں جو اج اپنے ماں باپ کو بھی نہیں بخشتے اور ان کے کسی کام کے نہ رہے۔ گالم گلوچ اور جھگڑے کے سوا کوئی فن ان کے پاس نہ رہا۔ پڑھائی لکھائی کے باوجود بھی جہالت کا شکار ہوۓ۔ حقیقی ازادی کی اس جدوجہد میں ازادی اور بےحیائی کے درمیان فرق کرنا انہیں نہیں اتا۔ بدتمیزی کو ازادی اظہار راۓ تصور کرتے ہیں اور اس کو ہر طریقہ سے جائز قرار دیتے ہیں۔ انسانیت، شریعت، اخلاقیات، ائین اور قانون کسی چیز کے پابند نہ رہے۔ اپنا شعور کھو بیٹھے۔ اپ کی اواز کے سوا کچھ اور سنائی نہیں دیتی انہیں اور وہی کرتے ہیں جو اپ ان سے کرنے کو کہتے ہیں۔ جو اپ میں دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں، اور کچھ نظر نہیں اتا انہیں۔ اپنے سوچنے سمجھنے کی تمام تر صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ اج جو جیلوں میں بند ہیں، اپ نے تو ان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا لیکن ان کے مستقبل تباہ و برباد ہو گئے۔ جن خاندانوں کے یہ سہارا تھے وہ اب ساری عمر ہاتھ ملتے رہیں گے اور اپ کو بددعائیں دیں گے۔ ضلہ شاہ جیسے دیوانے اپنی جانیں کھو گئے اپ کی اس تحریک انتشار میں اور اپ ان کے گھر تک پوچھنے کے لئے نہ گئے۔ پاکستان کی ایک پوری نسل کی تباہی کے ذمہدار ہیں اپ۔ اپ نے ایسا سبق دیا کہ پوری قوم اپنا کردار کھو بیٹھی۔ کسی اور کی اولاد ہیں، اس لئے اپ نے پرواہ نہیں کی۔ سیرت النبی (ﷺ) کے بارے میں پڑھنے کی سب سے پہلے اپ کو ضرورت ہے۔ اللہ کے نبی (ﷺ) اخلاقیات کے بارے میں کیا درس دیتے ہیں، اپ (ﷺ) اس پر کتنا زور دیتے تھے، اپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پھر قوم سے معافی مانگ کر اپنی زبان سے ان نوجوانوں کو اس کا درس دیں تو شائد وہ سدھر جائیں ورنہ اس نقصان کا ازالہ القادر ٹرسٹ تو کیا، کوئی بھی نہیں کر سکتا!

Dr. Hisham Inam Marwat

135,142 просмотров • 3 лет назад

کبھی کشمیر کبھی گلگت بلتستان کے لوگوں سے الجھتے ہیں۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ ان کو آئینی شناخت نہیں دیتے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ حیات کہا گیا۔ کشمیریوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ جس طرح پاکستان کے علاقوں میں لوگوں کے مینڈیٹ کو ٹھڈے مار کر پرے پھینکا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران ٹھونسے جاتے ہیں۔جی بی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ عوام کی منتخب حکومت کو گرایا گیا اور لوٹوں کو مسلط کیا گیا۔ کشمیر کے لوگوں کو وہ حقوق نہیں مل رہے جو متنازع علاقے کے حقوق ہوتے ہیں۔ کشمیری بھائی کہتے ہیں کہ بجلی یہاں بنتی ہے ہم سستی دو آئی ایم ایف سے قرضے لے کے بجلی مہنگے کرتے ہو۔ بجلی، پٹرول، ڈیزل، گندم سب کچھ مہنگا کر دیا گیا۔ اگر تم یہاں پر گندم کے حوالے سے کام کرتے تو پاکستان میں گندم کی مطلوبہ مقدار پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔ اب ان کو مارو مت ان کی بات سنو۔ لوگوں کے اندر کئی سالوں کا غصہ موجود ہے۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔ تم نے ناراض کیا انہیں، تم نے انہیں چھوٹا، حقیر اور پست سمجھا۔ اج کشمیر کے لوگوں پر گولیاں جلتی ہیں۔ ان کے ساتھ ملو بات کرو ۔یہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہیں مایوس نہ کرو جو بھی ان کے ان کو مایوس کر رہا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔ وہاں پر اس وقت حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے جیسے پورے پاکستان میں لیک آف ریٹ ہے۔ آپ بلوچستان کو دیکھ لو کیا حالت ہے۔ سندھ کو دیکھ لو۔ کراچی کو دیکھ لو وہاں دن دھاڑے ڈاکے پڑتے ہیں۔ لوگ قتل ہو رہے ہیں کچے کے ڈاکو لوگوں کے بچوں کو اٹھا کے لے جا کر قتل کر رہے ہیں۔ بھتہ لے رہے ہیں۔ کوئی پوچھ نہیں رہا اب لوگ تنگ آچکے ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد ہوتا ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے میں انہیں کہتا ہوں خدا کے لیے مزید آگے نہ بڑھو اس وطن کا خیال رکھو۔ ہر وہ کام جس سے انڈیا طاقتور اور پاکستان کمزور ہو اس سے انڈیا علاقے کا اسرائیل بنے۔ 25 26 کروڑ عوام کا ایٹمی ملک پاکستان سرجیکلی اپ جگہ پر واقع ہے اور ساؤتھ ایشیا کے اندر، اس خطے کے اندر طاقت کا توازن بحال رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کمزور ہونے سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا ابھی انڈیا نے ہماری علاقائی حدود میں داخل ہو کر بیس بائیس افراد مارے ہیں۔ گارڈین نے خبر نشر کی ہے انڈین وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے۔ یہاں کوئی کیوں بولتا نہیں ہے۔ ہمیں اپنوں سے نہیں انڈیا سے لڑنا چاہیے۔ ہمیں کشمیر آزاد کروانا چاہیے تھا۔ ہمیں کشمیری مظلوموں کے ساتھ دینا چاہیے تھا۔ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ بات چیت کرو دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دو۔ اسے طولانی نہ ہونے دو۔ان سے بات چیت کرو۔ کشمیری اس وطن کے باوفا بیٹے اور سرحدوں کے محافظ ہیں۔ جیسے چمن کے لوگ ہیں وہ بھی پاک افغان بارڈر پر مدت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان پر بھی ظلم ہو رہا ہے ان کے ساتھ بھی گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لہذا کشمیر کے لوگوں کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ ہمارے بھائی ہیں ہماری جانیں ان پر فدا ہوں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں ہم کبھی بھی ان پر ظلم کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے انشاءاللہ۔ مجھے امید ہے وہاں کی حکومت بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں گی۔ یہ لوگ بڑے سخی ہیں بڑے دل والے ہیں یہ ٹھیک کر لیں گے جیسے جی بی کے لوگ ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن پاکستان سے محبت کی وجہ سے صبر کرتے ہیں برداشت کرتے ہیں لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے ہم میدان میں حاضر ہیں ہم نے پاکستان کو کمزور نہیں ہونے دیتا

Senator Allama Raja Nasir

50,869 просмотров • 2 лет назад

السلام علیکم میرے تمام ٹک ٹاک فالور اور ٹوٹر والے فالور میرے ایک ٹویٹر پہ اکاؤنٹ ہے ایک یوٹیوب پہ اور ٹک ٹاک پہ یوٹیوب میں یوز نہیں کرتی اور ٹوٹر اور ٹک ٹاک میں یوز کرتی ہیں اور جو ہماری زندگی میں ہمارے کسی بھی زندگی میں کسی کے انسان کے دل کی میں انٹر فیئر نہیں کرنا چاہیے اور میں کبھی اس لیے انٹرویو نہیں دیتی کہ لوگ کلپ نکال کے لوگ برے بھلا کہتے ہیں اور کسی سیاست میں مدخلت یا کوئی بھی چیز ایسی کہہ دیتے ہیں اور میں ایسا نہیں چاہتی ہمیں لوگ ہیں اور دوسری بات یہ ذلت اور عزت اللہ دیتا ہے اور کسی کو بھی فیک video 📷 بنا کر اپ لوگ فیک ویڈیو ہماری لگاتے ہیں اور ہماری اپ لوگ توہین کرتے ہیں اور اپ لوگ ایک ویڈیو اپلوڈ کرنا میں کبھی کسی کو منع نہیں کیا لیکن اپ لوگ غلط ویڈیو لگاتے اور غلط کلپ کٹنگ کر کے اپ کرتے ہیں سے بہت تکلیف ہوتی ہے ہم ezat darلوگ ہیں ہم بزنس کرتے ہیں اور ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں اس کے علاوہ ہمارا کوئی کام نہیں ہے اور ezat ذلت اللہ دیتے اور سوشل میڈیا کی عزت نہیں ہوتی انسان کی عزت ہوتی ہےمیرے بہت کم انٹرویو ہوتے ہیں میں نے کبھی کسی کو ٹی وی کو ابھی تک انٹرویو نہیں دیا اور پی ٹی وی والے میرے پاس کئی بار ائے اور اور بھی ٹی وی والے ائے لیکن میں نے انٹرویو نہیں دیا کہ لوگ کلپ نکال کے لوگ ہماری عزت اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہاں ٹویٹر میں بھی لوگ گالیاں نکالنے ا جاتے ہیں اللہ اپ لوگوں کو عزت دے کسی کو گالیاں نکالنا اچھی بات نہیں ہوتی اپنی زبان کو استعمال اچھے طریقے سے کیا کرو ہم جس سے پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جس سے بھی ہماری محبت ہے کسی کو ہماری زندگی میں انٹرفیئر نہیں کرنا چاہیے

Samna Khan

19,331 просмотров • 1 год назад