Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

What does this psychopath thinks! یہ آیت ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔ تو اللہ ہے یا رسول؟

167,766 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

8 Kommentare

Profilbild von Navi
Navivor 1 Jahr

بوچیر آف اسلام اباد کو یہ والی بھی ایت کریمہ بھیجی ان کا جہنم میں یہی ٹھکانہ ہوگا انشاءاللہ اکبر صاحب

Profilbild von Sadia Syed
Sadia Syedvor 1 Jahr

پہلے فوج اس کے ذریعے اپنے دشمن کو رستے سے ہٹاۓ گی اور پھر قوم کو خوش کرنے کے لئے اس کو چوک پر لٹکا دے گی یہ ویسے بھی جرنیلوں کے لئے کمی کمین ہے یہ سائیکو سمجھ رہا ہے کہ جرنیل اس کے عہدے کی وجہ سے خاموش ہیں جبکہ وہ اس کو بلی کا بکرا بنا چکے ہیں

Profilbild von Zubair ahmed Gorsi
Zubair ahmed Gorsivor 1 Jahr

یہ کتی کا بچہ حرامی النسل غدار کتا قرآنی ایات کا غلط استعمال کر رہا ہے

Profilbild von M.R.AFRIDI
M.R.AFRIDIvor 1 Jahr

تمہارے منہ سے یہ قران کی لفظ اچھا نہیں لگتا کیونکہ جو اللہ اور اللہ کی قران پر یقین اور ایمان رکھتے وہ بھی گناہ لوگوں کی قتل عام اور اس کا خون نہیں بہاتے تم فرعون کی پیروکار ہو یزید کی پیروکار ہو

Profilbild von Abdullah سلطان
Abdullah سلطانvor 1 Jahr

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں۔ قرآن پر لیے اپنے حلف سے غداری کرتے ہیں۔ لوگوں کا حق حکمرانی چوری کرتے ہیں مجرموں کے ٹولے کو مسلط کرتے ہیں اور کوئی جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کرے تو اسے فسادی بنا دیتے ہیں۔ یہ لشکر یزید کے پرانے حربے ہیں۔

Profilbild von Yousaf shah
Yousaf shahvor 1 Jahr

یہ اسکی آواز میں اتنی گھبراہٹ کیوں ہے کیوں یہ اتنا گھبرایا ہوا ہے

Profilbild von Ryan
Ryanvor 1 Jahr

Fate of Asim Munir will be an example for Army - he will have no place to run. You cannot stand against your own people and win. La ilaha illallah - there is no God but Allah

Profilbild von Insaf Pasand
Insaf Pasandvor 1 Jahr

یعنی آیت کا غلط استعمال کر رہا، 70 فیصد پاکستانی جو پی ٹی آئی کے سپورٹرز ہیں وہ کیسے اللہ اور رسول کے دشمن ہو گئے۔ عجیب خبیث آدمی ہے

Ähnliche Videos

حافظ سید عاصم منیر پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔یہ اللہ کا خاص بندہ ہے۔ آپ یہ ویڈیو دیکھ کہ چند سیکنڈز میں "سید" نے اللہ کے نام کا"ورد"کتنی بار کیا ہے۔ جو شخص اس حد تک اللہ کا نام لے۔۔اللہ اس سے کیوں نا راضی ہو۔ سید کہتا ہے۔۔ ہماری فوج اللہ کی فوج ہے،ہم اللہ کے نام پر لڑتے ہیں، بھارت کے خلاف اللہ نے سربلند کیا۔ اللہ کا خاص کرم ہے کہ اللہ نے دشمن کو دھول چٹائی ہے، مسلمان جب اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کی پھینکی ہوئی مٹی بھی میزائل بن جاتی ہے۔ اللہ پر بھروسہ ضروری ہے۔ میں اللہ کے حکم اور اس کے فرمان کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتا ہوں۔ جو شخص اللہ کو اس حد تک یاد رکھتا ہو۔۔اللہ اس کو کیسے بھول سکتا ہے۔ بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس اللہ کے بندے کے خلاف بہتان باندھتے اور غلاظت بکتے ہیں وہ ایک غلیظ انسان(نیازی) کے لیے اپنی آخرت تباہ کر رہے ہیں اگر تم لوگوں کے دل میں زرا سا اللہ کا خوف ہے اور آخرت کی فکر ہے تو اس شخص کے راستے سے ہٹ جاو۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

13,241 Aufrufe • vor 9 Monaten

اہلِ مصر اہل البیت سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں ؟ جب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا پر (کربلا کے واقعات کے بعد) مظالم ڈھائے گئے اور ان پر اپنے نانا محمد مصطفیٰ ﷺ کا شہر (مدینہ) بھی تنگ کر دیا گیا، تو اس وقت ابنِ عباس (رضی اللہ عنہ) نے، جو کہ کافی معمر ہو چکے تھے، آپؑ سے مخاطب ہو کر کہا: 'اے اللہ کے رسول ﷺ کی نواسی! آپ مصر تشریف لے جائیں، وہاں ایسے لوگ بستے ہیں جو اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ سے قرابت داری کی وجہ سے آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔' پھر جب آپؑ مصر تشریف لائیں اور اہل مصر نے 'بلبیس' کے مقام پر آپؑ کا اس طرح استقبال کیا جیسے غم زدہ لوگوں کو پرسہ دیا جاتا ہے، اور جب آپؑ نے اہل مصر کا یہ والہانہ استقبال، محبت اور عقیدت دیکھی، تو آپؑ نے اہل مصر کے لیے وہ تاریخی دعا فرمائی: "اے اہلِ مصر! اے مصر کے رہنے والو! تم نے ہمیں پناہ دی، اللہ تمہیں پناہ دے۔ تم نے ہماری مدد کی، اللہ تمہاری مدد کرے۔ تم نے ہماری اعانت کی، اللہ تمہاری اعانت فرمائے۔ اللہ تمہارے ہر غم کو خوشی میں بدل دے اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ عطا فرمائے۔" پس یہ وہ شہر (ملک) ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گا، اس کی ضمانت دی گئی ہے، یہ امن والا ہے کیونکہ یہ آلِ محمد ﷺ کا قبلہ (مرکزِ محبت) ہے۔ اللہ نے اس سرزمین کو یہ شرف بخشا ہے کہ یہاں آلِ بیتِ رسول ﷺ کی تقریباً 40 ہستیاں مدفون ہیں۔"

Mufti Fazal Hamdard

32,300 Aufrufe • vor 5 Monaten

قرآن مجید میں ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ سے اس کی ربوبیت (رب ہونے) کی نشانیاں مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا جواب سورۃ البقرہ کی آیت 118 میں بیان فرمایا گیا ہے: وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ترجمہ: اور جاہل لوگوں نے کہا کہ اللہ ہم سے کیوں نہیں بات کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ اسی طرح ان سے پہلے والوں نے بھی ان جیسا قول کہا تھا، ان کے دل ایک جیسے ہو گئے۔ ہم نے تو نشانیاں کھول کر بیان کر دیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔مطلب اور تشریح: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جاہل لوگ (جو علم سے محروم ہیں اور غور و فکر نہیں کرتے) مطالبہ کرتے ہیں کہ اللہ براہ راست ان سے کلام کرے یا کوئی واضح معجزہ/نشانی ان کے سامنے پیش کی جائے تاکہ وہ اس کی ربوبیت پر یقین کریں۔ یہ مطالبہ نیا نہیں، بلکہ پچھلی امتوں نے بھی یہی کہا تھا۔ ان کے دل ایک جیسے ہیں یعنی عناد، ہٹ دھرمی اور حق سے منہ موڑنے میں یکساں ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے تو نشانیاں واضح کر دی ہیں (جیسے کائنات کی تخلیق، آسمان و زمین، انسان کی اپنی ذات میں موجود نشانیاں، اور قرآن مجید خود ایک عظیم نشانی ہے)، لیکن یہ صرف یقین والے لوگوں (جو غور کریں اور دل سے مان لیں) کے لیے کافی ہیں۔ جاہل اور ہٹ دھرم لوگوں کے لیے کوئی نشانی کافی نہیں ہوتی۔ قرآن میں اسی طرح کی بات دیگر مقامات پر بھی ہے، جیسے: سورۃ الانعام آیت 111: اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیں، مردے ان سے بات کریں، اور ہر چیز ان کے سامنے جمع کر دیں تب بھی وہ ایمان نہ لائیں گے مگر اللہ کی مشیت ہو، کیونکہ اکثر جاہل ہیں۔ سورۃ الاسراء آیت 59: ہم نشانیاں بھیجنے سے اس لیے روکے ہوئے ہیں کہ پچھلی امتیں انہیں جھٹلا چکی ہیں (ورنہ نشانیاں بھیجنا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں)۔ خلاصہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نشانیاں تو بہت ہیں، لیکن جو دل یقین سے خالی ہوں وہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔ حقیقی ایمان غور و فکر اور دل کی صفائی سے آتا ہے، نہ کہ ہر وقت نئی نشانیاں مانگنے سے۔

𝔸𝕞𝕒𝕝𝕢𝕒|🇵🇰

17,206 Aufrufe • vor 8 Monaten

کبھی کبھی نماز کے بعد اس طرح دعا کر کے دیکھیں! اے اللہ! میرے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں، لیکن مجھے امید ہے کہ میری کوئی ایک نیکی تجھے پسند آ گئی ہوگی، حالانکہ میرے پاس زیادہ تر تو گناہ ہی ہیں اے اللہ! مجھے بھلائی میں اس قدر مصروف کر دے کہ میں غم کو بھول جاؤں۔ مجھے تھکن سے دور رکھ، یہاں تک کہ میں تیری نعمتوں پر شکر گزار بن جاؤں اے اللہ! اگر واقعی میری دعائیں ان گناہوں کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں جو میں نے کیے، تو مجھے معاف فرما دے اور میرے گناہ مٹا دے، میرے مالک۔اے اللہ! اپنے بندے کو دکھا دے کہ یہ زندگی کتنی خوبصورت ہے اور کتنی آسان ہے اے اللہ! اگر میرا رزق آسمانوں میں ہے تو اسے اتار دے، اگر زمین میں ہے تو اسے نکال دے، اگر مشکل ہے تو اسے آسان کر دے، اور اگر وہ حرام ہے تو اسے پاک کر دے۔ (حدیثِ مبارکہ): اسے ضرور شیئر کریں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی کو ہدایت کی طرف بلائے، تو اسے ان سب لوگوں کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، اور ان کے اجر میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جاتا۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2674)

شبانہ شوکت

36,842 Aufrufe • vor 7 Monaten