Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

"اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے" اور #مشن_نور ظلم وجبر کے خلاف اللہ کے دین کو زمین پہ قائم کرنے کی پکار ہے ۔ اذان کی صدا میں ہم مسلمان دل و جان سے اقرار کرتے ہیں کہ "اللہ ایک ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری...

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

حافظ سید عاصم منیر پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔یہ اللہ کا خاص بندہ ہے۔ آپ یہ ویڈیو دیکھ کہ چند سیکنڈز میں "سید" نے اللہ کے نام کا"ورد"کتنی بار کیا ہے۔ جو شخص اس حد تک اللہ کا نام لے۔۔اللہ اس سے کیوں نا راضی ہو۔ سید کہتا ہے۔۔ ہماری فوج اللہ کی فوج ہے،ہم اللہ کے نام پر لڑتے ہیں، بھارت کے خلاف اللہ نے سربلند کیا۔ اللہ کا خاص کرم ہے کہ اللہ نے دشمن کو دھول چٹائی ہے، مسلمان جب اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کی پھینکی ہوئی مٹی بھی میزائل بن جاتی ہے۔ اللہ پر بھروسہ ضروری ہے۔ میں اللہ کے حکم اور اس کے فرمان کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتا ہوں۔ جو شخص اللہ کو اس حد تک یاد رکھتا ہو۔۔اللہ اس کو کیسے بھول سکتا ہے۔ بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس اللہ کے بندے کے خلاف بہتان باندھتے اور غلاظت بکتے ہیں وہ ایک غلیظ انسان(نیازی) کے لیے اپنی آخرت تباہ کر رہے ہیں اگر تم لوگوں کے دل میں زرا سا اللہ کا خوف ہے اور آخرت کی فکر ہے تو اس شخص کے راستے سے ہٹ جاو۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

13,241 просмотров • 9 месяцев назад

"لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ انسان میں غیرت پیدا کر دیتا ہے. ایک غیرتمند مزدور کا تذکرہ" وزیراعظم عمران خان پہلے "ریاست" کی تعریف جاننا ضروری ہے. ریاست کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں.؟ سرزمین: ایک مخصوص علاقہ. دوسرا اُس علاقے میں مقیم عوام: جو اُس جغرافیائی علاقے کے باشندے ہوتے ہیں. تیسرا: وہ نظام، جو اُن کا متفقہ آئین یا دستور کہلاتا ہے. اُن جغرافیائی حدود میں مقیم باشندوں کے بنیادی حقوق، آزادی و خودمختاری، صحت، تعلیم، معاشی ترقی و استحکام، عوامی خدمت اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کیلئے مختلف ادارے اور شعبہ جات تشکیل دیئے جاتے ہیں. جنہیں چلانے کیلئے ماہرین کی مدد سے اصول، قواعد وضوابط، ذمہ داریوں کا تعین اور اُمور کی جُزئیات طے کرنے والی دستور ساز اسمبلی کے ارکان کو عوام منتخب کرتے ہیں. اُنہی عوامی نمائندوں کے بنائے ہوئے متفقہ آئینِ پاکستان کی حفاظت کرنے، اُس آئین کے تابع رہتے ہوئے اُسے نافذ کرنے کا افواج سمیت تمام ملازمین حَلف اٹھاتے ہیں. دنیا میں عموماً مشہور دو نظام جمہوریت اور آمریت رائج ہیں. پاکستان میں گزشتہ 77 سالوں سے اُنہی دو نظاموں میں سے کسی ایک کو کھینچ تان کر مسلمان بنانے کی کوشش میں گزر گئے. جبکہ براہ راست "قرآن وسنت" میں غور کیا جائے تو جمہوری نظام اور آمریت دونوں ہی اسلامی نظام سے یکسر مختلف ہیں. اگر ہم اسلام کا مغربی نظاموں کی بجائے کتاب وسنت کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام میں نہ تو فرد کی حاکمیت جائز ہے اور نہ ہی اکثریت کی بلکہ اللہ تعالٰی صرف اور صرف اپنی حاکمیت منواتا ہے. یہ بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اوپر ایک حاکم اعلیٰ ہے اور اُس کے نیچے کئی انسان اَدنیٰ حاکم ہیں، بلکہ حاکمیت ہے ہی صرف اللہ رب العزت کی ہے. ریاست کیا ہے اور اس کے وسائل کا اصل مالک کون ہے.؟ ریاست کے اجزائے ترکیبی سمجھ لینے اور زمین و آسمانوں کی ملکیت و حاکمیت جان لینے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ پاکستانی زمینوں اور قدرتی وسائل کا اصل مالک اور حقدار کون ہے.؟ اللہ تعالٰی کے احکامات کے مطابق نظام چلانے کیلئے وفاقی اور صوبائی نمائندوں کو عوام منتخب کرتے ہیں لہٰذا وہ تو صرف منتظمین ہیں، ریاستی وسائل کے مالک نہیں. جبکہ جرنیل عوام کے ملازم ہیں، لہٰذا سوال یہ اٹھتا ہے کہ ریاست کی زمینوں اور قدرتی وسائل کی ملکیت اُن کے پاس کہاں سے آ گئی ہے.؟ یہ ملکیت اُنہیں وراثت میں ملتی ہے یا جہیز میں.؟ آئینِ پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی حاکمِیتِ اَعلیٰ تسلیم کی گئی اور ستورِ پاکستان میں اسلام کو ریاست کا دین مانا گیا ہے اور قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی کی ممانعت کر دی گئی ہے. وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ (المائدۃ:18) آسمانوں اور زمین اور اُن کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالٰی کی ملکیت ہے. ! وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ(المنافقون:7) آسمانوں اور زمین کے کل خزانے اللہ تعالٰی کی ملکیت ہیں لیکن منافقین اس حقیقت کا فہم نہیں رکھتے. ! {ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا.} وہی تو وہ(اللہ) ہے جس نے پیدا کیا ہے تم سب لوگوں کیلئے زمین کے تمام ذخیروں کو.(سورة البقرة:29) He it is Who created for you all that is in the earth.(2:29) چونکہ زمین و آسمانوں کے تمام تر خزانوں اور معدنیات کا مالک اللہ تعالٰی ہے. لہٰذا اُن قدرتی وسائل کی تقسیم (جوکہ اللہ نے تمام لوگوں کیلئے پیدا کئے ہیں) اللہ کی منشاء اور حکم کے مطابق کرنی "اُسی طرح فرض ہے جیسا کہ نماز اور روزے". اگر سورةالبقرة کی آیت کے اِس ٹکڑے پر ہی عمل کر لیا جائے تو پاکستان سے ظلم، ظالمانہ نظام اور غربت کا خاتمہ ہو جائے گا. ان شاءاللہ Imran Khan Aleema Khanum

Afzal Khan Sherwani

12,948 просмотров • 1 год назад

اللہ کا ماسٹر پلان کیا ہے؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کائنات، یہ ستارے، یہ زمین کچھ بھی بیکار یا کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا اللہ کا ایک ماسٹر پلان ہے،جس کا مرکز آپ اور میں ہیں۔ ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم یہاں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہیں،اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہےیعنی ایک ایسا ذمہ دار، جسے اللہ نے عقل دی، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر 'فری وِل' (اختیار) دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے سچ اور نیکی کا راستہ چن سکےہماری زندگی میں جو اتار چڑھاؤ آتے ہیں، جو دکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، وہ اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں،یہ دنیا ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ (آزمائش گاہ) ہے،یہاں کا درد، یہاں کی خوشی، سب عارضی ہے،اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان حالات میں کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، یہاں عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اس دنیا کو بہتر بنانا ہے۔ تو جب بھی آپ کو لگے کہ زندگی بے مقصد ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں، آپ کی تخلیق کوئی اتفاق نہیں ہے، آپ کو ایک مقصد کے لیے چنا گیا ہے

شبانہ شوکت

14,109 просмотров • 7 месяцев назад

میرے کارکن نظریاتی اور دلیر ہیں۔ انہوں نے اپنے خوف کے بت توڑ دیے ہیں۔ مجھے ان کا جنون سب سے زیادہ پسند ہے۔ جنون کا کوئی توڑ نہیں، کوئی میرے کارکنوں کو شکست نہیں دے سکتا۔ لیڈر باپ کی طرح ہوتا ہے۔ جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو پہلے اللہ کی تعریف کرتے ہیں، پھر سیدھے راستے کی دعا مانگتے ہیں۔ 622 میں نبی ﷺ نے مدینہ ہجرت کی۔ 624 میں جنگِ بدر ہوئی، 313 مسلمان۔ دو سپر پاورز کے مقابلے میں 313 مسلمان۔ 632 میں نبی ﷺ نے دنیا سے پردہ کیا۔ لیکن اس دوران سپر پاورز نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ اسی لیے اللہ نبی ﷺ کے راستے پر چلنے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے عرب میں کیا تبدیلی لائی کہ مسلمانوں نے دنیا کی امامت سنبھال لی؟ وہ تھی لا الہ الا اللہ۔ صرف آزاد انسان ہی امامت کر سکتا ہے۔ جو ہارنے سے ڈرتا ہے، اسے جیتنا نہیں آتا۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے انسان کو اس خوف سے آزاد کیا ہے۔ دوسرا خوف نوکری کا ہے۔ اللہ پر اعتماد ہو تو انسان ضمیر کی آواز سنتا ہے، نہ کہ نہتے بے گناہوں پر کسی کے حکم پر حملہ کرتا ہے۔ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پی ڈی ایم روز میری بہت باتیں کرتا ہے، مگر لوگوں میں میری عزت اور بڑھ گئی ہے۔ شیطان کا راستہ شارٹ کٹ اور آسان راستہ ہے۔ دوسرا نبی ﷺ کا راستہ ہے، وہ آسان نہیں لیکن اوپر لے جاتا ہے۔ میری اللہ سے تین دعائیں ہیں: - اللہ پاکستان کو وہ ریاست بنا جو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑی ہو - جہاں عدل اور انصاف ہو - جہاں لوگ حقیقی طور پر آزاد ہوں - کوئی بھی پاکستانی بھوکا نہ سوئے #افطار_کہتان_کےساتھ #RamadanWithKaptaan

PTI

203,682 просмотров • 5 месяцев назад