Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آ گیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے، یہ اپنی فوجیں اسرائیل بھیجنا چاہتے ہیں فلسطین کو نقصان دینے کے لیے۔ ان تمام حرامزادوں کو اقتدار سے نیچے پھینکو، تم 26 کروڑ ہو، کیڑے مکوڑے نہیں۔

12,296 Aufrufe • vor 8 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

سانحہ ڈی چوک 26 نومبر سے لاپتہ ہونے والے ،محمد راشد ولد شبیر، جو صادقہ آباد کی ایک کالونی کے رہائشی تھے، 26 نومبر کے بعد سے لاپتہ تھے ۔ ان کے گھر والوں کو ایک نا معلوم نمبر سے کال موصول ہوتی ہے، اور پولیس کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ ان کے لخت جگر کی موت ایک کار حادثے میں ہو گئی ہے۔ جب وُرثاء ہسپتال پوہنچتے ہیں، تو میت سَرد خانے سے نکال کے دیکھائی جاتی ہے۔ میت پر گولی کے واضح نشان تھے، جیسے کے وڈیو میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس قدر ظلم و جبر، زیادتی، لاشیں تک چُھپا دی گئی؟ حق کے لیے نکلنے والوں کو سِر عام مار کر ان کی لاشوں سے بھی ان کے اہل خانہ کو محروم کر دینا، یہ نا کبھی سُنا تھا نا ہوا ہے ہماری معاشرہ اس قدر تنزلی اور degradation کا شکار ہو چکا ہے۔ 26 نومبر کے بعد سے، ہمارے بہت سے کارکن مسنگ ہیں ہمیں اور ان کے بارے میں بہت سیریس خدشات ہیں۔ سَرد خانے میں اور لاشیں ہونے کی بھی خبریں ہیں۔ حکومت کو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ملک کو کس نہج پہ پوہنچا دیا گیا ہے؟ یاد رکھیے وقت سدا ایک سا نہیں رہتا اج اگر یہ ہمارے ورکرز ہیں تو کل اپ کے بھی ہو سکتے ہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

31,934 Aufrufe • vor 1 Jahr

کہا جا رہا ہے یہ غالبا میاں صاحب کا جیل کا چھوٹا سا سیل۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو یہ تمام جیل سیلزجن میں بھٹو، بےنظیر بھٹو شہید، دیگر سیاسی قیدی رہے، پبلک میوزیمز ہوتے اور عوام کے لیے کھلے ہوتے تاکہ عوام کو سچ کا علم ہوتا، یہاں سب سیاسی قیدیوں کے گزرے ہوئے عیام کی تفصیلات نصب ہوتیں، کیا کھاتے تھے، کیسے رہتے تھے وغیرہ۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ عوام کو سچ پتہ لگ جاتا اور شعور کے ساتھ جب سچ مل جاتا ہے تو status quo کو نقصان کوتا ہے۔ ہمیں نہ سچ سننا اور جاننا ہے اور شعور سے تو ویسے بھی پیٹ نہیں بھرتا شعور سے صرف قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ترقی تبدیلی کے مترادف ہے جو ہمیں نہیں چاہیے۔ شایدکبھی آنے والے وقتوں میں ہم ایسی شعوری ترقی حاصل کر سکیں جہاں ہم اپنی تاریخ کو own کرنے سے نہ گھبرائیں اور ان جیل سیلز کو سکولوں کالجوں کے بچوں کے لیے کھول دیں تاکہ عوام اپنے سیاسی فیصلے کرنے سے پہلے ان تمام شخصایت کے جیل کے ادوار، انکی وہاں رہائش کے حالات اور حقائق اور ان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کو جان سکے۔ کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو قبول نہیں کرتیں، نظر چراتی ہیں یا اسکو مسخ کرنے کی کوششیں کرتی ہیں وہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ نہیں سکتیں اور جب تک غلطیاں قبول نہ کی جائیں ان غلطیوں کو سدھارا بھی نہیں جا سکتا۔

Shiffa Z. Yousafzai

35,997 Aufrufe • vor 6 Monaten