Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کہا جا رہا ہے یہ غالبا میاں صاحب کا جیل کا چھوٹا سا سیل۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو یہ تمام جیل سیلزجن میں بھٹو، بےنظیر بھٹو شہید، دیگر سیاسی قیدی رہے، پبلک میوزیمز ہوتے اور عوام کے لیے کھلے ہوتے تاکہ عوام کو سچ کا علم ہوتا،...

35,997 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

#AsimMunirOurPride دبئی ترکی مصر ملائشیا انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک نے اپنے ملک میں انتہا پسندی کو ماڈلزم کے ذریعے سے قابل نہیں کیا ان ملکوں میں دہشت گردی اور امتحان بھی اس لیے نہیں ہے کہ ایک تو انہوں نے مولویوں کو مسجد تک محدود کیا صرف نماز پڑھانے تک اور دوسرا انہوں نے اپنے ملکوں میں اور دیگر چیزوں کو کھولا تاکہ عوام دہشت گردوں کو اور انتہا پسندوں کی طرف مت جائیں جہاں تک کہ سعودی کے محمد بن سلمان نے جو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے نوجوانوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے اس لیے وہ جدید اور محرم سعودی عرب پر کام کر رہے ہیں پاکستان میں بھی اسی طرز کا سسٹم ہونا چاہیے ہمارے ہاں 70 فیصد لوگ انپڑھ ہوتے ہیں جو اسانی سے دہشت گرد ہیں اور مولویوں میں ا جاتے ہیں دہشت گردی کی طرف سے ہٹانے کا صرف ایک طریقہ ہے انٹرٹینمنٹ اور ماڈرنزم کو بھی ساتھ ساتھ لے کے چلا جائے اور مجھے خوشی ہے کہ پاکستان بدل رہا ہے اور تیزی کے ساتھ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بھی ترقی کر رہی ہے یہ پاکستان کی ایک ماڈل ہے اسلام اباد #اليوم_الوطني_السعودي_٩٦

Khurram Khan

74,911 просмотров • 14 дней назад

شبر زیدی صاحب! اگر آپ کے منطقی پیمانے کو ہی ترازو مانا جائے، تو پھر میرا اور آپ کا بھی نہ کھانا ملتا ہے، نہ گانا ملتا ہے اور نہ ہی زبان ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان 'آئین' کے ایک قانونی رشتے کے علاوہ کوئی چیز سانجھی نہیں ہے۔ آپ کو احمد آباد کی زبان اور کھانا مبارک ہو، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ اس سرزمین کا ایک بڑا حصہ یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بیلٹ، تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور خون کے رشتے سے افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈ لائن ایک سیاسی لکیر ہو سکتی ہے، لیکن وہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور اس 'پشتون ولی' کو ختم نہیں کر سکتی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی زبان اور کپڑا نہیں ملتا؟ تو صاحب، ہماری زبان بھی ایک ہے، ہمارا لباس (پشتون لباس) بھی ایک ہے اور ہماری غیرت کے کوڈز بھی ایک ہیں۔ اگر آپ کو اپنی جڑیں گجرات میں نظر آتی ہیں، تو ہمیں اپنی جڑیں قندھار، جلال آباد اور کابل میں نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے احمد آباد کے قصے سنائیں، لیکن ہمیں ہمارے بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ SyedShabbarZaidi

Hashim Khan

16,927 просмотров • 5 месяцев назад

پہلے زمانے میں والدین اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے تھے تو ایک ہی بار رقم ملتی تھی، رقم ختم ہوئی تو معاملہ بھی ختم۔ اب اس کا ایک نیا طریقہ آ گیا ہے: بچوں کو بچپن سے ہی TikTok کے لیے تیار کیا جاتا ہے تاکہ بڑے ہوتے ہوتے وہ مستقل کمائی کا ذریعہ بن جائیں۔ اس بچی کو یہ تک نہیں معلوم کہ لائک کیا ہے، گفٹ کیا ہے، گانا کیا ہے یا ویڈیو کیوں بنائی جا رہی ہے۔ اسے بس موومنٹ سکھائی جا رہی ہے کہ یہ کرو، ایسے کرو، تاکہ کل یہ ہمارے لیے کمائی کا ذریعہ بنے۔ اور اس میں بچوں سے زیادہ والدین شریک ہیں۔ جو لڑکے لڑکیاں کم عمری میں TikTok پر لائیو آتے ہیں یا ایسی ویڈیوز بناتے ہیں، ان کے پیچھے اکثر والدین کی رضامندی اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ بچے نہ خود اتنے سمجھدار ہوتے ہیں کہ یہ سب فیصلہ کر سکیں، نہ اپنی مرضی سے موبائل اور یہ سب سہولیات خرید سکتے ہیں۔ انہیں اس وقت تک کوئی نہیں پوچھتا جب تک وہ مشہور ہو کر کمائی کا ذریعہ نہ بن جائیں۔

its me میٹھو

27,332 просмотров • 1 месяц назад

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,183 просмотров • 1 год назад

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 просмотров • 1 год назад

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,423 просмотров • 3 месяцев назад

#دہشتگردی_کا_پیروکار_نیازی امریکہ جو دنیا کا ازاد خیال ملک ہے جہاں اپ کو ہر طرح کی ازادی حاصل ہے وہاں کی p*** industry دنیا کی نمبر ون پورن انڈسٹری ہے جو ہر سال 14 سے 15 ارب ڈالر بزنس کرتی ہے لیکن وہاں بھی ایک قانون صرف مرد اور عورت کو بطور جنس قبول کرتا ہے اس کے علاوہ وہ شی میل gays کو قبول نہیں کرتے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ قانون اپنی حکومت میں پاس کیا ترکی میں بھی یہی قانون ہے لیکن اپ نے نوٹ کیا کہ پچھلے چار سال میں پاکستان میں ہم جنس پرستی gay شی میلز کی تعداد کتنی زیادہ ہو گئی اپ انسٹاگرام اور ٹوٹر کو کھول کر دیکھیں اپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ کتنی ازادی سے یہ لوگ ویڈیوز بنا کر ڈال رہے ہیں اور باقاعدہ لوگوں کو افر کرتے ہیں اپنی طرف سے لاہور اسلام اباد کراچی ملتان اس مکروہ دھندے کا گڑ بن چکا ہے اگر یہ سب ہم دیکھ رہے ہیں تو ہمارے اداروں کو نظر نہیں اتا وہ ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے #وقار_امہ_عاصم_منیر
0:15

Sensitive content

#دہشتگردی_کا_پیروکار_نیازی امریکہ جو دنیا کا ازاد خیال ملک ہے جہاں اپ کو ہر طرح کی ازادی حاصل ہے وہاں کی p*** industry دنیا کی نمبر ون پورن انڈسٹری ہے جو ہر سال 14 سے 15 ارب ڈالر بزنس کرتی ہے لیکن وہاں بھی ایک قانون صرف مرد اور عورت کو بطور جنس قبول کرتا ہے اس کے علاوہ وہ شی میل gays کو قبول نہیں کرتے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ قانون اپنی حکومت میں پاس کیا ترکی میں بھی یہی قانون ہے لیکن اپ نے نوٹ کیا کہ پچھلے چار سال میں پاکستان میں ہم جنس پرستی gay شی میلز کی تعداد کتنی زیادہ ہو گئی اپ انسٹاگرام اور ٹوٹر کو کھول کر دیکھیں اپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ کتنی ازادی سے یہ لوگ ویڈیوز بنا کر ڈال رہے ہیں اور باقاعدہ لوگوں کو افر کرتے ہیں اپنی طرف سے لاہور اسلام اباد کراچی ملتان اس مکروہ دھندے کا گڑ بن چکا ہے اگر یہ سب ہم دیکھ رہے ہیں تو ہمارے اداروں کو نظر نہیں اتا وہ ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے #وقار_امہ_عاصم_منیر

Khurram Khan

83,933 просмотров • 18 дней назад