Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

کہا جا رہا ہے یہ غالبا میاں صاحب کا جیل کا چھوٹا سا سیل۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو یہ تمام جیل سیلزجن میں بھٹو، بےنظیر بھٹو شہید، دیگر سیاسی قیدی رہے، پبلک میوزیمز ہوتے اور عوام کے لیے کھلے ہوتے تاکہ عوام کو سچ کا علم ہوتا،...

35,997 görüntüleme • 5 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 görüntüleme • 8 ay önce

شبر زیدی صاحب! اگر آپ کے منطقی پیمانے کو ہی ترازو مانا جائے، تو پھر میرا اور آپ کا بھی نہ کھانا ملتا ہے، نہ گانا ملتا ہے اور نہ ہی زبان ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان 'آئین' کے ایک قانونی رشتے کے علاوہ کوئی چیز سانجھی نہیں ہے۔ آپ کو احمد آباد کی زبان اور کھانا مبارک ہو، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ اس سرزمین کا ایک بڑا حصہ یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بیلٹ، تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور خون کے رشتے سے افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈ لائن ایک سیاسی لکیر ہو سکتی ہے، لیکن وہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور اس 'پشتون ولی' کو ختم نہیں کر سکتی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی زبان اور کپڑا نہیں ملتا؟ تو صاحب، ہماری زبان بھی ایک ہے، ہمارا لباس (پشتون لباس) بھی ایک ہے اور ہماری غیرت کے کوڈز بھی ایک ہیں۔ اگر آپ کو اپنی جڑیں گجرات میں نظر آتی ہیں، تو ہمیں اپنی جڑیں قندھار، جلال آباد اور کابل میں نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے احمد آباد کے قصے سنائیں، لیکن ہمیں ہمارے بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ SyedShabbarZaidi

Hashim Khan

16,858 görüntüleme • 3 ay önce

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,048 görüntüleme • 11 ay önce

Wellfound by AngelList اسٹارٹ اپس میں کام کرنے کا موقع Wellfound by AngelList ایک شاندار پلیٹ فارم ہے جو آپ کو اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہترین جابز کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم آپ کو جدید اور تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں کام کرنے کا موقع دیتا ہے، جہاں آپ اپنے کیریئر کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ Wellfound پر آپ اپنا پروفائل بنا کر مختلف اسٹارٹ اپس کے ساتھ براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں، جو کہ آپ کو اپنے پسندیدہ شعبے میں کام کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر آپ کو مختلف شعبوں میں کام کی پیشکشیں ملیں گی، جیسے ٹیکنالوجی، ڈیزائن، کاروبار، مارکیٹنگ، اور دیگر فیلڈز۔ یہ پلیٹ فارم آپ کو آسانی سے اپنی پسند کی نوکری تلاش کرنے کی سہولت دیتا ہے، کیونکہ یہاں آپ کو ہر کمپنی کی مکمل تفصیلات ملتی ہیں اور آپ بغیر کسی پیچیدگی کے اسٹارٹ اپس کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، Wellfound آپ کو ایسی کمپنیوں سے جوڑتا ہے جو تیزی سے ترقی کر رہی ہیں اور جہاں آپ کو اپنی مہارت کو استعمال کرنے کا بہترین موقع ملے گا۔ اگر آپ اسٹارٹ اپس کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتے ہیں اور جدید کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا خواب رکھتے ہیں تو Wellfound by AngelList آپ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے آپ نہ صرف اپنے کیریئر کی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں بلکہ نئی کمپنیوں میں کام کرنے کا منفرد تجربہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

Tanveer Awan

12,407 görüntüleme • 1 yıl önce

چونکہ پشاور جلسہ عمران خان کی خصوصی کال اور ہدایت پر منعقد ہوا اور جاری فاشزم کے خلاف تھا جس کا سب سے بڑا وکٹم عمران خان خود ہیں، تو اس جلسے میں علیمہ خان کو بطور انکی فیملی باقاعدہ دعوت دے کر اسٹیج پر بلایا جانا چاہیے تھا، ان سے درخواست کی جاتی کہ انہوں نے اڑھائی سال میں اپنے بھائی کے ساتھ پیش آنے والے معاملات دیکھے ہیں، ان سے ملاقاتیں کی ہیں انکی حالت ملاحظہ کی ہے انکی صحت کو ملاحظہ کیا ہے انکے ارادوں کی مضبوطی کو دیکھا ہے انکے پیغامات عوام تک unfiltered پہنچائے ہیں، وہ اپنے یہ تجربات، یہ سب کچھ سٹیج سے عوام کے ساتھ دوبارہ شیئر کریں، عمران خان کے پیغامات کا خلاصہ، نظریے اور سوچ کا خلاصہ، انکے ارادے اور لائحہ عمل لوگوں کو بتائیں۔ یوں جلسے کا اصل مقصد پورا ہوسکتا تھا۔ اس سے جلسے کا مومینٹم ہی کچھ اور ہوتا۔ لوگوں کے جذبات بھرپور ہوتے، خیالات میں مزید حدت پیدا ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یا ہونے نہیں دیا گیا۔ حالانکہ جلسے میں شامل ہونے والے کئی درجن اور بھانت بھانت کے تمام رہنماؤں سے زیادہ عوام عمران خان کی بہنوں کو عزت اور احترام دے رہے تھے، انکی طرف متوجہ تھے، ان سے عقیدت اور جذباتی لگاؤ کا اظہار کررہے تھے، جیسے وہ عمران خان کیلیے کرتے ہیں۔ باقی کسی بھی پارٹی رہنما کو تو عوام اب کچھ سمجھتے ہی نہیں، رہنماؤں سے اُکتا چکے ہیں۔ نجانے کیوں علیمہ خان کو سٹیج پر نہ بلا کر یہ اہم ترین موقع ضائع کیا گیا، اور جلسے کو ایک لایعنی اور وقت کے ضیاع جیسی ایکٹویٹی بنا کر رکھ دیا گیا۔ انتظامات میں دیگر خرابیاں اور کوتاہیاں اسکے علاؤہ تھیں، اب رب جانے کہ یہ سب دانستہ تھا یا غیر دانستہ ہوا ہے۔

Obaid Bhatti

42,678 görüntüleme • 10 ay önce

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 görüntüleme • 1 yıl önce

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,180 görüntüleme • 1 ay önce

مریم نواز صاحبہ! نہ تجربہ، نہ منڈیٹ، نہ عوامی سپورٹ، نہ کوئی حکمتِ عملی… پھر بھی ہمیں “سیاسی مفادات” کا لیکچر؟ اگر واقعی سیاسی مفادات کو سائڈ پر رکھنا چاہتی ہیں تو سب سے پہلا قدم آپ کا استعفیٰ ہونا چاہئے۔ کیونکہ آپ مجھ سے ہارنے کے باوجود پنجاب پر مسلط ہیں اور اس وقت عوامی نمائندہ بھی نہیں ہیں، تو پھر سی ایم پنجاب کیسے؟ آپ سیلاب زدگان کی بات کرتی ہیں، لیکن عمران خان سمیت آدھے سے زیادہ عوامی نمائندے ناحق جیلوں میں ہیں۔ کسی کو جھوٹے مقدمات میں پانچ سال، کسی کو دس سال اور کسی کو تیس سال کی سزائیں سُنا کر سیاسی انتقام لیا جارہا ہے، جبکہ باقی سب کو بھی کسی نہ کسی ایف آئی آر یا ضمنی میں نامزد کرتے ہوئے جلاوطنی پر مجبور کیا گیا ہے۔ ایسے میں نمائندے اپنے حلقے میں جا کر کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟ یہ سب ظلم کرنے کے باوجود ہمیں ہی باشن دینا اگر منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ عوام کا مفاد صرف تب محفوظ ہوگا جب عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر بنائے گئے تمام جھوٹے مقدمات ختم ہوں، گرفتاریاں روکی جائیں، عوامی نمائندوں کو عوام کے درمیان جانے دیا جائے اور عوامی رائے کا بھرپور احترام کیا جائے۔ ورنہ “سیاسی مفاد چھوڑنے” کا ڈرامہ صرف ڈرامہ ہی رہے گا! Maryam Nawaz Sharif

Mehar Sharafat Ali

37,313 görüntüleme • 11 ay önce

سانحہ ڈی چوک 26 نومبر سے لاپتہ ہونے والے ،محمد راشد ولد شبیر، جو صادقہ آباد کی ایک کالونی کے رہائشی تھے، 26 نومبر کے بعد سے لاپتہ تھے ۔ ان کے گھر والوں کو ایک نا معلوم نمبر سے کال موصول ہوتی ہے، اور پولیس کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ ان کے لخت جگر کی موت ایک کار حادثے میں ہو گئی ہے۔ جب وُرثاء ہسپتال پوہنچتے ہیں، تو میت سَرد خانے سے نکال کے دیکھائی جاتی ہے۔ میت پر گولی کے واضح نشان تھے، جیسے کے وڈیو میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس قدر ظلم و جبر، زیادتی، لاشیں تک چُھپا دی گئی؟ حق کے لیے نکلنے والوں کو سِر عام مار کر ان کی لاشوں سے بھی ان کے اہل خانہ کو محروم کر دینا، یہ نا کبھی سُنا تھا نا ہوا ہے ہماری معاشرہ اس قدر تنزلی اور degradation کا شکار ہو چکا ہے۔ 26 نومبر کے بعد سے، ہمارے بہت سے کارکن مسنگ ہیں ہمیں اور ان کے بارے میں بہت سیریس خدشات ہیں۔ سَرد خانے میں اور لاشیں ہونے کی بھی خبریں ہیں۔ حکومت کو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ملک کو کس نہج پہ پوہنچا دیا گیا ہے؟ یاد رکھیے وقت سدا ایک سا نہیں رہتا اج اگر یہ ہمارے ورکرز ہیں تو کل اپ کے بھی ہو سکتے ہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

31,934 görüntüleme • 1 yıl önce

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

31,678 görüntüleme • 1 yıl önce