Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اب اگر کوئی یہ سوچتا ھے کہ دنیا میں امن ھو جاے گا وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ھے،،، فساد اس لیے ھے کہ پوری دنیا میں کسی ایک انچ زمین پے بھی اللہ کا حکم نافظ نھی ھے،،،،، دوسری بات دنیا اپنے انجام کے بلکل قریب پہنچ...

44,603 Aufrufe • vor 19 Tagen •via X (Twitter)

5 Kommentare

Profilbild von Un known
Un knownvor 18 Tagen

Chutiya insan tum log to israel ko 80 saal sa roz khatam kr raha ha ho har saal tumhari gand marta hai 🤣

Profilbild von البلوشی
البلوشیvor 19 Tagen

یہی تو وجہ ہے کہ انسان دن بدن تباھی کی طرف دہنستا جارہا ہے

Profilbild von Areakesh
Areakeshvor 18 Tagen

mohammad mere love day pay

Profilbild von Pablo Xcobar 🪼🥷🏾
Pablo Xcobar 🪼🥷🏾vor 18 Tagen

ایرانی اور اسرائیل ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں

Profilbild von malik sahab
malik sahabvor 18 Tagen

مسلمانوں آپس میں لڑنےکا نتیجہ اپنی تباہی

Ähnliche Videos

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 Aufrufe • vor 6 Monaten

یہ پلوشہ خان اور علیم خان کی لفظی جھڑپ کی ایک کلئیر اینگل سے صاف ویڈیو ھے اس میں دیکھا جاسکتا ھے کہ سفارش پر آئی ہوئی سینیٹر نے عوامی نمائندے سے کس لہجے میں بات کی اور وہ نمائیندہ جو اربوں پتی ھے ، علیم خان چپ بیٹھے تھے اپنی صفائی دے کر ، لیکن جب پلوشہ خان نے سینٹیر بننے کی بجائے جج بنتے ہوئے فیصلہ صادر کرکے ان پر ذاتی حملہ کیا اور انہیں کہا کہ آپ گلٹی ہیں (مجرم ہیں ) تو اس بات پر علیم خان بھڑک اٹھے لیکن اس کے بعد پھر خاموش بیٹھے رہے لیکن پلوشہ خان کی زبان قینچی کی طرح چلتی رہی ، جرنیل کے رکھیل رہی ھے اس کی بھی اکڑ اب جرنیلوں والی ھے ، باہر آکر معصوم بن کر کہہ رہی ھے کہ سوال کرنا میرا حق ھے ، او سوال تم نے کردیا اور جواب بھی علیم خان نے دے دیا ، اب جج بن کر تم نے ایک قومی اسمبلی اور معاشرے کے معزز رکن کو مجرم کہہ دیا تو وہ خاموش بیٹھا رہے گا ؟ علیم خان نے آگے سے کہا ھے کہ میں نے تو جواب دے دیا ھے اپنے گریبان میں جھانکو اگر میں نے سوال کیا تو تمہارے پاس جواب ہی نہیں ہوگا ۔۔۔
1:35

Sensitive content

یہ پلوشہ خان اور علیم خان کی لفظی جھڑپ کی ایک کلئیر اینگل سے صاف ویڈیو ھے اس میں دیکھا جاسکتا ھے کہ سفارش پر آئی ہوئی سینیٹر نے عوامی نمائندے سے کس لہجے میں بات کی اور وہ نمائیندہ جو اربوں پتی ھے ، علیم خان چپ بیٹھے تھے اپنی صفائی دے کر ، لیکن جب پلوشہ خان نے سینٹیر بننے کی بجائے جج بنتے ہوئے فیصلہ صادر کرکے ان پر ذاتی حملہ کیا اور انہیں کہا کہ آپ گلٹی ہیں (مجرم ہیں ) تو اس بات پر علیم خان بھڑک اٹھے لیکن اس کے بعد پھر خاموش بیٹھے رہے لیکن پلوشہ خان کی زبان قینچی کی طرح چلتی رہی ، جرنیل کے رکھیل رہی ھے اس کی بھی اکڑ اب جرنیلوں والی ھے ، باہر آکر معصوم بن کر کہہ رہی ھے کہ سوال کرنا میرا حق ھے ، او سوال تم نے کردیا اور جواب بھی علیم خان نے دے دیا ، اب جج بن کر تم نے ایک قومی اسمبلی اور معاشرے کے معزز رکن کو مجرم کہہ دیا تو وہ خاموش بیٹھا رہے گا ؟ علیم خان نے آگے سے کہا ھے کہ میں نے تو جواب دے دیا ھے اپنے گریبان میں جھانکو اگر میں نے سوال کیا تو تمہارے پاس جواب ہی نہیں ہوگا ۔۔۔

Aamir Hussain

91,574 Aufrufe • vor 9 Monaten

عمران خان کی تصویر کو خانہ کعبہ میں لہرانا مطلب اللہ کے گھر میں دوبارہ بت پرستی کا آغاز کرنا۔ یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔👇👇 حدیث نمبر: 1601 صحيح بخاری۔ ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (فتح مکہ کے دن) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر دے رکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔ جزیرۃ العرب میں شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو توفیق دی اور اپنے لشکروں سے ان کی مدد کی حتیٰ کہ انہوں نے تمام بتوں کا خاتمہ کردیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم بلند کردیا۔ لیکن قیامت کے قریب لوگوں کے دین سے دور اور علم سے بے نیاز ہونے کی وجہ سے ایک گروہ دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردے گا اور یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

34,827 Aufrufe • vor 2 Jahren

بصد احترام 🙏 مولانا طارق جمیل صاحب آپ کے صاحبزادے کی حادثاتی وفات پر میں نے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا اور ان لوگوں کی مذمت بھی جو اس وفات کو آپ کے لیے مکافات عمل قرار دے رھے تھے مگر آپ نے مجھے مجبور کیا کہ ایک بار پھر آپ کے بارے میں قلم کو حرکت دوں ۔ اس وفات پر جو کچھ ھمدردیاں آپ کے ساتھ ھوئی تھی آپ خود ان لوگوں میں اپنا مذاق اور تماشہ بنوا رھے ھیں ۔آپ کے گھر کے راوی کا کہنا ھے کہ یہ موت خود کشی کی ھے اور وہ (مرفوع القلم) تھے جبکہ اب آپ اس طرح کے خواب کے ذریعے انکو جنتی ثابت کررھے ھیں ان شاءاللہ وہ جنتی ضرور ھوں گے یہ چیز میں اور آپ سمجھتے ھیں مگر آپ کے منبر سے ایسی خوابی تعبیر کے ذریعے لوگوں میں خود کشی کو ڈیفینڈ کرنے کا تاثر جارھا ھے جوکہ غلط ھے لہذٰا خاموشی بہتر ھے اور ویسے بھی پچھلے سالوں سے آپکی تحریک انصاف سے سیاسی وابستگی کی وجہ سے جو آپکی جانبداری کا تاثر پیدا ھوا ھے لوگ اب آپ کی ایسی باتیں ھی نہیں بلکہ سچی باتوں کو بھی آپکا وھم اور من گھڑت قرار دیتے ھیں اور دوسری بات کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے خواب حجت ھیں اور وحی کی مانند ھوا کرتے ھیں انکے علاوہ کسی کے نہیں حتی کہ صحابہ کرام کے بھی نہیں ۔ اسکے علاوہ دل کو تسلی ضرور دی جاسکتی ھے مگر اسکو مجمع میں بیان کرکے کسی کی ولایت یا مظلومیت معصومیت یا بخشش کو ثابت نہیں کیا جاسکتا باقی اتنا اشکال ضرور پیدا ھوگا ان پشاور کے بزرگ پر کہ ایک لاکھ درودشریف پڑھنا یومیہ کتنا وقت درکار ھوتا ھے وہ جو پڑھتے ھیں؟ اور اگر انکے پاس یہ کرامات ھیں جوکہ حق ھے کہ کرامات کا وجود ھے تو ان کرامات کو چھپایا جاتا ھے نہ کہ ظاھر کیا جاتا ھے کیونکہ فتنہ پھیلنے کا اندیشہ ھے ۔ (واللہ اعلم) والسلام 🙏 Tariq Jamil

M Tauseef Ahmed

208,909 Aufrufe • vor 2 Jahren

دھرتی ماں کا انتقام۔۔۔!!! " کسی نہتے قیدی کی بدعا عرش تک یقینا ضرور پہنچی ھوگی جو استقامت اور صبر و عجز کا پہاڑ ھے جو راہ حسینیت کا مجاھد ھے جو اتنا عظیم بن چکا ھے کہ عظمت بھی گھبرا اٹھی۔۔۔یہ ریاست اسکے صبر و استقامت کا بوجھ اب شاید نہ اٹھا سکے ۔۔ اب 80 سالہ قائم عالیشان محل میں دراڑیں ڈلنے جارھی ھیں ۔۔۔زمین بوس ھونے کیلیے تیار یہ عالیشان محل دھڑام سے ضرور گریگا جسکے گرنے کی اوازیں دور دور تک جائیگی اس محل کے مکینوں پر خوف طاری شروع ھوچکا دھشت سے گھگیاں بندھ چکی ھیں نہ جانے کیا ھوجایے کی بلا انکے سر پر سوار ھے۔۔اب انکی باری ھے عوام اپنی باری گزار چکی ۔۔اسکی چکی بہت باریک پیستی ھے چکی کے چلنے کی اواز اب بہروں کو بھی آنا شروع ھے ۔زمین اور ریاست کا مالک فقط رب العالمین ھے کوئی بندہ بشر نہیں ۔یہ سب کچھ اسی کی ملکیت ھے ۔۔زمین پر عزت اسی کیطرف سے ھوتی ھے فنا بھی وھی کرتا ھے ۔یہ صرف ڈھیل دی جاتی ھے ملکیت نہیں ۔۔البتہ مائی زمین۔۔ نصیب والوں کو چند گز ضرور دے دیتی ھے۔۔۔ورنہ فقط دانت ھی مل پاتے ھیں ۔۔۔جو عبرت پکڑ لے تو پکڑ لے ورنہ عبرت ھی غائب ھوجاتی ھے۔۔۔۔اور لگتا یہی ھیکہ وہ غائب ھوچکی ھے ۔۔اب کرداروں کے غائب ھونے کا وقت شروع ھوا چاھتا ھے ۔۔۔زمین نجس اور ناپاک وجودوں کو تہس نہس کردیتی ھے اور زمین یہی کرنے جارھی ھے اسے حکم مل چکا ھے زمین کے خزانوں کی کنجیوں کے مالک اور علم کے شہر ْﷺ کی دعا سے بننے والی ریاست کیلیے علم کے دروازے ابو تراب نے یعنی مٹی کے باپ مولا علی عل نے یہ فرمایا تھا کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ھے مگر ظلم کی نہیں ۔

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

15,107 Aufrufe • vor 1 Monat

سعید چوہدری کے مطابق غیر ملکی جریدے دی ٹیلیگراف تین بار آرٹیکل لکھ چکا ھے کہ طیاروں کی مارکیٹ میں جے ایف 17 تھنڈر اور رافیل میں مقابلہ شروع ہو چکا ھے۔ اور اسوقت پاکستان 16 ممالک کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر کی بات چیت کر رہا ھے جس میں کچھ ڈیل مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی ڈیل کے اعلانات ہونے باقی ہیں۔ کچھ دن پہلے پاکستانی وزیردفاع مراکش کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کے 40 طیاروں کی یادداشت پر سائن کر چکے ہیں۔ اسوقت جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی ڈیمانڈ بہت بڑھ چکی ھے کیونکہ پاکستان نے اس میں موڈیفکیشین کی ھے اسکو مذید جدید بنایا ھے۔ ان طیاروں کے استعمال ہونے والے میزائل/بم میں REK کٹ لگائی گئی ھے۔ جس سے عام بم بھی گائیڈڈ سمارٹ ویپئن میں تبدیل کر دیتا ھے اور پاکستان اس کا کامیاب تجربہ بھی کر چکا ھے۔ اس REK کٹ سے عام بم بھی اپنے نشانے پر جا کر لگا ھے۔۔ اس طیارے کی مانگ اس لئے بھی زیادہ ھے کیونکہ یہ جنگ میں آزمایا جا چکا ھے اور یہ طیارہ خود کو منوا چکا ھے۔ جبکہ رافیل عملی جنگ میں ناکام ہوا ھے۔ اور اسوقت صرف بھارت ہی رافیل کا گاہک بچا ھے، اور اسی سلسلے میں فرانس کا صدر خود انڈیا آ رہا ھے تاکہ رافیل کے مزید طیاروں کی ڈیل کی جا سکے۔۔ یعنی انڈین پائلٹس کی تربیت دیکھتے ہوئے اسے کوئی طیارے دینے کو تیار نہیں اور رافیل کو خریدار نہیں مل رھے۔ اس لئے یہ دونوں ملک اب آپس میں ہی یسو پنجو کھیلنا شروع ہو گے ہیں۔۔۔

چوہدری شاہد محمود

32,949 Aufrufe • vor 8 Monaten