Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اب سے کچھ دیر پہلےیوسی 8 صفورہ ٹاؤن سے ایک اور منتخب چئیرمین کو سر عام اٹھا کر غائب کردیا گیا۔ تاکہ وہ مئیر کے انتخاب میں اپنا ووٹ ڈال ہی نہ پائے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ پیپلزپارٹی کی حکومت ثابت کررہی ہے کہ وہ فاشزم میں ہٹلر...

379,127 Aufrufe • vor 3 Jahren •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von Mohsin Meer مُحسِن میر
Mohsin Meer مُحسِن میرvor 3 Jahren

آپ کا سامنا ایک مافیا سے ہے، سیاسی جماعت سے نہیں۔

Profilbild von Free Pakistan
Free Pakistanvor 3 Jahren

حافظ صاحب بد قسمتی سے جب یہ سب پی ٹی آئی کے ساتھ ہورہا تھا تو آپ سب خاموش تھے۔ اب بھی آپ کے امیر صاحب نہ ادھر ہیں اور نہ ادھر۔ آگ پہ اگر پانی نہ ڈالا جائے تو وہ پھر سب کو جلاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم غلط کو غلط صرف تب کہتے ہیں جب ہمارے ساتھ ہو رہا ہو۔

Profilbild von jookeerrr🇵🇰
jookeerrr🇵🇰vor 3 Jahren

عالمی عدالت میں کیس جانا چاہیے

Profilbild von Asad Younis Tanoli
Asad Younis Tanolivor 3 Jahren

@R1mAhg5BMoH4Kf8 نعیم بھائی، اللہ پر بھروسہ رکھیں حَسْبِیَ اﷲُ لَآ اِلٰہَ الَّا ھُوَ عَلَیہِ تَوَکَّلْت ُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ العَظِیْمِ

Profilbild von ترجمان⚔️
ترجمان⚔️vor 3 Jahren

@worqas اس نے کچھ تو کیا ہوگا ایسے ہی تھوڑی کسی کو اٹھاتے ہیں۔ ہن کچھ یاد آیا؟

Profilbild von Akram Khan
Akram Khanvor 3 Jahren

مطلب کہنے کا یہ کہ پیپلزپارٹی جماعت اسلامی کے نقش قدم پر ہے؟ ارے یہ کام بھی سیکھ رہے ہیں تب تو آپ خود پر فاتحہ پڑھ ہی لیں، سکھایا تو آپ نے خود ہی ہے سیاست میں تو ویسے بھی ان سے کوئی آگے نہیں نکل سکتا، اب بدمعاش بھی، خیر منائیں 😀😃😄

Profilbild von Shaheer Siddiqui
Shaheer Siddiquivor 3 Jahren

حادثہ سے بڑا سانحہ یہ ہوا لوگ ٹھرے نہیں حادثہ دیکھ کر شرمناک صورتحال!میڈیا بھی پیپلز پارٹی کا غلام بنا ہوا ہے کوئی اس فصطائیت پر آواز نہیں اٹھا رہا @HamidMirPAK @FrontlineKamran @AajKamranKhan @nadeemmalik ان اینکرز سے توقع نہیں تھی کہ اشتہارات کےعوض یہ بھی خاموش ہو جائیں گے

Profilbild von iKhan
iKhanvor 3 Jahren

Ye scene pichlay 1.5 years say bohat common hain. Alhamdullilah Allah nay aapku bhe ghalat ku ghalat kehnay ki taufeeq di.

Profilbild von aashir aamir
aashir aamirvor 3 Jahren

حافظ صاحب آپ نے ان چیئرمین کو اکٹھا کر کے سیف جگہ پر رکھنا ہے اپکو پتہ بھی ہے پورے ملک میں بدمعاشوں کا قبضہ ہے اب فورن کراچی میں دھرنے دیں

Ähnliche Videos

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 Aufrufe • vor 2 Monaten

”آج جمعہ،6 فروری 2026 ہے۔ عمران خان صاحب کی فیملی کی جانب سے میرے ساتھ ایک رپورٹ شیئر کی گئی، جو آج ہی کی تاریخ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کی تکلیف کے لیے کون سے ٹیسٹس کیے گئے، لیکن ان ٹیسٹس کی رپورٹس یا رزلٹس کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ تشخیص کے مطابق عمران خان صاحب کو سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن ہوا ہے۔ یہ وہی تکلیف ہے جس کا ذکر پہلے بھی میڈیا میں آ چکا ہے، جس میں آنکھ سے خون واپس لے جانے والی شریان میں خون جم جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاج کے طور پر ایک آنکھ کے اندر ایک خاص دوا کا انجیکشن لگایا گیا، جو اس بیماری میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہمیں جو تشویش پہلے بھی تھی، اور جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا تھا، وہ یہ ہے کہ خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انہیں ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ ضرور لکھا گیا ہے کہ کوالیفائیڈ اور ایکسپیرینسڈ آف Ophthalmologists نے انہیں دیکھا، یعنی آنکھ کے ماہرین نے معائنہ کیا، لیکن ہر آنکھ کا ماہر اس بیماری کا علاج نہیں کرتا۔ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے کہ ایسے مریض کو ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ جبکہ ایسے ڈاکٹرز ہمارے ملک میں دستیاب ہیں اور ہر بڑے شہر میں موجود ہیں، اس لیے ہم دوبارہ امید کرتے ہیں کہ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بلایا جائے گا تاکہ وہ خان صاحب کا معائنہ، ایویلیوایشن اور علاج کر سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فالو اپ کی ضرورت ہے، اور یقیناً وہ پلان بھی کیا گیا ہوگا، لیکن اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں کہ فالو اپ کب ہوگا اور اس دوران کیا علاج کیا جائے گا۔ ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے، جس کا پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، کہ اس بیماری کے پیچھے اکثر کوئی اور میڈیکل کنڈیشن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی ذکر نہیں کہ آیا کسی میڈیکل اسپیشلسٹ نے خان صاحب کو دیکھا، کوئی متعلقہ ٹیسٹس کیے گئے، یا اگر کوئی ایسی میڈیکل کنڈیشن سامنے آئی ہے تو اس کا کوئی علاج شروع کیا گیا یا نہیں۔ میں دوبارہ زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بہت سنجیدہ بیماری ہے، اور اس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں آئے، اور مزید فالو اپ اور علاج کی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں، میں ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ مجھے رسائی دی جائے۔ میں گزشتہ تقریباً پچیس سال سے عمران خان صاحب کا پرسنل فزیشن ہوں، اور میرے ساتھ ساتھ دستیاب اسپیشلائزڈ، کوالیفائیڈ اور ٹرینڈ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بھی اجازت دی جائے تاکہ ہم خان صاحب کی دیکھ بھال میں شامل ہو سکیں اور یہ یقینی بنا سکیں کہ انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے “ ڈاکٹر عاصم یوسف #FreeTheSoulOfPakistan #AllowAccessToImranKhan

Jibran Ilyas

65,792 Aufrufe • vor 7 Monaten

تمام لبرل حضرات کو میں ایک ہی جواب دینا چاہتا ہوں🚨 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات اور لبرل ازم کا پرچار خیبرپختونخوا کے لوگوں پر مسلط نہ کریں، محترم۔ یہ نہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے اور نہ ہی یہاں بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کالجز بھیجا جاتا ہے۔ آپ پختونخوا کو امریکہ نہ بنائیں، اور نہ ہی صرف اپنی مرضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں !! دوسری بات یہ کہ میں نے یہ ٹویٹ خیبرپختونخوا سے لکھ کر پوسٹ کیا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حیا اور عزت کے مطابق بات کی ہے۔ مذہب اور کلچر کا لفظ استعمال کیے بغیر بھی میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں بھیجے گا !! ہمارے خیبرپختونخوا کے مشران نہ لڑکوں کو غیر اخلاقی ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ لڑکیوں کو۔ اور خاص طور پر یہ حقیقت کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت، احترام اور وقار اسلام نے دیا ہے۔ مرد اور عورت کا مقام الگ ہے — عورت عزت، احترام اور وقار کا نام ہے !! ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی تعلیم اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی تعلیم نسلوں کی تعلیم بنتی ہے، معاشرے کی تربیت بنتی ہے۔ یہ عورت کا وقار ہے — اور آپ جیسے لبرل لوگ اسی وقار کو چھیننا چاہتے ہیں !! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں، علم حاصل کریں، خوشیاں پائیں۔ مگر ہمارے ہاں پختونخوا میں جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، ان میں لڑکیوں کا سرعام رقص کرنا اور اس کو سراہنا معاشرتی گندگی پھیلانے اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے !! اگر کسی کو اپنی بیٹی کو نچوانے کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے مہربانی اپنی ذاتی پرائیویسی میں رکھ کر نچوائے — نہ کہ تعلیمی اداروں میں بیٹیوں کا ڈانس کروا کر اس پر تالیاں بجوائے۔ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی ناچنے کے لیے تعلیمی ادارے میں داخلہ لے !! ہر والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو باحیا اور باعزت دیکھنا چاہتا ہے، ایسا کہ ان کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ اور اگر کوئی بندہ مرد اور عورت کو ایک جیسا درجہ دینا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں، تو وہ سرعام اعلان کرے کہ وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین کے قوانین کے مطابق عورت کی اپنی عزت ہے اور مرد کی اپنی عزت !! لہٰذا یہ لبرل ازم اور یہ بے حیائی خیبرپختونخوا سے باہر رکھیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان کے لیے تو سڑکوں پر ناچنا بھی کوئی بڑی بات نہیں !! اور یہی وہ لوگ ہیں جو "میرا جسم میری مرضی" کو ان ڈائریکٹلی ڈیفینڈ کر رہے ہیں، ورنہ اگر غور کیا جائے تو مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ بدل ہے !!

Mohammad Shehzad Khan

41,533 Aufrufe • vor 8 Monaten

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,163 Aufrufe • vor 2 Monaten

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 Aufrufe • vor 1 Monat

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 Aufrufe • vor 8 Monaten

27 ستمبر کی کال دیے ہوئے 2 دن ہوئے ہیں۔۔۔۔ انتظامیہ کی تیاری پہلے سے مکمل تھی۔۔۔ اسلام اباد میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ ورکرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ سہیل آفریدی کی سہولت کاری کی بدولت ہو رہا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھیں کبھی کسی کو اتنے غدار نہیں ملے ہوں گے جتنے عمران احمد خان نیازی کو ملے ہیں خان صاحب نے جن کو کچرے سے اٹھا کر عہدہ دیا وہی خان صاحب کے ساتھ غداری کر رہے ہیں شفیع جان نے مجھے کہا کہ جو بھی احتجاج کا ہوگا وہ علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی کریں گے اور نو سے دس مہینے اس ٹرک کے بتی کے پیچھے ہمیں لگائے رکھا لیکن اب جو کال دی ہے اس میں ان کا ذکر تک نہیں تھا سہیل افریدی کی گینگ مجھے کہتی ہے کہ میں فلانے کا نام لوں کیا صوبے کا چیف ایگزیکٹو جس کے پاس عہدہ ہے پاور ہے اس نے فرد واحد کا نام لیا ہے. ؟ ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کا موقف اپ کے سامنے ہے نہ انہوں نے پنجاب کی قیادت کا نام لیا ہے جو قید میں ہے خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا خان صاحب پر بھی مزید سختیاں بڑھا دی گئی ہوں گی ان کو 13 14 اگست کی تاریخ دینی چاہیے تھی اس بات کا فائدہ اٹھا کر وہ ورکرز کو پکڑ رہے ہیں میں بھی کسی جگہ پر ہوں مشکل وقت ہے گزر جائے گا خان صاحب کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے ان سے میں نے سوالات کیے اسی وجہ سے مجھے پہلے بھی گرفتار کیا میں ابھی بھی حلفاً کہتا ہوں کہ 27 تاریخ کی کال کامیاب نہیں ہونے والی۔۔۔۔ کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کال ملتوی ہو جائے جو کرنا ہے اسی مہینے کرنا ہے نہیں تو اپ بھول جائیں خان صاحب کی رہائی کو......

Haider Saeed

17,457 Aufrufe • vor 28 Tagen