Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اب یہ کیا بےشرمی ہے یہ اتنے بڑے آدمی کو ایک چھوٹی بچی اُٹھا کر لے جا رہی ہے آدمی بچی کے کندھے پر سوار ہنس رہا ہوتا ہے اور بچی پورے ہال کا ایک چکر لگاتی ہے

179,417 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اس ویڈیو میں نظر آنے والی معصوم بچی گزشتہ ایک ہفتے سے تحصیلدار حاصل پورکے دفتر کے باہر کھیلنے پر مجبور ہے، کیونکہ اس کا والد ایک نہایت حساس اور تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بچی کا والد کینسر جیسے موزی مرض میں مبتلا ہے اور اپنی زندگی میں ہی چاہتا ہے کہ وہ اپنی معصوم بیٹی کو اس کا قانونی اور شرعی حق دلوا دے، تاکہ اس کے بعد بچی دربدر نہ ہو۔ مگر افسوس کہ تحصیلدار حاصل پورشاکر عباسی پر سنگین الزامات ہیں کہ وہ سوتیلے بھائیوں سے مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر جان بوجھ کر ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور متاثرہ باپ کا بیان تک ریکارڈ نہیں کیا جا رہا۔ ایک بیمار باپ، ایک معصوم بچی، اور ایک بے حس نظام—یہ منظر ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے منہ پر کھلا طمانچہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک کینسر کا مریض باپ بھی اپنی بیٹی کو حق دلوانے کے لیے رشوت دے؟ کیا انصاف صرف طاقتور اور مالدار کے لیے مخصوص ہو چکا ہے؟ جب ایک معصوم بچی سرکاری دفتر کے باہر دن گزارنے پر مجبور ہو جائے تو یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام کی ناکامی بن جاتا ہے۔ اعلیٰ حکام، وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری اور اینٹی کرپشن سے مطالبہ ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افسر کے خلاف سخت اور عبرتناک کارروائی کی جائے، تاکہ کسی اور بیمار باپ اورمعصوم بچی کو یوں انصاف کے لیے رلنا نہ پڑے۔ انصاف نہیں ملا تو آواز مزید بلند ہوگی

صحرانورد

67,462 Aufrufe • vor 7 Monaten

گوٹھ ظفر علی عمرانی، تحصیل تمبو میں بگٹی قبیلے کے دو خاندانوں کے درمیان ایک کم عمر بچی کی شادی کے معاملے پر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک فریق کم عمر بچی کی شادی پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ بچی کے والد ہزار خان بگٹی کا موقف ہے کہ بچی نابالغ ہے اور اس کی شادی نہیں کی جا سکتی۔ اس معاملے پر قبائلی رہنما میر عبدالصمد لہڑی کی رہائش گاہ پر جرگہ منعقد ہوا، جہاں بچی کی کم عمری کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم تین سال تک شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم الزام ہے کہ دوسرا فریق جرگے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہا اور شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچی کے والد کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جن میں زرعی زمین پر موجود پلال کو آگ لگانے اور ذہنی دباؤ ڈالنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ہزار خان بگٹی نے ایس ایس پی نصیرآباد، ڈی آئی جی نصیرآباد، متعلقہ انتظامیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے نوٹس لینے اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ کم عمری کی شادی پاکستان کے قوانین کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔

Tania Bazai 🇵🇰 🇵🇰

41,227 Aufrufe • vor 3 Monaten