Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اب یہ کیوں کہا جارہا ہے نارمل استقبال اور گرمجوشی سے استقبال میں فرق نوٹ کریں ؟ کیا ہم اتنے برے ہیں کہ ہمیں وہ گرمجوشی نہیں ملی جو ہمارے بعد والے کو ملی ؟💔😢

91,079 просмотров • 11 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 просмотров • 1 месяц назад

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 просмотров • 8 месяцев назад

ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کئی دفعہ خواتین کے لئے بہت بڑا عذاب بن جاتا ہے خاص طور پر جو دوسرے خاندان سے بیاہ کر جوائنٹ فیملی والے خاندان میں آتی ہیں انکو اپنے سسر ،ساس، جیٹھانی اور دیور کی وہ کڑوی کسیلی باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں شوہر خود مجبور ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو منع کرے گا تو اسکو کہا جاتا ہے کہ رن مرید ہو گیا اور والدین تو خاص طور پر جذباتی بلیک میلنگ بھی کر جاتے ہیں کہ کیسے تم کو پالا پوسا جوان کیا پڑھایا اور اب تم اپنی بیوی کو ہم پر ترجیح دے رہے ہو آج صبح سے ایک سسر کی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ اپنی بہو کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے گو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے مگر اب بہو خود یہ ویڈیو بیان دے رہی ہے کہ میں بد تمیزی کی تھی اس لئے سسر نے مارا ہے اور کوئی کاروائی بھی نہیں کروانا چاہتی اسکی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس گھر میں رہنا ہے اگر سسر کو اندر کرواے گی تو سسر سب سے پہلے باہر آ کر اس کو گھر سے نکالے گا اور بچے بھی چھین لے گا بس ایسا خاندانی نظام ہے ہمارا

KHURRAM

279,836 просмотров • 2 лет назад