Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ابدالین سوسائٹی میں 2 کنال کا رہائشی پلاٹ لیکر اسے کمرشل ڈکلیئر کروایا گیا ابدالین سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ کا رقبہ زیادہ سے زیادہ 7 مرلہ تک ہے لیکن ابدالین سوسائٹی میں سکندر سلطان راجہ کا دو کنال کا واحد پلاٹ ہے جسے کمرشل ڈکلیئر کروا کر معروف کاروباری...

35,245 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

والٹن ائیرپورٹ عمران خان نے فروخت کیا تھا!! سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا سنگِ بنیاد وزیر اعظم عمران خان نے 26 فروری 2021 کو رکھا- ٹھیک تین ماہ بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا کہ اب اس جگہ کو ایئرپورٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا حتیٰ کہ اس پر قائم فلائنگ کلب بھی اسے تربیتی پروازوں کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس کے کچھ ہی ہفتے بعد اگست کی تین تاریخ کو پنجاب کے محکمہ آبادکاری نے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا کہ "گورنر پنجاب نے والٹن ایئرپورٹ/فلائنگ کلب کی 70 ایکڑ زمین مشروط طور پر ریاست کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے"۔ اسی محکمے نے 23 اگست کو ایک اور اعلامیہ جاری کیا جس میں گورنر پنجاب نے کہا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ سے ہونے والی آمدنی کا 42.6 فیصد سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اور 57.4 فیصد پنجاب حکومت کو جائے گا۔ جون 2021 میں اس اتھارٹی نے اس زمین کو نیلام کرنے کی پہلی کوشش کی جس کے تحت اخبارات میں اشتہار دیے بغیر چند مخصوص کمپنیوں کو اس عمل میں مدعو کیا گیا۔ لیکن نیوز میڈیا میں اس طریقہِ کار کے بارے میں خبریں نشر ہونے کے بعد اس نیلامی کو منسوخ کر دیا گیا۔ایک ماہ بعد اتھارٹی نے اخبارات میں اشتہار دیا کہ والٹن ایئرپورٹ کی زمین کی نیلامی 4 اگست کو کی جائے گی لیکن اس دوران متعدد افراد نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں کہ نیلامی کا عمل غیر قانونی ہے لہٰذا اسے روکا جائے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ اس میں شمولیت کے لئے درخواستیں صرف مخصوص افراد اور کمپنیوں سے لی گئی ہیں۔تیسری دفعہ 22 اگست کو اخبارات میں اشتہار دیا گیا کہ ایئرپورٹ کی زمین میں سے پونے آٹھ ایکڑ رقبہ 7 ستمبر کو نیلام کیا جائے گا۔ یہ نیلامی بالآخر کامیاب رہی اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی نے پانچ تجارتی پلاٹ 21 ارب 59 کروڑ روپے میں چار مختلف کاروباری اداروں کو 90 سالہ لیز پر دے دیے۔اس بولی میں 13 پاکستانی اور غیر ملکی کمپنیوں نے شرکت کی جن میں سے نووا ڈویلپرز اور ترکی کی کمپنی بائرکتار انسات پر مشتمل کنسورشیم نے 18 کنال کا ایک پلاٹ سات ارب 63 کروڑ روپے میں حاصل کیا۔ 11 کنال پر مشتمل دوسرا پلاٹ اسلام آباد کی کمپنی اے ایس ای حسنات جوائنٹ وینچر نے چار ارب 22 کروڑ روپے میں لیا۔ تیسرا پلاٹ دو ارب 84 کروڑ روپے کے عوض پشاور کے عباس خان گروپ کو ملا جو امریکہ میں الیکٹرانک سگریٹ کا کاروبار کرتا ہے۔ اس پلاٹ کا رقبہ 10 کنال ہے۔ چوتھا پلاٹ، جس کا رقبہ 13 کنال ہے، عارف حبیب گروپ کو چار ارب 6 کروڑ 90 لاکھ روپے میں دیا گیا جبکہ پانچواں پلاٹ بھی اسی گروپ نے دو ارب 84 کروڑ روپے میں حاصل کیا۔ اس بولی کے مکمل ہونے کے بعد 9 ستمبر 2021 کو محمد اعظم نامی ایک شہری نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی کہ پنجاب حکومت نے والٹن ایئرپورٹ کی زمین پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا منصوبہ ماحولیاتی تحفظ کے محکمے سے اجازت لیے بغیر شروع کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں وجوہات کی بنا پر انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نیلام شدہ پلاٹوں کی منتقلی روکی جائے۔لیکن جج، جسٹس جواد حسن نے ان کی استدعا رد کر دی۔

Ch Pervaiz Sandhila Official

26,813 Aufrufe • vor 2 Jahren