Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ابوسر ٹاپ کو برا کہنے والو، کبھی دل سے دیکھا ہے؟ کچھ لوگ آئے، بابوسر ٹاپ تک گئے، اور واپسی پر صرف شکایتیں لے کر لوٹے… کہ برف نہیں تھی، خوبصورتی نظر نہ آئی، کھانا اچھا نہیں ملا۔ بابوسر ٹاپ گلگت بلتستان پر تنقید؟ یہ زیادتی ہے! حال ہی...

76,083 views • 1 year ago •via X (Twitter)

9 Comments

zareeN's profile picture
zareeN1 year ago

بابو سر ٹاپ گندی ترین جگہ وہاں صفائی ستھرائی کوئی نہیں کھانا سب مہنگا اور بے کار اپنے آپ کو ٹھیک کرو تم لوگ روز ایک دھمکی والی پوسٹ لگنے سے کچھ نہیں ہوتا

ꜰᴀʀɪꜱʜᴛᴀʏ's profile picture
ꜰᴀʀɪꜱʜᴛᴀʏ1 year ago

اتنے چھوٹے بچے صرف مالز اور پارکس میں انجوائے کرتے ہیں۔ چول عوام اتنے چھوٹے بچوں کو بابوسر میں کیا نظر آئیگا اور ماں باپ بھی صرف comfort مانگیں گے۔۔ بڑی پیٹو اور فضول adventures کرنے والی قوم ہے۔ ہر شخص پہاڑوں کے قابل نہیں ہوتا یہ بات گھر سے نکلنے سے پہلے سوچ کے نکلیں۔

Gilgit Baltistan Tourism.'s profile picture
Gilgit Baltistan Tourism.1 year ago

بہت زبردست جواب بھائی 🙏💕

Haris's profile picture
Haris1 year ago

بھائی غلط بات ہے ایسے آپ کسی کو غلط نہیں کہہ سکتے تفریح کے لیے آنے والا شخص وہاں مجود سہولیات پر اپنی رائے دے سکتا ہے اسکا حق ہے۔۔۔ آپ لوگ اتنا پیسہ کماتے ہو لکین بابو سر ٹاپ پر گندگی اتنی ہوتی ہے اللہ معاف کرے واشروم کا جو حال ہوتا ہے اللہ کی پناہ ۔ ۔ تھوڑا صفائی پر دھیان دیں

Malaika khan PTl🇵🇰's profile picture
Malaika khan PTl🇵🇰1 year ago

ضروری نہیں کہ ہر جگہ لگژری ہو ..اونچائی سے دلکش نظارہ ڈابہ ہوٹل کی ٹرک مارکہ چائے ۔۔۔ تیز ہوائیں پھر بارش😍 ہم نے تو بہت انجوائے کیا بچوں کی وجہ سے واپسی کرنی پڑی ورنہ سورج ڈھلنے کا نظارہ دیکھنا چاہتی تھی 😧

Malik Awais Awan ™'s profile picture
Malik Awais Awan ™1 year ago

خوبصورتی کی تلاش میں آپ چاہے ساری دنیا گھوم لیں اگر یہ آپ کے اندر نہیں تو کہیں بھی نہیں ۔

Raees Abbasi's profile picture
Raees Abbasi1 year ago

ان سے سیدھا سوال بنتا ہے:کس نے زبردستی بلایا تھا؟ نہ فطرت کی قدر، نہ اخلاق کا پاس… پھر واپسی پر زبان درازی؟ شرم تو تمھیں آنی چاہیے! قدرتی حسن تمہارے مزاج کے مطابق نہیں، تو گھر بیٹھو اور پیزا کھاؤ.

Muhammad Arif's profile picture
Muhammad Arif1 year ago

اس بندے کو چاہیے کہ کسی 5 سٹار ہوٹل چلا جائے ۔ یہ بندہ اس تفریح گاہ کے قابل نہیں ھے ۔

Emaanay Syed's profile picture
Emaanay Syed1 year ago

پہاڑوں پر پاگل جاتے ہیں ۔ تھوڑا پاگل پن ہونا ضروری ہے ۔۔ جنہیں کھانا اور ناچ گانا چاہیے تو وہ اپنے شہروں میں رہ لیا کریں ۔ فطرت کو محسوس کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ بچوں کے ساتھ تو جانا بھی نہیں چاہئے!!

Related Videos

قتل کیے جانے والے مفتی منیر شاکر کی ایک حالیہ انٹرویو کا اردو ترجمہ۔ "بنوں اور اکوڑہ میں دھماکے پر مولوی طبقے کی خاموشی سوالیہ نشان بالکل نہیں ہے, کیونکہ یہ تو سرکار کی بی ٹیم ہے۔ جب سرکار روس میں جنگ چاہ رہی تھی تو ہر مسجد سے جہاد کی آوازیں گونجتی تھیں۔ جہاں سرکار جنگ کو جہاد نہیں کہتی تو ملا کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر یہ ملا لوگ حق بات کرتے تو یہ دھماکے سرے سے نہ ہوتے۔ میں مذمت کرنے کی اس روایت کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ملا اپنی بیغرتی اور خاموشی پر نشانہ بنتے رہیں گے۔ ان کا کوئی نظم و ضبط کوئی اتحاد نہیں ہے۔ یہ قرآن میں جو ہے اس کو فالو ہی نہیں کرتے۔ یہ وہ جانور ہیں جو ایک دوسرے کو کھا جانے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ کبھی دیوبند، کبھی بریلوی تو کبھی پنجپیر پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ان کے نام پر یہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر کہتے ہیں، اور انہیں قتل کرتے ہیں۔ یہ شافعی، حنفی ، حنبلی کیا لگتے ہیں تمہارے؟ جب تم یہاں مردار ہو جاتے ہو تو دیوبند، بریل، امام مالک، امام حنفی، شافعی، اور دیگر آتے ہیں تمہارے جنازے پر؟ بلکہ یہی تمہارے قام قبیلے کے لوگ آتے ہیں۔ لہذا ان ہی کو اپنا بھائی بنا لو، ان کو اسلام سکھاو۔ مجھے ہر دھماکے اور ہر عالم پر کیے گئے حملے پر افسوس ہوتا ہے کہ آخر پشتون ہی کیوں قتل ہوتے ہیں۔ یہ دہشتگرد صرف میرے صوبے ہی کیوں آتے ہیں۔ اگر تم کہتے ہو کہ افغانستان سے آتے ہیں تو وہاں پڑوس میں انڈیا و دیگر ممالک کیوں نہیں جاتے۔ یہ کبھی پنجاب بھی نہیں جاتے۔ اول بات تو یہ کہ دہشتگرد تم صرف اس کو کہتے ہو جس سے "تمہیں" خطرہ ہو۔ اگر میرے جیسوں کو خطرہ لاحق ہو تو وہ دہشتگرد نہیں سمجھے جاتے۔ مجھے موبائل پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ میں نے سی ٹی ڈی، اور اپنے علاقے کے تھانے میں درخواست دی ہے۔ خود سرکار، ایم آئی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، لیکن پھر بھی مجھے سیکیورٹی نہیں دے رہے۔ جہاں جاتا ہوں پولیس تنگ کرتی ہے۔ کہتی ہے کس کی اجازت پر اسلحہ لے کر آئے ہو۔ میں جس سے اجازت لیتا ہوں وہ اجازت دیتا نہیں ہے! ان کو جس سے خطرہ ہے اس کو یہ دہشتگرد کہتے ہیں اور مجھے جس سے خطرہ ہے یہ مجھے اس کے سامنے غیر مسلح کرتے ہیں۔ دراصل دہشتگرد تو وہ ہے جس سے سب کو خطرہ ہو، عوام کو خطرہ ہو۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے اس کے لیے کچھ کرو۔ " #munirshakir

Aneela Khalid

33,447 views • 1 year ago

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 views • 5 months ago

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,509 views • 21 days ago

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 views • 8 months ago

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 views • 26 days ago

جب تک سب مل کے نہیں بیٹھیں گے اور مسائل کا حل نہیں نکالیں گے ہم دائرے کا سفر کرتے رہیں گے دائرے کا سفر ختم ہونا چاہیے، پاکستان کو آگے جانا چاہیے پاکستانیوں کا مقدر بھوک اور غربت اور ناانصافی نہیں ہے مختلف مواقع پہ انصاف کے نام پہ یا تو دھوکہ دیا گیا ہے یا انصاف دیا ہی نہیں گیا لوگ حکومت میں بغیر تیاری کے آ جاتے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ادارے چلانے کا میکنزم کیا ہے آپ بیٹیوں، بچیوں اور بہنوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب بھی فیصلہ کریں جذبات میں آ کر نہ کریں، سوچ سمجھ کے فیصلہ کریں وقت آنا چاہیے کہ ہمیں ائی ایم ایف کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں جب آپ پیسے مانگنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں چلے جائیں اپنے سے سو گنا چھوٹے ملکوں کے آگے جا کے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو اچھا نہیں لگتا پھر ہم کہتے ہیں کہ گرین پاسپورٹ کی عزت نہیں ہے، جب ہم پیسے مانگیں گے، خیرات مانگیں گے تو کون ہماری عزت کرے گا؟ یہ درسگاہ صرف ٹیکسٹ بک کے لیے نہیں ہے یہ آپ کی گرومنگ اور روحانی نشونما کی درس گاہ ہے آپ کے اساتذہ کے لیے ذمہ داریاں ہیں کہ وہ آپ کو اس طریقے سے تیار کریں کہ آپ جہاں رہیں میرٹ پر کام کریں میں نے بھی زندگی میں بہت قیمت ادا کی ہے لیکن ہر مشکل سے آپ نکل ہی آتے ہیں، اگر مشکل آتی ہے تو اس کے بعد آسانی بھی آ جائے گی ریل حادثہ ہمارے کم وسائل کا شاخسانہ ہے، ہم اس کو انویسٹیگیٹ کر رہے ہیں چائنیز کے ساتھ ایم ایل ون کا ہمارا فیصلہ ہو گیا ہے فیصلہ تو ہم 2018 میں کر گئے تھے مگر پھر سب کچھ بی فریزر میں چلا گیا یہ میں نے ڈنکے کی چوٹ میں سب کو بتایا ہے کہ پی آئی اے کو بدلنا پڑے گا اور ویسے ہی بدلنا پڑے گا جیسے دنیا میں باقی ایئر لائن کو بدلا گیا ہے آج پی آئی اے کی حالت بری ہو گئی ہے کیونکہ اس میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور میرٹ کی بنیاد پر کام نہیں کیا گیا اسلام آباد کا ایئرپورٹ ہم 15 سال کے لیے آؤٹ سورس کریں گے یہ اسلام آباد کا ایئرپورٹ جوخالی ایئرپورٹ نظر آتا ہے یہ بھرا ہوا ایئرپورٹ ہوگا، دنیا بھر کے برانڈز اس کے اند ر ہونگے اور اس کی کپیسٹی 90 لاکھ سے ایک کروڑ 30 لاکھ پہ چلی جائے گی یہ چند چیزیں جو میری ذمہ داری تھی میں نے سمجھا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف مایوسی کی بات ہے بہت سے کام ہیں جو ہو رہے ہوتے ہیں لیکن لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا

Khawaja Saad Rafique

40,146 views • 3 years ago

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

43,248 views • 1 month ago

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 views • 8 months ago

جب حد ہی ختم ہو جائے دنیا میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ کبھی کبھی ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ یہ ماں اور بیٹا ہیں، دونوں ٹک ٹاکر ہیں، لیکن ذرا اس ویڈیو میں استعمال ہونے والے گانے کے بول اور ان کے انداز پر غور کریں۔ کہیں سے بھی یہ ماں بیٹا لگ رہے ہیں؟ رشتوں کی اپنی ایک حرمت، ایک حد اور ایک خوبصورتی ہوتی ہے۔ ماں اور بیٹے کا رشتہ تو ویسے ہی عزت، محبت اور تقدس کا رشتہ ہے۔ صرف چند ویوز، لائکس اور پیسوں کے لیے اس رشتے کو ایسے انداز میں کیمرے کے سامنے پیش کرنا کہ دیکھنے والا خود شرمندہ ہو جائے، آخر یہ کہاں کی سمجھ داری ہے؟ سوشل میڈیا پر مشہور ہونا کوئی بری بات نہیں، لیکن شہرت کے لیے ہر حد پار کر دینا یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب ویوز کی دوڑ میں یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ ہم جو کچھ کیمرے کے سامنے کر رہے ہیں، اسے دیکھنے والے ہمارے رشتے کو کس نظر سے دیکھیں گے۔ آخر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ کہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اور چند ہزار ویوز کے لیے رشتوں کی حدود، شرم و حیا اور خاندانی وقار سب کچھ بھول جاؤ؟

its me میٹھو

19,898 views • 19 days ago

دنیا کا سب سے امیر ملک، جہاں زندگی کسی خواب سے کم نہیں لگتی۔ ذرا تصور کریں ایک ایسے ملک کا جہاں عوامی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر مفت ہو۔ نہ ٹکٹ کی ضرورت، نہ لمبی قطاریں؛ جہاں بسیں اور ٹرینیں وقت کی پابند ہوں اور سڑکیں اتنی صاف ہوں کہ دل خوش ہو جائے۔ یہاں ملازمین کی اوسط تنخواہ تین ہزار سے پانچ ہزار ڈالر ماہانہ ہے۔ رات کے وقت سڑکوں پر چلنے میں کوئی ڈر نہیں ہوتا بلکہ ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہاں کا تعلیمی نظام عالمی معیار کا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور عملی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ صحت کا نظام اتنا مضبوط ہے کہ بیماری کو بھی داخل ہونے میں مشکل ہو جائے۔ اور جب کام کا وقت ختم ہوتا ہے، لوگ سیدھا اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ ورک لائف بیلنس (Work-life balance) یہاں صرف ایک لفظ نہیں بلکہ حقیقت ہے جہاں سیاست دان قانون کے پابند ہیں اور وی آئی پی (VIP) کلچر تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے لوگ یہاں صرف زندہ نہیں رہتے بلکہ ایک اعلیٰ معیار کی زندگی گزارتے ہیں، ایک خوشحال اور پرسکون زندگی۔ یہ ملک ہے لکسمبرگ

شبانہ شوکت

35,369 views • 6 months ago