Loading video...
Video Failed to Load
"اتنا چھوٹا سا دل ہوتا یے بیٹیوں کا" ائیر پورٹ پر آئے باپ نے غیرارادی طور پر نظر انداز کیا، تو ننھی گڑیا وہیں لیٹ گئ اور رونے لگی۔۔۔۔ باپ سلامت، مان سلامت۔۔۔❤️ بیٹیاں چھوٹی ہوں یا بڑی، ان کے دل اتنے ہی نازک ہوتے ہیں۔۔۔۔
247,587 views • 1 year ago •via X (Twitter)
10 Comments

Thora sabar kr k teenon bachon ko galay lagana chaheay tha. Ajeeb baap hai aik ko utha kr baqi do ko ignore kr diya. Baray betay ko baaf mai bhi koi lift nahi karaeei.

آپ کی بات مناسب

ناقابل یقین ، کہ باپ بیٹی کو ignore کرکے آگے نکل گیا ہے! یہ دوسرا وقعہ دیکھا ہے ٹیوٹر پہ لیکن دل نہیں مانتا کہ باپ ایسا پاپ کر ستاُہے اتنی بھی کیا سر کو چڑھی ہوسکتی ہے! 🙏

نہیں، میرا نہیں خیال کہ باپ نے جان بوجھ کر اس بیٹی کو نظر انداز کیا ہے۔ دراصل بیرون ملک جاتے اور آتے وقت بندہ ذہنی طور پر occupied ہوتا ہے اور اسی بھاگم دوڑ میں کبھی نادانستہ طور پر ایسا ہو سکتا ہے۔

یہ برصغیر کے خون میں ہے اور ہماری ہی مائیں اور ساس یہ باور کرواتی رہتی ہیں کہ عورت اولاد کے زمرے میں نہیں آتی۔ اولاد میں صرف بیٹا ہی آتا ہے۔ کبھی سنا کسی نے بیٹی کی پیدائش کیلئے دوسری شادی کی؟ مردوں کا یہ رویہ بھی عورت کی مرحون منت ہے جو کہ سراسر غلط اور غیر شرعی ہے۔

نہیں، میں اس پہ پورے برصغیر کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ اب لوگوں میں کافی شعور اور آگاہی آ چکی ہے۔ ماسوائے محدود چند ریموٹ ایریاز کے، باقی زیادہ تر علاقوں میں بیٹیوں کو بھی باقاعدہ اہمیت دی جاتی ہے اور دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بیٹیاں باپ کے زیادہ قریب ہوتی ہیں، جبکہ بیٹے ماں کے لاڈلے ہوتے ہیں۔

ہو بھی سکتا ہے غیر ارادی ھو لیکن کیا ہمارے معاشرے میں بیٹے کو بیٹی پر فوقیت نہیں دی جاتی ذہنیت بدلنے کی ضرورت ھے

چند علاقوں یا چند لوگوں کے رویوں کی وجہ سے پورے معاشرے کو تو ہم نہیں کہہ سکتے۔ میں نے اسی معاشرے میں بیٹیوں کو بھی بہت لاڈلا دیکھا ہے اور خاص طور پہ بیٹیاں باپ کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔

غیر ارادی نہیں بیٹوں کو ترجیح دینے کا مظہر ہے یہ ویڈیو

مجھے تو یوں ہی لگا کہ یہ غیر ارادی فعل تھا
Related Videos
Sensitive content
ٹک ٹاک کی سستی شہرت نے آج ہماری معصوم بچیوں سے ان کا بچپن اور حیا دونوں چھین لیے ہیں۔ ایک ہمارا وقت تھا کہ اس عمر میں ہمیں دنیا داری کا پتہ تک نہ تھا، مگر آج کل کی بچیاں وقت سے پہلے بڑی نظر آنے کی دوڑ اور نمائش میں لگی ہوئی ہیں۔ بڑی عمر کی خواتین ہوں یا چھوٹی بچیاں، فحاشی اور بے راہ روی نے معاشرے کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نسلوں کی تربیت پر توجہ نہ دی، تو کل پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ اپنی بیٹیوں کو موبائل سے زیادہ اپنا وقت اور اخلاقیات دیں تحریر: نادیہ ملک✍️
Nadia Malik
42,516 views • 5 months ago
