Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آج ایک بار پھر اس ریاست نے بلوچ نوجوانوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ اگر تم پُرامن سیاست کرو گے، اپنے حقوق کی بات کرو گے، سوال اٹھاؤ گے اور جمہوری ذرائع سے اپنی آواز بلند کرو گے، تو ریاستی مشینری پوری قوت کے ساتھ تمہیں خاموش کرنے...

12,531 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

شبر زیدی صاحب! اگر آپ کے منطقی پیمانے کو ہی ترازو مانا جائے، تو پھر میرا اور آپ کا بھی نہ کھانا ملتا ہے، نہ گانا ملتا ہے اور نہ ہی زبان ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان 'آئین' کے ایک قانونی رشتے کے علاوہ کوئی چیز سانجھی نہیں ہے۔ آپ کو احمد آباد کی زبان اور کھانا مبارک ہو، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ اس سرزمین کا ایک بڑا حصہ یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بیلٹ، تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور خون کے رشتے سے افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈ لائن ایک سیاسی لکیر ہو سکتی ہے، لیکن وہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور اس 'پشتون ولی' کو ختم نہیں کر سکتی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی زبان اور کپڑا نہیں ملتا؟ تو صاحب، ہماری زبان بھی ایک ہے، ہمارا لباس (پشتون لباس) بھی ایک ہے اور ہماری غیرت کے کوڈز بھی ایک ہیں۔ اگر آپ کو اپنی جڑیں گجرات میں نظر آتی ہیں، تو ہمیں اپنی جڑیں قندھار، جلال آباد اور کابل میں نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے احمد آباد کے قصے سنائیں، لیکن ہمیں ہمارے بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ SyedShabbarZaidi

Hashim Khan

16,925 Aufrufe • vor 5 Monaten

شہید ظریف بلوچ کے گھر پر چھاپہ اور گھریلو املاک کی تباہی ریاستی جبر کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کل بروزِ جمعہ رات کے وقت شہید ظریف بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں فورسز کی جانب سے گھر کے اندر موجود قیمتی اشیاء، جن میں خواتین کے زیورات، کپڑے اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء شامل تھیں، اپنے ساتھ لے جائی گئیں۔ اس کے علاوہ گھر کے سامان کو نقصان پہنچایا گیا اور اہلِ خانہ کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔ شہید ظریف بلوچ کو 26 دسمبر 2025 کو فورسز نے جبری طور پر حراست میں لیا تھا، اور ایک دن بعد ان کی مسخ شدہ لاش ان کے ہمسایے کے گھر کے قریب پھینکی گئی تھی۔ ان کی لاش پر انسانیت سوز تشدد کے نشانات موجود تھے، ان کی زبان کو بھی داغا گیا تھا۔ یہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی بلکہ انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ایک انتہائی تشویش ناک عمل تھا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس مسلسل ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، گھروں پر چھاپوں اور متاثرہ خاندانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا تنظیموں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر، و بربریت کے خلاف آواز بلند کریں، اور ریاست پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے۔

Baloch Yakjehti Committee

19,690 Aufrufe • vor 4 Monaten

سہیل افریدی کے مطابق آج پوری شب یعنی صبح تک وہ یہیں قیام کریں گے اور صبح پریس کانفرنس کے ذریعے ایک نیا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا یہ دھرنا اب ختم نہیں ہوگا عوام کے جذبات سب کے سامنے ہیں اڈیالہ کے باہر اس وقت پورے ملک سے عوام کی آمد شروع ہو چکی ہے کوئی کشمیر سے پہنچا ہے اور کوئی پنجاب کے مختلف علاقوں سے بچے نوجوان بزرگ اور معمر افراد سب یہاں موجود ہیں مقامی قیادت میں سے جن شخصیات کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ان میں شندانہ گلزار صاحبہ شاہد خٹک جناب سلمان اکرم راجہ نعیم پنجوتہ مینا خان افریدی عامر مغل راشد کرامت اویس یونس اور دیگر رہنما شامل ہیں تاہم پنجاب کے متعدد پارلیمنٹیرینز تاحال نہیں پہنچ سکے بتایا جا رہا ہے کہ انہیں سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اڈیالہ پہنچیں اور انہوں نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ ہر صورت یہاں موجود ہوں گے موجودہ وقت کے مطابق رات دس بج کر پینتیس منٹ ہو رہے ہیں

Agha Sheikh Sarwar

39,087 Aufrufe • vor 7 Monaten

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,183 Aufrufe • vor 1 Jahr

ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.

Dr M Shujat Rasool

121,946 Aufrufe • vor 3 Monaten