正在加载视频...

视频加载失败

آج بھی جب ہمارے ساتھیوں کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کے حوصلے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ ظلم کے سامنے جھکنے والے ہم نہیں ہیں، ان پانچ مہینوں میں نہ ہماری تحریک کمزور ہوئی، نہ قید کیے گئے ساتھیوں کی آواز دب سکی۔...

37,386 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

میں اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاست دانوں،حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی کی گئی، اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ چوری سے نتیجے برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلیاں کرنا اس کے خلاف سب سے پہلے بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، مفکر اسلام نے کی تھی، ہماری گٹھی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کریں گے۔ چوری ہوئی ہے 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں ہوئی، پارلیمنٹ میں ہوئی، اس صوبے کی الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو اس کے ووٹ کا حق واپس نہ دلا دے۔ یہ وہ سیاست ہے جس کے نام سے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے وہی اس نظریے اور اس اصول کے رہبر تھے۔ اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے اصول کی سیاست کرنی ہے، جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، اخلاق کی سیاست کرنی ہے، شائستگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں کی سیاست نہیں، بدتمیزی کی سیاست نہیں ہے، بد اخلاقی کی سیاست نہیں ہے، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ ان شاءاللہ جو راستہ ہمیں اپنے راہبر نے دکھایا ہے، ہم اس راستے پر استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور ان شاءاللہ آج اس ڈیرہ کا شہر جو آج گزرگاہ ہے اگر اللہ نے چاہا اسی راستے سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد ہماری منزل گاہ ہوگی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,927 次观看 • 10 个月前

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,344 次观看 • 8 天前

" کسی وقت میں (اسلام آباد ہائیکورٹ میں) یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں یوم آزادی تقریب سے خطاب "ہم پاکستان کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنا سب سے جو مختص کیا گیا کردار ہے وہ غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ ہر کسی کا حق ان کے گھروں تک پہنچا دینا ہمارا کام ہے اس مقصد کے حصول کے لئے بینچ اور بار ایک ہی نظام کے دو ستون ہیں ایک مضبوط ، باوقار ، آزاد اور مضبوط عدلیہ نظام کے لئے ناگزیر ہیں جب کہ بینچ کی ذمہ داری ہماری شفافیت اور قانون کے مطابق فیصلوں کے ذریعے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنا ہے اس کے لئے میں آپ لوگوں سے یہ بات آج کے موقع پر شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ ایک سال پہلے کے بعد آج ہی کے دن دوسری دفعہ آپ سے مخاطب ہوں اس وقت میں اور آج کے وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی عدالتوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ پر اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پر لوگوں کا اعتماد کیلکولیٹیڈ طریقے سے دیکھیں سے تو آجُ یومیہ دائری اڑھائی سو کے قریب ہے اس کے باوجود کہ ججز ہمارے پاس کم تھے لیکن کسی وقت میں یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں اور کتنا عدالتوں میں ریلیف ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کا عدالتوں میں آنا اور مسائل کو لےکر آنا اور ان کے حل کے لئے وہ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں "

Saqib Bashir

53,268 次观看 • 10 天前

ہمیں بہت افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، وہاں کسٹم ایکٹ، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کو توسیع دی گئی ہے۔ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے ہماری وزیرِ اعظم سے بات ہوئی، پھر وزیرِ خزانہ سے ہماری بات ہوئی، جن کے ساتھ رانا ثناء اللہ بھی تھے۔ بات ہوئی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ ہم یہ ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ دوسرا، تمباکو پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، اس پر بھی ہم نے بات کی، لیکن دونوں چیزیں انہوں نے مسترد کر دیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے جائز حقوق اور مطالبات کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔ این ایف سی میں ہمارے حصے کا مسئلہ ہے، جو ہمیں نہیں مل رہا۔ وفاق کے ذمے ہمارے 434 ارب روپے کے فنڈز ہیں، جو نہیں دیے جا رہے۔ ضم شدہ اضلاع کے بارے میں جو کمٹمنٹ کی گئی تھی، وہ بھی پوری نہیں کی جا رہی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اسمبلی کے فلور پر ہم نے بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ ان شاء اللہ ہم ہر موقع پر اپنے صوبے کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

Asad Qaiser

12,024 次观看 • 2 个月前

بلوچ راج! اس ظالم اور جابر ریاست کی سفاکیت اور درندگیاں ہم سب کے سامنے واضع ہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کیسے بلاجواز اور بلاتفریق ریاست نے ہمارے لیڈراں کو پابندِ سلاسل کیا ہے۔ یہ نوآبادکار اپنے طاقت کے نشے میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ اس کے سامنے جنس، عمر اور پیشہ وغیرہ کچھ بھی معنی نہیں رکھتے اگر وہ مارتے یا تشدد کرتے وقت کسی بھی چیز کا خیال رکھتا ہے تو وہ بلوچ شناخت ہے اور بلوچ کو مارنے یا بیگواہ کرنے کے لئے یہی شناخت کافی ہے۔ویسے تو کئی سالوں سے ہم یہ قیامت جھیلتے آ رہے ہیں لیکن اس مختصر دورانیے میں ہم نے ریاست کی بدترین شکل دیکھی ہے کہ اُس نے کیسے ہمارے نہتے مظاہریں پر گولیاں برسائی، آنسو گیس چلائے اور واٹر کینن سے پانی برسائے اور جب سے ہمارے توانا آوازیں ہمارے رہنما سلاخوں کے پیچھے ہیں اُس دن سے ریاست پورے بلوچستان میں اس گھمنڈ کے ساتھ خون کی ہولی کھیل رہی ہے کہ پیچھے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے اور ہم بھی نادانستہ طور پر آہستہ آہستہ ریاست کی سفاکیتوں کے سامنے خاموشی کا رواج اپنا رہے ہیں جو کہ ہمارے لئے باعث موت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ قریب ماضی میں جہان بھی کوئی شخص اٹھایا جاتا یا کسی کو ماورائے عدالت قتل کیا جاتا تو اس کے لواحقین فوراً سراپاء احتجاج ہوتے لیکن حالیہ دنوں میں ریاست ہماری خاموشی کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے ہر روز کسی نہ کسی جگہ سے لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا رہی ہے اور مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہے لیکن ہم خاموش ہیں کیوں؟ کیا ہم بالاچ مولابخش کی شہادت کو بھول چُکے ہیں کہ جس سے ایک تحریک وجود میں آئی، اس کی بھی بنیادی اکائی شہید بالاچ کے لواحقین تھے کہ جنہون نے خاموشی کا گلا گھونٹ دے کر ہم سب کو ایک آواز ہونے پر مجبور کیا، آج بھی حالت وہی ہیں آج بھی بالاچ مر رہے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں کیا ہم اس خاموشی کو اپنا کر اپنے ہی شہداء کی وارثی سے کترا کر انکا مجرم تو نہیں بن رہے؟ بلوچ راج! ہم بارہا کہتے ہیں کہ بی وائی سی صرف ایک پارٹی نہیں اور نہ ہی اس قیادت تک محدود ہے بی وائی سی پوری قوم ہے وہ قوم جو ریاستی جبر کے سامنے لاشیں اٹھارہی ہے جو اپنے آنکھوں کے سامنے اپنے گھروں کو اجھڑتا دیکھ رہی ہے۔ ہر بلوچ جو اس جبر کو دیکھ رہا ہے اور اس کو محسوس کر رہا ہے اُس پر اتنی ہی زمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی کہ بی وائی سی پر ہوتی ہے، تو پھر اس کٹھن حالت میں جہاں ہر طرف موت ہے اور مزاحمت کرکے زندہ رہنے کے علاوہ کوئی دوسرا کسر موجود ہی نہیں تو یہ خاموشی اور بے حسی کیسی؟ کیا ہم خود کو اور اپنے قوم کو اس چیز سے دھوکے میں نہیں ڈال رہے کہ خاموشی سے ہم بچ سکتے ہیں، لیکن ظالم کا ہمشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے غلام قوم یا زمین پر لوگوں میں تفریق نہیں کرتی۔ تو پھر ہم کیوں اس خوش فہمی میں رہیں؟ #ReleaseBYCLeaders #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

25,487 次观看 • 1 年前

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 次观看 • 1 年前

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 次观看 • 2 个月前

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 次观看 • 6 个月前

صدر ذاکم وزیر کا زوردار اور جارحانہ ویڈیو پیغام: امن جرگے کے اختتام کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کے چند اہم رہنما لاپتہ ہو گئے ہیں، جن میں تحریک کے سرکردہ رہنما نوراللہ ترین، حنیف پشتین اور دیگر کئی ساتھی شامل ہیں۔ صدر ذاکم وزیر نے سخت الفاظ میں کہا: “جرگے کے بعد ہمارے کسی بھی ساتھی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، نہ اُن کی جگہ معلوم ہے، اور نہ ہی کسی ادارے کی طرف سے کوئی وضاحت آئی ہے۔ یہ ایک غیر قانونی اور خطرناک اقدام ہے! ہم ریاستی اداروں سے واضح طور پر پوچھتے ہیں: ہمارے ساتھی کہاں ہیں؟ اگر آپ نے انہیں گرفتار کیا ہے تو فوراً باضابطہ طور پر سامنے لائیں، اور اگر نہیں، تو اُنہیں تلاش کرنا آپ کی ذمہ داری ہے، ورنہ ہم اس غیر قانونی خاموشی کو کبھی قبول نہیں کریں گے!” صدر ذاکم وزیر نے مزید کہا کہ تحریک کے رہنما امن، انصاف اور حق کے لیے جرگے میں شریک ہوئے تھے، لیکن آج ان کا غائب ہونا ریاست کی جانب سے حق مانگنے والوں کی آواز دبانے کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے تمام ساتھیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا سے سختی سے مطالبہ کیا کہ نوراللہ ترین، حنیف پشتین اور دیگر ساتھیوں کی رہائی کے لیے فوری طور پر اپنا آواز بلند کریں اور ریاست پر دباؤ ڈالیں #WhereIsPTMDelegation

Saleem Afridi

16,686 次观看 • 9 个月前