Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آج جب میں سینیٹ میں گیا تو حسبِ روایت اجلاس معطل کر دیا گیا۔ میں جو بات کرنا چاہتا ہوں، وہ اجلاس میں ہی کروں گا۔ میں اُن لوگوں میں سے نہیں جو کسی کونے میں بیٹھ کر خاموشی سے بات کریں۔ میری خواہش ہے کہ میری ہر بات...

21,621 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 Aufrufe • vor 16 Tagen

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 Aufrufe • vor 2 Jahren

یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ ہمیں ڈرا سکتے ہیں آپ ہمیں ننگا کر سکتے ہیں آپ ہمیں مار سکتے ہیں آپ جو کرنا چاہتا ہیں کر سکتے ہیں لیکن ہمارے دلوں سے عمران خان نہیں نکال سکتے نہ ہی جھکا سکتے ہیں۔ :صوبائی صدر جنید اکبر خان ورکر کمزور ہیں یہ ورکر اپ کے مقابلے میں نہیں لیکن جو نفرت ہمارے سینوں میں اپ کے لیے ہیں میں یہ میرے پاس آپ کی امانت ہے میرے پاس اپ کی امانت ہے میرے پاس اگر میں انتہائی کمزور ہوا تو میں اپنے بچوں کو یہ اپ کی نفرت ہے یہ میں وراثت میں دے دوں گا مجھے میں اپ سے وعدہ کرتا ہوں یہ اپ نے جو اس ملک کے ساتھ کیا جمہوریت کے ساتھ کیا اس کا اپ کو جواب دینا ہوگا۔ صوبائی صدر جنید اکبر خان حکومت کی مجبوریاں کا مجھے نہیں پتہ لیکن میں ہر اس شخص کو جس نے 9 مئی کے بعد میرے ورکر کو رلایا میں اس کو رونا دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالی مجھے وہ اختیار دے ایک ایک شخص کو نہیں بھولا چاہے شانگلہ، دیر، ملاکنڈ جہاں بھی ہوں، کسی غلط فہمی میں نہ رہے اچھی بات بھول جاتا ہوں لیکن بری چیز کبھی نہیں بھولتا۔ 10 سال گزارے 20 سال گزارے میرا اپ سے وعدہ ہے کہ جو بھی جس پوزیشن پہ ہے جب بھی میرے اختیار میں کچھ ایا میں اپ کو نشان عبرت بناؤں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔ خدا کی قسم ایک ایک چیز یاد ہے تکلیف میں ہوں جب یہ دیکھتا ہوں کہ میری حکومت میں آپ آرام سے ہے میں آپ کو رونا دیکھنا چاہتا ہوں۔ انشاءاللہ مثال بناو گا آپ کو۔ :صوبائی صدر جنید اکبر خان

Junaid Akbar

72,983 Aufrufe • vor 1 Jahr

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس کراچی میں طے تھا لیکن بلوچستان کے لوگ بدامنی اور غیر محفوظ راستوں کی وجہ سے کراچی نہیں پہنچ سکتے تھے،یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بدامنی کی وجہ سے ہم نے اپنا اجلاس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کیا ہے،اس سے ملک کے داخلی امن و امان کی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ دو صوبوں میں عملا کوئی حکومتی نظام نہیں ہے،عوام پر دہشتگرد گروہ مسلط ہیں،سندھ بھی ڈاکو راج اور اسٹریٹ کرائم کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جارہے ہیں اور بیچ سڑک پر وہ پیسے تقسیم کئے جارہے ہیں،کوئی نظام نہیں ہے کہ اپنے ملک کے شہریوں اور بینکوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔ ہمارے صوبے میں وزراء کی گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کو روکا جاتا ہے،اٹھایا جاتا ہے۔ ہمارے ایک سینیٹر شکور خان جو سینیٹ میں پریولیج کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں کو ائیر پورٹ پر روک دیا گیا،چین میں ایک طے شدہ پروگرام کے لئے سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے،طاقتور ادارے حکومت کر رہے ہیں،جہاں جس کے ساتھ جو رویہ اختیار کریں،وہ کسی آئین،قانون اور اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

25,314 Aufrufe • vor 17 Tagen

"جو آئین کی بالادستی،جمہوریت،آزاد عدلیہ کی بات کرے اس کو اسٹیبلشمنٹ کے کارندے امیچور اور ناسمجھ بولتے ہیں ان کی نظر میں سمجھدار وہ ہے جو 5300 ارب روپے کی کرپشن کرے، سمجھدار وہ ہے جو لاہور سے لندن سرکاری جہاز میں جائے،سمجھدار وہ ہے جو کہے ہمیں انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ان کی نظر میں سمجھدار وہ ہے جو دوسرے صوبے کے لوگوں کو، غیور پختونوں کو دہشتگرد بولے ، ان کی نظر میں سمجھدار وہ ہے جو بوٹ پالشیا ہو چور دروازے سے اقتدار میں آئے آپ کی نظر میں اگر میں امیچور ہوں تو الحمدللہ یہ لاکھوں عوام اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ان کو تمہارے ان چور لٹیرے نام نہاد سمجھداروں کی ضرورت نہیں ہے۔میں عمران خان کا سپاہی ہوں میں ڈرون اٹیک کے خلاف بولتا رہوں گا میں ان کو ایبسلوٹلی ناٹ بولوں گا جو پختونوں کے خون کا سودہ کرتے ہیں اگر تماری نظر میں یہ ناسمجھی ہے تو میں یہ کروں گا جو کرسکتے ہو کرلو "۔ وزیراعلی سہیل آفریدی

PTI

49,799 Aufrufe • vor 4 Tagen

مجھے کل پتا چلا کہ یوریا کھاد کی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اس وقت کسان انتہائی پریشان ہیں، فصلوں کے لیے اس وقت کھادوں کی بہت ضرورت ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ وفاقی حکومت کیوں خیبر پختونخوا کے عوام سے انتقام لے رہی ہے۔ کبھی سیکیورٹی کے نام پر سیکیورٹی آپ لوگوں سے سنبھالی نہیں جا رہی ہے، سیکیورٹی میں آپ نے کون سا ایکشن لیا ہے، اس وقت نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عمل نہیں ہو رہا ہے، امن و امان کی صورتِ حال بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ آپ روزگار کے مواقع ختم کر رہے ہیں۔ ابھی آپ کسان کو مار رہے ہیں تاکہ خیبر پختونخوا میں تھوڑا بہت رمک ہے، وہ بھی ختم ہو جائے۔ میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور اس پر اسمبلی اجلاس میں بات کروں گا۔ جو بھی اس پابندی کے ذمہ داران ہیں، وہ قوم کے دشمن ہیں، وہ زیادتی کر رہے ہیں، نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔ ہم نے ہر ممکن طریقے سے اس کا مقابلہ کرنا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ اپنے کسان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں، کل کے اسمبلی اجلاس میں اس معاملے کو اٹھاؤں گا۔

Asad Qaiser

20,433 Aufrufe • vor 1 Monat