Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

میرا کلپ غور سے دیکھیں، یہ سائیڈ سے ریکارڈ کر کے لیک کیا گیا ہے۔اس کلپ میں میرا ٹارگٹ سوشل میڈیا نہیں تھا میرا ٹارگٹ ایک مخصوص گروپ تھا جو پارٹی کی لائن فالو نہیں کرتے وہ لوکلی کوہاٹ کا گروپ تھا یہ یہاں بیٹھ کر رات کو جس...

26,818 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اذانیں تو دی جانی تھیں اور ہم سب تیار بھی تھے۔ لیکن گزشتہ رات تک ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا۔ ایک عالمِ دین نے بتایا کہ “مشن نور” ایک متنازعہ نام ہے۔ میں نے یہ بات فوراً پولیٹیکل کمیٹی میں شیئر کی جہاں صاحبزادہ حامد رضا صاحب اور دیگر ساتھیوں نے بھی اس کی تائید کی۔ صاحبزادہ صاحب نے بھی علماء کرام سے تصدیق کی اور ہم سب نے معلوم کیا۔ سب نے یہی کہا کہ اس کی کڑیاں قادیانیت سے ملتی ہیں۔ چونکہ اذان پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ صرف نام متنازعہ تھا، اس لیے ضروری تھا کہ نام تبدیل کیا جائے۔ وقت بہت کم تھا، اس لیے پارٹی کے آفیشل اعلامیے کا انتظار کیے بغیر میں نے فوری طور پر اس نام کو رکوا دیا۔ یہ میرا فرض تھا کہ کسی بھی متنازعہ چیز کو آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ الحمدللہ آج صبح ہم نے سینیٹر نوراُلحق قادری صاحب سے بات کی، پوری پارٹی لیڈرشپ سے مشاورت ہوئی اور سب نے اتفاق کیا کہ اس کا نام بدل کر “حکمِ اذان” رکھا جائے۔ صرف ایک دن نہیں بلکہ 20 سے 24 ستمبر تک، چار دن متواتر ہر جگہ بھرپور انداز میں اذانیں دی جائیں گی، کیونکہ پاکستان پر بہت بڑی آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ معاملہ بہتر انداز میں حل ہو گیا۔ نوراُلحق قادری صاحب، جو کہ عمران خان صاحب کے فوکل پرسن برائے مذہبی امور ہیں، نے اس حوالے سے باقاعدہ بیان جاری کر دیا ہے جو پارٹی کا آفیشل مؤقف ہے۔ اس سے پہلے پارٹی کی طرف سے کوئی اعلامیہ نہیں تھا، لیکن اب ہے کہ اذانیں “حکمِ اذان” کے نام سے دی جائیں گی۔ جہاں تک میری ذات پر پروپیگنڈے کا تعلق ہے، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے اذان پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ، میرا اعتراض صرف نام پر تھا، اور الحمدللہ یہ درست انداز میں حل ہو گیا ہے۔ جو میرا موقف صحیح سمجھ رہے تھی اُنکا شُکریہ جو غلط سمجھ رہے تھے اُمید ہے اُنکو اب اندازہ ہوگیا ہوگا۔ PTI salman akram raja Aleema Khanum

Haleem Adil Sheikh

105,523 views • 1 year ago

خان صاحب، اب تو لگتا ہے کہ سارا نظام ہی کچھ ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کیوں نہ آپ اب ڈیل ہی کر لیں؟ کوئی معاملہ طے کریں، ایک دفعہ رہا ہو جائیں، اس اذیت اور مصیبت سے نجات حاصل کریں، پھر جب باہر آئیں گے تو دیکھ لینا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ تو صحافی کہتے ہیں کہ جب میں نے خان صاحب سے یہ بات کہی تو خان صاحب نے کچھ دیر میری طرف دیکھا، پھر بولے کہ حضرت یوسفؑ جب قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے صرف اتنا کہا تھا کہ بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی رہائی کو چھ سال مؤخر کر دیا تھا۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ جو خدا حضرت یوسفؑ کا تھا، وہی خدا میرا ہے، اور جس خدا کو معلوم تھا کہ حضرت یوسفؑ ناحق قید میں تھے، اس خدا کو یہ بھی معلوم ہے کہ عمران خان بھی ناحق قید میں ہے۔ اور جس طرح حضرت یوسفؑ کے لیے صرف ان کا اللہ کافی تھا، اسی طرح میرے لیے بھی میرا اللہ ہی کافی ہے۔ اس لیے میں اپنی رہائی کے لیے کسی سے کوئی بات یا کوئی ڈیل ہرگز نہیں کروں گا۔ #اللہ_پر_ایمان #اللہ_ہی_کافی

PTI Punjab

76,639 views • 9 months ago

🚨مجھے قتل کیا گیا تو اسرائیل ذمہ دار ہو گا،امریکی صحافی اینا کیسپرین🚨 میں خودکشی کرنے والی نہیں ہوں، اور اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو یہ کوئی حادثہ نہیں ہو گا۔ میں اسے صرف ریکارڈ پر رکھ رہی ہوں، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ ریکارڈ پر ہو۔ میں ان کے اہداف میں سے ایک ہوں، اور میں ان کی نفرت کا خیرمقدم کرتی ہوں کیونکہ میرے خیال میں وہ جو کچھ کرتے ہیں، وہ نفرت انگیز ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے کور فراہم کرتے ہیں، وہ تاریخ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتی ہوں، میں ایک امریکی ہوں، مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے، میں اسرائیلی نہیں ہوں۔ کتابوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہو کہ مجھے کسی بھی شکل میں اسرائیل کی حمایت کرنی ہے۔ درحقیقت جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی جاری رکھے گا، میں بے خوف ہو کر ان کے خلاف سچ بیان کرنا جاری رکھوں گی۔ میں کبھی بھی اسرائیلی سرزمین پر قدم نہیں رکھوں گی کیونکہ میں اس ملک کو صرف ایک خطرہ سمجھتی ہوں۔ میں اسرائیل کی حکومت کو صرف فلسطینی عوام کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی ہوں، بلکہ اس پورے خطے کے لیے، مشرق وسطیٰ کا خطے کے لیے خطرہ سمجھتی ہوں۔ اب ان کے پاس صرف ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کریں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں، وہ یقین کر لیں کہ میں ان سے ڈرنے والی نہیں ہوں۔ وہ کچھ غلط یا برا کرتے ہیں تو فوری طور پر اس شخص پر سام دشمن اور یہودی مخالف جذبات رکھنے والے شخص کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے برے کاموں پر ان پر تنقید کر رہا ہے لیکن وِکٹم کارڈ (Victim Card) کی میعاد اب ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیل اس وقت نسل کشی کر رہا ہے جیسا کہ ہم بول رہے ہیں، وہ فتح میں مصروف ہیں، وہ زمین چوری کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کی پٹی، نہ صرف مغربی کنارے، بلکہ وہ شام کے بشار الاسد کے حصے کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو بلند آواز میں کہہ رہے ہیں کہ یہ اسرائیل کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔ کیا اب ہمیں آپ کے ذہن کے بارے میں یہ جاننے کے لیے مزید ثبوت چاہیے کہ آپ برے لوگ ہیں؟ Ana Kasparian #Israel #USA #Palesti̇ne #PalestinisGenocide

اکرم راعی Akram Raee

147,095 views • 6 months ago

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 views • 6 months ago

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 views • 2 years ago

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 views • 1 month ago