Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔...

63,673 Aufrufe • vor 3 Tagen •via X (Twitter)

33 Kommentare

Profilbild von Haider Ali
Haider Alivor 3 Tagen

1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کی حقیقت آج دنیا کے سامنے عیاں ہے۔ اُنہی قوتوں نے عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا، وہی انہیں برسوں سے قیدِ تنہائی میں رکھے ہوئے ہیں۔ "عمران خان صرف پاکستان نہیں، پوری اُمتِ مسلمہ کا لیڈر ہے۔" بنگلہ دیشی شہری

Profilbild von Umme-ibrahim
Umme-ibrahimvor 3 Tagen

یزید نے پانی بند کیا تھا اسکی اولاد نے پانی بجلی گیس تیل آٹا چینی عدل انصاف قانون سمیت سب کچھ بند کردیا

Profilbild von M. Iqbal Vaseer
M. Iqbal Vaseervor 3 Tagen

@atifmeh1989 پاکستان پر قابض آئین شکن فوج کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس بار سامنے مرے موئے بنگالی نہیں ہوں گئے بلکہ مسلح قبائلی ہوں گئے پھر کے پی کے کو ایک اور بنگلادیش بننے سے کون روک سکے گا قابض فوج کے لئے ابھی وقت ہے کہ جناح کی مانے اور پاکستان سے غداری بند کرے

Profilbild von Gujar
Gujarvor 3 Tagen

عاصم منیر انتہائی بزدل جنرل ہیں؛ وہ پاکستانیوں کے قاتل ہیں اور ان کے احتساب کا دن یقیناً آئے گا۔ وہ پاکستان کی تاریخ میں قابض آخری جنرل ہوں گے۔

Profilbild von Kirby Sheikh
Kirby Sheikhvor 3 Tagen

This 🚨💥🚨

Profilbild von afridi warrior
afridi warriorvor 3 Tagen

بےشرمی اور ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے ان بےشرموں نے وہ حد بھی کراس کردی ہیں

Profilbild von Save Pakistan
Save Pakistanvor 3 Tagen

پتہ نہیں فوجی اس ملک سے اور کیا چاہتے ہیں پورا پاکستان اس وقت کافی ٹینشن میں ہے۔ لیکن فوجی مزے میں اور۔ظلم پر ظلم کررہے ہیں خدا کےلئے کچھ تو سوچوں۔ عمران خان رہا کرو ۔ ملک کو اپنے حالت ہر چھوڑ دو۔

Profilbild von Zahir Shah
Zahir Shahvor 3 Tagen

@JattBoldaa آج بھی بلوچستان، کے پی اور کشمیر میں بھی وہی کچھ ہو رہا ہے، جرنیلوں کے سر پر خون سوار ہے، وہ سب کچھ فوری لوٹ کر دوسرے ممالک لے جانا چاہتے ہیں۔

Profilbild von 👑❣️ Biلal Haشmi⁸⁰⁴ 🏏
👑❣️ Biلal Haشmi⁸⁰⁴ 🏏vor 3 Tagen

جاوید ہاشمی نے وہ بتا دیا جو شاید حمود الرحمن کمیشن میں بھی نا لکھا ہو

Profilbild von Lovely kamran
Lovely kamranvor 3 Tagen

عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔ عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔

Profilbild von Nisha javaid
Nisha javaidvor 3 Tagen

ان کی تاریخ چلی آ رہی ہے اپنے لوگوں سے لڑنے کی

Profilbild von SuãàdHàßh⁸⁰⁴
SuãàdHàßh⁸⁰⁴vor 3 Tagen

آپ تاریخ کو اپنی آنکھوں سےدیکھ چکےآپ کوکتاب ضرورلکھنی چاہیےجوکچھ آپ نےدیکھااسےنصاب کاحصہ ہوناچاہیےتاکہ نئی نسل کی آنکھیں کھلیں آج آپ وہی کچھ دہرارہےہیں جوعمران خان قوم کو بتاکرگئے کاش آپ2014میں خان کاساتھ نہ چھوڑتےمگراب بھی نہیں کچھ بگڑاآپ آج جوبات کہہ رہےہیں پلیزاس پرقائم رہیےگا

Profilbild von AaimaMalik
AaimaMalikvor 3 Tagen

کاش آپ نے 2014عمران خان کی پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپا ہوتا

Profilbild von مریم
مریمvor 3 Tagen

عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔ عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ جاوید ہاشمی

Profilbild von ▆▆▆▆▆
▆▆▆▆▆vor 3 Tagen

ہاشمی صاحب، اُس وقت آپ کی باتیں سمجھ نہیں آتی تھیں، ہم بھٹکے ہوئے تھے۔ آج سمجھ بھی آ رہی ہیں اور دل بھی دُکھا ہوا ہے کہ کِن پر ہم نے یقین کیا۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے۔

Profilbild von The Great Khan
The Great Khanvor 3 Tagen

@thebilal_ai بہت اعلیٰ ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے اور اسی طرح سچ بولتے رہیں

Profilbild von 👉𝐄ᴊᴀᴢ 𝐇ᴀsʜᴍi👈
👉𝐄ᴊᴀᴢ 𝐇ᴀsʜᴍi👈vor 3 Tagen

گریٹ مخدوم صاحب اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آمین آمین 🌹💖

Profilbild von Naheed
Naheedvor 3 Tagen

یہ ہم میں سے نہیں ہیں کسی اور کے ہیں یہاں نوکری کرنے آئے ہیں۔

Profilbild von Anas
Anasvor 3 Tagen

تاریخ کے تلخ واقعات سے سبق نہ سیکھا جائے تو قومیں دوبارہ وہی غلطیاں دہراتی ہیں طاقت، جبر اور آواز دبانے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ فاصلے مزید بڑھتے ہیں پاکستان کو جوڑنے کا راستہ انصاف آئین اور عوام کے حقوق کے احترام سے ہی نکلتا ہے۔

Profilbild von کپتانی 🏌️
کپتانی 🏌️vor 3 Tagen

باقی تو ٹھیک ہے سر آپ نے خان صاحب کو کیوں چھوڑا تھا؟ اُس وقت خان صاحب غلط تھے؟ یا آپ اُنھیں سمجھ نہیں پائے تھے؟

Profilbild von A_J
A_Jvor 3 Tagen

ہمیں ایسی ذلیل اور قوم دشمن فوج ملی ہے کے خدا کی پناہ۔ اللہ ان جرنیلوں کو کتے کی موت دے جو اپنی طاقت کے نشے میں دہت خون کی ہولی کھیل رہے ہیں اور شریفوں کی عزت کو روندتے اب لے جا رہے ہیں

Profilbild von Save Pakistan !!
Save Pakistan !!vor 3 Tagen

سلام ہے آپ کو ہاشمی صاحب۔ ہم قبائلی آپ کیلئے دل سے دعاگو ہے۔ اللہ آپ کا ہامی و ناصر ہو۔

Profilbild von Faisal Afridi
Faisal Afridivor 3 Tagen

محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی نے جن جن کو لتر مار مار کر مسلمان کیا تھا وہ لوگ پنجاب میں اج چھائے ہوئے ہیں لیکن انکا ذہن اور ضمیر اج بھی وہی ہے طاقتور کے سامنے لیٹ جانا طاقتور کی چاپلوسی کرنا طاقتور کے شٹے چوسنا اور وہ لوگ خوب اچھے طریقے سے ویسا کر بھی رہے ہیں!!

Profilbild von Muhammad Atiq
Muhammad Atiqvor 3 Tagen

پاک فوج ہمیشہ زندہ باد پاکستان ہمیشہ پائندہ باد ملک دشمن مردہ باد

Profilbild von Majid
Majidvor 3 Tagen

یہ سچ ہے آج مانو تب بھی ٹھیک اگر نہیں مانو گے تو یہ ذلت تمھارا مقّدر ہوگی

Profilbild von Hajrah Khan 🇵🇰
Hajrah Khan 🇵🇰vor 3 Tagen

بہت زبردست ٹویٹس ہوتے آپ کے۔۔۔۔ اب تو نوٹیفیکیشن بھی آن کر دیے ہیں تاکہ کوئی پوسٹ آپکی مس نہ ہو

Profilbild von Rana MIqbal
Rana MIqbalvor 3 Tagen

محترم ھاشمی صاحب، اللہ تعالٰی ہمیں ماضی سے سبق سیکھنے، اپنے بچوں کو سچ بتانے کی توفیق عطاء فرمائے تاکہ ہمارے بچے بڑوں والی غلطیاں نہ دھرائیں۔ 1971 والے سب کردار مٹی میں مٹی ھو چکے ہیں لیکن ان کی بد اعمالیوں، غلط اقدامات کی وجہ سے میرا پاکستان دو ٹکڑے ھوا اللہ تعالٰی فضل وکرم کرے

Profilbild von Zaib Un Nisa 🇵🇰🌐
Zaib Un Nisa 🇵🇰🌐vor 3 Tagen

@JavedHashmiJH Toba Astagfirullah Itna Zulm Itna zulm kia gya💔 Ap plz Quaid e Azam se ly kr ab tk ki sari history samne rkhy k sb ko pta chal sky k hm kis chz ki qeemat chukaa rhy hain jo aj hm is halaat me kharry hain...

Profilbild von AI Urdu
AI Urduvor 3 Tagen

قائد اعظم کا قصور ہے وہ انگریز کی فوج کو پاکستانی فوج نہیں بنا سکے۔ وہی گندی تربیت نسل در نسل چلی آ رہی ہے

Profilbild von خان کا سپاہی
خان کا سپاہیvor 3 Tagen

وارث میر اور حفیظ خان کے چشم دید واقعات ان لوگوں کے منہ پر زناٹے دار طماچہ ہیں جو آج بھی 71 کے سرنڈر پر پردہ ڈالتے ہیں۔ عاصم منیر اور اس کے ٹولے نے آج پورے ملک کو 'کنٹینرستان' اور فاشزم کا گڑھ بنا دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ورکرز کو غائب کرنا، بلوچوں اور پختونوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنا دراصل اسی پرانی دہرائی جانے والی سکرپٹ کا حصّہ ہے۔ طاقت اور جائیدادوں کے نشے میں دھت یہ ٹولہ یہ بھول رہا ہے کہ جب عوام کی غیرت اور صبر جواب دے جائے تو کوئی ڈنڈا راج ان کو تاریخ کے کوڑے دان سے نہیں بچا سکتا

Profilbild von MssdUpWorld
MssdUpWorldvor 3 Tagen

ناپاک فوج پاکستانیوں کو دشمن سمجھتی ہے

Profilbild von Javeria
Javeriavor 3 Tagen

@owaisahmedkhan4 یااللہ کیا ان سات لاکھ میں کوئی نہیں جو آواز اٹھا سکتا ہو 💔 خدارا پاکستان ٹوٹنے سے بچاؤ

Profilbild von proud Pakistani
proud Pakistanivor 3 Tagen

Astaghfrullah 🙏💔🙏🙏🤲 kia ye Wohi hen jin k liye kbhi dil se duaen nikla krti thi,,,,, Allah pak hamen maaf farmaye Ameen

Ähnliche Videos

آپ نے جن افغانوں کو یہ کہہ کر کریڈٹ لیتے رہے کہ ہم نے ان کی اتنے سال مہمان نوازی کی اور پھر جس ذلالت اور انسانیت سے گرے ہوئے انداز میں آپ نے ان کو نکالا اور پھر اب آپ حملہ آور ہوئے اور کس کے کہنے پر حملہ آور ہوئے جس طرح زبیر بھائی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایران کے معصوم 136 بچوں کے خون کا قاتل ہے وہ سکول پر بمباری کر رہا تھا اور اس وقت بھی سکول پر بمباری ہو رہی تھی میناب میں جہاں پر کلاس روم میں بچے بیٹھے ہوئے تھے اس ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھی آپ کو افغانستان کی جنگ میں کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایز ڈوئنگ اے گریٹ جاب کس کو آپ الو بنا رہے ہیں ہم یہ 25 کروڑ عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ یہی جو آج کابل کے اوپر لوگ بیٹھے ہیں کل آپ کہہ رہے تھے کہ غلامی کی زنجیریں آزاد ہو گئی ہیں پوری قوم کو پتہ ہے آج ایسا کیا ہو گیا کہ آپ بمباریاں کر رہے ہیں سویلینز کو مار رہے ہیں ادھر بھی کیجولٹیز ہو رہی ہیں ہم تو نہیں چاہتے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان امن کی داعی ہے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہمیشہ امن کا ایجنڈا لے کر چلتی ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر آپ اس مسئلے میں سیریس ہیں تو ہم آپ کو فیسلیٹیٹ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر خیبر پختونخواہ کی حکومت ہے وہاں کے قبائلی عوام ہیں آپ نے کس سے پوچھا ہے کیا خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس معاملے میں آن بورڈ لیا گیا ہے یقیناً ہرگز نہیں مجھے پتہ ہے تو کس طرح یہ معاملہ لے کر جا رہے ہیں دوسری بات ایران کے حوالے سے ابھی تک پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کی ریاستی بیانیہ ایران کے حوالے سے بالکل بھی کلیئر نہیں ہے کہ ہم اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں خالی بیانوں سے کام نہیں چلتا میں آج یہاں سے کہہ رہا ہوں کہ حکومت جوائنٹ سیشن بلائے جس کا ہم نے مطالبہ کیا ہے اس جوائنٹ سیشن میں قرارداد لے کر آئیں مذمت کریں جو اسماعیل ہنیہ صاحب کو شہید کیا گیا جو رہبرِ معظم تھے جن کا ہمارے دلوں میں ان کے لیے بہت احترام ہے مذمت کریں ان 136 بچوں کی جن کو امریکیوں نے مارا ہے اسرائیلیوں نے صیہونیوں نے مارا ہے 170 سے اوپر ہیں پہلے جب وہ تو 136 رپورٹ ہوئے تھے تو ہم اس میں ساتھ دیں گے آپ تگڑے ہو جائیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

24,171 Aufrufe • vor 6 Monaten

ہم اس ملک میں جنگوں کے متحمل نہیں ہیں۔ ذرا سوچو، خدا کے لیے — حکمران ہو تو ذرا سوچو۔ سن 1950ء سے لے کر امریکی قرضے لے-لے کر تم نے آج تک صرف ان کے قرضوں پر اپنی زندگی گزاری۔ آج تمہارا حشر کیا ہے؟ ہندوستان معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، چین ترقی کر رہا ہے، بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، افغانستان کی حالت ہم سے بہتر ہے، ایران ترقی کر رہا ہے — اور اس پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کس پالیسی کی وجہ سے ڈوب رہا ہے؟ تمہاری غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ تمہارے اندر خودداری نہیں ہے، تم فکری طور پر غلام ہو۔ تمہیں صرف اپنے قوم کے بچوں کو قتل کرنا آتا ہے، تمہارے اندر پاکستان کو ترقی دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج چین کا اعتماد اٹھ رہا ہے، خطے میں پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور افغانستان سے بھی لڑائی، ایران سے بھی لڑائی — کہاں گئی ہماری خارجہ پالیسی؟ پرامن خارجہ پالیسی کہاں گئی؟ پاکستان کے بقا و استقلال کی پالیسی کہاں گئی؟ پروپیگنڈوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ پروپیگنڈی کی زبان روک دو، جنگ کی زبان روک دو۔ میں افغانستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور پاکستان سے بھی کہہ رہا ہوں: افغانستان-پاکستان کی لڑائی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ ایک طرف ہم بھارت سے لڑیں، دوسری سرحد پر افغانستان سے لڑیں — ہم نے پاکستان کو کہاں کھڑا کر دیا ہے؟ جب ہم جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں تو صرف جنگ بندی کے لیے نہیں، زبان بندی کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولنا روکو، غلط پروپیگنڈے روکو۔ ایک کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”۔ ایک کہتا ہے “میں صرف دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”۔ ان چیزوں سے مقام نہیں بنتا۔ جمعیت علماءِ اسلام نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اس سفارتی کردار میں ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کام جو تمہاری پوری وزارتِ خارجہ نے حاصل نہیں کیا، ایک سیاسی جماعت نے حاصل کیا۔ جب تم نے الیکشن میں دھاندلی کی اور جمعیت علماءِ اسلام اپوزیشن میں بیٹھی تو بنی بنائی باتیں تمہارے ہاتھوں بگڑ گئیں۔ تمہارے اندر معاملات کو آگے بڑھانے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں۔ ہم آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کردار کے لیے سازگار ماحول درکار ہوگا۔ دنیا چاہتی ہے، امریکہ چاہتا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ افغانستان میں اسلام کیوں آیا، امارتِ اسلامیہ کیوں قائم ہوئی — ان کے پیٹ میں درد ہے۔ ہم نے بہت پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ جب کمیونسٹ آئے تو ہم نے مجاہدین کا ساتھ دیا؛ جب مجاہدین آپس میں لڑے تو ہم نے دوسرے مخالف کا ساتھ دیا؛ طالبان آئے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دیا؛ طالبان کے خلاف ہم نے کرزئی کا ساتھ دیا۔ ہم نے اڈے دیے، امریکہ کو اڈے دیے — اُن کے طیارے ہمارے فضائوں سے گزرے اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے۔ آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت ہے، قابض حکومت — کیوں؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا: ملا عمر بھی تو جنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا۔ آپ نے انہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے وہاں سفارتخانہ دیا اور یہاں بھی انہوں نے سفارتخانہ قائم کیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارتی معیار پر قائم رکھا — آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بحث نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں — پرامن ہوگا تو پھر پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی مسلح گروہ موجود ہیں، اور آپ جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے — نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر جنگ کا جواز فراہم کرنا اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ چالیس، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں: آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں — اس کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو، بیٹھ کر دوبارہ سوچو۔ میں اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں: دوسروں کا گلہ نہ کیا کرو، ذرا اپنے گھر کی صفائی بھی کر لو۔ کہیں تم اپنے اندر گھس بیٹھے ہوئے مسائل کو نہیں دیکھ رہے تو بس حالات ایسے ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ امکان افغانستان میں بھی ہے، اور یہاں بھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور یہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دو ممالک امن میں نہیں رہے تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے ہاں ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ پھر سے شروع ہو۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

23,913 Aufrufe • vor 11 Monaten

🟥 چند لوگوں کی وجہ سے پوری قوم کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا ناانصافی ہے۔ کیا سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کی وجہ سے ہم پورے سندھ کو کچے کے ڈاکو کہیں گے؟ 🟥 مریم نواز کی طرح یہاں بھی اس صاحب نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ 🟥 پنجاب محفوظ ہے، کیونکہ اس کی سرحد بھارت جیسے دوست ملک کے ساتھ ہے، جو انڈیا کے پنجاب کو محفوظ رکھتا ہے، 🟥 فتنۃ الخوارج اور فتنہ الہندوستان ہوا میں اُڑ کر افغانستان سے پختونخوا اور بلوچستان میں آتے ہیں اور وہاں پکڑے جاتے ہیں۔ 🟥 پختونخوا میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ 🟥 اگر دہشت گردی افغانستان سے آتی ہے تو پھر ضیاء الحق کون تھا؟ 🟥 پنجاب میں مجاہدین کے اتنے تربیتی مراکز قائم کیے گئے تھے، وہ کیا تھے؟ اگر ہم پر الزامات لگائے جائیں گے تو ہم بھی ان سوالات پر بات کریں گے۔ 🟥 یہ جو پنجابی طالبان کی آڑ میں وزیرستان آ کر تاجک، ازبک اور دیگر افراد نے 20، 30 سال پہلے شادیاں کیں، وہ کیا معاملہ تھا؟ 🟥 آج جو گڈ اور بیڈ طالبان کی بات کی جاتی ہے، یہ تقسیم کس نے اور کیوں بنائی؟ 🟥 میں نے پنجاب کے وزیروں کے ساتھ طالبان کے رہنماؤں کو گھومتے دیکھا ہے، حتیٰ کہ وہ ان کی گاڑیوں میں بھی گھومتے تھے۔ 🟥 کیا افغانستان کے لوگوں کو ہم نے یہاں لایا تھا؟ کیا انہیں یہاں سہولتیں اور تربیت ہم نے فراہم کی تھی؟ 🟥 افغانستان ایک دوست ہمسایہ ملک رہا ہے۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران افغانستان کس کے ساتھ تھا؟ ان جنگوں میں پاکستان کی لڑائی بھارت کے ساتھ تھی، جو آج بھی آپ کا دوست ملک ہے۔ 🟥 پختونوں کو دہشت گرد بنانے میں اتنی سرمایہ کاری کس نے کی؟ 🟥 کیا ان سوالات کا کوئی جواب ہے؟ کیا پنجاب میں وہ تربیتی مراکز موجود نہیں تھے جہاں طالبان کو تربیت دے کر کشمیر اور افغانستان میں لڑنے کے لیے بھیجا جاتا تھا؟ ایمل ولی خان مرکزی صدر، اے این پی #ANP | #AimalWaliKhan

Awami National Party

31,065 Aufrufe • vor 3 Tagen

" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 14 اگست کے روز منعقدہ تقریب سے خطاب "اب اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس ملک کو فتنے سے ، فساد سے ، انتشار سے اور نفرت کی سیاست سے ہم لوگوں نے اس کو دور رکھنا ہے اس کو محبت سے سینچنا ہے اپنے تمام جذبات کو اور اس کی تمام جو یکجہتی ہے اکائیاں ہیں ان اکائیوں کو یکجا کر کے رکھنا ہے ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاص محبت اور ادب کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام عالم میں ان پچھلے دو سالوں میں پاکستان نے جو چیزیں حاصل کیں ہیں اور دفاعی لحاظ سے بھی اور سفارتی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر خاص کرم کیا اور ہمیں امن کا نمائندہ بنا کر دنیا میں اجاگر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی کرم نوازی ہے اس کی بڑی رحم دلی ہے otherwise کسی زمانے میں پاکستان کا اس طرح کا کوئی نام نہیں تھا ممتاز حیثیت نہیں تھی یہ ممتاز حیثیت ہمیں پچھلے دنوں ہمارے ڈپلومیٹک رویے اور کاوشیں جو ہمارے ان لوگوں سفارت کاروں نے کیں ان کے وجہ سے پاکستان اس وقت ممتاز حیثیت رکھتا ہے دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا اور یہ سوچا تھا کہ اقوام عالم میں صرف مسلم مملک اکٹھے ہو کر چلیں "

Saqib Bashir

136,260 Aufrufe • vor 1 Monat

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

24,358 Aufrufe • vor 11 Tagen

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 Aufrufe • vor 1 Monat

صحافی: عمران خان پر دیگر چیزوں کے علاوہ کرپشن کے بھی الزامات ہیں۔ ان الزامات کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ قاسم خان: یہ سننا سب سے زیادہ مایوس کن باتوں میں سے ایک ہے۔ جب ہم بڑے ہو رہے تھے، تو ہم نے صرف یہی سنا کہ کرپشن کتنی زہریلی ہو سکتی ہے اور یہ کسی ملک کو کیسے تباہ کر سکتی ہے۔ یہی انہوں نے پاکستان میں دیکھا تھا۔ اور جب وہ انگلینڈ آئے، تو وہ اس کا فرق دیکھ سکے اور یہ سمجھ سکے کہ وہ پاکستان کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں، اور بالآخر وہ پاکستان واپس گئے اور سیاست میں شامل ہوئے۔ جب سے ہم پیدا ہوئے ہیں، ہم نے انہیں ہمیشہ کرپشن کے خلاف بولتے اور اس کے خلاف عمل کرتے دیکھا ہے۔ اگر وہ بند دروازوں کے پیچھے اپنے پانچ اور سات سال کے بچوں کو کرپشن کے خلاف درس دے رہے تھے، تو اب ان پر ایسے الزامات لگایا جانا انتہائی مایوس کن ہے۔ ہمارے لیے یہ اس حکومت کے کھلے جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے جو سالوں میں سب سے زیادہ کرپٹ حکومتوں میں سے ایک رہی ہے، جیسا کہ آپ آخری انتخابات میں ہونے والی دھاندلی سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

Faisal Khan

18,670 Aufrufe • vor 1 Monat

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 Aufrufe • vor 3 Monaten

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,079 Aufrufe • vor 2 Monaten

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,063 Aufrufe • vor 4 Monaten

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 Aufrufe • vor 6 Monaten

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,044 Aufrufe • vor 6 Monaten

عمران خان نے جنرل باجوہ کو رجیم چینج سے روکنے کی بہت کوشش کی، بتایا کہ معیشت بڑی مشکل سے میں نے سنبھالی ہے خدا کے لیے یہ کام مت کرو یہ تم مجھے نہیں نکال رہے پاکستان اس سے نیچے چلا جائے گا، جلسوں میں وہ کہتے رہے باجوہ کو سمجھاتے رہے، سٹاف کالج کوئٹہ میں عمران خان نے خطاب کرنا تھا جب خطاب کر کے واپس جہاز میں بیٹھے تو انہوں نے اپنے ایم ایس پر بڑے غصے کا اظہار کیا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے تو تم کیوں انگلش بولتے ہو، لکھو کہ آئندہ کسی بھی پروگرام میں میں گیا وہاں پہ انگلش نہیں بولی جائے گی وہاں پہ اردو میں بات ہوگی تمام فوجی بھی اردو میں بات کریں گے، باجوہ کو عمران خان کا شلوار قمیض پہننا اور اردو بولنا بہت برا لگتا تھا اس لیے کہ وہ امریکہ کی طرف یا یورپ کی طرف دیکھتے تھے خود وہاں جا کر رہتے ہیں ان کے بچے وہاں پڑھتے ہیں چائنا کی طرف نہیں دیکھتے تھے، عمران خان نے خارجہ پالیسی بیلنس رکھنے کی کوشش کی کہ آزاد خارجہ پالیسی بنائیں لیکن یہ غلام ذہنیت کے لوگ ہیں۔ #RegimeChangeInPakistan #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

181,843 Aufrufe • vor 6 Monaten

بریکنگ نیوز 🚨کیسے ملٹری فوج، ظالم ڈکٹیٹر لوگوں کے ذہنوں میں اپنا خوف پیدا کرنے کیلئے ظلم کرتے ہیں؟ اور ہمیں کیسے پچھلے 78 سالوں سے فوج کے معاملے میں بیوقوف بنایا گیا؟ اس پر معید پیرزادہ کا شاندار تجزیہ ملاحظہ کیجیے اور حقیقت سے خود روشناس کیجئے 🔥🔥 آپ جڑانوالہ باغ کے اندر کھڑے ہوتے ہیں اور حیران پریشان رہے جاتے ہیں کہ اتنی چھوٹی سی، تنگ سی جگہ میں جس کے صرف اندر داخل ہونے کیلئے ایک راستہ ہے، جس کے تین طرف اونچی دیواریں ہیں، کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ وہاں پر ایک راستے سے جو ہندوستانی فوج ہے، جنرل ڈائیر کا جو دستہ ہے، وہ اندر Enter کرتا ہے، پوزیشن لیتا ہے، لوگ انکو دیکھ رہے ہیں جو تقریریں کر رہے ہیں، انکو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ ان پر فائرنگ کر سکتے ہیں اور پھر وہ اُنکے اوپر اندھا دھند فائر کھولتا ہے۔ جب جنرل ڈائیر سے بعد میں پوچھا گیا کہ تُم نے یہ بربریت کیوں کی ہے؟ اُس نے کہا میں برٹش امپائر کا خُوف لوگوں کے ذہن میں بیٹھنا چاہتا تھا، میں چاہتا کہ انکو پتہ چلا کہ تُم نے راج کی Obedience کیسے کرنی ہے۔ مطلب اسکو کہتے ہیں Moral Authority۔ پولٹیکل سائنس میں۔ چنگیز خان کھوپڑیوں کے منار کیوں بناتا تھا؟ کیونکہ جس زمانے میں، بارہویں، تیرھویں صدی میں چنگیز خان کی چنگیزیت ہمارے سامنے آئی تھی، تو اُس وقت ویسے بھی رواج یہ تھا کہ جب جنگ ہوتی تھی تو جو Able Bodied Men ہوتے تھے جو جنگی سروس کرسکتے تھے انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔ اُنکی گردن مار دی جاتی تھی، عورتوں کو اور بچوں کو غلام بنا کر بیچ دیا جاتا تھا، تو پھر کھوپڑیوں کے منار بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کھوپڑیوں کے منانے بنانے کا چنگیز خان نے جو رواج شروع کیا وہ اس لیے تاکہ خوف و ہراس پیدا ہو۔ میسج یہ تھا ہر وہ شہر جس کے لوگ لڑیں گے اور لڑے بغیر سرینڈر نہیں کریں گے وہاں پر یعنی مارا ویسا بھی جاسکتا تھا، لیکن اگر فتح کر لے گی منگول فوج تو اسکے بعد سارے شہر کو آگ بھی لگائے گی اور کھوپڑیوں کے منار بھی بنائے گی اور وہی جو خوف تھا پورے سینٹرل ایشیا کے اندر، مشرقِ وسطیٰ میں، یورپ تک خوف تھا کہ ہمارے ساتھ یہ ہوسکتا ہے۔ Even ہندوستان کے قریب بھی بعض منگول جنگ باز جب آئے تو یہاں پر بھی انہوں نے کھوپڑیوں کے منار قائم کیے۔ نیتن یاہو نے غزہ کے اوپر جو دو سال سے Bombing کی ہے، کیا وجہ تھی؟ Moral Authority، خُوف بیٹھانا، تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہم کتنا ظلم تمہارے ساتھ کرسکتے ہیں۔ اب یہ اور بات ہے کہ ہمیں جو کہانی سنائی گئی تھی کہ پاکستانی فوج کی، جرنیلوں کی، ہماری فوج، پیاری فوج، پاک فوج۔ اُس میں ہم یہ Expect نہیں کرتے تھے۔ اصل میں یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہوگا کیونکہ بلوچستان میں تو ہو ہی رہا تھا۔ Former East Pakistan میں تو ہوا ہی تھا۔ کراچی میں خون کی ندیاں تو بہائی ہی گئیں۔ فاٹا کے ساتھ تو ہوتا ہی رہا لیکن اسکے باوجود ہم چونکہ کہ ایک سوہانہ خواب دیکھتے تھے اور جب ہم پیدا ہوئے تو ہمارے جس طرح سے کانوں میں اذان دی جاتی تھی، اسی طرح ہماری پیٹھ کے اوپر بھی انہوں نے ایک لگایا سٹمپ بیوقوفی کا یا کوئی ٹیکہ لگا دیا جس کے نتیجے میں ہمارے دماغ کے خولیے جو ہیں انہوں نے کبھی Grow کیا ہی نہیں اور ہمارے سامنے کی حقیقتیں تھیں کہ ایسٹ پاکستان میں انہوں نے کیا کیا، بلوچستان میں یہ کیا کررہے ہیں، فاٹا میں یہ کیا کررہے ہیں، کراچی میں کیا ہوا، کیسے مختلف گینگ بنائے گئے، کیسے کبھی سپہ صحابہ بنائی گئی، کبھی سپہ محمد بنائی گئی، کیسے قتلِ عام کرایا گیا۔ یہ سب چیزیں ہمارے سامنے تھیں لیکن ہم نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ ہماری کھوپڑیاں جو ہیں ایسی ہی رہیں گی اس لیے ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ ہمارے سامنے جو اس وقت بہت ہی کرب ناک واقعات ہو رہے ہیں۔ پہلے ہمارے ساتھ اسلام آباد کا واقعہ ہوا 26 نومبر 2024 کا، پھر مریدکے میں واقعہ ہوا 13 اکتوبر 2025 کا، پھر ہم نے آزاد کشمیر کی Valance دیکھی، پھر ہم نے بلوچستان کی Valance دیکھ رہے ہیں۔ یہ تمام چیزوں کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ وہ تمام جھوٹ جو تھا، اس کی تمام کلائی اُتر گئی ہے۔ کسی طرح دیکھاتے ہیں Demon یا ڈائن ہوتی ہے، جس نے بہت خوبصورت میک اپ کیا ہوتا ہے، Horror movies میں دیکھاتے ہیں، بارش ہوجاتی ہے کوئی خطرناک قسم کی، سارا میک اپ اتر جاتا ہے۔ وہ ڈائن جو خوبصورت بنی ہوئی تھی، اسکی جو آٹھ سو سال کی عمر تھی یا آٹھ ہزار سال کی ایک بوڑھیا تھی، وہ وہاں نظر آجاتی ہے۔ یہاں جرنیلوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کہ ان کے چہرے کا تمام رنگ روپ روغن، Pant جو انہوں نے کیا ہوا تھا وہ سارے کا سارا اتر گیا ہے اور انکی اصل حقیقت جو ہے، انکی جو نیچر ہے وہ کھل کر ہمارے سامنے آگئی ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

11,929 Aufrufe • vor 2 Monaten

متحدہ عرب امارات ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہماری خواہش ہے کہ اس کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید بہتر ہوں۔ یو اے ای کی ترقی میں پاکستانی قوم کا بہت بڑا کردار ہے۔ میں خود سفر کر رہا تھا، وہاں جو رویہ رکھا گیا وہ انتہائی نامناسب تھا۔ ہماری فلائٹ کینسل ہوئی، ہم نے ہوٹل میں قیام کرنا چاہا، لیکن ہمارے پاکستانیوں کے ساتھ ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ ادھر اعلان ہو رہا تھا کہ صرف بھارت اور امریکا کے پاسپورٹ ہولڈرز کو انٹرٹین کیا جائے گا۔ ہم نے احتجاج کیا، لیکن ان کے رویے پر افسوس ہے۔ اس دن میں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا، وہ مناسب نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ڈپلومیٹک چینلز ہیں، ان کو اس معاملے کو اٹھانا چاہیے۔ پاکستانی عوام یو اے ای کی حکومت کی عزت کرتی ہے، محبت کرتی ہے۔ ابھی میرے پاس ایک وفد آیا کہ ہمارے ساتھ بھی رویہ مناسب نہیں تھا۔ پاکستان نے تو امریکا ایران تنازعے میں بہت مثبت رول پلے کیا۔ میں فارن آفس اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو یو اے ای اتھارٹیز کے ساتھ ڈسکس کریں۔

Asad Qaiser

168,061 Aufrufe • vor 1 Monat

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 Aufrufe • vor 2 Monaten