Video yükleniyor...
Video Yüklenemedi
" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں... show more
136,267 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)
32 Yorum

یہ ہے ہماری عدلیہ کا المیہ جہاں ججز کا کام انصاف فراہم کرنا تھا وہاں وہ بیٹھ کر حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کے جھوٹے قصیدے پڑھ رہے ہیں اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے کا خواب دیکھنے والے ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں کہ انہوں نے ملک کے اندر قانون کا کیا حشر کر دیا ہے۔ نفرت کی سیاست کا طعنہ دینے والے بتائیں کہ کیا ایک سیاسی پارٹی کو کچلنا اور ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو جیلوں میں سڑانا محبت کی سیاست ہے؟ جج صاحب

اس بیغیرت منصف کو چاہیے اپنے عہدے کی اور اپنے محکمے کی بات کرے کہ پاکستان کی تباہی میں اس جیسے ججز نے کتنا حصہ ڈالا ہے۔ اگر تھوڑا انصاف سے کام لینا شروع کرے تو اقوامِ عالم میں جگہ اور بلند ہو گی لیکن فی الحال تو ایسے بے ایمانوں کی وجہ سے عدلیہ کا مقام اقوام عالم میں ۱۳۰ ہے۔

چہرے پے خدا کی پھٹکار اور لعنت صاف واضع ہے

جج کا کیا کام جو ایسی سیاسی باتیں ارشاد فرما رہے ہیں۔ فیصلے بھی سیاسی اور کام بھی

چیف جسٹس نے خارجہ، داخلہ، معاشی،دفاعی امور پر بات کی جو ان کا شعبہ مہارت نہیں. کیا اچھا ہوتا کہ پاکستان کی شعبہ انصاف میں کیا حالت ہے اس پر بھی کچھ ایماندارانہ روشنی ڈالتے. کیونکہ انصاف کے بغیر کسی معاشرے کا ترقی کرنا تو کجا، قائم رہنا بھی نا ممکن ہے.

حیرت یہ کہ جناب چیف جسٹس نے بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری، دفاع، سیاسی کامیابیوں پر بات کی۔مگر جس چیز کا حلف لے کر وہ عہدے پر بیٹھے ہیں اس بابت بات نہیں اس ہیرے میں، چیف جسٹس کا کام عدل ہے انصاف ہے لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہے آئین و قانون کی پاسداری ہے ماتحت عدلیہ کا کردار ہے۔

جرنیلی کتوں کو رٹا رٹایا سبق ہاتھ میں تمھا دیا

کبھی میڈیا آزاد ججوں پر بھی تنقید کرتا تھا اب ثابت شدہ ٹاؤٹ ججوں پر بھی خاموش ہے ۔

یہ لعنتی لکھا ہوا سکرپٹ پڑھ رہا ہے۔

لعنتی کردار۔ کیا اسی طرح انتشار فتنہ اور فساد سے پاک اور امن و انصاف والے نظام میں ایک جج کو ۱۵ نمبر سے اُٹھا کر دوسرے ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا جاتا ہے تاکہ وہ انصاف سے آنکھیں بند کر لے؟ کیا اسی طرح عدلیہ کا گلا گھونٹا جاتا ہے ایک مہذب معاشرے میں؟ ہر دور میں اس ڈوگر جیسے حرامخور طالا آزماؤں اور جابر غاصبوں کو میسر آ جاتے ہیں جو ان کے گُن گاتے پھرتے ہیں جبکہ پاکستانیوں کے لئے مُلک تباہی اور بربادی کا منبع بنا ہوا نظر آرہا ہے

یہ بے شرم ادمی خود تو انصاف دے نہیں سکتا دو نمبر ہی طریقے سے جج بنا ہے لیکچر یہ دے رہا ہے ان باتوں پر جس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اپنا کام کر تو انصاف پہ بات کر کتنا انصاف دے رہا ہے تو، کیا معاہدہ ہے یہ اس کا فائدہ کیا ہے کسی ایک نے بتایا

عدل کا اور انصاف کا حال دیکھیں، اس Supreme Court of Pakistan کا، اللہ کی فوج کے سربراہ سید عاصم منیر، favorite Field Marshal ٹرمپ کے، ایران کے بچوں کے قاتل کا اور قاضی یحییٰ افریدی کا کہ تین سال سے اس ملک میں اس وقت کے موجودہ اغوا شدہ Prime Minister of Pakistan، اگست 2026 کے عمران خان صاحب کا، سپریم کورٹ عدالت ایک بھی دفعہ کیس مقرر نہیں کر سکی۔ جج قاضی یحیی آفریدی باقیات جج قاضی فائزعیسی غدار ... یہ ہے انصاف کا امتحان اور حال۔ پچیس25 کروڑ لوگوں کے ملک کا، ایک نیوکلیر سٹیٹ کا، ایک اسلامی ملک کے جرم کا۔

فتنہ فساد انتشار اور نفرت کی سیاست خالص عسکری جج کے خالص غسکری الفاظ فیر کیندے نے بوٹا گالاں کڈدا اے

شکل پر کتنی نحوست ہے یہ اس ملک کی بدبختی ہے کہ ایسے منحوس لوگ انصاف کے ترازو کے مالک بن گئے۔

جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں اللہ نے اپ کے کو انصاف کے منصبت بٹھایا ہے اور پوری دنیا میں اپ کے انصاف کا کیا مقام ہے وہ سارا پاکستان جانتا ہے پوری دنیا کی عدالتوں میں سب سے گندا مقام اپ کا ہے۔

جس دن یہ کالا شیطان ریٹائر ہوگا پاکستان سے بھاگ جائے گا کیونکہ جو ظلم اس نے کیے ہیں اسکا بدلہ تو یہ سہہ ہی نہیں سکتا۔ بےشرم انسان سے انصاف دیا نہیں جاتا ملکی سیاست پر جہاز اتار رہا ھے 😡

اس بھڑوے کو ہر چیز نظر اتی ہے عمران خان نظر نہیں اتا

اب پارٹیوں کے کارکن جن کو عدلیہ کی بربادی کے لیے بھرتی کیا گیا ہے وہ سیاست یا سیاسی تقریریں نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے۔ ہر حرام کھانے والے کے منہ سے یہی بات سنی جا رہی ہے آجکل کیونکہ سب کی روزی روٹی فیلڈ مارشل سے چل رہی ہے۔ اور اسی کو سب نے کریڈٹ دینا ہے۔

اپنی عدالت کی کارکردگی کے بجائے عالمی سیاست پر تبصرے کر رہا ہے۔ لعنت ہو اس چیف جسٹس پر

پاکستان پر ایک عوامی نوکر جس کے پاس بندوق ہے قابض ہے۔ سوچیں کہ ججز کو ایک آمر کی گیند صرف اس لیے اٹھانی پڑ رہی ہے کیونکہ آمر کے پاس لامحدود طاقت ہے۔

ہر کسی حرام خور کو حافظ نے اپنی مدح سرائ کی ڈیوٹی پہ لگایا ھوا ھے

بغیرت کی شکل دیکھ کے دجال یاد ا جاتا ہے

اپنے ملک میں امن کیوں نہیں ہے

چیف جسٹس کے اس بیان کے بعد آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 209 لاگو ہوجاتا ہے لیکن پاکستان میں تو آئین فوج ہے

ان صاحب کا معاہدات فارن پالیسی ڈیفنس سے کیا لینا ہے؟ ان سے پوچھیں آپ بتائیں قائداعظم نے انصاف کے لیے کیاکیا جدو جہد کیں؟ ان کے انصاف کے بارے میں کیانظریات تھے؟ وہ ملک میں کیسا انصاف چاہتے تھے؟ ہم نے کیسے انصاف دیا کہاں کہاں کیا فیصلے دیے؟ قائداعظم کے ایسے کیسز میں کیا نظریات تھے؟

یہ شخص ملتان ہائیکورٹ لاہور بینچ کا نالائق ترین جج تھا جسے اٹھا کر اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیا ملتان ہائیکورٹ لاہور بینچ میں وکلاء نے ایک دفع اس کی ٹھکائی بھی کی تھی دوران سماعت اس نے ایک وکیل کو گالی دی تھی

someone tell this ass*** this is not is job his job to give justice to the poeple of pak

پہلے عدلیہ کی آزادی کو پامال کریں، پھر قومی یکجہتی پر وعظ فرمائیں۔ آئینی انصاف سے سیاسی شاعری تک کیا ہی شاندار سفر ہے

پہلے تم اپنے منصب سے انصاف کر لو ایسے بھاشن تم جیسوں کے مونہہ سے مطابقت نہیں رکھتے

اچھا یہ سور کی نسل بے غیرت کا بچہ لعنتی کی اولاد د** کر رشوت خور ک*** جھوٹا بے غیرت لالچی حرام خور جج یہ جتنی چیزیں گنوا رہا ہے یہ اس کے گھر میں بھی نہیں ہے نہ باہر ہے یہ اس طرح کے کتوں نے ملک صبا کیا

ایک بات تو طہ ہو گئ جتنی تقریبات کر لو بتیاں لگا لو ناچ گانے ڈرامے بازی کر لو لیکن عوام نے جشن عظیم بہادر لیڈر عمران خان کی رہائی سے منسلک کر دی جس دن خان کی رہائی ہو گی اس دن عوام دکھاے گی جشن آزادی کیسے منائ جاتی ہے اب یہ عوام نے فیصلہ کرنا ہےکہ خود کب نکل کر آزادی حاصل کرنی ہے

آفرین ہے آپ پر جو ایک حاضر سروس جج کی اتنی سیاسی تقریر سن کر پھر ٹویٹ بھی کر رہے ہیں۔ یقیناً پیراسیٹامول کھا لی ہوگی
Benzer Videolar
Sensitive content
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
Maulana Fazl-ur-Rehman
24,358 görüntüleme • 13 gün önce
