Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

آج مکہ مکرمہ میں بعد نماز جمعہ مسلم دنیا کی دفاعی تاریخ کا ایک نیا باب لکھا گیا، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے “مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد پہلی بار تین بڑی مسلم ریاستیں ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں شامل...

34,111 просмотров • 27 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

مکہ مکرمہ سے مسلم دنیا کے نئے دفاعی نظام کا آغاز ہوچکا ہے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی دفاعی اتحاد مستقبل میں مسلم دنیا کی مشترکہ دفاعی طاقت بننے جارہے ہیں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے ایک انتہائی اہم اصول اپنایا ہے: ایک ملک پر حملہ، تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ دنیا کے طاقتور ترین فوجی اتحاد نیٹو کی بنیاد بھی اسی اصول پر قائم ہے۔پاکستان کی ایٹمی طاقت، میزائل صلاحیت اور تجربہ کار فوج، ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور فوجی تجربہ، جبکہ سعودی عرب کی مالی طاقت، توانائی کے وسائل اور مسلم دنیا میں اثرورسوخ، یہ تینوں مل کر ایک غیر معمولی دفاعی قوت تشکیل دے سکتے ہیں۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ، خلیج میں کسی بڑے حملے یا کسی علاقائی تنازع کی صورت میں یہ معاہدہ عملی طور پر کہاں تک جائے گا؟آج آن مائی ریڈار میں میرے ساتھ پاکستان آرمی کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید اس تاریخی معاہدے کی اہمیت، امکانات اور خطرات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔اس انتہائی اہم اور معلوماتی گفتگو مکمل دیکھنے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

29,257 просмотров • 24 дней назад

مکہ معاہدے نے نئی دہلی میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور سفارتی وزن نے خطے کا طاقت کا توازن بدلنا شروع کر دیا ہے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد بھارتی میڈیا، سابق سفارتکار اور دفاعی ماہرین مسلسل اس کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کئی بھارتی تجزیہ کار اسے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے لیے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اب صرف جنوبی ایشیا نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی ایک اہم دفاعی اور سفارتی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔کچھ بھارتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ریاض اور انقرہ کا اسلام آباد کے ساتھ کھڑا ہونا بھارت کے لیے نئی سیکیورٹی حقیقت پیدا کرسکتا ہے، جبکہ بعض اسے غیر ضروری خوف قرار دیتے ہیں۔آج On My Radar میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری میرے ساتھ اس نئی علاقائی بساط کا تفصیلی تجزیہ کر رہے ہیں۔مکمل اور دلچسپ پروگرام دیکھنے کے لیے OMR کا YouTube لنک کلک کریں

Kamran Khan

41,724 просмотров • 23 дней назад

آخری لمحے تک خفیہ رہنے والی پیش رفت تھی اچانک کل رات “ مسلم نیٹو” کا جنم ہوا ہے ؟ پاکستان اور سعودی عرب نے تاریخی دفاعی معاہدہ پر دستخط کر کے دنیا کو حیران کردیا !پاکستان اور سعودی عرب نے ایک ایسا اسٹریٹجک ڈیفنس معاہدہ سائن کیا ہے جو اسلامی دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک “نیٹو طرز” کے الحاق کی بنیاد رکھتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دونوں اس کو اپنی سالمیت پر حملہ تصور کریں گے۔ اس تاریخی on my radar Vlog میں ہم نے گہرائی سے جائزہ لیا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ جیسے طاقتور ممالک کے لیے کیوں خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے۔اس OMR Vlog کا اہم ترین پہلو سابق کمانڈر نیوکلئر کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل مصطفیٰ کا خصوصی انٹرویو ہے ، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان جیسے نیوکلئیر پاور اور سعودی عرب جیسی معاشی سپر پاور کا اتحاد عالمی جیو اسٹریٹجک منظرنامے کو کیسے بدل دے گا۔اس وی لاگ کی مکمل ویڈیو اور لیفٹ جنرل مصطفیٰ کی غیر معمولی بصیرت سننے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں!

Kamran Khan

43,131 просмотров • 11 месяцев назад

یہ نئی عالمی حقیقت ہے اب مڈل ایسٹ میں طاقت کا ایک نیا مرکز پاکستان بن رہا ہے اس خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی جیو اسٹریٹجک صف بندیاں پاکستان کو ایک غیر معمولی مقام پر لے آئی ہیں۔اس نئی صف بندی میں کویت، بحرین، قطر اور اردن پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ یہ تمام پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور پاکستان ایک نئے دفاعی اور سفارتی محور کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس نہایت اہم اور دور رس موضوع پر معروف سینئر تجزیہ کار برائے خارجہ و جیو اسٹریٹجک امور مشاہد حسین سید نے On My Radar میں انتہائی بصیرت افروز، معلوماتی اور فکر انگیز گفتگو کی ہے۔ مکمل تجزیہ سننے کے لیے OMR کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

51,773 просмотров • 1 месяц назад

آپ کو سن خوشگوار حیرت ہوگی کہ عین ممکن ہے کہ پاکستان کی اگلی بڑی ایکسپورٹ شاید ہتھیار گولہ بارود اور جدید weapon system ہوں! آج پاکستان اپنی دفاعی تاریخ کے ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیت تیزی سے بڑھا رہے ہیں، اور یہی پاکستان کیلئے اربوں ڈالر کی مارکیٹ بن رہی ہے۔ہفتہ کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کے اہم دورے میں دو نئے پروڈکشن پلانٹس، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیفنس ایکسپورٹس بڑھانے پر خصوصی بریفنگ دی گئی۔ پاکستان کم از کم 13 ممالک سے دفاعی ڈیلز پر مذاکرات کررہا ہے جبکہ کئی بات چیت ایڈوانس اسٹیج میں ہے۔اسی دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نئی دفاعی شراکت داری کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سعودی سرمایہ، ترک ٹیکنالوجی اور پاکستانی دفاعی صنعت مل کر ایک طاقتور نیا بلاک بنا سکتے ہیں۔کیا پاکستان کی اگلی بڑی ڈالر کمائی دفاعی ایکسپورٹس سے ہوگی؟ مکمل تجزیے کیلئے آج کے OMR کا YouTube لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

122,141 просмотров • 3 дней назад

معروف چینی محقق وکٹر گاؤ کا شرمین نروانی کے ایران جنگ میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر تفصیلی جواب: میں پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ پاکستان کے عوام، حکومت اور فوج غیور مسلمان ہیں اور وہ عالمِ اسلام کے تمام ممالک کے جائز حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے کسی برادر اسلامی ملک کی بربادی نہیں چاہیں گے۔ ایران جنگ میں بھی یہی صورتحال رہے گی۔ پاکستان، سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی فوجی پہلے ہی بڑی تعداد میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات ہیں اور پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ لہٰذا اگر کوئی سعودی عرب کے خلاف کوئی بیوقوفانہ حرکت کرے گا تو یہ معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اس وقت تک اپنے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کرے گا جب تک کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کوئی سنجیدہ ترین خطرہ ہو۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اِس وقت اُس سطح پر ہیں۔ جہاں تک پاکستان اور چین کی بات ہے تو ہم حقیقی بہن، بھائی ہیں۔ اور ہم ایک دوسرے کو تمام تر طرح سے مدد اور حمایت فراہم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی قانونی طور دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ پر ہم بہت سے اہم ترین معاملات پر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آپس میں بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ لہٰذا اگر چین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات کو منفی انداز میں دیکھنے کی قطعاً کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دنیا میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی تعلقات ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کو پتہ ہے اسے کیا کرنا ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کے جائز مفادات کا ایک زبردست محافظ ہے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے۔

Naya Daur Videos

96,427 просмотров • 5 месяцев назад