Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

”آج میرا دل ٹوٹ گیا میرا دل ہِل گیا، کہ ہم نے اس کے لیے جو اڑھائی سال سے جیل میں بیٹھا کچھ نہیں کیا،ہم سب نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔غفور انجم کا نام یاد رکھیں عمران خان نے کہا تین مہینے سے اس کو آنکھ کے...

10,825 Aufrufe • vor 7 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

یہ جو خبریں نکال رہے ہیں کہ عمران خان کو بلڈپریشر کا مسئلہ ہے،عمران خان کو ایسا کچھ نہیں تھا انہوں نے اگر ایسا ویسا کچھ کیا تو ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے۔یہ جو کچھ عمران خان کے ساتھ کررہے یہ پاکستان کے ساتھ غداری کررہے ہیں۔ ہمارا پہلا مطالبہ عمران خان کا ہسپتال میں مکمل چیک اپ اور پراپر علاج ،عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ دوسرا مطالبہ عدالتی احکامات کے مطابق عمران خان سے جیل میں اٹھارہ لوگ ہر ہفتے ملاقات کر سکتے ہیں انہوں نے یہ ملاقاتیں بند کرکے عمران خان کو قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے، ملاقاتیں بحال کرکے دی تنہائی کا خاتمہ کیا جائے۔ تیسرا مطالبہ، عمران خان نے عدالت سے رہا ہونا ہے ، انہوں نے عمران خان کو جیل میں رکھنے کے لیے چُن چُن کر بے شرم جج بٹھائے ہیں ۔ سرفراز ڈوگر کو پندھرویں نمبر سے اٹھا کر اسلام آباد کا چیف جسٹس بنایا اس نے ڈیڑھ سال عمران خان کا کیس نہیں سنا ، ہم چاہتے عمران خان کے کیس لگیں اور انصاف ہو، انصاف تب ہوگا جب آپ سڑکوں پر نکلو گے ان عدالتوں سے ہمیں امید نہیں ہے۔ علیمہ خان Aleema Khanum #ناحق_قید_کے_3سال

PTI

50,504 Aufrufe • vor 2 Monaten

عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس کے قانونی حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ جب میاں نواز شریف صاحب جیل میں تھے اور پلیٹلیٹس کے حوالے سے ان کو مسئلہ ہوا، تو عمران خان نے ہمیں بلایا۔ میں وہاں موجود تھا، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، پرویز الہی اور کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ عمران خان نے ہم سب سے مشاورت کی اور ہم سب نے فیصلہ کیا کہ میاں صاحب کے جو کیسز ہیں، عدالتیں انہیں دیکھ رہی ہیں اور جو فیصلہ کرنا ہے، وہ عدالت کرے گی، لیکن ہم کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں جائیں گے۔پھر ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے بھی کہا کہ پلیٹلیٹس جتنے گر گئے ہیں، اس سے مسئلہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے بہت بڑا پن دکھایا کہ میاں صاحب کو علاج کی سہولت دی جائے، چاہے وہ پاکستان میں علاج کروائیں یا ملک سے باہر۔ اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ پہلے عمران خان کی رپورٹس کو چھپایا گیا، اور جب رپورٹس سامنے آئیں تو یہ جتنے بھی وزرا ہیں، عوام کے نمائندے، وہ اس طرح نہیں ہیں جس طرح کمشنر راولپنڈی نے انکشاف کیا تھا کہ جی ٹی روڈ کے اراکین کے حوالے سے یہ ناجائز تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہم کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔ جیسا کہ ان کی فیملی کہتی ہے، ان کے علاج کی سہولیات آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر بحال کی جائیں.

Asad Qaiser

15,139 Aufrufe • vor 7 Monaten