Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آج میں پوچھنا چاہتا ہوں عالمی قوتوں سے، امریکہ سے اور نیٹو افواج سے کہ تمہارا اس بیانئے کا کیا نتیجہ نکلا جو تم نے دہشت گردوں کے خلاف استعمال کیا تھا ؟ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب

14,680 views • 3 years ago •via X (Twitter)

10 Comments

Khadija's profile picture
Khadija3 years ago

@IhsanMarwat_786 جو نتیجہ چوروں اور لٹیروں سے اپکی دوستی کا نکلا

Syed Munawar Alam's profile picture
Syed Munawar Alam3 years ago

@IhsanMarwat_786 فضل الرحمن کا والد مفتی محمود، قاضی حسین احمد اور سمیع الحق نے روس کے خاتمہ کے لئے غریب کے بچوں کو مدرسہ میں داخل کیا اور دماغ میں جہاد کا بارود بھر کر افغانستان روانہ کردیا امریکہ پیسے دیتا رہا غریب کا بچہ جہاد لڑتا رہا اور یہ ہٹا کٹا بچہ گھر میں بیٹھا رہا یہی حقیقت ہے

Sana Ullah Khan's profile picture
Sana Ullah Khan3 years ago

@IhsanMarwat_786 تباہ برباد

Mubarak Ali's profile picture
Mubarak Ali3 years ago

@IhsanMarwat_786 پھر اس منحوس منافق کی لعنتی شکل سامنے آ گئی

Faisal Rasheed's profile picture
Faisal Rasheed3 years ago

@IhsanMarwat_786 Ya bharwa itni mehangai par khamosh q yay?

Salman Malik's profile picture
Salman Malik3 years ago

@IhsanMarwat_786 ہر چور کو کراے پر دستیاب سیاسی ٹاوٹ

Imran's profile picture
Imran3 years ago

@IhsanMarwat_786 😒 نکلو شاوا

Ziaur Rehman's profile picture
Ziaur Rehman3 years ago

@IhsanMarwat_786 اقتدار کے بھوکے اب کیا کس لیے بھونک رہے ہو

Ziaur Rehman's profile picture
Ziaur Rehman3 years ago

@IhsanMarwat_786 پاکستان کے عوام مہنگائی کی وجہ سے مر رہے ہیں اور یہ اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہا ہے

Sarim Inqilabi's profile picture
Sarim Inqilabi3 years ago

@IhsanMarwat_786 منافق

Related Videos

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ۔مولانا فضل الرحمان فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔ مولانا فضل الرحمان قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے ۔بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان کیا ان کو یاد نہیں کہ نازنیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ۔ مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہرے ہوئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔ مولانا فضل الرحمان اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ۔ مولانا فضل الرحمان کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ مولانا فضل الرحمان فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان تحرکیوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمان نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے ۔ مولانا فضل الرحمان برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ۔ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا ۔ مولانا فضل الرحمان اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ۔ مولانا فضل الرحمان کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

40,207 views • 2 years ago

جے یوآئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کی سوئیڈن میں قرآن کریم کی بیحرمتی کیخلاف احتجاج کی کال جے یوآئی میڈیا سیل سندھ نے مولانا فضل الرحمٰن کا خصوصی پیغام ریکارڈ کیا سوئیڈن میں مسلسل قرآن کی بےحرمتی کی جارہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اس عمل سے امت مسلمہ کے ہر فرد کے دل کو دکھ پہنچ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن یہ قرآن کریم سے امت مسلمہ کے تعلق کی فطری علامت ہے ۔ مولانا فضل الرحمان امت مسلمہ تورات انجیل سمیت تمام آسمانی کتابوں کا احترام کرتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن مغربی دنیا تنگ نظری کا مظاہرہ کیوں کررہی ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن عدم برداشت ، تنگ نظری اور تحمل کا جذبہ ختم ہونے کو مغرب اظہار رائے کی آزادی کا نام دے رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن ہم نے ایسی اظہار رائے کو مسترد کرکے قوم سے احتجاج کی اپیل کی ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن اتوار کے روز پورے ملک میں سوئیڈن کے روئیے کیخلاف احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن اتوار 23 جولائی کو کراچی میں سب بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمٰن سوئیڈن کیخلاف کراچی کے مظاہرے میں بذات خود شریک ہوں گا ۔ ان شاءاللہ ، مولانا فضل الرحمٰن پوری قوم سڑکوں پر آکر سوئیڈن کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرے ۔ مولانا فضل الرحمٰن تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوں۔ مولانا فضل الرحمٰن پوری قوم قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت اور عشق کا اظہار کرے۔ مولانا فضل الرحمٰن مغربی دنیا کو پیغام دینا ہے کہ مسلمان قرآن کی حرمت پر جان تو دے سکتا ہے اس کی توہین کی کسی کو اجازت ہرگز نہیں دے سکتا ۔ مولانا فضل الرحمٰن مغرب کے اس رویئے کیخلاف ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن میں نے وزیر اعظم سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کرکے مطالبہ کیا ہے کہ سوئیڈن سے پاکستانی سفیر کو فوری واپس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمٰن او آئی سی تنظیم سے کہا جائے کہ تمام اسلامی ممالک سوئیڈن سے اپنی سفرا واپس بلائیں ۔ مولانا فضل الرحمٰن تاکہ مغربی دنیا کے سامنے امت مسلمہ کا اجتماعی احتجاج ریکارڈ کیا جاسکے ۔ مولانا فضل الرحمٰن مغرب کو پیغام دینا ہے کہ امت مسلمہ اپنے قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر آنچ آنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

19,884 views • 3 years ago

پیپلز پارٹی، جو خود کو ایک بہت بڑی جمہوری پارٹی کہتی ہے، آج کس منہ سے جمہوریت کی بات کرے گی۔ 1973ء کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ایک عظیم تحفہ تھا، اور آج اس کے نواسے نے اسی آئین کا جنازہ نکال دیا۔ آج وہ کس منہ سے ملک میں ڈیموکریسی، قانون اور آئین کی بات کرے گا، کس منہ سے عوام کے حقوق کی بات کرے گا۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تو دو تہائی اکثریت تھی، اور صرف ایک چھوٹی سی اپوزیشن تھی۔ اس کے باوجود بھٹو نے تمام اپوزیشن کو ساتھ ملا کر کنسنسس پیدا کیا اور تمام مختلف سیاسی نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر قوم کو سب سے بڑا آئینی دستاویز تحفے میں دیا۔اب میں بلاول بھٹو صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں، آپ نے کیا کیا؟ آپ کی پارٹی نے تو 1973ء کے آئین کی روح کا قتل کیا ہے۔ آپ کی پارٹی نے اپنے نانا کی جو عظیم کنٹریبیوشن دی، آج اس کنٹریبیوشن کو خاک میں ملا دیا۔ آج اگر ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہوتے تو کیا کہتے۔

Asad Qaiser

35,450 views • 9 months ago