Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

آج نارووال میڈیکل کالج کے مستقل کیمپس کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا۔ یہ صرف ایک کیمپس کی تعمیر کا آغاز نہیں، بلکہ نارووال کو علم، تحقیق اور جدید طب کا مرکز بنانے کے میرے وژن کی عملی تعبیر ہے۔ اس کی شاندار تعمیر میں مسلم اسپین اور اندلس...

16,470 просмотров • 3 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے میڈیکل کالج کے ENT ڈیپارٹمنٹ نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے—50 بچوں کی سماعت کو کوکلیئر امپلانٹ کے ذریعے بحال کر دیا گیا ہے۔ دو سال پہلے، فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے فاؤنڈیشن یونیورسٹی میڈیکل کالج نے ایک سنگ میل عبور کیا جب ENT اسپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر نصرت رضا اور ان کی ٹیم نے پانچ سالہ انس کا کوکلیئر امپلانٹ کامیابی سے کیا، جس سے وہ سننے کے قابل ہو گیا۔ اب تک ڈاکٹر نصرت رضا اور ان کی ٹیم 50 بچوں کو دوبارہ سننے کی صلاحیت لوٹا چکی ہے۔ کوکلیئر امپلانٹ ایک جدید طریقۂ علاج ہے، جو پیدائشی یا کسی بیماری کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ آلہ اندرونی کان میں لگایا جاتا ہے تاکہ متاثرہ افراد دوبارہ سن سکیں، معمول کی زندگی گزار سکیں اور آوازوں کو پہچان سکیں۔ 3 مارچ، جو کہ عالمی یومِ سماعت ہے، اس موقع پر فاؤنڈیشن یونیورسٹی نے اپنے 50 ویں مریض کی سماعت کی بحالی کا جشن منایا۔ یہ کامیابی نہ صرف فاؤنڈیشن یونیورسٹی بلکہ پاکستان کے طبی شعبے کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی اعلیٰ معیاری تعلیم، جدید طبی تحقیق، اور عالمی معیار کی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ تدریسی اسپتال میں جدید ترین طبی آلات اور ماہرین کی موجودگی مریضوں کو مؤثر اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی کا وژن تحقیق، معیاری تدریسی طریقوں، اور جدید طبی سہولیات کے ذریعے صحت اور تعلیم کے شعبے میں مثبت تبدیلی لانا ہے، اور کوکلیئر امپلانٹ پروگرام اس مشن کا عملی ثبوت ہے۔ تقریب میں ریکٹر، فاؤنڈیشن یونیورسٹی میڈیکل کالج اور فوجی فاؤنڈیشن اسپتال کی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مریضوں کو اس علاج سے مستفید کیا جائے گا۔ #WorldHearingDay #HearingCare #Health #Pakistan #WHO #FUI

Hina Sarwar

57,118 просмотров • 1 год назад

الحمدللہ، یہ میرے لیے بے حد باعثِ مسرت اور قلبی اطمینان کی بات ہے کہ نارووال میں یونیورسٹیوں کے قیام سے سب سے زیادہ فائدہ ہماری بیٹیاں اٹھا رہی ہیں۔ آج یہی بیٹیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر نہ صرف اپنی زندگی بدل رہی ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کے مستقبل کو بھی روشن کر رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک قابل، باہمت اور محنتی بیٹی سامیہ عباس ہیں، جنہوں نے یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی اور آج نارووال گرلز کالج میں بطور ٹیچر اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ آج نارووال میں ٹیچر ٹریننگ کے فائنل سیشن میں شرکت کے دوران جب سامیہ عباس نے یونیورسٹی آف نارووال کے قیام پر خصوصی شکریہ ادا کیا تو مجھے دلی خوشی ہوئی۔ وہ لمحہ میرے لیے اس احساس سے بھرپور تھا کہ قوم کی بیٹیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولنا دراصل ایک روشن، باوقار اور خودمختار مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہی میری محنت کا اصل صلہ ہے۔ میں اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو پنجاب کے کالجز میں اصلاحات، معیارِ تعلیم میں بہتری، اور طلبہ و طالبات کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے قابلِ قدر کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں تعلیمی شعبے میں جو مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں، وہ یقیناً ہماری نئی نسل کے بہتر مستقبل کی ضمانت بنیں گی۔ میرا پختہ یقین ہے کہ تعلیم وہ طاقت ہے جو کمزور کو مضبوط، محروم کو بااختیار، اور خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ جب ایک بیٹی پڑھتی ہے تو صرف ایک فرد نہیں، پوری نسل سنورتی ہے۔ نارووال کی بیٹیوں کی کامیابی میرے لیے امید، فخر اور پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے

Ahsan Iqbal

31,645 просмотров • 5 месяцев назад

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 просмотров • 2 месяцев назад

جب میرے والد صاحب ہم کا انتقال ہوا تو میں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اپنے گھر میں سب سے بڑا تھا۔ ہمارا تعلق کسی جاگیردارانہ یا صنعتی پس منظر سے نہیں بلکہ ایک عام درمیانے طبقے سے تھا۔ محنت اور یکسوئی کے ساتھ میں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس لوٹ آیا۔ میں نے عوامی خدمت کے میدان میں آنے کے لیے دس سال کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور محنت سے میں نے وہ منزل سات سال میں ہی حاصل کر لی۔ آج اگر میں کابینہ کے اس اہم مقام پر پہنچ کر ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہوں تو یہ صرف اور صرف محنت، لگن اور اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی صرف اپنے اہداف اور منزل پر نظر رکھنی ہے اور محنت کرنی ہے۔ جب میں ایک عام درمیانے طبقے سے نکل کر اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں، تو ہمارے ملک کا کوئی بھی باصلاحیت نوجوان اپنی منزل حاصل کر سکتا ہے! #YouthPower #HardWork #Inspiration #SelfBelief #UraanPakistan #PakistanZindabad

Ahsan Iqbal

64,460 просмотров • 1 месяц назад

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,760 просмотров • 1 месяц назад

" جہاں تک مجھے پتہ ہے عمران خان کی جس آنکھ کی بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے (پمز میں) وہاں ڈاکٹر ہی موجود نہیں جہاں ان کا لایا گیا تھا " عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا معاملہ کھول دیا " اس کی وضاحت یا تصدیق نہیں ہو سکی کہ (عمران خان کی) بیماری کی نوعیت کیا تھی ہماری تشویش ہے کہ یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے اور یہ اس کے لئے ایکسپرٹ میڈیکل کیئر required ہے ہر آنکھوں کا ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا بلکہ خاص آنکھوں کے ڈاکٹر جنہوں نے اسپیشل ٹریننگ یا اس قسم کی بیماری تجربہ لیا ہوا ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے جہاں تک ہمیں پتہ ہے اسلام آباد کے جس ہسپتال میں خان صاحب لے جایا گیا اس میں اس طرح کے ڈاکٹرز نہیں ہیں اس بیماری کے پیچھے کوئی اور بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی بیماریوں کے بھی خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "

Saqib Bashir

156,031 просмотров • 8 месяцев назад

سندھ کے ہسپتال پاکستان کے لیے باعث فخر ہیں امریکی خاتون کا سندھ میں جگر کی پیوندکاری کا کامیاب آپریشن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بہتر اور معیاری علاج کے لئیے سندھ حکومت کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ جولی نیمن نے گمبٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں علاج کی سہولیات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہسپتال میں اعلٰی درجے کے انتظامات ہیں اور یہ دنیا بھر کے ان تمام ہسپتالوں سے بہتر ہے جہاں وہ جاچکی تھیں ۔ امریکی خاتون کا کہنا ہے کہ گمبٹ میں علاج معالجہ اور ٹیسٹ بہت سستے ہیں اور یہ بہترین ہیلتھ کیئر سسٹم ہے۔اگر وہ یہ علاج امریکہ میں کراتیں تو مہینوں لگ جاتے، جبکہ یہاں انہیں ہسپتال میں علاج کی بہترین اور سستی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ضلع میرپور میرس کے چھوٹے سے شہر گمبٹ میں 2016 میں سندھ کا جگر کی پیوندکاری کا پہلا مرکز قائم کیا گیا تھا۔ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اس ہسپتال میں اب تک سینکڑوں افراد کا مفت علاج کیا جاچکا ہے۔‘ صحت کے شعبے میں سندھ حکومت کی خدمات سے ثابت ہوتا ہے سندھ صحت میں سب سےآگے۔

Naz Baloch

21,970 просмотров • 3 лет назад

اختر سعید میڈیکل کالج (بحریہ ٹاؤن لاہور) میں طالبات کی حرمت، طلبہ کی تذلیل اور انتظامیہ کے رویّے پر سوالیہ نشان- کالج کے گرلز ہوسٹل میں خفیہ ویڈیو گرافی کر کے طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہ صرف انتہائی سنگین جرم ہے اور کالج کے اندر نظم و ضبط کے شدید فقدان کی نشاندھی کرتا ہے نہی بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یونیورسٹی کے سربراہ کا مبینہ رویّہ ہے- اطلاعات کے مطابق جب طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ سامنے آیا تو سربراہ نے مبینہ طور پر چیخ چیخ کر اسے معمولی بات قرار دیا اور کہا کہ ایسا ہو ہی جاتا ہے- شاید ان کے خاندان میں یہ عام سی بات ہو- اس کے بعد طلبہ کو دھمکایا گیا کہ انتظامیہ صرف ہاسٹل میں رہنے والی طالبات سے بات کرے گی- طلبہ کے احتجاج کے بعد ڈے اسکالرز کو بھی بلا لیا گیا- لیکن سوالات اٹھنے پر مبینہ طور پر طلبہ کی تصاویر بنانا شروع کر دی گئیں اور انہیں ایک ایک کرکے دیکھ لینے اور یونیورسٹی سے نکال دینے کی دھمکیاں دی گئیں- سوال یہ ہے کہ آخر ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کا اپنے ہی طلبہ کے ساتھ یہ کیسا رویّہ ہے؟ اگر طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانا کوئی بڑی بات نہیں, جیسا کہ مبینہ طور پر کہا گیا, تو پھر طالبات کی عزت، تحفظ اور نجی زندگی کی اہمیت کہاں گئی؟ یونیورسٹی کے سربراہ طلبہ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے الٹا انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں- کیا اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں طلبہ کو تحفظ، اعتماد اور عزت ملنے کے بجائے خوف کے ماحول میں رہنا چاہیئے؟ یہ صرف ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ اس ذہنیت اور انتظامی رویّئے پر بھی سوال ہے- کیا ہماری بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ احتجاج میں طالبات کے حق میں لڑکے بھی شامل ہیں- واقعے کا فوری نوٹس لیکر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گزارش کرتا ہوں-

Amir H. Qureshi

72,480 просмотров • 2 дней назад

میرے والد جاگیر دار تھے نہ سرمایہ دار ۔ میرا سرمایہ تعلیم تھی جس نے مجھے اس منزل تک پہنچایا۔ میرا خواب تھا کہ جس دھرتی نے مجھے کامیاب کیا میں اسے تعلیم کی بستی بناؤں تاکہ غریبوں کے بچے اور بچیاں بھی میری طرح تعلیم کی طاقت سے زندگی میں ترقی کریں۔ سب سے پہلے نارووال میں سکولوں کا جال پھیلایا جس میں 70% سے زائد لڑکیوں کے سکول کھلے، پھر ڈگر کالجز قائم کئے اور آخر میں تین یونیورسٹیاں۔ یونیورسٹی آف نارووال میں 5,000 سٹوڈنٹس میں 4,000 طالبات زیر تعلیم ہیں۔ یہ وہ ہزاروں پچیاں ہیں جو اعلی نمبر حاصل کر کے گھر بیٹھنے پہ مجبور ہو جاتی تھیں آج وہ یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کر کے سافٹ انقلاب کی داعی بن رہی ہیں۔ اسی سوچ اور وژن 2025 کے تحت ملک کے پسماندہ اضلاع میں درجنوں نئے کیمپسز کی فنڈنگ کی۔ میرا یقین ہے کہ تعلیم کی طاقت ہی اصل قوت ہے۔ نارووال میں YPDC کے تحت خواتین کی ترقی اور تحفظ سیمینار سے خطاب۔ Young Peace and Development Corps M/o Planning, Development and Special Initiatives

Ahsan Iqbal

39,404 просмотров • 2 лет назад

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,641 просмотров • 3 лет назад

" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 14 اگست کے روز منعقدہ تقریب سے خطاب "اب اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس ملک کو فتنے سے ، فساد سے ، انتشار سے اور نفرت کی سیاست سے ہم لوگوں نے اس کو دور رکھنا ہے اس کو محبت سے سینچنا ہے اپنے تمام جذبات کو اور اس کی تمام جو یکجہتی ہے اکائیاں ہیں ان اکائیوں کو یکجا کر کے رکھنا ہے ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاص محبت اور ادب کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام عالم میں ان پچھلے دو سالوں میں پاکستان نے جو چیزیں حاصل کیں ہیں اور دفاعی لحاظ سے بھی اور سفارتی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر خاص کرم کیا اور ہمیں امن کا نمائندہ بنا کر دنیا میں اجاگر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی کرم نوازی ہے اس کی بڑی رحم دلی ہے otherwise کسی زمانے میں پاکستان کا اس طرح کا کوئی نام نہیں تھا ممتاز حیثیت نہیں تھی یہ ممتاز حیثیت ہمیں پچھلے دنوں ہمارے ڈپلومیٹک رویے اور کاوشیں جو ہمارے ان لوگوں سفارت کاروں نے کیں ان کے وجہ سے پاکستان اس وقت ممتاز حیثیت رکھتا ہے دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا اور یہ سوچا تھا کہ اقوام عالم میں صرف مسلم مملک اکٹھے ہو کر چلیں "

Saqib Bashir

136,246 просмотров • 1 месяц назад