Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آج کل خیبر پختونخوا اور پختون بیلٹ میں رائج ایک گھناؤنی روایت لونڈے بازی یا بچہ بازی کا مسئلہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ مختلف حلقوں میں اس موضوع پر شدید بحث و مباحثہ جاری ہے اور لوگ کھل کر اس پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ الزام...

40,512 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 Aufrufe • vor 6 Monaten

سُپر اسٹور کے سیلز مین اور بلی کی روزانہ کی ملاقات نے سب کو حیران کر دیا ترکی میں پیش آنے والا ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ کہانی ایک دکان کے مالک فرحات حیات اور ایک آوارہ بلی کے درمیان غیر معمولی تعلق کی ہے، جو وقت کے ساتھ محبت، مانوسیت اور وفاداری کی ایک مثال بن گیا۔ ہر صبح ایک بلی مستقل طور پر اسی دکان پر آتی ہے۔ وہ کسی خوف یا جھجھک کے بغیر سیدھا کاؤنٹر کے قریب پہنچتی ہے، جیسے وہ اس جگہ کو اپنا گھر سمجھتی ہو۔ دکان کے مالک فرحات حیات بھی اسے پہچانتے ہیں اور اس کے ساتھ اسی اپنائیت سے پیش آتے ہیں جیسے کوئی پرانا شناسا ہو۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بلی کاؤنٹر کے قریب آ کر ان سے لپٹتی ہے، گلے لگ جاتی ہے، ان کے گرد گھومتی ہے اور بعض اوقات ان کی گود یا قریب بیٹھ کر سکون محسوس کرتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بلی عرصہ دراز سے اسی علاقے میں رہ رہی ہے اور وقت کے ساتھ دکان کے مالک نے نہ صرف اسے کھانا دینا شروع کیا بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی مستقل شفقت اور دیکھ بھال کا ماحول بھی پیدا کیا۔ یہی تعلق رفتہ رفتہ ایک عادت نہیں بلکہ ایک جذباتی رشتے میں بدل گیا، جہاں بلی روزانہ کی بنیاد پر اپنی موجودگی درج کراتی ہے۔ یہ منظر جب سوشل میڈیا پر آیا تو دیکھنے والوں نے اسے بے حد پسند کیا۔ لوگوں نے اس میں جانوروں کی فطری وفاداری، احساس اور محبت کو سراہا۔ بہت سے صارفین نے کہا کہ جانور انسانوں کی طرح حساب کتاب نہیں کرتے، وہ صرف احسان کو محسوس کرتے ہیں اور اس کا جواب اپنی معصومیت سے دیتے ہیں۔ یہ ایک طرف انسان اور جانور کے درمیان فطری تعلق کی خوبصورت جھلک ہے تو دوسری طرف ایک تلخ سماجی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ بعض اوقات انسان ہی وہ مخلوق ہے جو احسان کو بھلا دیتا ہے، جبکہ بے زبان جانور بھی اپنی حد تک وفاداری اور وابستگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ شاید احساس اور وفاداری صرف زبان کی محتاج نہیں، بلکہ یہ دل کی وہ زبان ہے جو کبھی کبھی انسانوں سے زیادہ جانور بہتر انداز میں بول لیتے ہیں۔ #AajNews #Turkey #Viral #Heartwarming #HumanInterest #SocialMedia #Trending #WorldNews #Inspiration

Aaj TV Urdu

25,227 Aufrufe • vor 3 Monaten

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 Aufrufe • vor 3 Monaten

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,367 Aufrufe • vor 4 Monaten

میرے دوست اور کولیگ نعمان مسعود کی زبانی!!! ——————————————— یہ واقعہ کل پیش آیا میں “نعمان مسعود کا کھابہ” کے نام سے ایک ریسٹورنٹ کا مالک ہوں۔ اور میری بحریہ ٹاؤن برانچ کو ایک ہولناک واقعہ کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم نے وہیل چیئر والے معذور افراد کے لیے جگہ مختص کر رکھی ہے اور آج ایک گاڑی جس پر ڈرائیور کے ساتھ گارڈز بھی تھے، اپنی گاڑی یہاں کھڑی کرنا چاہتے تھے اور میرے لڑکے نے اسے بتایا کہ معذرت جناب یہ معذور افراد کے لیے ہے لیکن وہ بدمعاشی اور لڑائی پر اتر آئے اور میرے ریسٹورینٹ کے لڑکوں پر حملہ آور ہو گئے جس میں میرے CFO بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسے اس بری طرح سے مارا کہ ہم سب ابھی تک صدمے میں ہیں کہ ہم سب پتھر کے زمانے کی طرف واپس کہاں جارہے ہیں۔ براہ کرم میں کچھ ایکشن لینے کی درخواست کروں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ وہ لوگ دوسروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کریں جیسے میرے CFO کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے سر کے 3 انچ حصے کے ٹانکے لگے ہیں اور اس کی حالت خراب ہے، اور اس سے اس کی جان بھی جا سکتی تھی۔ باقی آپ لوگ میری فراہم کردہ فوٹیج سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔

Asad Malik

898,703 Aufrufe • vor 2 Jahren

یہ تحریر اور ویڈیو بھی وائرل ہے،کسی کو اصل حقائق معلوم ہیں تو کمنٹ کریں ، FIR بھی کہیں نظر نہیں آئی👇 مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ گرفتار ہوئے، تھانے لائے گئے اور پھر ایک مقامی تھانے پولیس انچارج انہیں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر پولیس کے پہرے میں بلا دلیل ذلیل کر رہا ہے اور انہین ڈر دھمکا کر خوفزدہ کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ان پر جو الزام اس نے لگایا، اس پر کہاں تفتیش ہوئی؟ اور اسے کس نے عدالت لگا کر فیصلہ سنانے اور پھر ویڈیو بنا کر اسے پھیلانے کی اجازت دی ؟ یہ کون سا قانون ہے ؟کون سی دفعہ کے تحت یہ سب درست ہے کہ ایک عام شہری تو کجا اتنے بڑے عالم دین کی ایک عام سا سپاہی یوں بے عزتی کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ واقعہ کیا ہے؟ ، سن لیں گرفتاری اور تھانے میں لائے جانے سے پہلے مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی جس میں وہ بتا رہے تھے کہ ہم یہاں اس علاقے میں ڈاکوؤں کے نرغے میں ہیں اور پولیس ہماری مدد کے لیے نہیں آ رہی۔ جس جگہ سے ابوبکر معاویہ صاحب نے ویڈیو بنائی اس جگہ کا نام بھی وہ بتا رہے تھے حضرت مولانا ابوبکر معاویہ صاحب پولیس کو کال کرتے ہیں تو پولیس والے حسب عادت و روایت وہی پہلا جواب دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا علاقہ نہیں ہے ،دوسروں کو کال کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم آ رہے ہیں اور وہ نہین آتے، اسی دوران میں مولانا ابوبکر معاویہ صاحب ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے اپلوڈ کرتے ہیں کہ ہم پولیس کو کہہ رہے ہیں اور یہ پہنچ نہیں رہے اور یہاں پر ڈاکوؤں نے سڑکوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ ایک گاڑی میں بچے بھی ہیں۔ تھوڑی دیر میں مولانا ابوبکر معاویہ اپنی لائسنس یافتہ کارتوسی گن سے دو فائر کرتے ہیں جس سے ڈاکو راستہ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ٹریفک کھل جاتی ہے اور وہ بھی گھر پہنچ جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی اس جرم میں ان کو اسی لباس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر ان کی تھانے کے اندر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جاتی ہے کہ انہوں نے بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کی ہے یا اس سے دبوا رہے تھے اور پھر پولیس والا ان سے انتہائی بدتمیزی کر رہا اور بدترین الزامات لگا رہا ہے ۔ اس عرصے میں نہ تو کسی بچے کو سامنے لایا گیا اور نہ جنہوں نے ایف ائی ار کروائی ہے وہ سامنے آئے، نہ ہی بچے کے ورثا تک سامنے آئے ہیں ۔صاف سیدھا نظر آ رہا کہ یہ سب صرف اور صرف پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذمہ داری کی ناکامی چھپانے اور اس کے جواب میں علما کو ٹارگٹ کرنے کی کی کوشش ہے اور پولیس والا پہلی ویڈیو کی وجہ سے انتقام لے رہا ہے ۔ہماری سب اہل ایمان سے یہ گزارش ہے کہ وہ ایک جید و متحرک عالم دین کے لیے آواز اٹھائیں۔مولانا ابوبکر معاویہ کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے پولیس کے نہ آنے پر راستہ واگزار کیا اور ویڈیو اپلوڈ کی جسےعلاقے کی پولیس نے اپنی بدنامی تصور کرکے ان کے خلاف مذموم کارروائی کی اور پھر ان پر انتہائی گھٹیا اور قبیح ترین الزام عائد کر کے تھانے میں خود ہی عدالت لگا کر انہیں نشانہ بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کالج یونیورسٹی کا معاملہ ہو تو سارے لبرل سیکولر فوری اس کے دفاع میں آجاتے اور معاملہ دبا دیتے ہیں ، بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کا واقعہ ایک مثال ہے تو پھر دینی طبقات جماعتیں علما اور شخصیات کہاں ہیں؟ وہ اس پر مکمل چپ سادھے بیٹھے ہیں ، آخر کیوں ؟ ( علی عمران شاہین)

Ammar Khan Yasir

83,355 Aufrufe • vor 2 Jahren

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,371 Aufrufe • vor 5 Tagen

امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والا شخص پولیس نے گرفتار کر لیا مسلمانوں میں امام مہدی کی آمد کا ایک معروف نظریہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح تقریباً ہر مذہب میں کسی نہ کسی نجات دہندہ، مسیح یا اوتار کے ظہور کا تصور موجود ہے۔ میں نے بہت عرصہ پہلے کہیں لکھا تھا کہ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب اور مسالک نے اپنے اپنے ویٹنگ روم بنا رکھے ہیں، جہاں وہ کسی عظیم ہستی کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ آئے گا، ظالموں کو نیست و نابود کرے گا، مظلوموں کو سربلندی عطا ہوگی، اور انتظار کرنے والے اس کے لشکر کا حصہ بن جائیں گے۔ اس تصور کے تحت سب اس کی آمد کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کسی امام مہدی یا اوتار کے منتظر ہیں۔ یہ ان کا فکری اور اعتقادی زاویہ ہے۔ لیکن دلچسپ اور المیہ پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص واقعی امام مہدی یا اوتار ہونے کا دعویٰ کر دے تو اسے فوراً رد کر دیا جاتا ہے۔ کبھی اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے، کبھی اسے قتل کر دیا جاتا ہے، اور کبھی اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر گروہ اسے “جعلی” امام سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود، اس نام نہاد “جعلی” امام کو بھی کچھ لوگ مل ہی جاتے ہیں جو اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میٹرک کے زمانے میں میں نے ایک کتاب پڑھی تھی: “انتظارِ مہدی و مسیح”۔ یہ علامہ محمد اقبال اور علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی کے درمیان خطوط کا مجموعہ تھا۔ اس کتاب میں علامہ تمنا عمادی کا موقف یہ تھا کہ مہدی اور مسیح کی دنیا میں آمد کے انتظار کا تصور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟کمنٹ باکس میں اپنی رائے ضرور لکھیں۔ شکریہ سبوخ سید

Sabookh Syed | Journalist

56,911 Aufrufe • vor 6 Monaten

فیس بک وال سے ، آج میرے نہایت واجب الاحترام اور زیرک دوست، خادم علی خان یوسفزئی کو دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور صدمہ بھی۔ وہ شخصیت جو ہمیشہ حلم، بردباری اور منطق کا استعارہ رہی ہے، آج کج بحث اور بدتہذیب عناصر کی فتنہ سامانیوں سے تنگ آکر اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کو خیرباد کہہ بیٹھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب جہالت حد سے بڑھ جائے تو صابر انسان کا پیمانہ بھی لبریز ہو جاتا ہے۔ کابل اور پختونخوا , دو الگ تاریخیں تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے جب ہم حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ موجودہ پختونخوا کی تاریخ اور کابل کے سیاسی نشیب و فراز دو الگ راستے ہیں۔ سلطنتِ پختونخوا کی بنیاد 1520ء میں اس وقت پڑی جب یوسفزئیوں نے سوات، چارسدہ، مردان اور صوابی کے میدانی علاقوں کو فتح کر کے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ دور تھا جب کابل مغلوں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور تیمور سے لے کر اورنگزیب تک کابل ہمیشہ مغلوں کے تابع رہا، جبکہ پختون اپنی آزاد اور خود مختار ریاست پختونخوا میں عزت اور وقار سے زندگی گزار رہے تھے۔ پختونخوا کے پختونوں کی حریت پسندی کا اندازہ اس تاریخی حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہنشاہ اکبر کے دور میں جب مغلوں نے اس سرزمین پر قبضے کی کوشش کی تو انہیں ملندری کے مقام پر وہ عبرتناک شکست ہوئی جو تاریخ کا حصہ ہے۔ اس جنگ میں اکبر کے چالیس سے پچاس ہزار سپاہی، چودہ کمانڈر اور اکبر کا دستِ راست بیربل مارا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طویل جنگ میں کابل کا مشہور فوجی دستہ "التمش" مغلوں کے ہراول دستے کے طور پر اپنے ہی بھائیوں (پختونخوا) کے خلاف برسرِ پیکار رہا۔ 1739ء تک کابل مغلوں کی غلامی میں زندگی گزارتا رہا، پھر نادر شاہ ایرانی کے زیرِ اقتدار رہا۔ 1747ء میں جب احمد شاہ ابدالی نے افغانستان کی بنیاد رکھی، اس وقت بھی پختونخوا کے یوسفزئی مکمل آزاد تھے اور انہوں نے کبھی افغانستان کو باج (ٹیکس) ادا نہیں کیا۔ البتہ اسلامی اخوت کے ناطے وہ ابدالی کے دست و بازو بنے۔ پانی پت کی تیسری جنگ میں احمد شاہ ابدالی کی فتح دراصل یوسفزئیوں کی شجاعت اور بے مثال قربانیوں کی مرہونِ منت تھی۔ آج کچھ عناصر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ پختون اپنے وطن پاکستان میں فخر اور وقار کے ساتھ باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ صرف پنجاب میں تین ہزار پی ایچ ڈی سکالر پشتون ہیں جو پنجاب کی یونیورسٹیوں میں پنجاب کے لوگوں کو علم کے نور سے منور کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے سب سے اعلیٰ اور قابل ترین ڈاکٹر پشتون ہیں جو پاکستان کے بہترین ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستانی پشتون ہر میدان میں صفِ اول میں ہیں۔ اس وقت صرف کراچی میں آباد پختونوں کی تعداد افغانستان میں آباد پشتونوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کشمیر میں کروڑوں پختون عزت اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ پاکستان ان غیور پختونوں کی جنت ہے جنہوں نے اسے اپنے لہو سے سینچا ہے۔ ہمیں اپنی اس شناخت اور اپنے وطن پاکستان پر فخر ہے۔ کابلی تہذیب اور پختونخوا کی روایات میں وہی فرق ہے جو ایک مفتوحہ اور ایک فاتح قوم میں ہوتا ہے۔ پختونخوا کی پانچ سو سالہ تاریخ جرات، آزادی اور اپنے فیصلے خود کرنے کی تاریخ ہے جبکہ افغانستان کی دو سو سالہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ پختونوں نے اپنی سرزمین پختونخوا کے لیے طاقتور ترین قوتوں سے ٹکر لی لیکن کبھی اپنا گھر بار چھوڑ کر فرار کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ ریسرچر ہسٹورین: فرہاد علی خاور یہ تحریر افغانستان کے ایک سابق جرنیل کے ساتھ ہونے والے ٹی وی مباحثے کے تناظر میں معروف تاریخ دان اور محقق فرہاد علی خاور نے لکھی ہے۔ ویڈیو بھی ملاحظہ فرمائیں۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

26,679 Aufrufe • vor 5 Monaten

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

24,884 Aufrufe • vor 20 Tagen

ابھی راشد یوسف صاحب کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی چاروں بیٹیاں اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں انہوں نے بتایا کہ اس وقت پولیس اہلکار اور ایف سی کے جوان ان کی گلی کے اطراف موجود ہیں اور آنے جانے والے تمام مہمانوں کی سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیفیت ان کے لیے ناقابل برداشت اذیت بن چکی ہے اور پولیس ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک چھڑک رہی ہے اہل خانہ کے مطابق جب پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان کے والد کو گھسیٹ کر حراست میں لیا حالانکہ ان کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود ان کے والد کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا وہ پورے ہوش و حواس میں تھے اور اہلکاروں کے ساتھ گئے مگر تھانے میں ان پر بدترین تشدد کیا گیا جس کی تاب نہ لا کر وہ جانبر نہ ہو سکے اور جان کی بازی ہار گئے بچیوں نے بتایا کہ پولیس مسلسل ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ بیان دیں جبکہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے کی ذہنی حالت میں نہیں ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رہنما ان کے پاس آیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ چند کارکن ضرور آئے ہیں مگر ابھی تک پارٹی کا کوئی ذمہ دار رہنما نہیں پہنچا یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ معصوم بچیاں یتیم ہو چکی ہیں اور اسی حالت میں ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اہل خانہ نے بتایا کہ والد کی تدفین کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ہے مگر پولیس نے اس خبر کو بھی دبانے کی کوشش کی ہے اس وقت بچیاں شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہیں تحریک تحفظ آئین اس وقت لاہور میں موجود ہے اور اخلاقی طور پر سب سے پہلے ان یتیم بچیوں کے پاس جانا اور ان کے غم میں شریک ہونا لازم ہے جو اس وقت ایک ظالم ریاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان بچیوں کو صبر عطا فرمائے اور ہم سب پر فرض ہے کہ اس کڑے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں

Agha Sheikh Sarwar

32,070 Aufrufe • vor 7 Monaten

یہ لاہورئیے تو آزادی کے نام پر پاگل ہی ہو گئے ہیں اور گھر میں قید ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ گلی محلے تو ایک طرف رہے پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈیفنس سے گلبرگ مین بلیوارڈ پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں اور صرف لونڈے لپاڈے نہیں ہیں بلکہ فیملیز ہیں۔ خواتین اور بچوں کی سبز اور سفید کمبی نیشن میں ڈریسنگ دیکھنے والی ہے۔ اس بار آزادی کے جشن کا جوش زیادہ لگتا ہے۔ باقاعدہ میلے کا سماں ہے اور اس کی وجہ معرکہ حق کے میں بھارت کی شکست کے بعد مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان پر مان بڑھا ہے، پاکستانیوں کی امید بڑھی ہے۔ بے شک یہ جشن اور یہ وارفتگی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے مگر ان کی موت ضرور ہے جو مایوسی، ناکامی، نفرت اور فساد کے بیوپاری ہیں۔ میں جن لوگوں کو دیکھ رہا ہوں وہ مایوس اور نامراد نہیں ہیں۔ جوش اور امنگ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے انداز میں کوئی معذرت خواہی نہیں ہے۔ آپ اسے ہلڑ بازی بھی کہہ سکتے ہیں اور جوش و خروش بھی۔ میرے ارد گرد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا سیلاب ہے۔ خصوصی ملبوسات ہیں، بڑے بڑے پرچم ہیں اور باجے بھی ہیں۔ یہ ایک زندہ قوم ہے۔

Najam Wali Khan

12,364 Aufrufe • vor 4 Tagen