Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

بھارت راجھستان میں دودھ پلائی کی رسم👇🤮 کیا یہ عورت کی تذلیل نہیں؟ دودھ پلائی راجستھان بھارت کی شادیوں کی ایک رسم ہے اس میں دولہے کی والدہ اسے بارات کے وقت آخری بار سب کے سامنے دودھ پلاتی ہے جو اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ انکا...

50,899 views • 9 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

دودھ جلیبی! ہر وہ بندہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میری غذا بہت عمدہ ہے اور میں اپنی غذا کے معاملے میں کوئی سستی نہیں کرتا۔ اگر اس کی غذا میں دودھ جلیبی شامل نہیں ہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔ دودھ جلیبی عمدہ غذائیت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی شاموں کو بھی قوس و قزح بنا دیتی ہے۔ دودھ جلیبی کے اگرچہ متعدد فوائد ہیں لیکن چند افادہ عام کے لیے چند ایک لکھ دیتا ہوں۔ دودھ جلیبی جسم کو توانائی دینے کے ساتھ ساتھ سردی کا احساس بھی کم کرتا ہے۔ ماہرین طب کا ماننا ہے کہ ہفتے میں ایک بار دودھ جلیبی کا استعمال صحت کو رونق بخش دیتا ہے ۔ سردی کے موسم میں ہڈیوں کا درد عام سی بات ہے، جوڑوں کے درد کے مریضوں کے لیے سردی کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں، مگر دودھ جلیبی کے استعمال سے نا صرف ہڈیوں کے درد میں کمی واقع ہوگی بلکہ جوڑوں کے درد میں بھی آرام ملے گا۔ سردی کے موسم میں پٹھوں کی سوزش اور سختی کے باعث شدید درد محسوس ہوتا ہے۔ لیکن دودھ جلیبی کا ایک پیالہ نا صرف پٹھوں کی سوزش کے خاتمے میں بلکہ گرمی فراہم کر کے نقل و حرکت میں بھی مدد دے گا۔ شادی شدہ حضرات بھی خوش ہو لیں کیونکہ یہ جنسی صحت میں اضافے کے ساتھ اعلیٰ ذرخیزی میں بھی مدد دیتا ہے۔ سردی کی شاموں میں گرما گرم دودھ جلیبی کی سوغات کے بے شمار فوائد سردی کے موسم میں گرما گرم دودھ اور جلیبی مل جائے تو کیا ہی کہنے، دودھ جلیبی جسم و جاں کو توانائی بخشتی ہے اور چہرے کی رنگت نکھارنے کے لئے بھی آزمودہ ہے۔ سردیاں شروع ہوتے ہی گرم گرم دودھ کا استعمال بڑھ جاتا ہے، گرم دودھ میں اگر جلیبی ڈالی لی جائے تو وہ مرغوب غذا بن جاتی ہے۔ لوگ صرف ذائقے کے لئے ہی نہیں بلکہ توانائی بحال کرنے اور جسم کو گرم رکھنے کے لئے جلیبی ملا دودھ پیتے ہیں. آئیے اور سرد راتوں میں توانائی بہال کرنے کے لئے گرما گرم دودھ میں جلیبی ملا کر پیئں اور خود کو تندرست و توانا رکھیں.

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

19,687 views • 2 years ago

” ذاکر جان، کہاں ہو تم؟ میں آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں “ ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سولہ برس ایک ماں کی آہوں، سسکیوں اور لرزتے ہونٹوں کا کربناک سفر۔ ذاکر کی والدہ، جو ہر دن اپنے بیٹے کے نام کی صداؤں میں گزارتی ہے، آج بھی “ذاکر جان، ذاکر جان” پکار رہی ہے۔ شاید الفاظ اس کے درد کا مکمل احاطہ نہ کر سکیں، مگر اس کی فریاد، اس کی خامشی، اس کی چیخیں، سب کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کی سب سے دل چیر دینے والی بات یہی ہے: “ذاکر جان، میں آپ کے گھر، آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں، کیونکہ وہاں مجھے انصاف نہیں ملا۔ریاستِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دیا” یہ جملہ صرف ایک ماں کی شکستگی نہیں، یہ ریاستی نظام پر ایک دھچکہ ہے۔ یہ اس ملک کے قانونی، آئینی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں “پروپیگنڈا” ہیں، وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیں۔ ان کی بے بسی شاید اُن کے سوئے ضمیر کو جگا سکے۔ یہاں جو لوگ کشمیر اور فلسطین کی ماؤں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ہم سب کو کرنا بھی چاہیے۔ مگر جب بات بلوچستان کی ماؤں پر آتی ہے، تو کیوں ہمارے لب سل جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہاں جبر ریاست پاکستان کے ہاتھوں ہو رہا ہے؟ کیا درد صرف سرحد پار کے مظلوموں کا ہی معتبر ہے؟ یہ ایک ماں کی فریاد ہے جو نہ صرف ذاکر مجید بلوچ کے لیے ہے، بلکہ اُن تمام جبری گمشدہ افراد کی درد کی عکاسی اور اجتماعی پکار ہے جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو سالوں سے ایک اذیت میں ڈالے ہوئے ہے۔

Sammi Deen Baloch

14,933 views • 1 year ago

Monitoring اماں لعل جان و فدائی حوا: ایک آغوش، ایک عہد، ایک بیانیہ شہید فدائی حوا بلوچ، جن کا کوڈ نام دروشم تھا، 13 ستمبر 2006 کو تمپ کے علاقے کوہاڈ میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پروان چڑھیں جہاں سیاست محض گفتگو کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت تھی۔ ان کے والد، ناکو نبی بخش، 8 نومبر 2021 کو شہید کیئے گئے۔ ایک بیٹی کے لیئے باپ کی غیر موجودگی ہمیشہ ایک خلا چھوڑتی ہے، مگر مزاحمتی معاشروں میں یہ خلا صرف ذاتی نہیں رہتا، وہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اکتیس جنوری کو آپریشن ھیروف کے دوران مجید بریگیڈ کی جانباز فدائی بن کر حوا بلوچ گوادر کے محاذ پر دشمن کے فوجی کیمپ میں اپنے ساتھی فدائین کے ہمراہ داخل ہوتی ہے، آخری گولی تک لڑتی ہے، اور مزاحمتی تاریخ کے ماتھے کی جھومر بن جاتی ہے۔ بعض اوقات تاریخ توپوں کی گھن گرج سے نہیں، ماں کی خاموش پیشانی سے لکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات انقلاب نعروں سے نہیں، رخصتی کے وقت کی مسکراہٹ سے جنم لیتا ہے۔ موقع وداع کی یہ ویڈیو، جس میں فدائی حوا اپنی والدہ اماں لعل جان سے گلے مل کر ہنستے ہوئے اپنے آخری فدائی مشن کیلئے روانہ ہوتی ہے، محض چند منٹ کا منظر نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی روح ہے۔ وہ لمحہ جب اماں لعل جان اپنی بیٹی کو ہنستے ہوئے گلے لگاتی ہیں، دراصل وہ لمحہ ہے جب ایک ماں اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم بن جاتی ہے۔ اس گلے ملنے میں لرزش نہیں، الزام نہیں، سوال نہیں۔ جیسے وہ جانتی ہو کہ اس کی بیٹی صرف اس کی نہیں رہی۔ جیسے ایک قدیم درخت اپنی سب سے مضبوط شاخ کو آندھی کے سپرد کر دے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ شاخ ٹوٹے گی نہیں، بلکہ ہوا کا رخ بدل دے گی۔ حوا کی مسکراہٹ میں بچپن کی معصومیت نہیں، ایک شعوری بلوغت ہے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اکثر لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں، مگر اس کی آنکھوں میں خواب نہیں، فیصلہ ہے۔ وہ فیصلہ جو کسی جذباتی لمحے کا نتیجہ نہیں، برسوں کی خاموش تربیت کا ثمر تھا۔ اماں لعل جان کے چہرے پر سکون کیوں ہے؟ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ غلامی میں پرورش پانے والی نسلیں یا تو خوف سیکھتی ہیں یا مزاحمت۔ اور ان کی بیٹی نے خوف کو قبول نہیں کیا۔ اس سکون میں دکھ ہے، مگر شکست نہیں۔ اس میں درد ہے، مگر پچھتاوا نہیں۔ مزاحمت صرف میدان میں نہیں ہوتی۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ایک نوجوان لڑکی اپنی ماں کے سامنے کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ میں قربان ہونے کیلئے تیار ہوں۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ماں اپنے آنسو نگل کر کہتی ہے کہ جا بیٹی، میں تیرے لیئے دعاگوار ہوں۔ فدائی حوا کی کہانی، سب سے پہلے ایک انسانی کہانی ہے۔ ایک ایسی بیٹی کی کہانی جس نے باپ کی یاد کو کمزوری نہیں، قوت بنایا۔ ایک ایسی ماں کی کہانی جس نے خوف کو بیٹی کی راہ میں دیوار نہیں بننے دیا۔ یہ بلوچ عورت کی نئی تعریف ہے۔ وہ صرف مظلوم نہیں، وہ فیصلہ ساز بھی ہے۔ وہ صرف رونے والی نہیں، رخصت کرنے والی بھی ہے۔ اماں لعل جان جب بیٹی کو گلے لگاتی ہیں تو وہ صرف اسے الوداع نہیں کہتیں، وہ ایک پیغام دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری مائیں ٹوٹتی نہیں، ہمارے گھر خالی ہوکر بھی کمزور نہیں ہوتے، ہماری بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں، وہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کی قیمت بھی ادا کرتی ہیں۔ اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے آنکھیں نم ہوسکتی ہیں، مگر یہ کمزوری کی نمی نہیں، شعور کی نمی ہے۔ یہ اس بات کا احساس ہے کہ کچھ فیصلے آسان نہیں ہوتے، مگر ضروری ہوتے ہیں۔ اور جب ایک ماں اپنی بیٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو پھر اس فیصلے کی اخلاقی طاقت آسمانوں کو ہلا سکتی ہے۔ ویڈیو کے آخر میں، حوا کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ مسکراتی ہوئی۔ مطمئن۔ جیسے اسے معلوم ہو کہ اس کی زندگی کا پیمانہ لمبائی سے نہیں، گہرائی سے ناپا جائے گا۔ جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ میں گئی نہیں، میں ایک سوال چھوڑ گئی ہوں۔ اور جب تک اس سوال کا جواب وطن کی آزادی و انصاف کی بحالی کی صورت میں نہیں ملتا، تب تک یہ کہانی ختم نہیں ہوگی۔

Bàhot باھوٹ

140,922 views • 7 months ago

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 views • 4 months ago

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 views • 4 months ago

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 views • 2 months ago

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 views • 6 months ago

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,926 views • 25 days ago