Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

احباب نوٹ فرما لیں۔ آج ایمان مزاری کیس کو کور کرکے جی الیون اسلام آباد کچری سے نکلا تو یہ ایک بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی نے مجھے پہلے ہٹ کرنے کی کوشش کی، پھر میری گاڑی کو مکمل لفٹ پر دھکیل دیا، جیسے ہی میں نے گاڑی کو...

412,136 Aufrufe • vor 8 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

میں نے جیل روڈ سے کینٹ میں داخل ہونے کے بعد شامی روڈ کی طرف گاڑی موڑی تو فورٹریس سائیڈ سے ایک تیز رفتار رکشہ سگنل توڑ کر یوں نکلا کہ سائیڈ لگتے لگتے رہ گئی۔ ایک لمحے کے لئے مجھے لگا کہ گاڑی کی لیفٹ سائیڈ تو گئی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ فور کور کی اہم ترین سڑک ہے اس سگنل پر تو کیمرے بھی اندھا دھند لگے ہوئے ہیں تو یہ جرات کیوں، کیسے؟ جیسے ہی اس کی پشت شریف کو دیکھا تو سمجھ آ گئی کہ یہ قانون شکنی اور بدمعاشی کیوں کی جا رہی ہے کیونکہ اس نے نمبر پلیٹ پر جھالریں لٹکا رکھی تھیں۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ اگر اس کو روکا گیا، دو جھانپڑ لگا دئیے گئے یا پولیس کی طرف سے چالان کر دیا گیا تو مزدور اور غریب کی توہین ہو جائے گی۔ یہ ریاست کے ظلم پر اپنے رکشے کو آگ لگا دے گا اور سڑک پر لیٹ کے یوں ٹانگیں پسار روئے گا جیسے اس کی ماں مر گئی ہو۔ کیا ٹریفک پولیس کو ایسی تمام نمبر پلیٹوں کو چیک نہیں کرنا چاہیئے جن کو چھپایا جا رہا ہے کیونکہ موٹرسائیکل سے رکشے اور گاڑی تک یہ کم از کم ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور یہی ڈکیتی کے لئے بھی ۔۔۔ فرق امیر اور غریب کا نہیں ہوتا، فرق حاکم اور محکوم کا بھی نہیں ہوتا اصل فرق قانون پسند اور قانون شکن، ایماندار اور بے ایمان، اچھے اور برے کا ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو، جج ہو، جرنیل ہو، بیوروکریٹ ہو، تاجر ہو یا صحافی ۔۔۔

Najam Wali Khan

12,999 Aufrufe • vor 4 Monaten

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 Aufrufe • vor 1 Jahr

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

666,190 Aufrufe • vor 2 Jahren

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 Aufrufe • vor 2 Jahren

Wellfound by AngelList اسٹارٹ اپس میں کام کرنے کا موقع Wellfound by AngelList ایک شاندار پلیٹ فارم ہے جو آپ کو اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہترین جابز کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم آپ کو جدید اور تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں کام کرنے کا موقع دیتا ہے، جہاں آپ اپنے کیریئر کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ Wellfound پر آپ اپنا پروفائل بنا کر مختلف اسٹارٹ اپس کے ساتھ براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں، جو کہ آپ کو اپنے پسندیدہ شعبے میں کام کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر آپ کو مختلف شعبوں میں کام کی پیشکشیں ملیں گی، جیسے ٹیکنالوجی، ڈیزائن، کاروبار، مارکیٹنگ، اور دیگر فیلڈز۔ یہ پلیٹ فارم آپ کو آسانی سے اپنی پسند کی نوکری تلاش کرنے کی سہولت دیتا ہے، کیونکہ یہاں آپ کو ہر کمپنی کی مکمل تفصیلات ملتی ہیں اور آپ بغیر کسی پیچیدگی کے اسٹارٹ اپس کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، Wellfound آپ کو ایسی کمپنیوں سے جوڑتا ہے جو تیزی سے ترقی کر رہی ہیں اور جہاں آپ کو اپنی مہارت کو استعمال کرنے کا بہترین موقع ملے گا۔ اگر آپ اسٹارٹ اپس کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتے ہیں اور جدید کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا خواب رکھتے ہیں تو Wellfound by AngelList آپ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے آپ نہ صرف اپنے کیریئر کی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں بلکہ نئی کمپنیوں میں کام کرنے کا منفرد تجربہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

Tanveer Awan

12,407 Aufrufe • vor 1 Jahr

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 Aufrufe • vor 3 Monaten

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 Aufrufe • vor 1 Jahr

شکریہ چوہدری پرویز الٰہی ابھی کچھ دیر پہلے دفتر سے گھر آتے ہوئے بارش کے پانی کے قریب سڑک پر کسی کو گرے دیکھا۔ گاڑی موڑی اور واپس جا کے دیکھا تو وہ ایک عورت تھی۔ اسے اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ گر پڑی۔ مجھے لگا کہ یہ ذہنی مریض ہے، یہ بھی لگا کہ نشہ کیا ہے اور یہ بھی کہ کسی نے خود یہاں بھیک کے لئے چھوڑا ہے مگر پھر سوچا کہ شدید سردی ہے، یہ مر گئی تو ذمے دار کون ہو گا، میں؟ میں نے اسے مناسب رقم بھی دی مگر مجھے اس کی باتیں بھی سمجھ نہیں آ رہی تھیں، بس اتنی سمجھ آئی کہ ٹکر لگی ہے اور چوٹ۔ دس پندرہ منٹ کی ادھیڑ بن کے بعد پھر یہی خیال آیا کہ 1122 کو کال کروں کہ لوگ قریب سے اجنبیت سے گزرتے جا رہے تھے۔ کال کی اور دس بارہ منٹ میں ہی گاڑی آ گئی۔ کچھ لوگ جمع ہوئے جھگیوں کی رہائش بارے بتایا۔ پھر جو ہوا کچھ اس کی ریکارڈنگ دیکھ لیجئے اور دل میں پہلا خیال آیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کا شکریہ ادا کروں اور شہبازشریف کا بھی جنہوں نے سیاسی مخالفت کو چھوڑ کر اس منصوبے کو پنجاب بھر تک پھیلا دیا۔ ریسکیو سٹاف فرسٹ ایڈ کے بعد اس کا گھر ڈھونڈنے اور پہنچانے چلا گیا۔۔

Najam Wali Khan

159,079 Aufrufe • vor 2 Jahren

" سسٹم نہی ایک اڈہ ' ایک گندہ نالہ یا ایک کوٹھا " (اس نظام کو سسٹم کہنا ہی غلط ہے کیوں کہ اس میں اڈوں والی بدمعاشی ' گندے نالے والا تعفن اور کوٹھے والا بازاری پن ہے ) احسن اقبال صاحب کچھ ہفتے پہلے کولمبس آیے تھے - اپنی تقریر میں تین دفعہ بولے کہ میں اسی جیل میں تھا جس میں عمران خان آج ہے - تب میں نے وہاں پوچھ لیا کہ "آپ کو بھی سات ماہ تک بہن بھائی سے نہی ملنے دیا جاتا تھا " جس پر ان کے پاس کوی جواب نہی تھا - پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اوورسیز سے خطاب کر رہے ہیں ' آپ نے ان کے ووٹ کا حق کیوں چھینا ؟ جواب ملا کہ یہ وہاں آکر ووٹ ڈالیں - یہاں سے انٹرنیٹ ہیک ہوسکتا ہے - (البتہ وہاں جو پیپرز پر ٹھپے لگتے ہیں وہ سب سے فول پروف سسٹم ہے ) پھر میں نے سوال کیا کہ ملک سے اتنا برین ڈرین ہورہا ہے ' آپ کے منسٹر اور فیلڈ مارشل اس کو "برین گین" کہتے ہیں - یہ سمجھادیں - جواب ملا کہ "یہ ایک یونیورسل فنومینا ہے - پوری دنیا کا ہی برین ڈرین ہورہا ہے " وہاں سوال ہوا کہ ہائبرڈ نظام کب تک چلے گا ' جواب ملا کہ "عمران خان نے فوج کو اتنا مظبوط کردیا ہے کہ ان کو سیاست سے نکالنے میں اب وقت لگے گا " (سو اسی لئے ہم نے ان کو اور طاقتور کرنے کیلئے فیلڈ مارشل اور پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفینس بنا ڈالا )- یہ سوال جواب میں نے اس لئے لکھے کہ ان کی اس تقریر میں بھی آپ کو ایسا ہی "فلسفی " نظر آئیگا -دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بات پہلے تحریک انصاف کے سپورٹرز اور پورا پاکستان کہتا تھا اب اس کی گواہی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی خود دے رہی ہے - فارم 47 کا وزیر اعظم فارم 47 کا صدر ' اسی فارم 47 کی پارلیمینٹ اور اسی پارلیمنٹ کے ہاتھ سے ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم اور ان کے نتیجے میں بننے والا آج کا عدالتی نظام اور اور فیلڈ مارشل سمیت پانچ سال کی مدت والا چیف آف ڈیفینس فورسیز کا عہدہ ' سب ہی فارم 47 زدہ اور متنازع ہوجاتا ہے - اس وقت پوری قوم بس تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کس طرح فرروی 2024 کے انتخابات میں ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے سر عام کس طرح اپنا اپنا جرم قبول کررہے ہیں اور پھر بھی نہ چہرے پر کوئی ندامت ہے نہ ماتھے پر کوئی پشیمانی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس ہونا - یہ بھی بس پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی مل کر چوری کرو اور پھر سرعام اس چوری کو قبول کرکے ہنسوں ؛ اور قہقہے اور تالیاں بجاؤ -' آپ کو کوئی پوچھنے والا ' کوئی سوال کرنے والا نہی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس کرنا - کہ آپ کو جوابدہی کا خوف ہی نہ رہے - سسٹم اتنا کھوکھلا اور کرپٹ ہو کہ وہ اپنے منہ سے اپنے جرائم قبول کرنے والوں کو بھی پروسیکیوٹ نہ کرسکے - سٹسم اتنا کمزور ہو کہ وہ سائکل کی چوری پر ایک سال سزا سنا دے پر کروڑوں لوگوں کے ووٹ کی چوری پر آپ کو وزیر اعظم اور صدر بنادے اور جب وہ اپنے اپنے منہ سے اپنا گناہ تسلیم بھی کریں تب ان کیلئے پنڈال سجاے اور تالیاں بجاے- اچھے خاصے چلتے سسٹم کو تباہ کرکے جو ایک غیر فطری سسٹم بنایا آج خود مان رہے ہیں کہ "سسٹم نہی چل رہا ' اور اب مزید تجربوں کی بات کر رہے ہیں " یہی بات جب سڑکوں پر عوام کرتے تھے تو یہ ان پر گولیاں چلاتے تھے - بھائی ! سسٹم پر مزید بات کرنے سے پہلے ان کو تو سزا ادیں جو یہ سسٹم لے کر آیے تھے کیوں اگر اگلے سسٹم کے موجد بھی ووہی اناڑی ' self proclaimed انجنئیر ہیں تو وہ بھی کیا خاک چلے گا - جنہوں نے پہلا سسٹم برباد کیا پہلے ان کو تو ایک ایک طمانچہ رسید ہو ' پھر اگلے سسٹم کی بات ہو - سسٹم ؟ کیا ہے یہ سسٹم ؟ کسی ارشد شریف کا قتل ہو تو اسی دن سب کو قاتلوں کا پتا ہو پر ساتھ میں یہ بھی یقین ہو کہ ان کو سزا نہی ملے گی - یہ ہے سسٹم ؟ الیکشن سے تین ہفتے پہلے سب سے بڑی جماعت کا انتخابی نشان چھین لیا جائے ' اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ ووٹر کے حق پر حملہ ہے ' یہ ہے سسٹم ؟ پھر بھی جب انتخابات میں منہ کی کھانی پڑے تو 2 + 2 کو 22 لکھ دیا جائے ' الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کو کسی سرکاری سکول کا حاضری والا رجسٹر بنا کر وہاں کاٹے مآٹے مار کر نمبرز پورے کیے جائیں ' یہ ہے سسٹم ؟ جو سب سے زیادہ ووٹ جیتے اس کو 33 سال کی قید سنادو ' جیل میں اس کے خاندان کا ملنا اس سے بند کردو ؛ اس کی بینائی ضایع ہونے لگے تو اپنی آنکھیں بند کرلو - اس کو وہ بنیادی حقوق بھی نہ دو جو ایک عام قیدی کا بھی حق ہوتا ہے ' یہ والا سسٹم ؟ جو صحافی آواز اٹھاے اس کو اٹھا لو - ملک بدر کردو - جیل میں ڈال دو - چینل سے نکال دو - یہ والا سسٹم ؟ جو جج اپنے کمروں میں کیمرے لگانے کے خلاف خط لکھے ' جو الیکشن ٹریبونل میں فارم 47 کو ویریفائی کرنے کیلئے وہاں کے فارم 45 بھی منگوالے ' اسکی ڈگری کو 35 سال بعد جعلی ثابت کردو ' اس کا چھوٹی عدالتوں میں ٹرانسفر کروادو ' اور کسی دوسری کورٹ سے 15 ویں رینک کے جج کو بلا کر اسکوان کے اوپر چیف جسٹس لگا دو ' عدالتوں کو جرگہ بنا دو ' یہ والا سسٹم ؟ جنہوں نے اس غیرعوامی حکومت کو یہ سسٹم بنا کر دیا' ان کے عہدوں کو ایکسٹنشن دو ' ان کو فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس بناؤ ' اور اپنے اس "symbiosis " اور اس بند بانٹ کو جب کوئی اور نام نہ ملے تو "ہائبرڈ " نظام کا نام دے کر کوئی بلغم کو مقیت شہد کہنے کی کوشش کرو ' یہ والا سسٹم ؟ سینیٹ اور کابینہ میں اپنے بندے بغیر الیکشن کے لاؤ ' ان کو ڈائریکٹ سینیٹر اور وزیر داخلہ لگاو اور پھر تین سال بعد اسی سے کہلواؤ کہ "سٹسم کولیپس کر گیا ہے " یہ والا سسٹم ؟ میری نظر میں اس نظام کو "سسٹم " کہنا ہی غلط ہے - سسٹم میں اصول ہوتا ہے ' نظم و ضبط ہوتا ہے ' دو جمع دو چار ہوتا ہے ' اس میں پروڈکشن ہوتی ہے - اس میں جواب طلبی ہوتی ہے ' اس میں مواخذہ ہوتا ہے - اس نظام کو سسٹم نہی "اڈہ" ' گندہ نالہ " یا "کوٹھا " کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں اس میں "اڈوں " والی بدمعاشی ہے ' "گندے نالے " والا تعفن ہے اور "کوٹھے " والا بازاری اور کنجرپن ہے جس کی گواہی اب یہ سسٹم اور اس کے بینیفشری اپنی زبان سے خود دے رہے ہیں - قلم کی جسارت وقاص نواز ------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Javeria Siddique Maryam Riaz Wattoo

Dr Waqas Nawaz

15,979 Aufrufe • vor 28 Tagen

زمین کا بھوکا خارجی ملا!! یہ خارجی ملا کہہ رہا ہے کہ "افغان طالبان بھی پاکستان فتح کرینگے اور ٹی ٹی پی بھی تم لوگوں کا حشر کرے گی ان شاءاللہ!" کل ایک پولیس والی کو کیمروں کے سامنے گولی مارنے کی دھمکی دی کیونکہ اسکے خیال میں اس کے سر پر چادر ٹھیک نہیں تھی۔ یہ زمینوں کا بھوکا خارجی ملا کہتا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی اس لیے مرتد ہیں کہ شاہراہ کے درمیان قبضے کی جگہ سے مسجد کہیں اور منتقل کرنے کی کوشش کیوں کی؟ بیس سال میں ٹی ٹی پی نے 100 سے زائد مساجد بم دھماکوں میں اڑائی ہیں نمازیوں سمیت۔ خاص طور پر جمعے کی نمازوں میں اور ایسے ہر حملے میں پچاس سے سو نمازیوں کی جانیں گئیں۔ اس حوالے سے جب اس منافق ملا سے پوچھا گیا کہ ٹی ٹی پی مسجدیں اڑا رہی ہے اس پر کیا آپ ٹی ٹی پی کو بھی مرتد کہیں گے؟ تو موصوف نے سخت برا منایا اور جواب دینے سے بھی انکار کردیا۔ مطلب مساجد کو نمازیوں سمیت بموں سے اڑانے والے مجاہد اور مساجد کو قبضے کی جگہ سے کسی اور جگہ متنقل کرنے والے مرتد؟ انکی مساجد سے محبت یا دین سے محبت انکی سیاسی ضروریات کی حد تک ہوتی ہے۔ ورنہ اگر سچ میں زمین پر قبضہ کر کے مسجد بنانا جائز ہو تو مولوی عبدالعزیز نے جی سکس، جی سیون اور فیصل مسجد کے قریب کوئی 20 کنال زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ میں وہاں ایک مرلے کی مسجد اسکی اجازت کے بغیر بناتا ہوں جس پر اس کا کنٹرول نہ ہو۔ خدا کی قسم کہ مجھے اس مسجد سمیت زندہ جلا دیگا۔ اسی طرح فضل الرحمن نے جب اسمبلی میں کہا قبضے کر کے بنائی گئی مساجد کی ایک اینٹ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے تو فضل الرحمن کی ڈیرہ اسمعیل خان میں 13 ہزار کنال زمین ہے۔ میں وہاں اسکو بتائے بغیر ایک کنال زمین پر مسجد و گھر و مدرسہ بناتا ہوں۔ جیسے اسلام آباد میں مولوی کر رہے ہیں۔ یقین مانیں وہ مسجد کھود کر وہاں میری قبر بنا دے گا۔ خدا کی قسم یہ سارے منافق ہیں۔ انکی شریعت انکا دین اور انکی مساجد سے محبت یا انکی حرمت انکی سیاسی ضرورت کے تابع ہوتی ہے۔ #Pakistan #14August

Shahid Khan

65,316 Aufrufe • vor 1 Jahr

پاکستان کو پہلے بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کھیل الٹا پڑ گیا۔ مودی جی مار کھانے کے بعد تلملا اٹھے اور شور مچا دیا کہ پاکستان نے تو ہم پر ہی حملہ کر دیا۔ حالانکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملہ صرف آپ کریں گے اور پاکستان خاموشی سے مار کھاتا رہے گا۔ پاکستان نے اللہ کی مدد سے وہ کر دکھایا جو عالمی صہیونی طاقتوں کے طے شدہ اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر افغانستان کے ذریعے کمزور کرنا انہی طاقتوں کا پرانا منصوبہ ہے، جس پر اب تک مسلسل محنت جاری ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی فنڈنگ اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ کام جاری رکھنے کے لئے بھول کر یا “غلطی سے” چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ، اور ملینز آف ڈالرز کی فنڈنگ، اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اپنے بندوں کے ذریعے ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں لا کر دوبارہ بسایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس محاذ پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے مکمل طور پر سیل کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہترین چال تھی، جو کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان میں خوارج پر براہِ راست حملوں کے ذریعے بھی واضح اور مضبوط پیغام دے دیا گیا کہ یہاں بھی آپ کی دال نہیں گلنے والی۔ ایران بھی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے (بدقسمتی سے پہلے ایسا نہیں تھا)۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایران میں ہونے والے تازہ فسادات دراصل رجیم چینج کی سازش ہے اور یہ بھی انہی مہربانوں کی مہربانی ہے جو موجودہ ایرانی قیادت کی جگہ رضا شاہ پہلوی جیسے اسرائیل کے کسی وفادار کو آگے لانا چاہتے ہیں. اسرائیل اس مقصد کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ پاکستان سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو ایران کے راستے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس پورے خطے میں اسرائیل کے کھل کر آگے بڑھنے میں واحد بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ سارا کھیل پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم کرنے کا ہے۔ کبھی اسے اندرونی فتنہ و فساد میں الجھایا جاتا ہے اور کبھی بیرونی دباؤ اور سازشوں کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب تک کسی محاذ پر انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ عالمی سازشوں کے خلاف کامیابی سے دفاع کر رہی ہے۔ اب حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اپنے خطے میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے، اپنے مفادات کے خلاف جانے والے طاقتور اسلامی ممالک کو واضح اشارے دے رہا ہے، اور مضبوط دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ پہلے سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی تعاون کم نہیں تھا کہ اب ترکی کے ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی ڈیل مخالفین کے لئے ایک پریشان کن خبر بن چکی ہے۔ عمران تو باقاعدہ یہ بیان دے چکا تھا کہ اگر پاکستان کے مسائل بھارت کے ساتھ حل ہو جائیں تو پھر پاکستان کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عمران اتنا سادہ یا ناسمجھ نہیں کہ اتنی بڑی اور حساس بات یوں ہی زبان سے نکال دیں۔ عمران نے پورے ہوش و حواس میں، اچھی طرح سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے تھے، ایسے الفاظ جو اسے سوچ سمجھ کر فیڈ کئے گئے تھے۔ اور پھر اس کے بعد سب نے دیکھا کہ عمران نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عملاً سودے بازی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالات درست کرنے کی کوشش بھی کی۔ پلان بھی یہی تھا کہ بھارت سے حالات بہتر کرنے کا تاثر بنایا جائے تاکہ ایٹمی طاقت رکھنے کا جواز بنایا جائے۔ بظاہر ہر چیز ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، ہر کردار اپنی لکیر کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا بھی کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ سازشیں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، جب اللہ کی مدد شامل حال ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نقب ہمیشہ اسی گھر میں لگائی جاتی ہے جہاں قیمتی مال ہو۔ اور اس دور میں ایٹمی طاقت سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سازشوں، دباؤ اور حملوں کا رخ ہمیشہ اسی طرف ہوتا ہے جہاں اصل طاقت موجود ہو، کمزور گھروں پر کوئی محنت نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارے قریبی ہمسایہ مسلمان ممالک کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے جو سعودیہ اور ترکی وغیرہ سمجھ چکے ہیں۔

Qaimkhani

23,562 Aufrufe • vor 7 Monaten

لاپتہ بھائی کی تلاش میں سرگرداں بلوچ طالب علم گرفتار محمد جہانزیب اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں میں دھکے کھا رہے تھے۔ اُن کے بھائی سعید اللہ بلوچ کو چھ ماہ قبل موٹروے اسلام آباد ٹول پلازہ پر بس سے اُتار کر لاپتہ کیا گیا، درجنوں مسافر نے دن کے وقت وہ منظر دیکھا۔ دونوں بھائی اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ جہانزیب نے مقدمے کے اندراج کے لیے موٹروے کے ساتھ جڑے اسلام آباد کے تھانہ نون سے رجوع کیا۔ شنوائی نہ ہونے پر عدالت میں 22-A کی درخواست دائر کی تاکہ مقدمہ درج کیا جا سکے۔ عدالتی حکم پر بھی عمل نہ ہوا۔ اُن کے وکیل ہادی علی چٹھہ آج اپنے کیس میں پھنسے ہوئے تھے۔ محمد جہانزیب نے میڈیا کے نمائندوں کو اپنے کیس کی جانب متوجہ کیا۔ پھر واپس جانے لگے تو پولیس نے حراست میں لینے کی کوشش کی۔ بھاگ کر واپس عدالتی حدود میں آ گئے اور ویڈیو بیان دیا۔ اس کے بعد متعدد وکلا نے اُن کی گرفتاری روکنے کے لیے باری باری کئی عدالتوں سے چکر لگائے۔ ایک جج نے وکلا کو بتایا کہ اُن کی حدود کا کیس نہیں، دوسرے جج نے کہا کہ عدالت کا وقت ختم ہو چکا ہے اس لیے وہ نہیں سُنیں گے۔ کچہری سے وکلا کے درمیان پولیس سے بچتے ہوئے نکلے مگر کچھ دور اہلکاروں کی گاڑی نے راستہ روک کر جی الیون مرکز کے قریب سے گرفتار کر لیا۔ تاحال مقدمے کی ایف آئی آر سامنے نہیں آئی کہ کس الزام پر حراست میں لیا گیا۔

A.Waheed Murad

21,824 Aufrufe • vor 8 Monaten