Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

احلى جسم شفته بحياتي هوه جسم روز يخبل موو جسم ضيم #نيج_عراقي #نيج #روز

179,388 views • 1 month ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

8 سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل!! فیصل آباد کے علاقے ٹھیکری والا، چک نمبر 71 ج ب سرلی میں 8 سالہ بچے شکیل کی لاش ایک زیرِ تعمیر اور خالی مکان کے واش روم سے برآمد ہونے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچہ گزشتہ روز گھر سے کھیلنے کے لیے نکلا تھا لیکن واپس نہ آیا، جس پر اس کی تلاش شروع کی گئی اور مختلف علاقوں میں اعلانات بھی کروائے گئے۔ بعد ازاں بچے کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کے شبے پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی رائے فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کے بعد دی جائے گی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جبکہ شہریوں نے واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ #Faisalabad #FsdTV41 #FaisalabadTV #Thikriwala #CrimeNews #BreakingNews #ChildMurder #Investigation #PunjabPolice #JusticeForChild #PakistanNews

Faisalabad TV

22,695 views • 3 months ago

بہت ہی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ کوئٹہ سول ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک نامعلوم شخص نے تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں ان کا جسم تقریباً 70 فیصد جھلس گیا۔ وہ اس وقت آریا ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظامِ صحت، ہمارے معاشرتی رویوں اور ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سنگین سوال ہے۔ ہم ڈاکٹرز ہر روز دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں، لیکن جب زندگی بچانے والے خود غیر محفوظ ہو جائیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا تحفظ محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے، اور ایسے انسانیت سوز واقعات کے خلاف فوری، سخت اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور لیڈی ڈاکٹر کو بہترین اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں.

Dr M Shujat Rasool

34,185 views • 3 months ago

جی سی یونیورسٹی میں چلائے گئے اس ڈرامے میں پختون کلچر کی شدید تضحیک کی گئی ہے اور اسی کی آڑ میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر عام مسلمانوں کی دل آزاری بھی کی گئی۔ حال میں بیٹھے ناظرین کے مطابق پختونوں کے حوالے سے اور بھی بہت نازیبا باتیں کی گئی ہیں۔ کیا یہ عدل کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں جس صوبے اور قوم نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جہاں بزرگوں نے اپنے بچوں کے جنازے کندھوں پر اٹھائے اور کہیں جنازے کے لئیے جسم تک بھی نہ ملے، جہاں تابوت فروشی کی صنعت بڑھ گئی کہ مسخ شدہ نعشوں کو تابوت کے بغیر دفنایا بھی نہ جاسکتا تھا، جہاں کی مائیں (جو سارے پاکستان کی مائیں ہیں)، ہر روز بچوں کو اس حسرت سے دیکھ کر گھر سے باہر بھیجتی تھیں کہ شاید آخری بار دیکھ رہی ہوں، جہاں سہرے کفنوں سے تبدیل ہوئے، یتیمی معمول بن گئی، وہ آج مزاح اور طنز کا سامان ہیں؟ مبینہ طور پر یہ ایونٹ پنجاب گورنمنٹ کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔ ہم وزیر اعلٰی صاحبہ سے بھرپور اپیل کرتے ہیں کہ اس شرمناک واقعے کا نوٹس لیں اور پختون بہن بھائیوں کی دلجوئی کریں۔

Qaiser Ahmed Raja

12,072 views • 7 months ago

کشته‌شدن ساغر سیف‌اللهی‌فرد در اثر ضربات باتوم به سر، هنگام بازداشت خشونت‌آمیز چند روز پیش ساغر سیف‌اللهی‌فرد، نویسنده کتاب و فارغ‌التحصیل رشته مهندسی مکانیک، در جریان موج جدید بازداشت‌های خشونت‌آمیز، پس از برخورد مأموران جمهوری اسلامی جان خود را از دست داد. بر اساس اطلاعات منتشر شده، ساغر سیف‌اللهی‌فرد در مسیر بازگشت از محل کار به منزل بود که مأموران امنیتی با اتهام «شرکت در اعتراضات» اقدام به بازداشت او کردند. گفته می‌شود وی در برابر این بازداشت مقاومت کرده و مأموران با ضربات متعدد به ناحیه سر او را به‌شدت مورد ضرب‌وشتم قرار داده‌اند؛ ضرباتی که در نهایت منجر به مرگ او شده است. پیکر ساغر سیف‌اللهی‌فرد به خاک سپرده شده، اما خانواده او پس از جان‌باختنش تحت فشار نهادهای امنیتی قرار گرفته‌اند تا علت مرگ را «خودکشی» اعلام کنند. این در حالی است که بنا بر گواهی فوت، علت مرگ «برخورد جسم سخت به سر» ثبت شده است. ساغر سیف‌اللهی‌فرد از جمله چهره‌های جوان و تحصیل‌کرده‌ای بود که مرگ او بار دیگر توجه‌ها را به ادامه کشتار و سرکوب خشونت‌آمیز شهروندان در جریان بازداشت‌ها جلب کرده است؛ کشتاری که همچنان ادامه دارد و جوانان زیبا و با استعداد کشورمان را به کام مرگ می‌کشد. #ساغر_سیف_اللهی_فرد #جنایت_علیه_بشریت #نه_به_جمهوری_اسلامی #انقلاب_۱۴۰۴

توانا Tavaana

16,244 views • 7 months ago

ڈیجٹل کھوٹے سے فزیکل کھوٹے تک کا سفر ۔۔۔ کچے مکان سے شروع ہوا سفر آخر کار دبئی کے ہوٹلوں اور کلبوں پر انجام تک پہنچا ۔۔ اور پھر وہی ہوا سیلبرٹی بنا کر ٹوٹا لیک کر دیا ۔۔ فاطمہ جتوی اک ٹین ایجر بیچی جس نے کچے گھر سے ٹک ٹاک بنانی شروع کی جسکی ماں ٹک ٹاک لائیو میں بیٹھ کر اپنی بچی سے نازیبا حرکتیں کرواتی تھی ۔۔ ڈاکٹر عفان قیصر نے اس کے خلاف ویڈیو بنای تو ٹک ٹاک کے بڑے اکاونٹس اس کے پیچھے پڑ گی ۔۔ بچی کی عمر کم تھی گفٹر نے دل کھول کر پیسہ پھینکا ۔۔ پھر بچی کو دبئی وزٹ پر بولایا جاتا ہے ۔۔ اور پھر وہی کلب نشہ ڈانس دھندہ ۔۔ شروع ۔۔ کوی مفت میں گفٹ نہی بھجتا ۔۔ اب پچھلے دن اس کی لیکیڈ ویڈیو ا گی ۔۔ میں حیران اس بات پر نہی ہوں کہ غریب گھرانے کی لڑکی ڈیجٹل کھوٹے کی طوائف کیسے بنی ۔۔ حیران اس بات پر ہوں اٹھارہ سال سے کم عمر بچی ٹک ٹاک پر روز اتی ہے punishment کے نام پر فحاشی کرنے کی اجازت کس نے دی تھی اسکو ۔۔ میں حیران اس بات پر ہوں کہ جو ائیر پورٹ پر موجود ایف آی اے حکام میاں بیوی تک کو آف لوڈ کر دیتے ہیں انہوں نے اس بچی کو کیسے جانا دیا ؟ یہ تو ہیومن سمگلنگ میں اتا ہے ۔۔ کم سن بچیوں کو باہر ممالک میں بلا کر ان سے دھندہ کروانا ۔۔ یہ اے روز یہی ہو رہا ہے ریاست کیا کررہی ہے ۔۔ میں حیران اس بات پر ہوں کہ ٹک ٹاک جیسے ڈیجٹل کوٹھے پر ابتک پابندی کیوں نہی لگای گی ۔۔ میں حیران ہوں کہ اے روز مارکیٹ میں یہ ٹوٹے لیک ہوتے ہیں پاکستان کے قانون کے مطابق چھ سال کی کم سے کم جیل بنتی ہے اگر کوی مرضی سے زنا سے کرے پچھلے دس سال میں کسی اک کو سزا ملی ہو ۔۔ کوی بچی ٹک ٹاک پر اس نیت سے نہی اتی کہ وہ طوائف بنے مگر شہرت کی بھوک اسے لازمی اسی راستے پر ہی لیکر جاتی ہے یہ جو گفٹر ہوتے ہیں یہ سب سے بڑے دلال ہیں ان کو کیوں نہی پکڑا جاتا ۔۔ ایکس پر پابندی لگانے والو سے ہاتھ جوڑ کر گذارش ہے آزادی راۓ پر قدغن لگانے سے معاشرہ کی اصلاح نہی ہو گا اس جسم فروشی پر پابندی لگائیں ۔۔

Saleem Speaks

181,562 views • 8 months ago