Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اختر مینگکل🚨🚨 پہلے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پارلیمنٹ، عدلیہ اور دیگر ریاستی امور تک محدود تھی، لیکن اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ میاں بیوی کے نجی معاملات، عدت، نکاح اور طلاق جیسے خالصتاً ذاتی اور مذہبی امور میں بھی زبردستی مداخلت کر رہی ہے۔

110,076 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 4

Фото профиля Rani
Rani1 год назад

All these interventions were always present, but few were effected, now each family is targeted and effected

Фото профиля Asad 🇵🇰 🇨🇦 🇵🇸
Asad 🇵🇰 🇨🇦 🇵🇸1 год назад

Akhter Mengal is Establishment rat & a hypocrite, I don't trust him and buy his comments. He is just trying to get people of Balochistan sympathy by uttering these words

Фото профиля M.J
M.J1 год назад

Tum aur Tum jaise Beghairat khinzeer Bajwa ke Sat na deteh tu Ghareeb AWAM ko yeh din dekkna bahi Padtaa

Фото профиля marshad
marshad1 год назад

Never trust this bastard.. he has been selling Quetta’s cause for decades..

Похожие видео

آپ کو دلیل دے کر سمجھاتا ہوں پہلی دلیل خاور مانیکا کا بیان ہے کہ میری اہلیہ نے کوئی ناروا عمل نہیں کیا وہ پاک دامن اور نیک سیرت ہیں اور عمران خان نے کبھی میرے گھر کے معاملات میں مداخلت نہیں کی بلکہ وہ ایک باوقار اور باکردار انسان ہیں خاور مانیکا کے مطابق اپریل 2017 میں زبانی طلاق ہوئی اور عدت اپریل سے اگست 2017 تک مکمل ہوئی جبکہ نکاح جنوری 2018 میں انجام پایا یوں عدت کے بعد نکاح ہوا اور عمران خان نے ان کے گھر کو نہیں توڑا ہاں بعد میں اس آدمی نے مسلسل جھوٹ بولے کیونکہ اس کے کئی کیسز اسٹیبلشمنٹ کھول چکی تھی دوسری دلیل عمران خان کی اہلیہ پر عدت کا مقدمہ قائم کیا گیا جس کی بنیاد ہی کمزور ثابت ہوئی کیونکہ عدالت کی جانب سے سزا کے خاتمے یا معطلی کو اس امر کی دلیل سمجھا جاتا ہے کہ مقدمے میں کوئی وزن نہ تھا ان حقائق کے ہوتے ہوئے یہ الزام کہ عمران خان نے کسی کے گھر جا کر طلاق دلوائی سراسر بے بنیاد اور لغو قرار پاتا ہے اب بھی اگر آپ کو حقیقت سمجھ نہ آئے تو جان لیجیے کہ آپ کے اندر ایک غلیظ ترین پٹواری چھپا ہے اور آپ کو وہ نکالنا ہوگا

Agha Sheikh Sarwar

34,047 просмотров • 4 месяцев назад

اگر آپ نے پاکستان میں ریاست اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کے المیہ کو سمجھنا ہے تو صرف یہ ایک نابینا بچی کی کہانی آپ کو رُلا دے گی اور احساس دلائے گی کہ وہ اینکر اور صحافی کتنے بدبخت ہیں جو اِن معصوم بچیوں سے دہشتگردی کی مُذمت مانگتے ہیں۔ معلوم ہے اِس نابینا بچی کی دیکھ بھال کرنے والی واحد انسان اِس کی بوڑھی دادی تھی اور وہ اتنی غریب تھی کہ بھیک مانگ کر لاپتہ افراد کے کیمپ جانے کا کرایہ جمع کرتی تھی اور جب کرایہ جمع ہوجاتا تو کیمپ میں جاکر بیٹھ جاتی تھی اور ریاست سے اپنے بیٹے کی رہائی کی بھیک مانگتی تھی۔ پانچ سال تک روزانہ اپنے واحد سہارا اپنے بیٹے کو مانگنے کے بعد بوڑھی دادی تھک ہار کر دُنیا سے چلی گئی لیکن ریاستی اداروں کو رحم نہ آیا۔ اب اِس بچی کا دُنیا میں کوئی نہیں اور یہ ہمسایوں کہ گھر ہل رہی ہے جبکہ باپ ابھی تک ریاستی ایجنسیوں کے زندان میں نامعلوم مُقام پر بند ہے۔ مُکمل وڈیو اِس لنک پر:

Asad Ali Toor

163,478 просмотров • 2 лет назад