Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آزاد کشمیر کی ٹھنڈی ہواؤں میں آج کل ایک لونڈا گھوم رہا ہے—کبھی منہ سے پھول جھڑتے ہیں کبھی بارود میں اس کی ماں کا احترام کرتا ہوں مگر سچ پوچھو تو اس کے نانا کی سیاست فاشزم کا وہ ننگا ناچ تھی جس نے اس ملک کا چہرہ...

49,336 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

34 Yorum

Aijaz Ali Khan profil fotoğrafı
Aijaz Ali Khan2 ay önce

ایشیائی ٹائیگر کا کیا ہوا؟ نواز نے پاکستان کے 40 سال ضایع کیئے، بیرونی قرضہ 138 ارب پر پہنچ چکا۔ قرضہ اتارتے کیلئے لیوی و کیپسٹی چارجز ادا کرتے عوام کا بھرکس نکل گیا، یہ جموریت و سیاست پر لیکچر دے رہے۔ حالت یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو کونسلر بننے نہیں دے رہے۔ کیونکہ نواز کو بننا ہے

KattaNews5🪴1🇵🇰🇬🇧🇸🇦🇹🇷 profil fotoğrafı
KattaNews5🪴1🇵🇰🇬🇧🇸🇦🇹🇷2 ay önce

بھٹو نے ملکی انڈسٹری کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ 🤷

M.Umar Bhatti profil fotoğrafı
M.Umar Bhatti2 ay önce

سندھی کھسرا شکر کرے کہ اس کا پالا شریف فیملی سے پڑا ہے اگر عمران خان سے پڑا ہوتا تو وہ اس جیسوں کے ساتھ لونڈے بازی کرتا رہا ہے

Saira profil fotoğrafı
Saira2 ay önce

منافقت کی انتہا دیکھیں ۔ 1971 میں اکثریت کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ وہ فاشزم ہے ۔ لیکن 2024 میں جو اکثریت کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔ وہ ملکی مفاد ہے۔

سچا پٹواری® profil fotoğrafı
سچا پٹواری®2 ay önce

بلاول ایک بدزبان انسان ہے جنرل الیکشن میں بھی اس نے نوازشریف صاحبِ کے خلاف انتہائی گندی زبان استعمال کی اب بھی وہ یہی کر رہا ہے اپنے صوبے کا پتہ نہیں ہے جو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں اسٹریٹ کرائم کچرا ہی کچرا ہے کس منہ سے ووٹ مانگتے ہیں ٹوٹل بے شرم انسان ہے اور بقول شیخ رشید۔🧐۔۔۔آخو۔۔

Milan profil fotoğrafı
Milan2 ay önce

بلاول زرداری ایک بد اخلاق اور بد تمیز آدمی ہے یہ فاشسٹ نظریات کا ملک میں اپنی حکومت کے لیے علاقائی تعصبات، مذہبی فرقہ پرستی کو ابھار کر ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلا کر ووٹ حاصل کرتا ہے۔ اور مجال ہے کی یہ اپنی سندھ حکومت کی کوئی کارکردگی بتاتا ہو جہاں اسکی پارٹ 17 سال سے ہے۔

Manzoor Alam profil fotoğrafı
Manzoor Alam2 ay önce

Excellent Khawaja Sahib

mirza🌐 profil fotoğrafı
mirza🌐2 ay önce

بھٹو نے خواجہ سعد کے والد خواجہ رفیق کو قتل کروایا تھا۔۔۔ان دونوں بھائیوں نے بہت مشکل وقت گزارا اپنے والد کے قتل کے بعد۔۔

M.Tahir Shahzad profil fotoğrafı
M.Tahir Shahzad2 ay önce

بہروپیو اور سیاست دانوں میں فرق جان کر جیو ؟ معیشت اور انسانیت کے قاتلوں کو پہچان کرجیو؟ ھر شاخ پہ الو بیٹھا ھے؟ گٌدھوں اور گٍدھوں میں فرق جان کر جیو؟ جرنیلی غلاموں اور سیاستدانوں میں فرق جان کر جیو ؟ مگر کاش؟

Malik profil fotoğrafı
Malik2 ay önce

ہیرامنڈی کا اسلامی دلال

Sohail Dar profil fotoğrafı
Sohail Dar2 ay önce

@MMahfoo786

Nasar Ali Khan profil fotoğrafı
Nasar Ali Khan2 ay önce

مطلب اپ ضرورت کے وقت کسی سے بھی اتحاد کرلیتے ھیں

Basharat Ali profil fotoğrafı
Basharat Ali2 ay önce

ہم تو سمجھ تھے خواجہ سیکھ گیا ہے مگر۔ جس کی گھٹی میں ضیائی تاثیر اور زہر ہو جا کا باپ ضیا کا پالتو ہو وہ کیسے سمجھ سکتے ہیں ان کو دی گئی سانسیں پیپلز پارٹی کی مرہون منت ہیں وہی سچ ہے انکا خمیر ہے غلیظ ہے مشکل میں میں پاؤں پڑ ا مشکل سے نکل کر گریبان پکڑنا فطرتا بچھو ہیں

Mr Perfect profil fotoğrafı
Mr Perfect2 ay önce

کوئی شک نہیں

Truthcanvas🇵🇰 profil fotoğrafı
Truthcanvas🇵🇰2 ay önce

پاکستان کی سیاست ایک دوسرے کو ننگا کرنا ہے۔ کیسے بیغیرت لوگ مسلط ہیں ہم پر۔

saifullah profil fotoğrafı
saifullah2 ay önce

گھبراہٹ کے عالم میں اس کے اندر کا جماعتہ زندہ ہو گیا اور یہ متوقع تھا جب سے ہارہ ہے عقل کام چھوڑ گی ہے

Sardar Raziq profil fotoğrafı
Sardar Raziq2 ay önce

💯 % sai bola ha Saad sb na

میری پہچان پاکستان profil fotoğrafı
میری پہچان پاکستان2 ay önce

چاچو مفاہمت کی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں اور نون لیگ کا رگڑا نکلوا رہے ہیں

Qamar Nawaz profil fotoğrafı
Qamar Nawaz2 ay önce

یہ حرامی ضیاء کی بدنسل اولاد بھونکتا ہے اسکی زبان دیکھو جو پیداوار ہی فاششٹ جنرل ضیاء کی اولاد ہے تجھے رکھا بھونکنے کے لیے ہے

Janجua profil fotoğrafı
Janجua2 ay önce

شکریہ سعد بھائی تسی اپنی تلوار نکالی۔۔۔

Dureshehwar Wali profil fotoğrafı
Dureshehwar Wali2 ay önce

جسے "لونڈا" کہہ کر اپنی دلیل مضبوط سمجھا جا رہا ہے، وہ آج بھی عوام، آئین اور جمہوریت کی بات کر رہا ہے۔ لگتا ہے مخالفین کے پاس دلیل کم اور القابات زیادہ رہ گئے ہیں۔ خیر، کشمیر کے عوام تقریروں کے نہیں، ووٹ کے ذریعے جواب دینا جانتے ہیں۔

Maryam Sikander profil fotoğrafı
Maryam Sikander2 ay önce

Attack Bilawal all you want, but you can't erase that he is advocating through speeches and the ballot box—not through force. Debate his politics with facts, not family-based rhetoric or selective versions of history.

ریم اشرووناخMAK profil fotoğrafı
ریم اشرووناخMAK2 ay önce

سب اشرافیہ ایک ہیں ۔۔۔ کسی نے ہمدردی نہیں۔ نالائق لیگ سمیت کسی کو بھی ووٹ نہیں دینا

Sajjad Chandio profil fotoğrafı
Sajjad Chandio2 ay önce

شرم مگر تم کو آتی نہیں 2013–2018 میں خود اقتدار میں تھے، آج اخلاقیات کے لیکچر؟ منافقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

Muhammad Uzair Angaria (Baloch)🇵🇰 profil fotoğrafı
Muhammad Uzair Angaria (Baloch)🇵🇰2 ay önce

ہم سمجھے تھے وقت نے کچھ سبق سکھا دیا ہوگا، مگر عادتیں کہاں بدلتی ہیں مشکل میں مفاہمت، اور حالات سنبھلتے ہی الزام تراشی یہی پرانی سیاست آج بھی جاری ہے۔ تاریخ گواہ ہے، احسان فراموشی کبھی اصول نہیں بن سکتی۔

Malik profil fotoğrafı
Malik2 ay önce

لونڈی کے لیے

Mir Arisar jeay bhutto profil fotoğrafı
Mir Arisar jeay bhutto2 ay önce

ضیاالحق کی ناجائز پیدائیش ن لیگی تیری پیدائیش پر لعنت

Muhammad Ibrahim profil fotoğrafı
Muhammad Ibrahim2 ay önce

تمھاری اماں نے تمھیں تمیز نہیں سکھائی ہے جو بڑے مجمع میں ایسی زبان استعمال کررہے ہو۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ تمھاری جماعت والے یوتھیوں کی طرح گالم گلوچ کی سیاست کرتے ہیں

Talha profil fotoğrafı
Talha2 ay önce

تاریخ پر تقریر کرنے سے پہلے آئینہ دیکھ لیا کریں۔ جن پر آپ انگلی اٹھا رہے ہیں، انہی کے دور کے آئین، جمہوری اصلاحات اور عوامی جدوجہد آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اختلاف ضرور کریں، مگر حقائق کو جذبات کے شور میں دفن نہ کریں۔ چیخنے سے دلیل مضبوط نہیں ہوتی، صرف کمزور مؤقف بے نقاب ہوتا ہے۔

Fahad Masood profil fotoğrafı
Fahad Masood2 ay önce

ہم تو سمجھے تھے کہ خواجہ صاحب نے تاریخ سے کچھ سیکھ لیا ہوگا، مگر کردار تو آخر کردار ہی ہوتا ہے۔ جن کی سیاست ہر دور میں طاقت کے سائے تلے پروان چڑھی ہو، وہ وفاداری، جمہوریت اور اصولوں کی قیمت کیا جانیں؟

Hammad Bokhari profil fotoğrafı
Hammad Bokhari2 ay önce

He's one of the most respectable politicians of the Islamic Republic of Pakistan.

Iqra Wali profil fotoğrafı
Iqra Wali2 ay önce

جب دلیل ختم ہو جائے تو ذاتی طور پر تنقید شروع ہو جاتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ آئین، جمہوریت اور عوام کی سیاست کی ہے۔ نفرت انگیز تقاریر سے نہ تاریخ بدلتی ہے، نہ عوام کا فیصلہ۔ جواب گالی سے نہیں، کارکردگی اور حقائق سے دیا جاتا ہے۔

Molai Fahad Lashari profil fotoğrafı
Molai Fahad Lashari2 ay önce

کل کا ضیاع بھٹو سے ڈرتا تھا آج اسی ضیاع لعنت کی اولاد بھٹو کے نواسے سے ڈر رہے ہیں

Faraz Shaikh profil fotoğrafı
Faraz Shaikh2 ay önce

Jaali asool parast

Benzer Videolar

اسلام آباد میں سرعام بدمعاشی!! ابھی ایک شہری نے ویڈیو بھیجی!! کہہ رہاہے, پاکستان میں واقع ہی جنگل کا قانون ہے جوکہ آج ثابت ہو گیا آج میں اپنے کزنز کے ہمراہ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام آباد کی طرف اسلام آباد آرہے تھے, تو اسی دوران ایک TOYOTA AXIO گاڑی جسکو ایک شخص شراب میں دھت ہو کر 846-BMC رجسٹرڈ نمبری چلا رہا تھا جس نے پہلے دو تین بار ہماری گاڑی کو ہٹ کرنے کی کوشش کی اور جس سے پہلے تو ہم نے بمشکل خود کو بچایا تو وہ شخص کبھی ہمارے آگے کبھی ہماری سائیڈ پر آکر سائیڈ دبانے کی کوشش کرنے لگا آخر کار ہم نے گاڑی اس سے پیچھے کر لی تو اس نے ہم سے آگے گاڑی بھگا کر آگے لے گیا آگے جا کر ایکسپریس وے کے عین درمیان میں گاڑی کھڑی دی اس میں سے نکل کے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دی اور گاڑی سے پسٹل نکال کر ہم پر تان لیا جو کہ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے عین اس وقت ہم نے ہمت کرکے فورا موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے گاڑی پیچھے کو بھگا لی اور اس طرح ہماری بچت ہوئی لیکن 130 پہ موٹروے پولیس اور 15 پر کال کرنے کے باوجود وہ بندہ بھاگ گیا یہ ہے آپ کے پنجاب اور اسلام آباد کی پولیس کی کارکردگی ایک بندہ سرعام ایکسپریس وے کے اوپر شراب پی کر گاڑی چلا رہا ہے اور لوگوں کی گاڑیوں میں ہٹ کر رہا ہے اور سرعام روڈ کے درمیان میں گاڑی کھڑی کرکے لوگوں پر اسلحہ تان رہا ہے اور پولیس کو بار بار کال کرکے اطلاع دینے کے باوجود وہ بھاگ جاتا ہے وہ بھی اتنی آسانی سے کہ جیسے اٹے میں سے بال نکلتا ہے ایک مشہور شاہراہ پر لوگوں کی جان کی یہ اہمیت ہے کہ کوئی بھی کہیں بھی سرعام روڈ کے درمیان کھڑا ہو کر پسٹل تان لیتا ہے باقی, اگر اسلام آباد کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے!!

ZEShan ⚫

33,580 görüntüleme • 1 ay önce

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 görüntüleme • 4 ay önce

ضمیر کے مقتل میں انصاف کا جنازہ: جس معاشرے میں انصاف کے ایوان مقبوضہ ہو جائیں، وہاں صرف فیصلے صادر ہوتے ہیں، عدل نہیں ہوتا۔ آج انصاف کے ایوانوں سے ایک بار پھر انصاف کے قتل کی وہ سدا گونجی جس کا ڈر اس ملک کے ہر باضمیر شہری کو تھا۔ ارشد شریف وہ شخص جس نے سچ کی قیمت اپنی جان دے کر چکائی، اس کے کیس کی فائل کو بند کر دینا محض ایک قانونی فیصلہ نہیں، بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام کی اخلاقی موت کا اعتراف ہے۔ فسطائیت کے اس دور میں ترازو طاقتور کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ جب عدالتیں مقبوضہ ہوں وہاں ثبوت نظر انداز کرکے طاقتوروں کی منشا پر فیصلے ہوتے ہیں۔ ارشد شریف کا قصور یہ تھا کہ اس نے اس سیاہ نظام کے چہرے سے نقاب الٹنے کی جرات کی تھی جسے آج مقدس بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ارشدشریف شہید محب وطن پاکستانی ،ایک حق اور سچ کی آواز سے کینیا کی گمنام سڑکوں پر جینے کا حق چھینا گیا، اور آج اپنے ہی وطن کی عدالتوں نے اس کی یاد پر مٹی ڈال کر اس جرم میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔ ایک ریاست دو دستور کا عملی نمونہ پاکستانی عدالتوں میں آئے روز دیکھنے کو مل رہا جہاں عام آدمی کے لیے قانون کی گرفت آہنی، قابض سیاہ نظام کے خلاف بولنے والے حق پر بھی ہوں ان کے قتل کے کیس بھی داخل دفتر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مخصوص ٹولے کو ملک لوٹنے پر کرسی اور آئین توڑنے پر بڑے عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔ ارشد شریف کی ماں آج بھی انصاف کی منتظر ہے، لیکن شاید ہمارے نظام کے پاس اس کی آنکھوں کے آنسوؤں کا کوئی وزن نہیں۔ آپ نے کیس تو ختم کر دیا، لیکن کیا عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو بھی ختم کر پائیں گے؟ کیا تاریخ کے اس سیاہ باب کو مٹا پائیں گے جہاں لکھا جائے گا کہ ایک سچے صحافی کے خون کا سودا بے دردی سے کیا گیا؟ #JusticeForArshadSharif

PTI

12,294 görüntüleme • 8 ay önce

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 görüntüleme • 9 ay önce

آج سے ٹھیک 44 سال پہلے، فروری 1982 میں، اسرائیل کے ایک عبرانی جریدے "کیوونیم" میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔ لکھنے والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا ایک سابق سینیئر اہلکار اور سٹریٹجک تجزیہ کار تھا۔ اس کا نام تھا اووڈ نیون (Oded Yinon)۔ اس مقالے کا عنوان تھا: "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمتِ عملی"۔ دنیا آج اسے "ینون پلان" کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے کا لبِ لباب صرف ایک تھا: "اگر اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرنی ہے، تو اسے اپنے اردگرد موجود تمام عرب ممالک کو نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہو گا تاکہ 'گریٹر اسرائیل' کا خواب پورا ہو سکے" ۔اووڈ نیون کا استدلال بڑا سادہ لیکن ہولناک تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے "سائکس-پیکو معاہدے" کے تحت جو عرب دنیا بنائی، وہ ریت کی دیوار ہے۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں کیونکہ ان میں مختلف مسالک، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کر دی گئی ہیں۔ نیون نے لکھا کہ اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی اندرونی خلفشار سے تباہ ہو جائیں۔اس نے باقاعدہ ایک ایک ملک کا نام لے کر خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کے لیے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تین ٹکڑے کر دیے جائیں: شمال میں کُردوں کی الگ ریاست، وسط میں سنیوں کا علاقہ، اور جنوب میں شیعہ ریاست۔ اس نے لکھا کہ شام کو اس کی علوی، دروز اور سنی آبادی کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس نے لبنان کے بکھراؤ کی بات کی اور مصر کی معیشت کو اس حد تک توڑنے کی تجویز دی کہ وہ کبھی جزیرہ نما سینا پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ آج 2026 میں، اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اووڈ نیون نے 1982 میں جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر ناچ رہا ہے۔ صدام حسین کا وہ طاقتور عراق کہاں گیا؟ آج وہ عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے۔ شام کا کیا حشر ہوا؟ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری خانہ جنگی نے شام کو کھنڈر بنا دیا اور وہاں مختلف نسلی گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیبیا، یمن اور لبنان کی صورتحال دیکھ لیں۔ کیا یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے؟ جی نہیں! یہ اسی ینون پلان کی حرف بہ حرف تعمیل ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ جب اسرائیل کے معروف دانشور اسرائیل شاہاک نے اس منصوبے کا انگریزی ترجمہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا، تو عرب حکمرانوں نے اسے محض ایک "خیالی پلاؤ" کہہ کر مسترد کر دیا آج عرب دنیا کی آپسی نااتفاقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اپنی سٹریٹجی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر، شیعہ سنی کی خلیج کو وسیع کر کے، اور نسلی تعصبات کو ابھار کر پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اسرائیل کی سٹریٹجی کو ناکام کرنے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے لیے کانٹا ہے

حِجاب رندھاوا H.R

36,140 görüntüleme • 14 gün önce

رات ایک پروگرام میں موصوف شیر افضل مروت صاحب بھی کسی کی چابی بن کر مجھ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ پارٹی میں اندرونی معاملات پر بطور عہدیدار نہ بات کروں۔ لیکن اس شخص کا ہمیشہ سے مخصوص ایجنڈا رہا ہے اور اندرونی طور پر میں نے ہمیشہ اس کو رانگ نمبر کہا کہ یہ نوسر باز ہے اور مخصوص ایجنڈا کے تحت مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔ میں تو حقیر سا ورکر ہوں اس شخص کو سب سے پہلے Azhar Mashwani سے مسئلہ تھا جس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں جو شادی کے دوسرے ہفتے اٹھایا گیا جس کے خاندان پر زمین تنگ کر دی گئی، پھر اس نے عمران خان صاحب کے خاندان خاص کر Aleema Khanum آپا پر مسلسل الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے ان پر بھی اس کو اعتراض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک چلنے لگتی ہے یا کوئی ہلچل ہونے لگتی ہے تو چابی والا بندر میدان میں آ جاتا ہے پھر Intazar Hussain Panjutha پر بھی اعتراض ہے اس کو۔ جو ظلم انتظار پنجوتہ صاحب کے ساتھ ہوا ہے کیا وہ سارے پاکستان نے نہیں دیکھا اس لیے یہ پاگل ہو چکا ہے ہے اور جو پیچھے سے پرچی پر لکھ کر دیا جاتا ہے یہ اردلی کا کردار ادا کرتا ہے۔ میری پارٹی کے لیڈران سے گزارش ہے کہ جس پروگرام میں یہ شخص بھیجا جاتا ہے اس کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ ان کی اہمیت صرف اس پٹاخے کی ہے جو چل چکا ہے اور اب صرف اس کی واحد جگہ کوڑے دان کا ہے

Ehsan Toor

11,345 görüntüleme • 1 yıl önce

یہ کوئی ساڑھے چار سال پہلے کی بات ہے۔ جب ہم بنی گالا شفٹ ہوئے تو ہمارے گھر کے بالکل سامنے ایک کھلا احاطہ ہے، جس کے اندر چار پانچ زیر تعمیر بنگلے ہیں۔ کئی سال سے یہ بنگلے جہاں تھے، وہیں رکے ہوئے ہیں۔ ان کی ایک لمبی چوڑی چھت تھی جہاں کبھی جانور، پرندے اور بلیاں آ کر وقت گزارتے تھے۔ ایک دن اسی چھت پر ہمیں ایک کتا نظر آیا۔ وہ زخمی نہیں بلکہ بیمار تھا اور خارش کی بیماری میں مبتلا تھا۔ اس کے گلے میں پٹا تھا، جس سے لگتا تھا کہ کبھی کسی کا پالتو کتا رہا ہوگا، مگر بیماری کی وجہ سے شاید اسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ اسے کھانا دینے والا کوئی نہیں۔ ہمارا گھر گلی کے دوسری طرف تھا، اس لیے ہم نے چھت پر کھانا پھینکنا شروع کر دیا۔ کبھی شاپر میں روٹی باندھ کر اس کی طرف پھینکتے۔ وہ خود شاپر کھول لیتا اور روٹی کھا جاتا۔ اگر روٹی نیچے گر جاتی تو سیڑھیوں سے اتر کر اسے اٹھاتا اور واپس اوپر لے جاتا۔ کئی مہینے وہ اسی چھت پر رہا۔ پھر ایک دن شاید کوئی جانور یا بچے اس کے پیچھے لگے تو وہ دیوار پھلانگ کر ہمارے دروازے تک آ گیا۔ اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ وہ دن اور کل کا دن، تقریباً ساڑھے چار سال تک، ہمارے دروازے پر رہا۔ آہستہ آہستہ اس کی صحت بہتر ہوئی اور اس نے ہمارے گھر کے تمام افراد کو پہچاننا شروع کر دیا۔ گھر کا کوئی فرد باہر نکلتا تو وہ اس کے ساتھ گلی کے ایک خاص موڑ تک جاتا اور پھر خود ہی واپس آ جاتا۔ رفتہ رفتہ ہمیں محسوس ہونے لگا کہ وہ ہماری زبان بھی سمجھتا ہے۔ کہتے، 'بیٹھ جاؤ' تو بیٹھ جاتا، 'پیچھے ہٹو' تو پیچھے ہٹ جاتا۔ کبھی کوئی دوسرا جانور ہمیں ناپسند ہوتا تو صرف اشارے سے سمجھ جاتا اور اسے بھگا دیتا۔ رات کے دو بجے بھی اگر میں یا میرے دوست زبیر علی خان گاڑی پر گھر آتے تو وہ گاڑی کی لائٹ پہچان لیتا اور گاڑی کے آگے آگے کودتا، ڈانس کرتا اور اپنی خوشی کا اظہار کرتا۔ اگر میں پیدل آتا تو وہ دروازے کے سامنے لیٹ کر میرا راستہ روک لیتا، جیسے پہلے مجھ سے کھیلنا چاہتا ہو۔ کئی بار میں اس کے اوپر سے گزر کر گھر میں داخل ہوتا، اور مجھے اس کی یہ ادا بہت پسند تھی۔ کبھی وہ اپنی اگلی ٹانگیں آگے پھیلا کر سر جھکا لیتا، جیسے ہمارا شکریہ ادا کر رہا ہو۔ گھر کے بچے چاہتے تھے کہ اسے اندر لے آئیں، لیکن اس کی بیماری کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا۔ تقریباً ڈیڑھ دو سال پہلے میں نے سوچا کہ اسے کسی بہتر جگہ پر ہونا چاہیے۔ میں نے اس کی ایک ویڈیو بنائی اور فیس بک اور ایکس پر پوسٹ کر دی۔ لوگوں نے بہت محبت کا اظہار کیا اور ایک فیملی نے اسے گود لے لیا۔ وہ اسے اپنے گھر لے گئے، اس کی ویکسینیشن کروائی، اسے نہلایا دھلایا، مگر چار دن بعد معلوم ہوا کہ گھر کے تمام افراد دن بھر باہر رہتے ہیں اور وہ سارا دن اکیلا رہ کر پریشان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نے آٹے والی روٹی سے بھی منع کیا تھا اور صرف گوشت اس کی خوراک بنانا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ یوں وہ دوبارہ ہمارے دروازے پر آ گیا۔ اس وقت تک وہ صرف ہمارا نہیں، پورے محلے کا کتا بن چکا تھا۔ کوئی اسے گوشت ڈالتا، کوئی ہڈی، کوئی چاول اور کوئی روٹی۔ وہ سب سے اپنا حصہ وصول کرتا اور پھر ہماری گاڑی کے نیچے جا کر لیٹ جاتا۔ سیڑھیوں سے کسی کے اترنے کی آواز آتی یا گاڑی ان لاک ہونے کی آواز سنائی دیتی تو وہ فوراً باہر آ جاتا۔ وہ ہمارا رکھوالا، دوست اور ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے وہ ایک دوسرے کتے کے کاٹنے سے زخمی ہوا۔ میرے بیٹے محمد اذان مظفر نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس کا علاج کیا اور کافی حد تک وہ ٹھیک بھی ہو گیا۔ ہمیں لگا کہ وہ دوبارہ صحت مند ہو جائے گا۔ لیکن پھر ایک دن ہماری گلی میں ایک بڑے گھر کے تین بہت بڑے کتے اپنے ملازم کے ساتھ سیر کے لیے نکلے اور اچانک انہوں نے ہمارے کتے پر حملہ کر دیا۔ اس وقت میں گھر پر نہیں تھا۔ میری بیٹی نے مجھے فون کیا۔ وہ اتنا رو رہی تھی کہ میری جان نکل گئی۔ اس نے کہا: 'بابا! ان بڑے کتوں نے ہمارے کتے پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ اسے مار رہے ہیں۔' گھر کے بچے اور بڑے سب رو رہے تھے۔ گلی کے لوگ بھی باہر نکل آئے اور اسے بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ میں شہر سے باہر تھا، اس لیے فوراً نہیں پہنچ سکا۔ محلے کے لوگوں سے کہا کہ کسی شیلٹر یا ریسکیو والے سے رابطہ کریں، لیکن اس وقت اس کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ واپس آ کر میں نے اس کے زخم دیکھے تو اندازہ ہوا کہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔ میں نے اپنی دوست آسیہ انصر سے رابطہ کیا۔ ان کی بیٹی کی کوشش سے ایک شیلٹر ہوم کا بندوبست ہوا اور وہ لوگ اسے ریسکیو کر کے لے گئے۔ اپنی تابعدار عادت کے باعث ریسکیو کے وقت بھی اس نے کوئی ہنگامہ نہیں کیا بلکہ پنجرے کے اندر بھی میرے کہنے پر بیٹھ گیا اور چلا گیا۔ ہمیں تسلی ہوئی کہ اب کم از کم اس کا علاج ہو سکے گا۔

Bashir Chaudhary

15,284 görüntüleme • 2 gün önce

🛑 دجال کا جزیرہ اور حضرت تمیم داریؓ کا چشم دید واقعہ 🌊⛓️ ایک لرزہ خیز حقیقت جو صحیح مسلم کی مستند روایت سے ثابت ہے یہ واقعہ ہجرت کے نویں سال کا ہے، جب حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ (جو اس وقت تک عیسائی تھے) اپنے 30 ساتھیوں کے ساتھ بحری سفر پر نکلے۔ سمندر میں آنے والے ایک خوفناک طوفان نے ان کی کشتی کا رخ موڑ دیا اور ایک ماہ تک لہروں سے ٹکرانے کے بعد وہ ایک نامعلوم جزیرے کے ساحل پر جا لگے۔ جزیرے پر قدم رکھتے ہی ان کا سامنا ایک ایسی عجیب الخلقت مخلوق سے ہوا جس کے پورے جسم پر اتنے بال تھے کہ اس کا آگے پیچھے کا حصہ پہچاننا مشکل تھا۔ اس نے اپنا نام ’جسّاسہ‘ بتایا اور کہا: "اس خانقاہ (عمارت) میں موجود شخص تمہارا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہا ہے، جاؤ اس سے ملو۔" جب وہ لوگ اس عمارت میں داخل ہوئے تو وہاں انہوں نے ایک بہت ہی قد آور انسان کو دیکھا، جس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے کی بھاری زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس قیدی (دجال) نے ان سے تین سوالات کیے جو آج کے دور کے لیے ایک بڑی وارننگ ہیں: بیسان کے نخلستان کا حال: کیا وہاں کے درخت اب بھی پھل دیتے ہیں؟ جواب ملا "ہاں"، تو اس نے کہا: "عنقریب وہ وقت آئے گا جب وہ پھل دینا بند کر دیں گے۔" (آج وہاں کی زرخیزی ختم ہو رہی ہے)۔ بحیرہ طبریہ (Sea of Galilee) کا پانی: کیا اس میں اب بھی پانی ہے؟ جواب ملا "ہاں، بہت ہے"، تو اس نے کہا: "عنقریب اس کا پانی خشک ہو جائے گا۔" (حقیقت یہ ہے کہ آج اس جھیل کا پانی اپنی تاریخی کم ترین سطح پر ہے)۔ نبیِ آخر الزماں ﷺ کی آمد: کیا وہ مبعوث ہو چکے؟ اور کیا عربوں نے ان کی اطاعت کی؟ جب بتایا گیا کہ "ہاں"، تو اس نے کہا: "ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ ان کی اطاعت کریں۔" آخر میں اس نے اپنا ہولناک تعارف کروایا: "میں مسیح (دجال) ہوں" اور بتایا کہ بہت جلد اسے خروج کی اجازت مل جائے گی۔ وہ زمین پر 40 دن کی سیر میں مکہ اور مدینہ کے علاوہ ہر بستی میں داخل ہوگا، کیونکہ ان مقدس شہروں کی حفاظت پر فرشتے مامور ہیں۔ (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث نمبر: 2942) آج جب ہم ان نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں، تو یہ وقت غفلت کا نہیں بلکہ توبہ اور ایمان کی پختگی کا ہے۔ اللّٰہ ہمیں فتنہِ دجال سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

ꜱᴀɴɪᴀ ꜱʜᴇɪᴋʜ🌸

31,886 görüntüleme • 6 ay önce

پلندری کا یہ بندر آج سے کچھ سال پہلے دبئی ٹرک چلانے گیا لیکن وہاں یہ را کے ہتھے چڑھ گیا۔ را نے اس کو مینڈیٹ دیا کہ واپس جاؤ اور کشمیر میں آگ لگاؤ۔ اس نے عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں جان بھوج کر پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ اس کے نعروں میں پاکستان بھر میں بہت تشویش ہے لیکن پاکستانی سمجھدار قوم ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس جیسے چند بندروں کا کشمیر سے بھی کوئی تعلق نہیں، یہ ڈالروں کے لیے ماں بیچ چکے، اسلیے جس کسی نے بھی مذمت کی اس کی کی مگر پورے کشمیر کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ اس نے اپنا پلان چوپٹ ہوتا دیکھ دوبارہ سے بکواس شروع کر دی ہے تاکہ پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ کچھ برا ہو جس کو یہ اور اس کے ہندو باپ بیچ کر کھا سکیں۔ او پلندری کی کچی کھسری جو بکواس کرنی ہے کر تیرے دلے کے بہکاوے میں کسی نے نہیں آنا، پر ایک بات تہہ ہے اب ساری زندگی ادھر ہی سڑ۔ اب تم دبئی نہیں جا سکتے کیونکہ اس کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

17,793 görüntüleme • 1 yıl önce