Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اس سیالکوٹی بھائی کا جو بھی پنگا وہ تو الگ بات ہے لیکن یہ سایلکوٹیوں سے سوال ہے پاکستان کے اندر رہ کر سارے پاکستان سے منفرد لہجہ کیسے ہے ان کا ؟

32,641 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

"گفتار کا غازی " (ان کو اس ملک کا وزیر اعظم بننا ہے لیکن اس سے پہلے ان کو نارمل انسان بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑیگا) مجھے جواد احمد کا یہ طرز گفتگو اور لہجہ دیکھ کر حیرت نہی ہوئی بلکہ مجھے تعجب ان لوگوں پر ہوا ہے جو نئی جنریشن سے مخاطب ہونے کیلئے ایسے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جن کو نہ یہ پتا ہے کہ اختلاف راےکو کیسے ہینڈل کرنا ہے ' نہ یہ پتا ہے کہ کسی بچے کے سوال کا جواب کیسے دینا ہے - "او تو بیٹھ جا !" "کتنے ٹک ٹاک دیکھے آج؟ " " اس کا موبائل چیک کرو " " تمہیں مسٹر چپس سے کیا پرابلم ہے - آگیا سوال کرنے" "او - تم جھوٹ بول رہی ہو - میں پولیٹکس کرتا ہوں ' مجھے پتا ہے ان کو کیسے ڈیل کرنا ہے " یہ لب و لہجہ ہے ایک پارٹی کے سربراہ کا جس کا نام ہے برابری پارٹی - "برابری " تو وہی گئی تیل لینے جب آپ کسی کے سوال پر اس قدر ججمنٹل ہوگیے کہ اس کا موبائل چیک کرنے کے درپے ہوگیے - مسٹر چپس کے ناول سے مجھے خود کوئی پرابلم نہی - ایک اچھی رومینٹک کہانی ہے جس میں مسٹر چپس کی اپنی بیوی سے محبت دکھائی گئی ہے لیکن بچے کی راے سے اگر آپ کو اختلاف بھی ہے اور اس کا سوال آپ کو ناگوار بھی گزرا ہے تو اس کا جوبہ دینے کا بھی کوئی تمیز کوئی طریقہ ہوتا ہے - ایسے لوگوں کو آپ سٹیج پر مائیک دے کر بس نئی نسل کو بدظن کرسکتے ہیں ' آگاہ اور آنلاٹین (enlighten ) بالکل نہی - یعنی ساتھ بیٹھے باقی مہمان اور اینکر بھی سمجھا رہے ہیں کہ "جواد بھائی ! اس طرح نہ کریں - بچے کا سوال ہے ' آپ اس کی ذات کو جج نہ کریں' ان کی راۓ ہے ' اس کا احترام کریں ---- پر تمیز ' شائستگی ' گفتار ' انداز' احترام راے اور اختلاف راے کیا ہوتا ہے ' ان صاحب کو یہ باتیں چھو کر بھی نہیں گزریں - سوچیں جب یہ بچے سے کہ رہے تھے کہ آج تم نے کتنی ریلیں دیکھیں ؟ تو جواب میں وہ بھی کہ دیتا کہ " آپ نے آج اپنی دوائی کھائی کے نہیں " تو یہاں لوگ کہتے کہ ذات پر بات کر دی - مجھے جواد احمد سے زیادہ برابری پارٹی کے ان تین چار اکاونٹس پر ترس آتا ہے جن کو جواد کا اب یہ لہجہ اور انداز بھی ڈیفنڈ کرنا پڑے گا - یہ بہت سخت ڈیوٹی ہے - اختلاف مجھے اقرار الحسن Iqrar ul Hassan Syed کی بھی بہت سی باتوں ہوتا ہے پر کم از کم یہ ماننا چاہیے کہ ان کا لب و لہجہ تمیز اور شائستگی والا ہوتا ہے اور بندہ گفتگو کو دلیل سے جاری رکھ سکتا ہے - پر ان صاحب سے بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے دھویں میں پھونکیں ماریں اور ہر پھونک کے ساتھ دھواں آپ کی سانس میں گھستا چلا جائے یا کیچڑ پر پتھر پھینکیں اور اس کے چھینٹیں آپ کے ہی کپڑوں کو مکدر کردیں - ویسے تو ان کو اس ملک کا وزیر اعظم بننا ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کیلئے ان کو پہلے انسان بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑیگا - "گفتار کے ایسے ہی کسی غازی " کے لب و لہجے سے عاجز ہو کر کسی شاعر نے یہ کہا تھا ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے (اب اس ٹویٹ کے جواب میں ان کا لب و لہجہ دیکھیے گا جو میری اوپر کی گئی ہر بات پر خود مہر ثبت کردیگا ) قلم کی جسارت وقاص نواز --------------------------------------------------- Jawad Ahmad

Dr Waqas Nawaz

133,993 просмотров • 8 дней назад

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے کان کھا لئے کہ “فتنہ الہندستان” نے تباہی تباہی مچا رکھی ہے ۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل نے یہ بات مارکو روبیو کو کیوں نہیں بتائی ؟! مارکو روبیو انڈین صحافی کے سوال پہ کئی جواب دے سکتے تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے ہمارا انڈیا سے الگ تعلق ہے پاکستان سے الگ،لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا بلکہ کہا کہ: “ہاں یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر سے انڈیا پہ دہشتگردی کے حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی زمیں انڈیا کے اندر دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی ہے” فیورٹ فلیڈ مارشل کا شٹل کاک بنکر گھومنے کا حاصل جمع کیا نکلا؟ انڈیا کہ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف یہی پوزیشن ہے، مارکو روبیو انڈیا میں کھڑے ہو کر اس پوزیشن کو اس وقت تسلیم کر رہے ہیں جس وقت ہم نے بلوچستان کے اندر شہید ہونے والے لوگوں کو دفنایا بھی نہیں ہے۔اس موقع پر مارکو روبیو یہ بھی کہہ سکتے رھے کہ جیسے انڈیا کو concern ہے ویسے پاکستان کو بھی concern ہے ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا اور پاکستان کو دہشتگردی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا یہ ہے جھوٹے بیانیے پاسپورٹ اور سلوٹ کی عزت ۔

Rodium-A

71,376 просмотров • 3 месяцев назад

"عمران خان صاحب کی دو بہنیں گرفتار ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ دونوں وہاں نہتی موجود تھیں، دونوں الگ الگ طرف اکیلی اکیلی کھڑی تھیں۔ ان کے ساتھ کوئی کارکن بھی نہیں تھا کہ دفعہ 144 کا نفاذ ہو جاتا اور ان کو وہاں سے گرفتار کیا گیا۔ ان کے پاس سے کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی، نہ کوئی مائیکروفون ملا جس پر وہ بول رہی تھیں، لیکن اب پولیس کہہ رہی ہے کہ وہ بھی برآمد کرنا ہے۔ پھر کہہ رہے ہیں کہ دھماکہ خیز مواد ان "دہشت گردوں" سے برآمد کرنا ہے۔ ان کا ریمانڈ پر ریمانڈ دیا جا رہا ہے۔ دونوں خواتین کی عمر ستر سال سے زیادہ ہے۔ یہ ہے پاکستان میں نظامِ انصاف، اور جج ریمانڈ پر ریمانڈ دیتے چلے جا رہے ہیں۔ پورا پاکستان جانتا ہے کہ ان کا بھائی سابق وزیراعظم ہے، سب جانتے ہیں کہ وہ گھریلو خواتین ہیں، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف اپنے بھائی کے لیے باہر نکلتی ہیں، احتجاج کرنے یا جیل میں ملنے کے لیے۔ انہوں نے تو یہ بھی کہا کہ ہمیں اندر رکھ لیں بے شک، لیکن ہمارے بھائی کو چھوڑ دیں۔" Imran Riaz Khan #UndeclaredMartialLaw

PTI

50,034 просмотров • 1 год назад