Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

“اساں تیڈے ویر ، تیڈے یار فوجیا اپنڑاں کوں آپ تے نہ مار فوجیا” ۔۔ دکھی دل کا شکوہ یا معصوم سی خواہش ؟

32,620 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

9 Yorum

Maria Ata profil fotoğrafı
Maria Ata1 yıl önce

لعنت ایسے یار پہ لعنتی خچروں پہ لادے جانے کے قابل ہیں

Aamir Hussain🇵🇰 profil fotoğrafı
Aamir Hussain🇵🇰1 yıl önce

ویسے بھائی یہ بات بھی اچھی ہے💔

M.Maaz ❤️❤️🇵🇰❤️❤️🇳🇴 profil fotoğrafı
M.Maaz ❤️❤️🇵🇰❤️❤️🇳🇴1 yıl önce

کون اپنے ؟؟؟ ون سائیڈڈ عشق تھا تمام ہوا ،،،

Chaudhry Ihsan profil fotoğrafı
Chaudhry Ihsan1 yıl önce

India dia panta da gusa Saday tay na utar fogia Tu tay hilali tay sada maan si Kudu da harami ban gia fogia

Watching the Bastards!!!! (Against Corruption) profil fotoğrafı
Watching the Bastards!!!! (Against Corruption)1 yıl önce

تو پھر اور کس کو ماریں؟ دشمن تو مار کھاتا نہیں ان سے پھر ہم ہی رہ جاتے ہیں پیچھے انہوں نے اپنا کام تو کرنا ہے

Mirhaⁱᴾⁱᵃⁿ profil fotoğrafı
Mirhaⁱᴾⁱᵃⁿ1 yıl önce

ہم تو نہ ان یار نہ یہ ہمارے ویر ۔ دشمن ایک نہیں مارسکے اپنے نہتے لوگوں پر بدمعاشی کرنی آتی ہے ان کو

Farzana profil fotoğrafı
Farzana1 yıl önce

فضول ہیں ایسی باتیں انسے کرنا

Layla Khan profil fotoğrafı
Layla Khan1 yıl önce

عمران بای فوج کے لیے یہ نئ بات نی اپ ہم سب کے لیے نئ ہے اس لیے دکھ ہتم نی ہورا 💔💔یہ ناپاک فوج تو بنی ہی پاکستانیوں کو کتل کرنے کے لیے ہے

جاہل عورت profil fotoğrafı
جاہل عورت1 yıl önce

فوجیا منجھا ہوا ایکٹر ہے

Benzer Videolar

اگر پنجاب میں اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک امن ہے، بدمعاش کلچر کا خاتمہ ہوا، نامی گرامی بدمعاش ختم ہوئے یا مسجدوں میں جا کر تائب ہو گئے، اب کوئی کسی کی بہن بیٹی کو چھیڑ نہیں سکتا اور لفنگے پورے پنجاب میں کسی کالج کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے، تو ہمیں سی سی ڈی (CCD) کی تعریف کرنی چاہیے اور سہیل ظفر چٹھہ کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ جہاں تک نیفے میں پستول چلنے کی بات ہے، اگر چار پانچ سال کی معصوم بچی کے ساتھ کوئی زیادتی کرنے کی کوشش کرے یا راہ چلتے ہماری بہن بیٹی کو چھیڑے اور ویڈیو ثبوت بھی موجود ہو، تو پھر اگر مجرم کے اپنے نیفے میں پستول چل جائے تو اس پر آپ کو کیا اعتراض ہے؟ اسی طرح پشاور میں بھی ایک شیر جوان اور بہادر پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید ہے جس سے پورا پشاور محبت کرتا ہے اور میرا پشاور امن کا گہوارہ بن رہا ہے۔ میرا تو خیال تھا کہ آپ ان کی تعریف کرتے، لیکن آپ ہمیشہ وہ کام کرتے ہیں جو عوام کے مزاج یا ضد کے برعکس ہو۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

19,995 görüntüleme • 27 gün önce

”میرے پاکستانیوں، اُس دی اَن آفیشل کال آئی اے، سڑکوں پر احتجاج اور دھرنے کی۔ میں نے بار بار آپ کو کہا، پوری پاکستانی قوم کو میں نے یہ پیغام دیا کہ ہم نے پُرامن رہنا ہے، کیونکہ یہ جعلی حکومت، جن کو خون کی لت پڑ چکی ہے، جنہوں نے ماڈل ٹاؤن میں خون بہایا، جنہوں نے 9 مئی کو ہمارے معصوم کارکنوں کا خون بہایا، جنہوں نے 26 نومبر کو ہمارے معصوم کارکنوں کو شہید کیا، جس طرح بے دردی سے ان معصوم لوگوں کو گولیاں مار کر شہید کیا. تو مجھے یہ خدشہ تھا کہ یہ اُس دن بھی آپ کی صفوں میں اپنے لوگ گھسا کر کوئی انتشار پھیلانا چاہتے تھے۔ تاکہ عمران خان صاحب کا علاج بھی نہ ہو سکے اور پی ٹی آئی پر قدغن لگے یا پابندی لگے۔ لیکن میں آپ سب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ جو لوگ اُس دن آئے، آپ لوگوں نے ثابت کیا کہ عمران خان صاحب کے جتنے بھی کارکن ہیں وہ پُرامن ہیں اور پُرامن رہیں گے۔ اور ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی جتنے احتجاج ہوں گے، ہم اپنی یہ پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے. “ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا Sohail Afridi کا انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں سے خطاب!

PTI

35,456 görüntüleme • 7 ay önce

میں تو اپنے بھائی کا بھرم رکھنے کیلئے جنگ بندی کر چکا تھا لیکن اگر جنگ ہے تو جنگ سہی 😊 یہ رہی جَون حسین کی وضاحت آپ کو اپنا چشمہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ سیاست اور دنیا کو دیکھنے کیلئے آپ کو چشمہ بھی شاید انہوں نے ہی لے دیا ہے جنہوں نے آپ کی ٹاوٹی پر آپ کو تمغہ دلوایا اور آپ کو انٹرویو کرنے کیلئے سیاستدانوں کو مار مار کر لا کر آپ کے سامنے بٹھایا آپ جان بوجھ کر نہ سمجھنے والے سوشل میڈیا فسادیوں کا حصہ بن کر اپنی سنجیدہ شخصیت کو مسخ کر رہے ہیں، یہ بات ایرانی وفد کے پاکستان پہنچنے سے کم از کم 8/9 گھنٹے پہلے کی ہے جبکہ وفد کے پہنچنے کے آخری لمحہ تک مذاکرات پر ابہام کی خبریں بدستور آ رہی تھیں، جس کا الزام اسرائیل پر آ رہا تھا، کیونکہ اسرائیل جنگ بندی کے باوجود لبنان پر بمباری کر رہا تھا جس کا اظہار ایرانی وفد کے سربراہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ کا حوالہ دے کر بھی کیا اور یہی میری اور جون کی گفتگو کا سیاق و سباق تھا۔ یہ فارس نیوز ایجنسی کی خبر بھی پڑھ لیں کہ کس طرح آخری وقت تک عالمی میڈیا اُسی ابہام کی بات کر رہا تھا جس کا اظہار جون یا میں نے کیا رہی بات میری گُت بننے کی تو میں تو سمجھ رہا تھا کہ میں ایک قابل وکیل اور تمغہ بردار بڑے صحافی سے بات کر رہا ہوں جو اپنی دلیل کو تاریخ، فلسفہ، قانون، لسانیات، سماجیات وغیرہ کی بنیاد پر قائم کرے گا لیکن آپ تو اپنی بونگی پر شرمندہ ہونے اور میرے دیئے گئے حقائق پر علمی بحث کرنے کے بجائے ایک بدترین ن لیگی ٹرول نکلے جو مریم نواز کے بنائے سوشل میڈیا سیلز سے ناقدین کو سارا دن جُگتیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ مایوس کیا یار آپ نے 🤦 اور میرے پیارے ٹاوٹ بھائی آپ نے جس تمغہ پر الحمد اللّہ کہا ہے، اُس پر الحمد اللّہ نہیں بلکہ استغفر اللّہ کہا جاتا ہے 🫣 ایسے تمغے اعزاز نہیں ذلت کا طوق ہوتے ہیں اور آپ نے تمغہ نہیں سجایا بلکہ ذلت کا طوق پہنا ہے 😊 اور جو ذلت کو اعزاز سمجھتے ہیں شاید انہی کے بارے میں مہندر ہما نے کہا تھا غیرت زدہ تو ڈوب گیا ایک بوند میں بے غیرتوں کو کوئی سمندر نہیں ملا آپ اور آپ جیسے ٹرولز کیلئے جون اور میری بمعہ سیاق و سباق کے ویڈیو بھی حاضر ہے 🙏 آپ کا خیر اندیش

Ameer Abbas

79,965 görüntüleme • 5 ay önce

باجوڑ میں پولیس اہلکاروں کی شہادت نماز جنازہ میں اہلکاروں کا سخت ردعمل ڈی پی او صاحب اور ڈی سی صاحب آپ سنیں میں نے آج دو مردے نہلائے ہیں یہ کل 75 مردے ہیں جن کو میں نے غسل دیا ہے ڈی پی او صاحب آپ جانتے ہیں کہ اس مقام پر چوکی بنی ہے سامنے طالبان ہیں کون ہے جو یہ پلان بناتا ہے اور اس اہلکار کو وہاں بھیجتا ہے؟ وہاں کل رات بھی ایف سی پر حملہ ہوا پرسو بھی حملہ ہوا بچی زخمی ہوئی ہے جو پلان بناتا ہے اسے سامنے لائو میرے ساتھیوں کا قاتل تو یہ پلان بنانے والا ہے رات کو ناکے لگتے ہیں طالبان کا گڑھ ہے یہاں ضیاالرحمن کو شہید کردیا مجھے پورا خاندان کہتا ہے چپ رہو کچھ بولو نہیں میں بولوں گا چاہئے 76واں مردہ میرا ہی نہلا دیاجائے ڈی پی او صاحب آپ یہاں مہمان ہیں یہاں لوگ آپ کے پاس آئیں گے کسی کی تعریف کریں گے کسی کی برائی کریں گے لیکن باجوڑ کی پولیس کو مارا جا رہا ہے بار بار ہم کہتے ہیں کہ ایک سپاہی کچھ نہیں کرسکتا سید عزیز کو شہید کرکے وہ واپس آئے اور انہوں نے سید عزیز کی ویڈیو بنائی اور ہمارے گروپس میں شیئر کی ہمارے مردے کی بے عزتی کرتے ہیں آپ اور ڈی سی صاحب ساتھ بیٹھ جائیں آپ لوگ ہمیں مروا رہے ہیں اور ہمیں ان سے نہ مروائیں ہم پاکستان پر جان قربان کرتے ہیں میرا دادا درہ میں شہید ہوا ہے ہم نے اپنے قاتل کو معلوم کرلیا ہے تم کیوں اس قاتل کونہیں معلوم کرسکے اتنی بڑی مشینری اور وسائل کا کیا فائدہ؟ ابھی آپ کے دفتر میں بیٹھ کر دعا کرلیں گے اور معاملہ ختم ہوجائے گا سب اہلکار بنوں والوں کی طرح کھڑے ہوجائیں یا پھر اسی طرح تم لوگوں کی میتیں نہلائی جائیں گے مجھے بتایا جائے کہ مجھے کون مار رہا ہے

Muhammad Faheem

26,892 görüntüleme • 4 ay önce

کل نارووال کی ایک نجی مارکی میں وہ ہوا جسے دیکھ کر انسانیت شرم سے سر جھکا لیتی ہے۔ ایک شادی کی تقریب ... خوشیوں کا جلوس... باراتیوں کا ہجوم.. . اور پھر اچانک کرسیوں کے حصول کی جنگ! بس ایک کرسی ... صرف ایک کرسی کے لیے انسانوں نے انسانیت کو تار تار کر دیا ۔ لاتوں، مکوں، لاٹھیوں کا طوفان اٹھا۔ معصوم خواتین زخمی ہو گئیں! وہ مائیں، بہنیں، بیٹیاں جو شادی کی خوشی میں حصہ لینے آئی تھیں، آج خون آلود، زخموں سے بھری، روتی ہوئی، چیختی ہوئی زمین پر پڑی تھیں۔ ان کے بچوں کے سامنے ان کی عزت پر حملہ ہوا، ان کے جسم پر زخم پڑے۔ کیا اتنی سی بات پر بھی اب عورتوں کا خون حلال ہو گیا ہے؟ کیا شادی کی خوشی میں بھی اب خواتین محفوظ نہیں رہیں گی؟ اہلِ خانہ اب درد کی چیخ لے کر ڈی پی او نارووال جناب نوید ملک اور محترمہ مریم نواز صاحبہ، وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے کھڑے ہیں۔ انصاف چاہیے! سخت سے سخت کارروائی چاہیے! اندراجِ مقدمہ، گرفتاریاں، اور مثال بنانے والی سزا چاہیے تاکہ کل کوئی اور کرسی کے لیے کسی کی بیٹی پر ہاتھ نہ اٹھا سکے ۔ اے مریم نواز! آپ ہمیشہ عورتوں کے حقوق کی آواز اٹھاتی رہیں ہیں۔ اے نوید ملک صاحب! آپ قانون کے محافظ ہیں۔ اب ثابت کریں کہ پنجاب میں قانون زندہ ہے! اب ثابت کریں کہ معصوم خواتین کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ دل جلا کے رکھ دیا ہے اس واقعے نے... اب آنکھیں نم ہیں، سینے میں آگ ہے۔ #نارووال_انصاف_چاہیے #زخمی_خواتین #مریم_نواز_نوٹس_لو #نوید_ملک_ایکشن_لو

چوہدری قاسم

18,175 görüntüleme • 4 ay önce

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

36,675 görüntüleme • 2 ay önce

مجھے یاد ہےایک دفعہ الیکشن کمپین میں نواز شریف صاحب نے کہا تھا: "ترقی دیکھنی ہے تو لاہور جا کے دیکھیں، شہباز شریف نے کتنی ترقی کرا دی ہے۔" یہ بات وہ راجن پور میں کھڑے ہو کر راجن پور کے لوگوں کو کہہ رہے تھے۔ راجن پور کے لوگوں کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے نعرے مار مار کے گلے بٹھا لیے، واہ واہ کی، خوب داد دی، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ راجن پور کی ترقی کی بھی کوئی بات کر لیں۔ ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، خانیوال، لودھراں، رحیم یار خان، بہاول نگر اور باقی جتنے اضلاع ہیں، ان کی بات نہیں کرنی۔ سینٹرل پنجاب اور نارتھ پنجاب کے بہت سے علاقوں کی بھی بات نہیں کرنی۔ انہوں نے کہا، "جناب، اگر ترقی دیکھنی ہے تو لاہور دیکھیں۔" اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ سارا پیسہ آپ نے وہاں لگا دیا۔ پورے پنجاب سے لوگ، کھوتے ریڑھی پر بیٹھ کر یا میری طرح کسی نہ کسی ذریعے سے، لاہور پہنچ گئے۔ اب آبادی کا بم وہاں پھٹ چکا ہے اور اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ روؤف کلاسرا Rauf Klasra

Arbaz Raza Bhutta

30,105 görüntüleme • 4 ay önce

الہ آباد میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ ایک معصوم بچی مبینہ بلیک میلنگ اور ہراسانی کے بعد اپنی زندگی ہار بیٹھی۔ لائیو ویڈیو کال پر خ۔۔و۔۔۔د۔ک۔۔ش۔۔ی یہ صرف ایک خاندان کا نہیں، ہم سب کا دکھ ہے۔ درندے کی مبینہ بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے لاکھوں روپے لٹا کر بھی بچی بے بسی سے زندگی دے گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کون سا دباؤ ہے جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے؟ کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اثر و رسوخ رکھنے والوں کو تحفظ حاصل ہے اور خاموشی کی چادر تانی جا رہی ہے؟ ایم پی اے (ن لیگ) احسن رضا خان میو اور وکیل الیاس خان طاہر میو سمیت ہر اُس شخص پر لازم ہے کہ وہ کھل کر سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ صرف میو ہونے کی وجہ سے اس درندے کی حمائت ایک جرم عظیم ہے۔ ایسے جرائم کسی صورت معافی کے قابل نہیں ہوتے۔ ظلم کی نہ کوئی برادری ہوتی ہے اور نہ کوئی سیاسی رنگ — بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔ اگر آج انصاف کا گلا گھونٹا گیا تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم کی آہ رائیگاں نہیں جاتی۔ بہتر یہی ہے کہ متاثرہ خاندان کا ساتھ دیا جائے، شفاف تحقیقات ہوں، اور قانون اپنا راستہ خود بنائے۔ ہمیں امید ہے کہ ذمہ داران مصلحتوں سے بالاتر ہو کر سچ اور انصاف کا ساتھ دیں گے۔پولیس اور صحافت کی زبانیں کھلیں گی اور ایف آئی آر ڈی سیل کر کے حقائق سامنے لائے جائیں گے- احسن بھائی میں نے ہمیشہ آپ کی تعریف کی ہے آج آپ پر امتحان ہے بتائیں برادری کا ساتھ دیں گے یا انصاف کا؟ انصاف ہونا بھی چاہیے اور ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

Daim Mubashar

61,099 görüntüleme • 7 ay önce

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 görüntüleme • 8 ay önce

ٹرین الٹ جاتی ہے، وزیر استعفیٰ دے دیتا ہے۔ لیکن یہ جو ابھی واقعہ ہوا، 12 بجے زیارت کے معاملے میں ان لوگوں نے اپنے افسران کو کہا ہے کہ ہماری گولیاں ختم ہو رہی ہیں، لوگ زیادہ ہیں، خدا کے لیے ہم تک امداد پہنچائیں۔ پانچ بجے تک وہ محنت کرتے رہے، ڈپٹی کمشنر، کمشنر یا جو بھی بلا ہے۔ پانچ بجے کے بعد انہوں نے اپنے عزیزوں کو ٹیلی فون کیا کہ بھئی ہم تو بالکل بے بس ہو گئے ہیں، مہربانی کریں، اگر وہ نہیں آتے تو آپ مہربانی کریں اور کچھ امداد پہنچائیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب! کسی شریف آدمی کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا یا کسی کو تو نوکری سے نکال دینا چاہیے تھا۔ بس انسان ہیں، مرتے رہیں گے اور آپ بس 'پاکستان زندہ باد' کہتے رہیں گے، پاکستان اس طرح زندہ باد نہیں ہو گا۔ پاکستان بہت بڑی بربادی کی طرف چلا جائے گا۔ ہم درخواست کرتے ہیں، ہم اپنی افواج اور اپنی ایجنسیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ کو چاہیے، مہربانی کریں۔ جو آئین کا حلف آپ نے اٹھایا ہے اس کا آپ خیال رکھیں، جو ہم نے اٹھایا ہے ہم اس کا خیال رکھیں گے۔ سپاہی سے لے کر جرنیل تک، ان کا حلف یہ ہوتا ہے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ اپنے حلف کا خیال رکھیں، پاکستان بچ جائے گا، پاکستان چل جائے گا۔ اور تھوڑی سی مہربانی ہمیں بھی کرنی ہو گی۔ ہمارے یہ اکابرین بیٹھے ہیں، دوست بیٹھے ہیں۔ یہ جو کچھ ہمارے آئین میں ہوا—26ویں ترمیم، فلانی ترمیم—میں معافی چاہتا ہوں، میں کسی پر تنقید نہیں کرنا چاہتا لیکن تاریخ بیان کرتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر ہمارے چھوٹے صوبوں کے ووٹ نہ ہوتے تو یہ آئین نہیں بگڑنا تھا۔ ہمارے چھوٹے صوبوں کے بلوچ، سندھی، پشتون؛ ہماری قومی اسمبلی میں اتنے ووٹ تھے اور سینیٹ میں اتنے ووٹ تھے کہ اس میں کوئی ترمیم نہیں ہو سکتی تھی۔ ہم نے مصلحت کے تحت یہ کام کیا ہے۔ ہم نے مصلحتوں سے کام لیتے ہوئے اپنی بربادی کی ہے، اپنی عدالت کے ہم نے پر کاٹے ہیں، اپنے آپ پر پابندی لگائی ہے، اپنے ہاتھوں کو ہم نے خود باندھا ہے۔ 26ویں ترمیم دو ووٹوں سے کامیاب ہوئی؛ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ملا کر دو ووٹوں سے، جبکہ ہمارے ووٹ کم از کم 15، 20 تھے۔ پیپلز پارٹی کے ووٹ، ہمارے ووٹ، تحریک انصاف کے ووٹ اور بلوچ علاقوں کے ووٹ۔ ہم نے اپنے خلاف خود ووٹ دیے۔ کھوکھر صاحب نے جو بات کی کہ بھئی سینیٹ کے انتخابات ڈائریکٹ ہوں یا ان ڈائریکٹ، سینیٹ کو وہ اختیارات دینے چاہئیں جو قومی اسمبلی کے پاس ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات ڈائریکٹ ہوں یا ان ڈائریکٹ، مانیٹری بل میں یا دیگر معاملات میں؛ جہاں مختلف قومیں رہتی ہیں وہاں اسی لیے بائی کیمرل (دو ایوانی) نظام لایا جاتا ہے کہ چھوٹے ہاؤس اور بڑے ہاؤس میں سب برابر ہوں۔ پنجاب کے بھی 25 یا 20 ہوں، سندھ کے بھی 20، بلوچوں کے بھی 20 اور پشتونوں کے بھی 20 ہوں۔ اس طرح ایک توازن قائم رہتا ہے۔ آج بھی اگر سینیٹ میں نمائندگی دے دی جائے، اور اگر جرگہ ہو سکتا ہے تو جرگہ بنا دیں۔ ہم جرگہ بنا کر آرمی چیف کے پاس چلے جائیں گے کہ خدا کو مانیں، اپنا کام کریں، پاکستان ہم بنا دیں گے۔ میں بلوچوں کو راضی کروں گا، آپ صرف پشتونوں کو یہ یقین دلائیں کہ 18ویں ترمیم نے جو آپ کے صوبے کو دیا ہے، اس پر پہلا قانونی اور آئینی حق آپ کے بچوں کا ہو گا۔ یہ سندھیوں اور بلوچوں سے کہہ دیں کہ آپ کے ساحل اور وسائل پر آپ کا حق ہے، تو یہ ٹینشن ختم ہو جائے گی۔ آپ نے مارنا ہے تو کتنوں کو ماریں گے؟ فرعون سے زیادہ تو آپ نہیں مار سکتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، آئیں عہد کریں، ہر ادارہ عہد کرے۔ جہاں تک بات معافی مانگنے کی ہے، تو معافی سب مانگیں، سارے ادارے۔ افواجِ پاکستان بھی، ایجنسیاں بھی، ادارے بھی اور سیاسی لوگ بھی۔ مصلحتوں سے کام نہ لیں۔ چھوٹی چھوٹی مصلحتوں کی وجہ سے آپ نے بربادی کر دی ہے۔ ازراہِ تفنن، لیکن میں دل کی بات کرتا ہوں؛ جب تحریک انصاف کی چھینی ہوئی سیٹیں بانٹی گئیں تو کسی نے انہیں لینے سے انکار نہیں کیا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں، وہ ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہے تھے اور ہم نے اپنی جیبیں کھلی رکھی ہوئی تھیں کہ اس میں ڈال دو۔ کیا ملک ایسے چلے گا؟ آئیں وعدہ کریں، عہد کریں۔ جب افواج اس حد تک آ جاتی ہیں، جب وردی والے لوگ اسمبلیوں کو مارکیٹ میں رکھ دیتے ہیں کہ 'بسم اللہ! یہ بولی ہے، سیٹوں کا ریٹ کتنے کا؟ بسم اللہ، 30 کروڑ، 40 کروڑ'۔ جب آپ 40 کروڑ میں اسمبلی کی سیٹیں بیچیں گے اور ان کو وزیر بنائیں گے، تو وہ یہ 40 کروڑ پاکستان کے پیٹ سے ہی نکالیں گے۔ یہ پاکستان کے ساتھ کیسا مذاق ہے؟ غلطیاں ہوئی ہیں، سب نے کی ہیں لیکن توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ ہماری طرف سے، میں ان کا چاچا ہوں، بلوچوں کا بھی چاچا ہوں، سندھیوں کا بھی چاچا ہوں۔ ہم آپ کو قرآن کریم کے صفحات پر لکھ کر دے دیں گے کہ ہماری عزت کا خیال رکھیں، ہماری خود مختاری کا خیال رکھیں، ہمیں اپنے وسائل پر ہمارا آئینی حق دے دیں، پاکستان سنور جائے گا۔ اور اگر آپ نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ہے، تو پھر آپ کی مرضی، آپ نے جو کرنا ہے کریں بسم اللہ، لیکن اس کا نتیجہ جو کچھ بھی ہو گا اس کے ذمہ دار ہم نہیں ہوں گے۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

17,806 görüntüleme • 3 ay önce

"ایک چھری اپنی غیر سنجیدگی پر بھی پھیر " (کیوں کہ یہ نبیوں کی سنت ہے ؛ کوئی ٹک ٹاک نہی ) ہمارا معاشرہ اپنی زندگیوں میں کس قدر غیر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پوری بڑی عید پر سوشل میڈیا اس طرح کی وڈیوز سے بھرا رہا جس میں کہی کوئی بیل قصائی کو ٹکر مار کر بھاگ رہا ہے تو کہیں کوئی ویڑآ کسی دکان میں گھس کر وہاں شیشے توڑ رہا ہے - کہیں کوئی بیل چھت سے گر رہا ہے اور کہیں کوئی قصائی دوڑ رہا ہے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے ہے - ایک وڈیو میں قصائی کے پاؤں میں رسی پھنسی ہے اور بیل بھاگ رہا ہے اور قصائی پیچھے پیچھے گھسیٹتا جارہا ہے اور بیک گراونڈ میں ٹک ٹاک والا سستا گانا چل رہا ہے - ان سب وڈیوز کو اکثر ازراہ مذاق اور طفنن پیش کیا گیا ہے (جیسا کہ اس وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جو میں نے یہاں لگائی ہے جس کے شروع میں ہی بنانے والے نے لکھا ہے کہ یہ میں نے "تفریح کیلئے " بنائی ہے ) جہاں کومنٹس اور پیچھے لگا میوزیک یہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کے اوپر بیل کا چڑھ جانا اب ایک عام بات ہے - کسی انسان کا نیچے گر جانا اب بس دیکھنے والوں کیلئے ایک مذاق رہ گیا ہے - ہے یہ مذاق ہے بس تب تک جب تک وہ انسان آپ کا اپنا باپ یا بھائی نہ ہو یا اپ خود نہ ہوں - کسی جگہ میں نے ایسے واقعات کی مذمت اور ان کی روک تھام کیلئے کوئی تحریر نہی دیکھی نہ کوئی ایسی وڈیو نظر سے گزری - چلیں امریکا چلتے ہیں - یہاں امریکا میں اس سال قربانی کی - ایک فارم ہاؤس پر بکرا خریدا - اس کو پسند کیا - اس کا نام رکھا - لیکن اس کو گھر لانے کی اجازت نہی تھی - عید کے دن نماز پڑھ کر فارم پر گیے - اپنے سامنے وہی اس کو چھری پھروائی' پروفیشنل قصائی نے اس کی کھال اتاری ' اس کا گوشت کاٹا' لیکن کسی سڑک پر نہیں ' بلکہ ایک خاص جگہ پر جو چار دیواری تھی' آبادی سے دور تھی تاکہ جانور بھاگے بھی تو کسی کو نقصان نہ پہنچاسکے - پہلے مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا تھا - یہ کیا بات ہوئی کہ سڑک پر نہ کوئی جانور نہ کوئی خون- یہ کیسی عید ہوئی - یہ کیا بات ہوئی - پر پھر مجھے اعداد و شمار نظر آیے جو میں نے سوشل میڈیا پر بہت کم دیکھے - محض اس سال 2026 میں عید کے صرف پہلے دن پاکستان میں چودہ ہزار لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہویے زخمی ہویے - یہ ڈیٹا ابھی ان حادثات کا ہے کہ جن واقعات میں لوگوں کو ہسپتال لیجانا پڑا یا 1122 کو بلانا پڑا - جن وڈیوز کی میں بات کر رہا ہوں وہ ان کے علاوہ ہیں - ان جانوروں کو جس اناڑی طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ رسی تڑوا کر بھاگتے ہیں ان سے ہونے والے گاڑیوں کے نقصانات کا تخمینہ ایک ہزار سالانہ سے زیادہ ہے - یہ ہر سال ہوتا ہے - اس کے باوجود نہ میں کسی اتھارٹی کی طرف سے کوئی خاص اقدامات دیکھتا ہوں نہ عوام کی طرف سے کوئی خاص احتیاط - کسی بیل کو جب بس تین چار اناڑی لوگ ذبح کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں سمیت عوام کا جم غفیر پاس کھڑا ہوتا ہے اس بات سے بے نیاز کے جب یہ بیل بھاگے گا تو کسی بچے پر چڑھ جائیگا - اس کے برعکس جب ایسا ہوتا ہے تو بچے کو بچانے والے کی ٹک ٹاک تو بہت وائرل ہوتی ہیں پر ایسا کوئی پلان واضح نہیں ہوتا کہ آئندہ ایسا نہ ہو - نہ ماں باپ پر کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ آپ وہاں کیوں کھڑے تھے نہ بیل کے مالک سے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے ذبح کرنے سے پہلے ایسی جگہ کا انتخاب کیوں نہی کیا جہاں اگر بیل بھاگے بھی تو باقی لوگوں یا املاک کا نقصان نہ ہو - نہ اس قصائی کا کوئی لائسنس ہوتا ہے کہ بھائی آپ واقعی پیشہ ور قصائی ہیں یا دو دن کیلئے مزدور اور حجام سے قصائی بنے ہیں اور اپنے سے پچاس گنا وزنی بیل کو گرانے کی کوشش میں معصوم بچوں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو اس کا کوئی تو لائسنس ہوگا ' وہ دکھا دیں - الغرض میں ہر سال ایسی وڈیوز پر بس عوام کے قہقہے اور اقوال زریں کہ "جسے الله رکھے اسے کون چکھے " دیکھتا رہتا ہوں پر ان واقعات کے سدباب سے متعلق نہ کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے نہ کوئی انتظام یا قانون دیکھنے کو نظر آتا ہے - نہ کسی عالم کی طرف سے کوئی رہنمائی سامنے آتی ہے نہ میڈیا پر ایسی کوئی کیمپین دیکھنے کو ملتی ہے - اس تحریر کو پڑھ کر مذھب کے ایک فریضے پر اعتراض کرنے یا میرے مذھب بیزار ہونے کا فتوی لگانے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھیں اور پھر ہسپتال میں کسی قصائی یا بچے سے مل کر آئیں جس کا کولہا فریکچر ہوگیا ہو یا جس کا سر پھٹ گیا ہو - یا کسی ایسے دکان والے سے ملکر آئیں جس کی کل جمع پونجی کسی کے جانور کی سرعام قربانی کی نذر ہوگئی اور جس نے وہ دکان بنانے کیلئے قرضہ لیا تھا جو اب ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور یہی دکان اس کے خاندان کا واحد روزگار تھی - آپ قربانی ضرور کریں ' ہر سال کریں ' لیکن بس اپنے جانور کی قربانی کریں ' کسی کی کمر کی نہی ' کسی کی ہڈی کی نہیں ' کسی کی دکان کی نہی ' کسی کی گاڑی کی نہیں - اگر ہر سال ان احتیاطوں کو کرلیا جائے تو ممکن ہے کہ ہمیں ٹک ٹاک پر لطیفے اور سستی وڈیوز تو نہ ملیں پر عوام محفوظ ضرور ہوجائیں گے : 1. کسی بھی بیل یا ویڑے کو سڑک پر باندھنے کی پابندی ہونی چاہیے- اس کیلئے ایسی جگہ ہو جو چار دیواری والی ہو اور اگر کسی کے پاس ایسا انتظام نہیں تو اس کو بکرا لینا چاہیے ' بیل نہی - 2. جانور منڈیاں شہری آبادی سے دورہوں ' اور وہاں سے جانور لانے کیلئے کسی چنگچی کسی کھلی گاڑی کسی رکشے پر پابندی ہونی چاہیے - ایسی خاص گاڑیاں حکومت کی طرف سے چلائی جائیں جن میں جالی لگی ہو تاکہ جانور کو بغیر کسی حادثے کے دوسری جگہ پہنچایا جاسکے - 3. بیل اور ویڑوں کو گھروں میں لانے پر پابندی ہو - ان کو وہی رکھا جائے جہاں سے خریدا گیا ہو یا ایسے کھلے پلاٹ یا ایک خاص جگہ ہو جہاں ان کو باندھا جائے اور وہی قربان کیا جائے اور اس چیز کو حکومت خود ریگولیٹ کرے - 4. سڑک پر کسی بھی بیل کی قربانی قابل سزا جرم ہو - اس کیلئے لازمی ہو کہ چار دیواری والی جگہ ہو جہاں کسی بھی بچے کو لیجانا جرم ہو - بچوں نے دیکھنا ہو تو اوپر چھت سے دیکھیں یا وڈیوز میں دیکھیں لیکن تیس فٹ تک وہاں کوئی بچہ یا ایسا بندہ نہ کھڑا ہو جس کا اس قربانی سے کوئی تعلق نہی ہے - 5. جانور کی قربانی کرنے والا کوئی پروفیشنل قصائی ہو جس کا باقاعدہ لائسنس ہونا چاہیے - وہ عام دنوں میں بھی قصائی ہی ہو اور اس کے ساتھ کم سے کم پانچ چھے ایسے افراد ضرور ہوں جو جانور کو گرانے اور اس کو سنبھالنے میں مہارت رکھتے ہوں - 6. عید سے پہلے قصائی حضرات کی ٹریننگ کا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے اور حکومت کی طرف سے یا محلوں کی سطح پر ایسی ورکشاپس ہونی چاہیے جن میں ان لوگوں کی ٹریننگ ہو اور اس کے بعد ہی ان کا اس سال کا قربانی کا لائسینس رینیو کیا جائے - 7 . جانور کو گرانے کا ایک آفیشل طریقہ حکومت کی طرف سے لاگو ہونا چاہیے اور اسی طریقے سے جانور کو گرایا جانا چاہیے - اور ان پابندیوں کو لوکل کمشنر اور بیوروکریسی کے افراد خود دیکھیں - 8 . کسی بھی بیل کو کرین سے اوپر یا نیچے لیجانے پر سخت پابندی ہونی چاہیے - یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس قربانی کے جانور کی بھی توہین ہے جو کبھی چھت سے نیچے گر رہا ہے اور کبھی چھت پر لیجاتے ہویے پھسل رہا ہے - 9 . اگر کسی کے پاس ان جانوروں کو محفوظ طریقے سے رکھنے اور قربان کرنے کا انتظام نہی ہے تو ان کو پھر قربانی میں حصہ ڈالنا چاہیے اور ایسے فارمز اور کھلی جگہیں ہونے چاہیے جہاں ان جانوروں کو رکھا جائے جن میں لوگوں نے حصہ ڈالا ہو - 10 . جس کے جانور سے کسی کی گاڑی یا دکان کا نقصان ہو وہ شخص اس نقصان کو پورا کرنے کا پابند ہو اور اس کو حکومت کی طرف سے بھی اتنے سخت جرمانے کیے جائیں کہ لوگ ان قربانیوں کو نمائش اور تفریح کی بجاے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر تمیز اور احتیاط سے انجام دیں - 11 . ایسے ماں باپ کی پولیس سے بازپرس ہونی چاہیے جو بچوں کو لے کر ذبح ہوتے بیل کے سر پر کھڑے ہوتے ہیں - امریکا میں بچے کو گود میں لے کر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھانا ہی اتنا بڑاجرم سمجھا جاتا ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس کینسل ہوسکتا ہے کیوں کہ ان کے ڈیٹا کے مطابق حادثے کی صورت میں اگلی سیٹوں والوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے - اگر ہم فیشن میں مغرب کی نقل کرسکتے ہیں ' کھانوں میں ان کے پیزے اور پاستے کھاسکتے ہیں تو روز مراه کی زندگیوں میں بھی ان سے تھوڑی احتیاط تھوڑی تمیز سیکھ سکتے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچ سکیں - 12. عید پر ایسی مزاحیہ وڈیوز اور ٹک ٹاک کو پروموٹ کرنے کی بجاے ایسی تحریروں کو لکھنے کا رجحان بنائیں اور ان کو وائرل کریں جن میں سنجدیگی ہو اور مثبت بات ہو ' کسی کی جان بچانے کی بات ' کسی کی دکان بچانے کی بات - میں جانتا ہوں کہ یہ تدابیر پڑھ کر بہت لوگ ہنس رہے ہونگے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں ڈرائیورز کے پاس لائسنس نہی تو قصائی کے پاس کہاں سے ہوگا - لیکن یہ آگاہی دینے میں مجھے کوئی حرج نہی - میرے نزدیک اگر کوئی ایک بھی ان ہدایات پر عمل کرلیتا ہے اور کوئی ایک بھی حادثہ بچ جاتا ہے تو میرا وقت حلال ہوا - یاد رکھیں - عید قربان ایک بہت مقدس فریضہ ہے کوئی ٹکٹاک کا گانا نہی - یہ نبیوں کی سنت ہے - پر پوری سیرت نبوی (صلی اللہ علیھ وسلم ) میں ایسے کوئی واقعہ نہی ملتا جہاں کسی جانور کی قربانی کے وقت کسی دوسرے کو نقصان پہنچا ہو - قربانی ضرور کریں لیکن اپنا جانور قربان کرنے سے پہلے اپنے اندر نمود و نمائش کے حیوان کے گلے پر چھری پھریں ' اپنی بے احتیاط اور لاابالی طبیعت اور غیر سنجیدہ مزاج کی گردن کاٹیں ' تاکہ بس آپ کے جانور کا خون بہے ' کسی ایسے انسان کا نہیں جس کا اس قربانی سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے - شکریہ قلم کی جسارت وقاص نواز -------------------------------------------------------- Noshi Gilani Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Fan

Dr Waqas Nawaz

20,233 görüntüleme • 4 ay önce

انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک خوبصورت تحفہ ہے اور اس زمین پر موجود رنگ برنگی نعمتیں اس پروردگار کا احسان ہیں۔ اکثر ہم ڈاکٹروں کے مشوروں اور ڈائٹ کے چکر میں آ کر ان حلال لذتوں کو خود پر حرام کر لیتے ہیں، مگر میرا ذاتی تجربہ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔​میں نے مسلسل پانچ سال تک اپنی زندگی کو سخت پہروں میں گزارا۔ گندم، چاول، چینی اور ہر قسم کے میٹھے سے مکمل کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ صرف یہی نہیں، بلکہ روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ پیدل چلنا اور پہاڑوں پر ہائیکنگ کرنا میرا معمول تھا۔ میری فیملی ہسٹری میں کبھی کسی کو دل کی تکلیف نہیں ہوئی تھی، اس لیے میں مطمئن تھا کہ میں مکمل محفوظ ہوں۔ لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اتنی سخت احتیاط اور ورزش کے باوجود مجھے 'ہارٹ اٹیک' کا سامنا کرنا پڑا۔​اس واقعے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ زندگی صرف پرہیز کا نام نہیں ہے۔ اگر آپ کو کوئی مشورہ دے کہ یہ مت کھاؤ وہ مت کھاؤ، تو یاد رکھیں کہ یہ مختصر سی زندگی اللہ کی نعمتوں سے منہ موڑنے کے لیے نہیں ملی۔ سموسے ہوں یا چنا چاٹ، نہاری ہو یا پائے، کابلی پلاؤ ہو یا گرما گرم بریانی اور مٹن تکہ—یہ سب اس رب کا رزق ہیں، انہیں خوش دلی اور شکر کے ساتھ کھایا کریں۔ قدرت کے پیدا کردہ پھلوں کا رس چکھیں اور چینی کے بجائے گڑ، شکر اور شہد کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوں۔​میرا مقصد یہ نہیں کہ انسان بے احتیاطی کرے، بلکہ میرا پیغام یہ ہے کہ خود کو محرومیوں کی قید میں نہ ڈالیں۔ اللہ کی نعمتوں پر پابندی لگا کر ہم وقت سے پہلے بوڑھے تو ہو سکتے ہیں، مگر تقدیر کو نہیں بدل سکتے۔ ہر چیز کھائیں، مگر اعتدال کے ساتھ اور ہر نوالے پر اس رب کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں ان ذائقوں سے نوازا۔​خوش رہیں، سب کچھ کھائیں اور زندگی کو بھرپور طریقے سے جئیں، کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں ملتی

Khadim Ali khan Yousaf zai

24,553 görüntüleme • 5 ay önce