Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اسد علی طور 🔥🔥🔥 اسٹیبلشمنٹ نے نون لیگ کو بتا دیا ہے کہ PTI کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے اور #نمرودلیگ بھی خوش ہے کہ PTI کا خاتمہ انکا آغاز ہوگا۔ لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ یہ MQM ٹائپ جماعت نہیں یہ قومی جماعت نہیں ہے۔ PTI...

124,664 görüntüleme • 10 ay önce •via X (Twitter)

23 Yorum

Noor profil fotoğrafı
Noor10 ay önce

ختم وہ پارٹی ہوتی ہے جو اسٹبلشمنٹ کی نرسری میں بنی ہوئے عوام سے آ نیوالی اٹھائیس سالہ جدوجہد والی نظریاتی جماعت کبھی ختم نہیں ہوتی

Muhammad Kamran Chughtai profil fotoğrafı
Muhammad Kamran Chughtai10 ay önce

جناب یہ ون پارٹی ملک ہی ہے، اور وہ پارٹی ہی ملک پچھلے 80 سالوں سے چلا رہی ہے، اور سیاسی پارٹیوں کا کردار NGO,s۔ سے زیادہ نہیں۔ یہی حقیقت تلخ ہے مگر ہے۔

Rationale Lover profil fotoğrafı
Rationale Lover10 ay önce

اسد علی طور کون ہیں؟ وہ فلسفی نہیں ہے۔ وہ صرف ایک سند یافتہ بیوقوف ہے۔ اس نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔ اپنی ہی مادر وطن پر بھونکنا اس شوق کے ذریعے ڈالر کمانا اس کا مشغلہ ہے۔ اس کے پاس تبصرہ کرنے کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔قوم ان کی گندی باتوں پر لعنت بھیجتی ہے۔

suhail anwar profil fotoğrafı
suhail anwar10 ay önce

Ye kamina kamzatf besharam admi hi

REAL-Patriotic-804™ profil fotoğrafı
REAL-Patriotic-804™10 ay önce

ye TLP or MQM nhi

Iran360Daily profil fotoğrafı
Iran360Daily10 ay önce

3 سال سے یہی سن رہے ہیں اور تحریک انصاف کا حال یہی ہے کہ آئندہ انے والے سالوں میں مزید برے حالات ہونگے تحریک انصاف کے

Saleem Arshad Kamal profil fotoğrafı
Saleem Arshad Kamal10 ay önce

اس طرح بولو پاشا اور فیض کی تیار کی گئی پارٹی بہت مقبول ہے ایوب اور ضیاء کی غیر مقبول ہے

Drfayyazahmad Shaheen profil fotoğrafı
Drfayyazahmad Shaheen10 ay önce

آپ جیسے کٹوروں کا کام ہے بکواس کرنا جب نیازی نے آپ کو تنا تھا پھر چیخیں کیوں نکلی تھیں

Maleer Khaskheli profil fotoğrafı
Maleer Khaskheli10 ay önce

نکل دگڑ دلے

Firdous chugjtai profil fotoğrafı
Firdous chugjtai10 ay önce

Sahi bulkul sahi

Muhammad Yasir Khan profil fotoğrafı
Muhammad Yasir Khan10 ay önce

جی جی ڈی چوک کے یوتھڑوں کا انقلاب ہم نے دیکھا ہے 3 دن لگا کر ڈی چوک پہنچتے ہیں ریاست 3 گھنٹے میں انکو بھگوڑا بنا دیتی ہے ۔ ڈی چوک کے یوتھڑوں کا انقلاب

🛣 مسافر profil fotoğrafı
🛣 مسافر10 ay önce

اس عمل سے اور نفرتوں میں اضافہ ہو گا۔ اور جنگی حالات میں عوام فوج کی مدد نہیں کرے گے۔

Travel Lover224 profil fotoğrafı
Travel Lover22410 ay önce

Sir Imran khan ki popularity unki apni party ne Kam Kar di or ab koi bhi Imran khan k liye bahir nikalne KO tayar Nahi ..

Muntaha Hussain profil fotoğrafı
Muntaha Hussain10 ay önce

Bukwas Mut kia kr

REAL-Patriotic-804™ profil fotoğrafı
REAL-Patriotic-804™10 ay önce

duffers should know

muhammad tanveer profil fotoğrafı
muhammad tanveer10 ay önce

Asad shram karo

Muhammad Ayaz profil fotoğrafı
Muhammad Ayaz10 ay önce

Drama

Shahid aftab profil fotoğrafı
Shahid aftab10 ay önce

یہی تو ھونا ھے تم عقل کے اندھے ھو پچھلے تین چار روز سے دیکھ نہیں رھے کہ فتنے خان کا نام ذھنی مریض اور کتا رکھ دیا گیا ھے پاکستان میں کتا جب زھنی مریض یا پاگل ھو جاتی تو اسے گولی مار دی جاتی ھے تاکہ اور لوگوں کو نہ کاٹے بس دیکھو بندوق یا پھندا آیا کہ آیا پو ٹی آئ بی بیں فتنہ پار

Nadir shah profil fotoğrafı
Nadir shah10 ay önce

یہ ملک کب کا ون پارٹی بلکہ نو پارٹی بن چکا ہے۔

Wali Aurakzai profil fotoğrafı
Wali Aurakzai10 ay önce

انشاءاللہ یہ سارے خود ختم اور نیست نابود ہو جائیں گے

Usman Malikⁱᴾⁱᵃⁿ profil fotoğrafı
Usman Malikⁱᴾⁱᵃⁿ10 ay önce

فرعون جیسا بھی تھا اس نے کبھی خود کو قوم کا "مسیحا" بنا کر پیش نہیں کیا تھا وہ خود کو فرعون ہی کہتا تھا

Usman Malikⁱᴾⁱᵃⁿ profil fotoğrafı
Usman Malikⁱᴾⁱᵃⁿ10 ay önce

PPP pmln آپ بھی بغیرت ہیں اور جو آپکے ہنڈلرز آپ کو لاے ہیں وہ بھی بغیرت ہیں 🖐🤣😂✌🖐🖐🖐🤣😂✌

Pir Emran profil fotoğrafı
Pir Emran10 ay önce

L

Benzer Videolar

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 görüntüleme • 15 gün önce

فوجیو آج تک ہمیں یہ یاد نہیں ہے کہ کبھی بھارت کی فوج نےبھی اپنی منتخب حکومت کے خلاف سازش کی ہو، یا ایک سائفر پر عوامی حکومت گرائی ہو،عدم اعتماد کے لیے منڈیاں لگائیں ہوں۔ میرا خیال ہے کہ نہیں کی ۔۔!! یہ ایک بیماری صرف پاکستانی فوج میں پھیلی ہوئی ہے کہ وہ اپنی منتخب حکومتوں کو گراتے ہیں۔ “تو یہ کام اچھے بھی نہیں لگتے۔” کیونکہ دوسرے ملکوں کو پھر فوج کی کمزوریوں کا، جرنیلوں کی کمزوریوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ وہ اسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جو ہمارے دشمن ممالک ہیں اسی طرح جرنیلوں سے فائدے اٹھاتے ہیں۔ یہ جرنیل ملک کے ساتھ کیسے ہے عوام کے ساتھ کیسے ہیں اسی کا وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔اورپھر مداخلت کرتے ہیں۔ فوجی نے بڑے اعتماد سے کہا: “اس سے کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں ہوتا!” فوجیو اس سے ملکوں کی معیشت تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ اس سے ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔اس سے ملک میں انصاف ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے ملک دہشتگردی اور عدم استحکام کی نظر ہو جاتا ہے۔اس سے ملک لوٹنے والے چوروں ڈاکوں کا نیٹورک مضبوط ہو جاتاہے۔ جس سے ایٹمی ملک کے اثاثےخطرے میں پڑ جاتے ہیں ۔ لیکن فوجی صاحب ٹھیک ہی فرما رہے تھے… “اس سے کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں ہوتا!”🙃

Rodium-A

27,287 görüntüleme • 2 ay önce

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,970 görüntüleme • 29 gün önce

مجھےبیس سال سے اوپر ہو گئے امریکا میں ۔ آج تک کسی شخص نے میرا مذہب نہیں پوچھا۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ پیشنٹس patients یا ان کے relatives یہ پوچھ لیتے ہیں کہ آپ کون سے ملک سے ہیں originally؟؟ اور وہ بھی Compliment یا تعریف کرنے کیلئے ۔ لوگوں کو اتنی بات سمجھ نہیں آتی کہ جو مذہب دوسروں سے نفرت سکھاتا ہے وہ صحیح یا سچا کیسے ہو سکتا ہے؟؟ کہیں پڑھا تھا کہ مذہب کے نام پر لوگ اتنی عبادت نہیں کرتے جتنی نفرت کرتے ہیں ۔ پاکستان کے معاملے میں یہ بات بالکل سچ ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ لوگ چاہے ملک سے باہر بھی چلے جائیں پھر بھی اسی جہالت اور غلاظت میں ڈوبے رہتے ہیں ۔ بجائے یہ کہ لوگوں کو ان کے آخلاق یا کردار پر پرکھا جائے ۔ مذہب تو ذاتی معاملہ ہے ۔ کوئی آپ کا مذہب مانتا ہے یا نہیں مانتا اس سے اس شخص کو کیسے پرکھا جا سکتا ہے؟؟ یہ لڑکی نفرت سے اس مذہب کا نام بھی نہیں لے رہی۔ یہاں لازمی طور پر احمدیوں کی بات ہو رہی ہے۔ خود کہ رہی ہے کہ وہ بہت اچھی لڑکی تھی اس کو انپسائر کرتی تھی۔ دوسری بات کہ ماں نے اس کو گالیاں دیں ۔ ضروری نہیں کہ ماں باپ کی ہر بات ٹھیک ہو۔ اپنے دماغ سے بھی سوچنا چاہئے ۔ اگر گورے ان کے ساتھ امریکا اور برطانیہ میں ایسا اچھوت والا سلوک کریں تو فوراً اسلاموفوبیا اسلاموفوبیاکا راگ الاپتے مظلوم بن جائیں گے ۔ اپنے ملک میں دوسری اقلیتوں کی زندگیاں جہنم بنائی ہوئی ہیں ۔ مذہبی نرگسیت Religious Narcissism اسی کو کہتے ہیں ۔ It’s a mental disorder ’ پورے پاکستان کو علاج یا تھیراپی کی ضرورت ہے ۔

Madiha

37,201 görüntüleme • 2 yıl önce