Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اسرائیل خود کو دنیا کا سب سے بڑا عیار اور مکار سمجھتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اپنی خفیا سازشوں اور ٹیکنالوجی کے زور پر وہ دنیا کو نچا سکتا ہے۔ لیکن جب اس مکار ریاست کا سامنا پاکستان سے ہوتا ہے، تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست...

36,258 görüntüleme • 4 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

آج یہودیوں کے ابو ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی ماس نے تقریر کی اور اس میں اس نے اسلامی ایٹمی طاقت کے خاتمے کا ذکر کیا۔ ▪️واحد اسلامی ایٹمی طاقت کون ہے اور اس کا محافظ کون ہے؟ یقینا پاکستان اور اس کی افواج ▪️یہودیوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہمیشہ سے نہ تو عرب سے کبھی خطرہ ہوا نہ ہی ایران سے۔ ڈیوڈ بن گوریان نے 1948 میں کہا تھا “ہمیں عربوں سے نہیں بلکہ پاکستان سے خطرہ ہے”۔ انہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی ان پر چڑھائی ہوئی تو وہ پاک فوج ہی ہو گی۔ اسی لیے تو ان کا ہمیشہ نشانہ پاک فوج رہی۔ یہ جانتے ہیں کے پاکستان کو صرف ایک طاقت نے جوڑے رکھا ہے اور وہ ہے پاک فوج۔ ▪️مہاتما عمران ان کا ترپ کا پتہ ہے، اسی لیے تو یہ ٹرمپ کو ابو بنا کر اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ ابو آئیں گے اور ہمیں بچائیں گے۔ مہاتما اور اس کے حواریوں کا نشانہ بھی صرف پاک فوج ہے۔ ▪️لیکن یہ جانتے نہیں کہ یہ محمدی فوج ہے اور اس کا رکھوالا اللہ تعالی کی ذات ہے۔ یہ لاکھ مکر کر لیں چالیں چل لیں انشاللہ ان کا ہر مکر اور ہر چال ان کے منہ پر دے ماری جائے گی

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

53,523 görüntüleme • 2 yıl önce

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,120 görüntüleme • 1 ay önce

پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو حیران کیا ھے۔ دنیا میں SLBM آبدوز سے دشمن کو ایٹمی میزائل نشانہ بنانے کی صلاحیت صرف چھ ممالک کے پاس تھی اب الحمداللہ پاکستان یہ طاقت حاصل کر چکا ھے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ پاکستان ذیر ذمیں اٹیمی تجربات کر رہا ہے۔ پاکستان نےسمندر کی گہراییون سے فائر ہونے والے بابر تھری کا کامیاب تجرب کر کےجنوبی ایشیا میں جنگ کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، یہ کوئی عام ہتھیار نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ کا مرکزی ستون ہے، ایسا ہتھیار جسکی طاقت شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں چھپی ہے، اور جس کا خوف حملے میں نہیں بلکہ اس کے جواب کے یقین میں ہے۔ بابر-3 ایک سب میرین لانچڈ کروز میزائل ہے، یعنی یہ زمین یا فضا سے نہیں بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود آبدوز سے فائر ہوتا ہے، جہاں دشمن کی آنکھ، ریڈار اور سیٹلائٹ سب بے بس ہو جاتے ہیں، دشمن کو نہ آبدوز کی جگہ معلوم ہوتی ہے، نہ اس لمحے کا علم ہوتا ہے جب حملہ ہوگا، اور نہ ہی اس سمت کا اندازہ ہوتا ہے جہاں سے تباہی آئے گی، یہی غیر یقینی کیفیت دشمن کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔ دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبدوز سے فائر ہونے والا نیوکلیئر میزائل کسی بھی ملک کی سب سے محفوظ اور مؤثر جوابی طاقت ہوتا ہے، کیونکہ دشمن زمینی اڈوں، فضائی بیسز اور میزائل سائٹس کو تو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا سکتا ہے، مگر سمندر کی تہہ میں چھپی آبدوز کو نہ ختم کر سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ بابر-3 کی رینج تقریباً 450 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، یہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہے، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کے قابل ہے، لیکن اس کی اصل خطرناکی اس کے دھماکے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ دشمن کبھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا جوابی وار ختم ہو چکا ہے۔ اگر دشمن پہلا حملہ کرتا ہے اور یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے پاکستان کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں وہ سب سے بڑی غلطی کرتا ہے، کیونکہ بابر-3 کی موجودگی اس سوچ کو دفن کر دیتی ہے اور یہ واضح کر دیتی ہے کہ پاکستان حملے کے بعد بھی جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اسی صلاحیت کو فوجی زبان میں سیکنڈ اسٹرائیک کیپیبلٹی کہا جاتا ہے، دنیا کے تھنک ٹینکس اور دفاعی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ یہی صلاحیت کسی بھی ریاست کو ناقابلِ شکست ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے۔ دشمن ممالک کے میڈیا اور دفاعی حلقے کھل کر لکھتے ہیں کہ پاکستان نے بابر-3 کے ذریعے اپنی نیوکلیئر ڈیٹرنس کو مکمل کر لیا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس زمین، فضا اور سمندر تینوں سطحوں پر جوابی طاقت موجود ہے، اور یہی توازن جنگ کو روکنے کی سب سے بڑی ضمانت بنتا ہے۔ سادہ الفاظ میں بابر-3 حملہ کرنے کا ہتھیار نہیں بلکہ دشمن کو حملے سے باز رکھنے کا اعلان ہے، یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کا انجام دشمن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے بابر-3 کو دنیا کی نظر میں خطرناک، سنجیدہ اور فیصلہ کن ہتھیار بنا دیا ہے۔ #پاکستان_زندہ_باد🇵🇰

چوہدری شاہد محمود

21,855 görüntüleme • 6 ay önce

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,590 görüntüleme • 3 yıl önce

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 görüntüleme • 4 ay önce

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 görüntüleme • 2 yıl önce