Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اسرائیل خود کو دنیا کا سب سے بڑا مکار سمجھتا ہے، لیکن جب اس کا سامنا پاکستان سے ہوتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست اور سیاسی چالیں کیسے کھیلی جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے بانیانِ اسرائیل میں سے ایک، ڈیوڈ بن گوریان، نے کہا تھا: پاکستان...

120,494 просмотров • 4 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

آج یہودیوں کے ابو ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی ماس نے تقریر کی اور اس میں اس نے اسلامی ایٹمی طاقت کے خاتمے کا ذکر کیا۔ ▪️واحد اسلامی ایٹمی طاقت کون ہے اور اس کا محافظ کون ہے؟ یقینا پاکستان اور اس کی افواج ▪️یہودیوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہمیشہ سے نہ تو عرب سے کبھی خطرہ ہوا نہ ہی ایران سے۔ ڈیوڈ بن گوریان نے 1948 میں کہا تھا “ہمیں عربوں سے نہیں بلکہ پاکستان سے خطرہ ہے”۔ انہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی ان پر چڑھائی ہوئی تو وہ پاک فوج ہی ہو گی۔ اسی لیے تو ان کا ہمیشہ نشانہ پاک فوج رہی۔ یہ جانتے ہیں کے پاکستان کو صرف ایک طاقت نے جوڑے رکھا ہے اور وہ ہے پاک فوج۔ ▪️مہاتما عمران ان کا ترپ کا پتہ ہے، اسی لیے تو یہ ٹرمپ کو ابو بنا کر اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ ابو آئیں گے اور ہمیں بچائیں گے۔ مہاتما اور اس کے حواریوں کا نشانہ بھی صرف پاک فوج ہے۔ ▪️لیکن یہ جانتے نہیں کہ یہ محمدی فوج ہے اور اس کا رکھوالا اللہ تعالی کی ذات ہے۔ یہ لاکھ مکر کر لیں چالیں چل لیں انشاللہ ان کا ہر مکر اور ہر چال ان کے منہ پر دے ماری جائے گی

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

53,523 просмотров • 2 лет назад

پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو حیران کیا ھے۔ دنیا میں SLBM آبدوز سے دشمن کو ایٹمی میزائل نشانہ بنانے کی صلاحیت صرف چھ ممالک کے پاس تھی اب الحمداللہ پاکستان یہ طاقت حاصل کر چکا ھے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ پاکستان ذیر ذمیں اٹیمی تجربات کر رہا ہے۔ پاکستان نےسمندر کی گہراییون سے فائر ہونے والے بابر تھری کا کامیاب تجرب کر کےجنوبی ایشیا میں جنگ کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، یہ کوئی عام ہتھیار نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ کا مرکزی ستون ہے، ایسا ہتھیار جسکی طاقت شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں چھپی ہے، اور جس کا خوف حملے میں نہیں بلکہ اس کے جواب کے یقین میں ہے۔ بابر-3 ایک سب میرین لانچڈ کروز میزائل ہے، یعنی یہ زمین یا فضا سے نہیں بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود آبدوز سے فائر ہوتا ہے، جہاں دشمن کی آنکھ، ریڈار اور سیٹلائٹ سب بے بس ہو جاتے ہیں، دشمن کو نہ آبدوز کی جگہ معلوم ہوتی ہے، نہ اس لمحے کا علم ہوتا ہے جب حملہ ہوگا، اور نہ ہی اس سمت کا اندازہ ہوتا ہے جہاں سے تباہی آئے گی، یہی غیر یقینی کیفیت دشمن کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔ دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبدوز سے فائر ہونے والا نیوکلیئر میزائل کسی بھی ملک کی سب سے محفوظ اور مؤثر جوابی طاقت ہوتا ہے، کیونکہ دشمن زمینی اڈوں، فضائی بیسز اور میزائل سائٹس کو تو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا سکتا ہے، مگر سمندر کی تہہ میں چھپی آبدوز کو نہ ختم کر سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ بابر-3 کی رینج تقریباً 450 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، یہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہے، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کے قابل ہے، لیکن اس کی اصل خطرناکی اس کے دھماکے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ دشمن کبھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا جوابی وار ختم ہو چکا ہے۔ اگر دشمن پہلا حملہ کرتا ہے اور یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے پاکستان کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں وہ سب سے بڑی غلطی کرتا ہے، کیونکہ بابر-3 کی موجودگی اس سوچ کو دفن کر دیتی ہے اور یہ واضح کر دیتی ہے کہ پاکستان حملے کے بعد بھی جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اسی صلاحیت کو فوجی زبان میں سیکنڈ اسٹرائیک کیپیبلٹی کہا جاتا ہے، دنیا کے تھنک ٹینکس اور دفاعی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ یہی صلاحیت کسی بھی ریاست کو ناقابلِ شکست ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے۔ دشمن ممالک کے میڈیا اور دفاعی حلقے کھل کر لکھتے ہیں کہ پاکستان نے بابر-3 کے ذریعے اپنی نیوکلیئر ڈیٹرنس کو مکمل کر لیا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس زمین، فضا اور سمندر تینوں سطحوں پر جوابی طاقت موجود ہے، اور یہی توازن جنگ کو روکنے کی سب سے بڑی ضمانت بنتا ہے۔ سادہ الفاظ میں بابر-3 حملہ کرنے کا ہتھیار نہیں بلکہ دشمن کو حملے سے باز رکھنے کا اعلان ہے، یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کا انجام دشمن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے بابر-3 کو دنیا کی نظر میں خطرناک، سنجیدہ اور فیصلہ کن ہتھیار بنا دیا ہے۔ #پاکستان_زندہ_باد🇵🇰

چوہدری شاہد محمود

21,855 просмотров • 7 месяцев назад