Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

سعودی عرب نے عاصم منیر اور اس کے اردلی کو سعودیہ بلایا تھا سعودی پالیسی ایڈوائزر نے CBC کو انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم پاکستان کو اس جنگ میں شامل کر سکتے ہیں ہمارا ان سے دفاعی معائدہ ہے اور ہمارے پاس پاکستان نیوکلیئر بم کا ہتھیار بھی...

36,964 views • 6 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 14 اگست کے روز منعقدہ تقریب سے خطاب "اب اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس ملک کو فتنے سے ، فساد سے ، انتشار سے اور نفرت کی سیاست سے ہم لوگوں نے اس کو دور رکھنا ہے اس کو محبت سے سینچنا ہے اپنے تمام جذبات کو اور اس کی تمام جو یکجہتی ہے اکائیاں ہیں ان اکائیوں کو یکجا کر کے رکھنا ہے ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاص محبت اور ادب کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام عالم میں ان پچھلے دو سالوں میں پاکستان نے جو چیزیں حاصل کیں ہیں اور دفاعی لحاظ سے بھی اور سفارتی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر خاص کرم کیا اور ہمیں امن کا نمائندہ بنا کر دنیا میں اجاگر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی کرم نوازی ہے اس کی بڑی رحم دلی ہے otherwise کسی زمانے میں پاکستان کا اس طرح کا کوئی نام نہیں تھا ممتاز حیثیت نہیں تھی یہ ممتاز حیثیت ہمیں پچھلے دنوں ہمارے ڈپلومیٹک رویے اور کاوشیں جو ہمارے ان لوگوں سفارت کاروں نے کیں ان کے وجہ سے پاکستان اس وقت ممتاز حیثیت رکھتا ہے دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا اور یہ سوچا تھا کہ اقوام عالم میں صرف مسلم مملک اکٹھے ہو کر چلیں "

Saqib Bashir

136,223 views • 1 month ago

🚨🚨 بریکینگ نیوز : سعودیہ عرب نے پاکستان کے ساتھ ہی معاہدہ کیوں کیا؟؟؟, شہبازگل نے اصل کہانی بتادی ۔!!!!🔥🔥🔥 ایک ایکسکلوزیو خبر آپکے سامنے رکھتے ہیں،خبر ہے یورو نیوز کی, یورو نیوز یہ بتاتا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کرنے جا رہا ہے ۔ یورو نیوز یہ لکھتا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر دونوں چھ تاریخ کو سعودیہ عرب پہنچے ۔ اور آج سات تاریخ کو اس معاہدے پر دستخط ہونگے, کیونکہ ترکش پریزیڈنٹ اردوگان بھی آج سعودیہ عرب پہنچ رہے ہیں ۔!!!! اب یہ بہت ہی امپورٹنٹ مسئلہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ تو سعودیہ عرب کا دفاعی معاہدہ تھا، تو آپکے ذہنوں میں سوال ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہی کیوں؟ کسی اور کے ساتھ سعودیہ عرب نے کیوں نہیں کیا۔؟ اور تو اور سعودیہ عرب کے پاس جب امریکہ جیسا ملک ہے جو سعودیہ عرب کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہے اور انکی بیسیس بھی وہاں ہیں ۔ تو پھر پاکستان سے معاہدہ کیوں یہ آپکے ذہنوں میں سوال ہونگے ۔ اور پھر ترکی وہ اس میدان میں کیوں آگئے ہیں؟ جب پاکستان موجود ہے تو پھر وہ معاہدہ کیوں کر رہے ہیں؟ تو سب سے پہلے پاکستان سے معاہدہ کیوں ہے اس پر تھوڑی روشنی ڈالتے ہیں ۔ آپکو یاد ہوگا حال ہی میں ہم نے سعودیہ عرب سے چھ اعشاریہ سات ارب ڈالر مانگے تھے ۔ اس سے پہلے بھی ہم نے مانگے ہیں ۔ مزید ہم نے چھ اعشاریہ سات ارب ڈالر مانگیں کہ ہمیں کم قیمت میں دے دیجئے ۔ اور حال ہی میں ہم نے امریکہ سے بھی دس ارب ڈالر مانگے ۔ اب ہم اتنے پیسے کیوں مانگ رہے ہیں؟ اور وہ ہمیں کیوں دینگے.؟ میں نے جیسے پہلے کہا سعودیہ عرب کے پاس امریکہ ہے انکی حفاظت کرنے کیلئے ۔ ہمارے ساتھ وہ معاہدہ کیوں کرینگے جب امریکہ کی فوجی بیسیس وہاں ہے اور انکے فوجی بھی ہیں ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اسلحہ ہے، ٹیکنالوجی ہے، راکٹ ہے، میزائل ہے، سب کچھ ہے لیکن امریکہ اپنے فوجیوں کو کسی اور کیلئے مروانا نہیں چاہتا ۔ سعودیہ عرب کے پاس تیل ہے، پیسہ ہے، لیکن انکے پاس بھی مروانے کیلئے فوجی نہیں ہے۔ ہمارے پاس نا پیسہ ہے، نا تیل ہے، نا ٹیکنالوجی ہے، نا اکنامی ہے ، نا معیشت ہے، کچھ نہیں ہے ہمارے پاس ۔ ہمارے پاس کیا ہے؟ ہمارے پاس آبادی ہے، دھرا دھر ہم آبادی بڑھا رہے ہیں ۔ اور اسکے بیسیس پر چوہدری صاحب نئے لوگوں کو بھرتی کر سکتے ہیں ۔ اور ہمارے پاس ان ماؤں کے بیٹے ہیں جنہیں ہم ان سرحدوں پر بھیج سکتے ہیں جہاں پر وہ اپنی جانیں پیش کریں۔🚨🚨🔥

Anisha KHAN

28,065 views • 1 month ago

چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق اس دور کے امریکی صدر ریگن کی چاپلوسی کیا کرتے تھے امریکہ کی جنگ میں پاکستان کو زبردستی ضیاء الحق نے گھسایا، عمران خان ہمیشہ سے جنگوں کے خلاف ہیں اور ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ہمیں پرائی جنگ میں نہیں کودنا چاہیئے، آج پھر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چاپلوسی کرتا ہے اس نے افغانستان پر زبردستی حملہ کر دیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بگرام ایئر بیس ہمارے پاس ہونی چاہیے تھی اور اگر ہم یہاں سے ایران پر حملہ کرتے تو ایران کی حکومت کو اور اس کے ملک کو تباہ کر سکتے تھے، آج اسی چاپلوسی میں یہ جنگ شروع کر دی گئی ہے اور پاکستان پھر پرائی جنگ میں کود گیا ہے، خواجہ آصف آج عاصم منیر کا چمچہ بنا ہوا ہے جس طرح اس کے والد ضیاء الحق کے چمچے تھے اور وہی چیز دھرائی جا رہی ہے، یہ چمچہ کلچر پاکستان کے اندر تباہی و بربادی کا ذریعہ بن رہا ہے، ضیاء الحق کو پرائی جنگ میں کودنے سے کیا ملا تھا؟ معیشت اس نے تباہ کر دی پاکستان میں ہیروئین کلچر لے کے آ گیا کلاشن کوف کلچر لے کے آ گیا، افغانستان کی سپریم کورٹ کے اعظم شیخ مولوی عبد الرؤف نے پاکستان کے خلاف لڑنا جہاد قرار دے دیا ہے اور افغان نوجوانوں کو کہا ہے کہ ہم پہ جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور اپنے ملک کا دفاع اب ہم نے کر دیا ہے اور یہ ایک جہاد ہے، دونوں طرف سے جہاد کے فتوے آ رہے ہیں دونوں طرف مسلمان ہیں اور بے مقصد جنگ، دوسرے کی جنگ پاکستان نے شروع کر دی ہے تو پھیل رہی ہے، کیا دہشتگردی بگرام ایئر بیس امریکہ کو دینے سے ختم ہو جائے گی؟ #PakAfghanConflict #FascismUnderAsimLaw

Qasim Khan Suri

10,252 views • 6 months ago

ایک ایسے معاہدے پر ہم جشن منا رہے ہیں کہ جس کی تفصیلات کا حکومت پاکستان کو علم ہی نہیں ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب معاہدے کا نہیں پتہ کہ یہ دراصل ہے کیا، وفاقی کابینہ کو معاہدے کا نہیں پتہ، حکومتی وزراء سے بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ اس معاہدے میں کیا لکھا ہوا ہے، حکومتی چینلز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس معاہدے کو آپ نے مذہبی رنگ نہیں دینا یعنی قوم کو کچھ اور بتانا چاہتے ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا کوئی اسلامی اتحاد نہیں بن رہا نہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ NATO طرز کا کوئی اتحاد ہے اور نہ اس میں یہ تاثر جانا چاہیے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کہیں ترکی یا سعودی عرب کے کام آ سکتی ہے، حکومتی کنٹرولڈ میڈیا کو خاص طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ آپ نے اس طرف نہیں جانے دینا، کسی کو بھی نہیں پتہ کہ یہ معاہدہ ہے کیا، ایک انڈرسٹینڈنگ یہ ہے کہ شاید یہ معاہدہ دہشتگردی کے خلاف ہے کیونکہ تینوں ممالک اپنے کو دھشتگردی سے متاثرہ قرار دیتے ہیں، درحقیقت یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب ایک دھشتگرد تنظیم سمجھتا ہے اور انہیں حوثی باغی کہا جاتا ہے تو ان کے خلاف ایک مشترکہ فوجی محاذ کھڑا ہو گا، لیکن کابینہ اور پارلیمان کو معاہدے کی تفصیلات نہ بتانا بہت بڑی غفلت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کابینہ اور پارلیمان کے بغیر کیا گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کہتا ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں تو کیا سعودی عرب نے افغانستان کے ساتھ جنگ کو اپنے ملک پر حملہ قرار دیا؟ کٹھ پُتلی پارلیمنٹ فارم 47 پر بنی ہوئی ہے اور اردلی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اتنی اوقات اور سکت نہیں ہے کہ عاصم منیر سے کہہ سکے کہ ہمیں کم از کم پارلیمان سے یہ معاہدہ گزارنے اور منظور کرانے دو۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

18,165 views • 1 month ago