正在加载视频...

视频加载失败

اسلام آباد: Gerry's Visa Application Centre دفتر کے باہر مبینہ نیٹ ورک سرگرم، فوٹو کاپی کا 26 ہزار بنتا ہے آپ 2 ہزار دے دو شہری اضافی رقم دینے پر مجبور ذرائع ذرائع کے مطابق Gerry's Visa Application Centre کے دفتر کے باہر مبینہ طور پر غیر رسمی ایجنٹس...

41,332 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

بی ایل اے کا افغانستان میں چینی کمپنی پر حملہ،5 چینی ورکر ہلاک افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چہ آب میں ایک چینی مائننگ کمپنی کے کیمپ پر حملے کے نتیجے میں پانچ چینی شہری ہلاک جبکہ متعدد کارکن اغوا کر لیے گئے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد کا تعلق ڈایولونگ زیرین مائننگ کمپنی سے تھا۔ حملہ آوروں نے کمپنی کی پروسیسنگ یونٹ کو آگ لگا دی، جس کے باعث تمام مشینری اور آلات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ بلوچستان انسائیٹ کے ذرائع کے مطابق یہ کارروائی افغانستان میں سرگرم کالعدم بی ایل اے کے بشیر زیب گروپ اور مجید بریگیڈ نیٹ ورک کی ایماء پر کی گئی، جنہیں طالبان کی جانب سے سہولت کاری اور تحفظ حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق افغان سرزمین پاکستان اور چین کے مفادات کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حملے کا مقصد چین کے اقتصادی مفادات کو نشانہ بنانا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ واقعے کے بعد چینی شہریوں کی سکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

Balochistan Insight

19,054 次观看 • 6 个月前

وزیر اعلی صاحب پلیز اسکی انکوائری کیجائے🚨 پشاور تھانہ خزانہ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری پر عوام برہم، تھانے کے باہر احتجاج پشاور (کامران گل ) تھانہ خزانہ کے ایس ایچ او کی جانب سے مبینہ طور پر ایک شہری کو بغیر کسی ٹھوس الزام کے حراست میں لینے پر علاقے کے عوام مشتعل ہوگئے اطلاعات کے مطابق گرفتار شخص کسٹم افسر اور ریٹائرڈ آرمی اہلکار کے گھر آیا ہوا مہمان تھا، جسے پولیس نے "شک کی بنیاد پر" تھانے منتقل کیاواقعے کی اطلاع ملتے ہی درجنوں مقامی افراد تھانے کے باہر جمع ہوگئے اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیامشتعل شہریوں کا کہنا تھا کہ بغیر کسی ثبوت یا ایف آئی آر کے کسی مہمان کو گرفتار کرنا اختیارات کا ناجائز استعمال ہے !! ذرائع کے مطابق تھانے کے اندر بھی صورتحال کشیدہ رہی اور اہلکاروں کو عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے !!

Mohammad Shehzad Khan

30,316 次观看 • 9 个月前

سمگلر نامزد وزیراعلی خیبرپختونخوا کے کرتوت دنیا کے سامنے‼️ نامزد وزیراعلیٰ پر سنگین الزامات بھائی کی گاڑی سے منشیات برآمدگی کا انکشاف‼️ نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر منشیات اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حیات آباد پولیس نے کارخانو چیک پوسٹ پر ایک مشکوک گاڑی کو روکا جسے مبینہ طور پر سہیل آفریدی کے بھائی عامر آفریدی چلا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق گاڑی کی تلاشی کے دوران 20 کلو گرام آئس اور مبینہ طور پر ڈانس پارٹی میں استعمال ہونے والی ممنوعہ اشیاء برآمد ہوئیں۔ تاہم یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس معاملے کو دبا دیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او حیات آباد طارق نے مبینہ طور پر سی سی پی او قاصم علی خان کو اطلاع دی کہ گاڑی میں منشیات کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے مگر بعد ازاں مبینہ حکم پر ملزم کو رہا کر دیا گیا۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سہیل آفریدی اکثر اسلام آباد کے دورے کرتے ہیں جہاں وہ مبینہ طور پر ایک معروف اسمگلر ابراہیم شنوری سے ملاقات کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطر میں گرفتار حماد نامی ایک ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے سہیل آفریدی کی جانب سے ہر ٹرپ کے 10 لاکھ روپے ملتے تھے، اور وہ سعودی عرب کے لیے دو ٹرپس بھی کر چکا ہے۔

PakVocals

64,301 次观看 • 9 个月前

اسلام آباد: خاتون صحافی روخانہ رحیم وزیر اور خاندان کی مبینہ بے دخلی، انسانی حقوق پر سنگین سوالات اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خاتون صحافی اور کالم نگار روخانہ رحیم وزیر اور ان کے خاندان کو مبینہ طور پر ڈی پورٹ کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں فارن ایکٹ کی دفعہ 14-A کے تحت آج کیمپ میں زبردستی انگوٹھے لگوائے جا رہے ہیں اور براہِ راست طورخم بارڈر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ روخانہ رحیم وزیر کا تعلق وزیرستان سے بتایا جاتا ہے اور وہ اسلام آباد میں قائم “نوے ژوند ادبی، ثقافتی و فلاحی تنظیم” کی پریس سیکرٹری بھی ہیں۔ وہ آئی بی سی اردو IBC URDU کی مستقل کالم نگار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا خاندان گزشتہ تین ماہ سے شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث افغان مہاجر ہونے کے شبے میں سی ٹی ڈی اسلام آباد کی تحویل میں حاجی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ان کی باقی فیملی پاکستانی ہے ہے یہ افغانی ، عجیب صورتحال ہے ۔ اس پیش رفت نے انسانی حقوق کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ قانونی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا کسی پاکستانی شہری کو محض شبے کی بنیاد پر اپنے ہی ملک سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ ناقدین کے مطابق اگر ایسا ہے تو یہ اقدام آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ سماجی و صحافتی حلقوں کی جانب سے اربابِ اختیار اور ریاستی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی کو فی الفور روکا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کے طور پر زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

Sabookh Syed | Journalist

25,358 次观看 • 4 个月前

گلگت بلتستان اپڈیٹ ۔۔۔ چیف کوآرڈینیٹر کے پی زبیر احمد قریشی اور چیف ماسٹر ٹرینر اور صدر شاہ زیب خان کی جانب سے نہایت افسوس اور شدید تشویش کے ساتھ یہ بیان جاری کیا جاتا ہے کہ ہمیں مختلف پولنگ اسٹیشنز سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشنز کے اندر سے باہر نکالا جا رہا ہے اور انہیں فارم 45 اور فارم 46 فراہم نہیں کیے جا رہے۔ یہ صورتحال نہایت سنجیدہ اور قابلِ تشویش ہے، کیونکہ شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ تمام پولنگ ایجنٹس کو اپنے قانونی اختیارات کے مطابق مکمل رسائی اور ضروری دستاویزات فراہم کی جائیں۔ ہم الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا جائے، تمام پولنگ ایجنٹس کو ان کے حقوق کے مطابق فارم 45 اور 46 کی کاپیاں فراہم کی جائیں، اور انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا سکتی ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ بصورتِ دیگر احتجاج پر مجبور ہونگے

PTI Gilgit Baltistan

14,283 次观看 • 1 个月前

اسلام آباد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پاکستان میں موجود بعض چائنیز ویلاگرز اور منظم گروہوں کے غیر قانونی نیٹ ورکس نے سنگین نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو کر نہ صرف ملکی قوانین بلکہ سماجی اقدار کو بھی کھلے عام پامال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گروہ مختلف لائیو براڈ کاسٹنگ ایپس کے ذریعے خانہ بدوش اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جہاں لائیو نشریات کے دوران مبینہ طور پر کلائنٹس تلاش کیے جاتے ہیں اور مالی لین دین کو مونوٹائزیشن کے نام پر جائز رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان لائیو ویڈیوز میں امداد کے نام پر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے، جبکہ پس پردہ بچیوں کی خرید و فروخت، سمگلنگ اور انہیں چین میں شادیوں کا جھانسا دے کر استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ بعض ویڈیوز میں لڑکیوں کے بارے میں یہ یقین دہانیاں بھی کروائی جاتی ہیں کہ وہ پیسوں کے بدلے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، جو نہ صرف انسانی وقار بلکہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورکس مختلف شہروں میں سرگرم ہیں اور سادہ لوح خاندانوں کو معاشی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔ لائیو براڈ کاسٹنگ کے ذریعے بنائی جانے والی ان ویڈیوز کے نتیجے میں پاکستان کا تشخص چین سمیت عالمی سطح پر شدید متاثر ہو رہا ہے، جبکہ سیاحتی انڈسٹری کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے بھی متعلقہ حکام کو ان سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا، تاہم تاحال کسی مؤثر کارروائی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ سرگرمیاں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 449 سمیت متعدد قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، مگر بدقسمتی سے سائبر کرائم سے نمٹنے والے ادارے اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان لائیو ایپس کی نگرانی سخت کی جائے، ملوث غیر ملکی اور مقامی عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور بچیوں کے استحصال میں ملوث نیٹ ورکس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے بلکہ پاکستان کے وقار اور سماجی اقدار کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے۔ Federal Investigation Agency - FIA Mohsin Naqvi #Pakistan
1:55

Sensitive content

اسلام آباد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پاکستان میں موجود بعض چائنیز ویلاگرز اور منظم گروہوں کے غیر قانونی نیٹ ورکس نے سنگین نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو کر نہ صرف ملکی قوانین بلکہ سماجی اقدار کو بھی کھلے عام پامال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گروہ مختلف لائیو براڈ کاسٹنگ ایپس کے ذریعے خانہ بدوش اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جہاں لائیو نشریات کے دوران مبینہ طور پر کلائنٹس تلاش کیے جاتے ہیں اور مالی لین دین کو مونوٹائزیشن کے نام پر جائز رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان لائیو ویڈیوز میں امداد کے نام پر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے، جبکہ پس پردہ بچیوں کی خرید و فروخت، سمگلنگ اور انہیں چین میں شادیوں کا جھانسا دے کر استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ بعض ویڈیوز میں لڑکیوں کے بارے میں یہ یقین دہانیاں بھی کروائی جاتی ہیں کہ وہ پیسوں کے بدلے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، جو نہ صرف انسانی وقار بلکہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورکس مختلف شہروں میں سرگرم ہیں اور سادہ لوح خاندانوں کو معاشی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔ لائیو براڈ کاسٹنگ کے ذریعے بنائی جانے والی ان ویڈیوز کے نتیجے میں پاکستان کا تشخص چین سمیت عالمی سطح پر شدید متاثر ہو رہا ہے، جبکہ سیاحتی انڈسٹری کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے بھی متعلقہ حکام کو ان سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا، تاہم تاحال کسی مؤثر کارروائی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ سرگرمیاں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 449 سمیت متعدد قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، مگر بدقسمتی سے سائبر کرائم سے نمٹنے والے ادارے اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان لائیو ایپس کی نگرانی سخت کی جائے، ملوث غیر ملکی اور مقامی عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور بچیوں کے استحصال میں ملوث نیٹ ورکس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے بلکہ پاکستان کے وقار اور سماجی اقدار کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے۔ Federal Investigation Agency - FIA Mohsin Naqvi #Pakistan

Razi Tahir

33,825 次观看 • 7 个月前