正在加载视频...
视频加载失败
اسلام آباد: Gerry's Visa Application Centre دفتر کے باہر مبینہ نیٹ ورک سرگرم، فوٹو کاپی کا 26 ہزار بنتا ہے آپ 2 ہزار دے دو شہری اضافی رقم دینے پر مجبور ذرائع ذرائع کے مطابق Gerry's Visa Application Centre کے دفتر کے باہر مبینہ طور پر غیر رسمی ایجنٹس... show more
41,332 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)
0 条评论
暂无评论
原始帖子的评论将显示在这里
相关视频
1:55
Sensitive content
اسلام آباد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پاکستان میں موجود بعض چائنیز ویلاگرز اور منظم گروہوں کے غیر قانونی نیٹ ورکس نے سنگین نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو کر نہ صرف ملکی قوانین بلکہ سماجی اقدار کو بھی کھلے عام پامال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گروہ مختلف لائیو براڈ کاسٹنگ ایپس کے ذریعے خانہ بدوش اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جہاں لائیو نشریات کے دوران مبینہ طور پر کلائنٹس تلاش کیے جاتے ہیں اور مالی لین دین کو مونوٹائزیشن کے نام پر جائز رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان لائیو ویڈیوز میں امداد کے نام پر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے، جبکہ پس پردہ بچیوں کی خرید و فروخت، سمگلنگ اور انہیں چین میں شادیوں کا جھانسا دے کر استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ بعض ویڈیوز میں لڑکیوں کے بارے میں یہ یقین دہانیاں بھی کروائی جاتی ہیں کہ وہ پیسوں کے بدلے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، جو نہ صرف انسانی وقار بلکہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورکس مختلف شہروں میں سرگرم ہیں اور سادہ لوح خاندانوں کو معاشی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔ لائیو براڈ کاسٹنگ کے ذریعے بنائی جانے والی ان ویڈیوز کے نتیجے میں پاکستان کا تشخص چین سمیت عالمی سطح پر شدید متاثر ہو رہا ہے، جبکہ سیاحتی انڈسٹری کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے بھی متعلقہ حکام کو ان سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا، تاہم تاحال کسی مؤثر کارروائی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ سرگرمیاں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 449 سمیت متعدد قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، مگر بدقسمتی سے سائبر کرائم سے نمٹنے والے ادارے اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان لائیو ایپس کی نگرانی سخت کی جائے، ملوث غیر ملکی اور مقامی عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور بچیوں کے استحصال میں ملوث نیٹ ورکس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے بلکہ پاکستان کے وقار اور سماجی اقدار کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے۔ Federal Investigation Agency - FIA Mohsin Naqvi #Pakistan
Razi Tahir
33,825 次观看 • 7 个月前
