Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اسلام اباد دی کبوتری پھڑا بیٹھا ہاں ۔۔ یہ ہے بھولا ریکارڈ ہے جسکا دھندہ نائیٹ پارٹیز ارینج کروانا دوسرااس کا دھندہ چٹی دلالی کا ہے کسی فنکشن کیلے یا پھر رات گزارنے کیلے لڑکی چاہیے تو یہ خود دنیا کہ جس کونے میں ہو لڑکی پہنچ جاے گی...

39,533 views • 2 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

دیکھو اپنے فیورٹ فیملی وی لاگر کے کام ۔یہ رجب بٹ جیسے پاکستان کی فیملیزبہت شوق سے دیکھتی ہیں ۔۔۔ کیسے قرانی ایت کا مذاق اڑارہا ہے پہلے بھی اس پر اسطرح کے انزام ہیں مگر عوام ہر بار اس کو معاف کر دیتی ہے ۔۔۔ مگر اب تو قرانی ایت کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔ یہ ویڈیو اور یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد فیصلہ اپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔ کیا یہ شخص قابل معافی ہے ۔۔ یہ اللہ کا حکم سنیے اس بارے میں خدارا اس پر اواز اٹھایے ۔۔ سورۃ التوبہ، آیت 65–66 ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کے بعد کفر کر بیٹھے ہو۔ 2. سورۃ النساء، آیت 140 ترجمہ: “تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو اُن کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ سورۃ الانعام، آیت 68 ترجمہ: “اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں لغویات میں پڑ رہے ہیں (یعنی مذاق یا بحثِ باطل میں)، تو اُن سے منہ موڑ لو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوں۔ سورۃ الزمر، آیت 56 ترجمہ: “کہیں کوئی جان یہ نہ کہے: افسوس ہے مجھ پر کہ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی، حالانکہ میں (اللہ کی آیات کے) مذاق اُڑانے والوں میں سے تھا ۔ سورۃ الجاثیہ، آیت 9 ترجمہ: “اور جب وہ ہماری آیات میں سے کچھ سنتا ہے تو انہیں مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ لقمان، آیت 6 ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ الکہف، آیت 106 ترجمہ: “یہی ان کی جزا ہے — جہنم — اس سبب سے کہ انہوں نے میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا۔

Saleem Speaks

54,770 views • 9 months ago

گولی کیوں چلائی؟ یہ چارسدہ کے تاج الدین کا گھر ہے۔ وہ ایک غریب 35 سالہ مزدور تھا۔ اس کے 6 چھوٹے بچوں کا انحصار اسی پر تھا۔ وہ عمران خان کا ایک پُرخلوص حمایتی تھا۔ 26 نومبر کی شام اسے سر اور سینے میں گولی مار دی گئی۔ اس کے دو کم عمر بیٹے بے خبر خوشی سے ادھر اُدھر گھوم رہے تھے، انہیں اس بات کا ذرا بھی اندازہ نہیں کہ کیا ہوا ہے۔ انہیں دیکھ کر دل ٹوٹ گیا۔ اس کی میت لے جانے کے لیے، اس کے خاندان کو ایک حلف نامے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا، جس میں لکھا تھا کہ اسے احتجاج میں نہیں مارا گیا۔ اس طرح شواہد کو چھپایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیوں؟ اگر ان مظاہرین کو ڈی چوک میں بیٹھنے دیا جاتا تو کیا ہوتا؟ کیا ایسے ناقابلِ قابو حالات تھے جن کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے گولی چلانے کا فیصلہ کیا گیا؟ ایک لمحے کے لیے پی ٹی آئی کو بھول جائیں۔ یہ سوچیں کہ یہ پیغام اس کے خاندان، اس کے ارد گرد لوگوں، اور ایسے تمام لوگوں کو کیا دیتا ہے؟ ہمیں کھڑا ہونا ہوگا، اور ریاست کو دوبارہ ایسا کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جاسکتی۔ نہ اسلام آباد میں، نہ فاٹا میں، نہ بلوچستان میں، اور نہ ہی پاکستان کے کسی بھی حصے میں۔ #گولی_کیوں_چلائی

Taimur Saleem Khan Jhagra

15,673 views • 1 year ago

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

118,662 views • 22 days ago

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 views • 1 year ago

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 views • 2 years ago

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,548 views • 4 months ago