Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمنٹرینز کا دھرنا تیسری روز میں داخل ۔ ہمارا مطالبہ قوم کے ہیرو پاکستان کے محسن اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر سابق وزیر اعظم عمران خان کو انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں امراض چشم کے ماہرین سے طبی...

38,026 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں صرف فوج کرتی ہے لہذا پوری ریاست کو ذمہ دار نہ ٹھہرائے جائے۔ ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ جب فوج انسانی حقوق کی پامالیاں اور قتل عام کرتی ہے تو ریاست کے باقی ادارے بشمول پارلیمنٹ اور عدلیہ کس جانب کھڑے ہوتے ہیں؟ بلوچستان میں گزشتہ 75 سالوں سے جاری نسل کشی میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کا کیا کردار تھا؟ ان سب کو چھوڑے، ہم گزشتہ ایک مہینے سے جبری گمشدگیوں اور ماروائے عدالت قتل کے خلاف لانگ مارچ کررہے ہیں، گزشتہ دس دنوں سے ہم اسلام آباد میں موجود ہیں، ہمارے ساتھ بزرگ، خواتین اور بچے ہیں، ہمارے اوپر اسلام آباد میں داخل ہوتی ہی تشدد ہوا، گرفتاریاں ہوئی اور مسلسل دھمکیوں اور ہراسمنٹ کا سامنا کررہے ہیں۔ کیا اس دوران آپ کے پارلیمنٹ اور عدلیہ نے ان سب کو روکنے میں کردار ادا کیا؟ جب آپ کے عدلیہ، پارلیمنٹ سمیت ریاست کے تمام ادارے ازخود اس قتل عام اور ظلم و جبر کے خاموش حمایتی ہونگے تو سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ پوری ریاست ہماری نسل کشی میں شریک ہے۔ #MarchAgainstBalochGenoscide #StopBalochGenocide

Mahrang Baloch

139,599 görüntüleme • 2 yıl önce

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان بھارت کے صوبہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے اس نہایت شرمناک، قابلِ مذمت اور غیر انسانی اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس میں ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب/حجاب زبردستی ہٹایا گیا، جب وہ اپنی تقرری کا سرٹیفیکیٹ وصول کر رہی تھیں۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ انسانی وقار، مذہبی آزادی، خواتین کی ذاتی خودمختاری اور بنیادی انسانی حقوق پر کھلا حملہ ہے، جو کسی بھی مہذب، جمہوری اور نام نہاد سیکولر ریاست میں ناقابلِ قبول ہے۔ ہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ: کسی بھی عورت کے جسم، لباس یا مذہبی شناخت میں زبردستی مداخلت انسانی وقار کی سنگین پامالی ہے۔ ایک مسلم خاتون کے حجاب کو سرِعام زبردستی ہٹانا مسلمان خواتین اور پوری مسلم اُمہ کے مذہبی جذبات کی کھلی توہین ہے۔ اس قسم کا غیر اخلاقی اور غیر انسانی رویہ خواتین کے تحفظ، مساوات اور مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والی ریاستوں میں ایسے اقدامات ریاستی جبر اور تعصب کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ: بھارتی حکومت اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائے۔ متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔ ذمہ دار افراد کے خلاف واضح اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اقوامِ متحدہ، جنرل اسمبلی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے کا سخت نوٹس لیں اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر بھارت سے جواب طلب کریں۔ مزید برآں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارتی حکام متاثرہ خاتون سے ذاتی اور سرکاری سطح پر باضابطہ معافی مانگیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط قانونی و ادارہ جاتی اقدامات یقینی بنائیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان ہر صورت خواتین کے وقار، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے دفاع کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہینگی #HumanRightsViolation #RespectHijab #WomenRights #ReligiousFreedom #StopIslamophobia #JusticeForMuslimWomen #HumanRightsCouncilPakistan #DignityOfWomen #UNTakeNotice

Human Rights Council of Pakistan

22,345 görüntüleme • 9 ay önce