Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

💔 اسلام آباد: پیمز ہسپتال کا دلخراش واقعہ – سوالات اور احتساب کی اپیل ​کل اسلام آباد کے پیمس (PIMS) ہسپتال میں نومولود بچوں کی وفات کا المیہ انتہائی دلخراش ہے۔ ماؤں کی سسکیاں دیکھ کر خاموش رہنا ممکن نہیں۔ ​وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال صاحب! جو وفاق 15...

55,667 просмотров • 21 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

پلاننگ کے وزیر احسن اقبال اور سرکاری بابوز 213 ارب روپے کا میونسپل ٹیکس اسلام آباد کے شہریوں پر لگا کر میڈیکل کمپلیکس کا منصوبہ سامنے لائے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے پوچھنا ہے کسی دن وہ سپر مارکیٹ اور جناح سپر میں گاڑی پارک کر کے دکھائیں کہ آپ سے چوبیس کلومیٹر شہر کی منصوبہ بندی نہ ہوسکی اور آپ تیسری یا چوتھی دفعہ وزیر پلاننگ ہیں۔ پورا شہر بدترین حالت میں ہے۔ سانس تک کی گنجائش آپ لوگوں نے ختم کر دی ہے۔ اسلام آباد اور اس کی خوبصوری مررہی ہے اور کسی کو ٹکے کی پرواہ نہیں۔ آپ تمام حکمرانوں نے 2010 سے پاکستانیوں سے 700 ارب روپے GIDC کا ٹیکس بجلی گیس سی این جی پمپوں سے وصول کیا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن بچھانی ہے۔ پائپ لائن تو نہیں بچھی۔ وہ سات سو ارب کہاں ہے جو عوام سے ٹیکس اکٹھا کیا تھا؟ اس طرح چند ماہ پہلے بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر کے نام پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پٹرول ڈیزل پرائس میں بڑا ریلیف عوام کو یہ کہہ کر نہ دیا گیا کہ وہاں سڑکیں بننی ہیں۔ وہ اربوں روپے کدھر ہیں۔ اب آپ 213 ارب کا نیا ٹیکس اسلام آباد کے شہریوں پر لگا رہے ہیں کہ میڈیکل کمپلیکس بنا رہے ہیں۔ آپ اپنے ناروال اور سیالکوٹ کی منصوبہ بندی تو کر نہ سکے اب اسلام آباد کی خاک کریں گے۔ پہلے زرا 700ارب روپے جی آئی ڈی سی /ایران پاک پائپ لائن اور بلوچستان پٹرول لیوی کا حساب تو اس قوم کو دیں بعد میں یہ نیا 213 ارب روپے کا ٹیکس کے نام پر ہماری جیبوں سے نکالیے گا۔ Shehbaz Sharif Capital Development Authority - CDA, Islamabad Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa Ahsan Iqbal Prime Minister's Office Khawaja M. Asif Ministry of Finance, Government of Pakistan FBR

Rauf Klasra

37,841 просмотров • 1 год назад

اسلام آباد: خاتون صحافی روخانہ رحیم وزیر اور خاندان کی مبینہ بے دخلی، انسانی حقوق پر سنگین سوالات اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خاتون صحافی اور کالم نگار روخانہ رحیم وزیر اور ان کے خاندان کو مبینہ طور پر ڈی پورٹ کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں فارن ایکٹ کی دفعہ 14-A کے تحت آج کیمپ میں زبردستی انگوٹھے لگوائے جا رہے ہیں اور براہِ راست طورخم بارڈر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ روخانہ رحیم وزیر کا تعلق وزیرستان سے بتایا جاتا ہے اور وہ اسلام آباد میں قائم “نوے ژوند ادبی، ثقافتی و فلاحی تنظیم” کی پریس سیکرٹری بھی ہیں۔ وہ آئی بی سی اردو IBC URDU کی مستقل کالم نگار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا خاندان گزشتہ تین ماہ سے شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث افغان مہاجر ہونے کے شبے میں سی ٹی ڈی اسلام آباد کی تحویل میں حاجی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ان کی باقی فیملی پاکستانی ہے ہے یہ افغانی ، عجیب صورتحال ہے ۔ اس پیش رفت نے انسانی حقوق کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ قانونی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا کسی پاکستانی شہری کو محض شبے کی بنیاد پر اپنے ہی ملک سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ ناقدین کے مطابق اگر ایسا ہے تو یہ اقدام آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ سماجی و صحافتی حلقوں کی جانب سے اربابِ اختیار اور ریاستی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی کو فی الفور روکا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کے طور پر زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

Sabookh Syed | Journalist

25,358 просмотров • 6 месяцев назад

27 ستمبر کی کال دیے ہوئے 2 دن ہوئے ہیں۔۔۔۔ انتظامیہ کی تیاری پہلے سے مکمل تھی۔۔۔ اسلام اباد میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ ورکرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ سہیل آفریدی کی سہولت کاری کی بدولت ہو رہا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھیں کبھی کسی کو اتنے غدار نہیں ملے ہوں گے جتنے عمران احمد خان نیازی کو ملے ہیں خان صاحب نے جن کو کچرے سے اٹھا کر عہدہ دیا وہی خان صاحب کے ساتھ غداری کر رہے ہیں شفیع جان نے مجھے کہا کہ جو بھی احتجاج کا ہوگا وہ علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی کریں گے اور نو سے دس مہینے اس ٹرک کے بتی کے پیچھے ہمیں لگائے رکھا لیکن اب جو کال دی ہے اس میں ان کا ذکر تک نہیں تھا سہیل افریدی کی گینگ مجھے کہتی ہے کہ میں فلانے کا نام لوں کیا صوبے کا چیف ایگزیکٹو جس کے پاس عہدہ ہے پاور ہے اس نے فرد واحد کا نام لیا ہے. ؟ ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کا موقف اپ کے سامنے ہے نہ انہوں نے پنجاب کی قیادت کا نام لیا ہے جو قید میں ہے خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا خان صاحب پر بھی مزید سختیاں بڑھا دی گئی ہوں گی ان کو 13 14 اگست کی تاریخ دینی چاہیے تھی اس بات کا فائدہ اٹھا کر وہ ورکرز کو پکڑ رہے ہیں میں بھی کسی جگہ پر ہوں مشکل وقت ہے گزر جائے گا خان صاحب کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے ان سے میں نے سوالات کیے اسی وجہ سے مجھے پہلے بھی گرفتار کیا میں ابھی بھی حلفاً کہتا ہوں کہ 27 تاریخ کی کال کامیاب نہیں ہونے والی۔۔۔۔ کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کال ملتوی ہو جائے جو کرنا ہے اسی مہینے کرنا ہے نہیں تو اپ بھول جائیں خان صاحب کی رہائی کو......

Haider Saeed

17,457 просмотров • 1 месяц назад

وزیرِ قانون کو واضح جواب ہے کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کروائیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ علاج صرف سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے اور پرائیویٹ ہسپتال میں نہیں ہو سکتا۔ تو پھر لندن میں نواز شریف کا علاج جس ہسپتال میں ہوا، کیا وہ سرکاری ہسپتال تھا؟ ، ان کی مرضی کے ڈاکٹرز نے علاج کیا، کیا وہ سب کچھ اس وقت جائز تھا؟ ہم نہ کوئی ڈیل مانگ رہے ہیں، نہ ڈھیل مانگ رہے ہیں، نہ کسی قسم کا این آر او چاہتے ہیں اور نہ ہی ملک سے بھاگنے والے ہیں،یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ آج سپریم کورٹ نے عمران خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جو فیصلہ آپ کے حق میں آئے، وہ آپ کو درست لگتا ہے، لیکن جو فیصلہ انصاف پر مبنی ہو اور آپ کے خلاف ہو، اسے ماننے سے انکار کر دیا جائے—یہ طرزِ عمل قابلِ قبول نہیں۔ میں معزز عدلیہ سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ اپنے فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اگر متعلقہ حکام عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کرتے تو عدالت اپنے احکامات کی خلاف ورزی کا نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں، یہ ایک انسان کی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے۔ عمران خان صاحب کو عدالتی حکم کے مطابق فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں وہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں جن کا عدالت نے حکم دیا ہے۔

Naeem Haider Panjutha

40,946 просмотров • 1 месяц назад

بچی روتے روتے دروازہ پیٹتی رہی لیکن کسی نے نہیں کھولا ۔۔ اکثر سانحات مائوں کی غفلت لاپرواہی سے ہوتے ہیں اسلام آباد: کمسن بچی کو مبینہ اغوا کرنے کی کوشش ناکام، شور مچانے پر مشتبہ شخص فرار اسلام آباد (رجب علی رپورٹ): وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں واقع غلام حسین ٹاؤن ٹینکی اسٹاپ کے قریب ایک کمسن بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بچی کی حاضر دماغی کے باعث مشتبہ شخص اپنے مذموم ارادے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے دوران بچی نے زور زور سے شور مچایا، جس پر مشتبہ شخص گھبرا کر موقع سے فرار ہو گیا۔ واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، تاہم اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ والدین نے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاحال اسلام آباد پولیس کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غلام حسین ٹاؤن ٹینکی اسٹاپ اور اطراف میں نصب سیف سٹی اور دیگر سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے کر مشتبہ شخص کی شناخت اور گرفتاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

Ahmed Bhatti

68,990 просмотров • 2 месяцев назад

اس ویڈیو میں ایک خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے تشویشناک منظر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں عوام کو انصاف اور سروس کے لیے اس طرح اپیلیں کرنا پڑیں تو پھر ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ دو سال گزرنے کے باوجود اگر اسلام آباد پولیس کی سروس ڈلیوری پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو یہ وقت ہے کہ اس پورے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ پاکستان میں قابل اور تجربہ کار افسران کی کمی نہیں، اس لیے عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا وفاقی پولیس کو ایسے افسران کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جو عملی تجربے کے ساتھ دارالحکومت کی پولیس کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔اسلام آباد پولیس کے آپریشن ڈویژن کے حوالے سے بھی یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ اختیارات کا توازن درست نہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے سینئر عہدے کو مکمل طور پر مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے تجربہ کار افسران اگر مکمل اختیارات اور سپورٹ کے ساتھ کام کریں تو اسلام آباد پولیس کا آپریشنل نظام کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ عوام کی توقع صرف ایک ہے: دارالحکومت کی پولیس مضبوط، منظم اور حقیقی معنوں میں عوام دوست نظر آئے۔ Islamabad Police Mohsin Naqvi

Abbas Ahmed

12,152 просмотров • 6 месяцев назад

سابق وزیراعظم عمران خان کے ذاتی معالج اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف کا ویڈیو بیان: (16-02-2026) کل رات تقریباً نو بج کر پینتالیس منٹ پر میں نے اسلام آباد میں موجود ان دو ڈاکٹروں سے ٹیلی فون پر بات کی جو فی الحال جناب عمران خان کی آنکھ کا علاج کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے ساتھی ڈاکٹر خرم عظیم مرزا، جو لاہور میں ریٹینل اسپیشلسٹ ہیں، سے درخواست کی کہ وہ بھی اس گفتگو میں شامل ہوں اور انہوں نے مہربانی فرمائی۔ ہماری گفتگو تقریباً چالیس منٹ جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے ہمیں تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے جناب عمران خان کو کب پہلی بار دیکھا، اس وقت ان کے کیا علامات تھیں، کون سے ٹیسٹ ہوئے، اب تک کیا علاج دیا گیا ہے، اور آئندہ علاج کا کیا پلان ہے۔ ان کی تازہ ترین تشخیص کل ہوئی تھی۔ ان ٹیسٹوں اور تازہ اسیسمنٹ کی بنیاد پر انہوں نے بتایا کہ علاج کی وجہ سے جناب خان میں نمایاں بہتری آئی ہے، آنکھ میں بہتری ہے اور بینائی بھی بہتر ہوئی ہے۔ میں بہت خوش ہوتا اگر میں اس کی پورے یقین سے تصدیق کر سکتا۔ بدقسمتی سے، چونکہ میں نے خود انہیں نہیں دیکھا، نہ ان کی دیکھ بھال میں حصہ لیا، نہ ان سے بات کی، اس لیے نہ تو میں اس کی تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تردید۔ اسی لیے میں ایک بار پھر اتھارٹیز سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھے یا ڈاکٹر فیصل سلطان کو، یا دونوں کو، اور جناب عمران خان کی فیملی کی جانب سے نامزد ڈاکٹروں کو اسلام آباد میں معائنہ کرنے اور علاج کے عمل میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئندہ تمام دیکھ بھال اور علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں کیا جائے، کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ یہ عالمی معیار کا اسپتال ہے جہاں مناسب سہولیات موجود ہیں اور جناب عمران خان کو بہترین علاج مل سکے گا۔“ #WhatAreTheyHiding #ComeToStreetsForKhan

PTI

15,164 просмотров • 7 месяцев назад

ڈان اخبار کی آج کی ایک خبر کے مطابق اسلام آباد کلب کا سرکار کی 51 کنال اراضی پر قبضہ ہے۔ کلب نے پارکنگ کے لیے بھی سی ڈے اے کی زمین اور مری روڈ کے رائٹ آف وے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر کلب 54 کنال زمین پر تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد کے ایک اور ایلیٹ کلب گن اینڈ کنٹری کلب لیز کے بغیر سرکار کی 256 کنال زمین پر چل رہا ہے۔ دوسری طرف حالیہ دنوں میں وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں پہلے مسلم کالونی کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ مسلم کالونی جس میں آباد لوگوں کے آباؤ اجداد نے اپنے ہاتھوں سے دارالحکومت اسلام آباد تعمیر کیا۔ اس کے بعد ایچ نائن میں رمشا کالونی کے خلاف آپریشن کیا گیا جسے 2012 میں یہاں آباد کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رمشا کالونی کو اس وقت کی حکومت نے خود ہی ایچ نائن میں خالی جگہ پر آباد کیا تھا۔ اب سی ڈی اے نے بری امام کے ساتھ ملحقہ نور پور شاہاں میں دہائیوں سے آباد مقامی افراد کے گھروں کو مسمار کردیا ہے۔ اگر یہ سب کچی آبادیاں اور اس کے مکین “غیرقانونی” ہیں تو پھر اسلام آباد کلب کی جانب سے تجاوزات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جب تک سی ڈی اے اسلام آباد کلب کی جانب سے تجاوزات کے خلاف آپریشن کر کے 54 کنال واگزار نہیں کرواتا، اس کے کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن کا بھی کوئی جواز نہیں۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ اشرافیہ کے کلبس پر ہاتھ ڈالتے ہوئے سی ڈی اے کے پر جلتے ہیں۔

Ghazi Amir Gujjar

28,889 просмотров • 5 месяцев назад

میرا تجزیہ آج کے جلسے پہ۔۔۔۔ آج کی کال اور خان صاحب کا پیغام کیا تھا؟... خان صاحب کا پیغام۔۔۔ میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا۔۔۔۔ 26 مئی 2025 تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں سنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں۔۔۔۔ 3 جون 2025 آج کے جلسے کے انتظامات؟ فیصلہ کن جلسہ 3 سال بعد جس میں عوام زیادہ اور جگہ چھوٹی۔۔۔۔۔ خان صاحب نے دوبارہ اسلام آباد آنے کا بولا؟ قومی حکومت کی راہ ہموار؟ جب عوام سے سوال پوچھا گیا کہ آپ تیار ہیں۔۔۔ تو عوام نے کہا ہم تیار ہیں۔۔۔۔ لیکن آپ کا جواب کہ میں تیار نہیں کیوں؟ تین سال ہونے کے بعد بھی تیاری مکمل نہیں؟ ستمبر میں ایک سال مکمل ہوجائے گا۔۔۔۔ اتنے عرصہ بعد کال؟ ان دو مہینوں میں کیا خان صاحب سے ملاقات ہوگی؟ کیا جلسے میں خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کے حوالے سے بات ہوئی؟ کیا خان صاحب کی صحت کے حوالے سے بات ہوئی؟ کیا خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونے کے حوالے سے بات ہوئی؟ ویڈیو مکمل دیکھیں۔۔ اور خود فیصلہ کریں۔۔۔۔ شکریہ

Haider Saeed

20,802 просмотров • 1 месяц назад