Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں واقع چائنیز کال سینٹر سے دو پولیس اہلکار باہر نکلتے دکھائی دے رہے ہیں جن کے کندھے پر دو کالے بیگ بھی لٹک رہے ہیں جو عمومی طور پر پولیس اہلکار ایسے کالے بیگ نہیں رکھتے اس چائنیز کال سینٹر پر پہلے...

19,907 görüntüleme • 10 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

سانحہ ڈی چوک 26 نومبر سے لاپتہ ہونے والے ،محمد راشد ولد شبیر، جو صادقہ آباد کی ایک کالونی کے رہائشی تھے، 26 نومبر کے بعد سے لاپتہ تھے ۔ ان کے گھر والوں کو ایک نا معلوم نمبر سے کال موصول ہوتی ہے، اور پولیس کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ ان کے لخت جگر کی موت ایک کار حادثے میں ہو گئی ہے۔ جب وُرثاء ہسپتال پوہنچتے ہیں، تو میت سَرد خانے سے نکال کے دیکھائی جاتی ہے۔ میت پر گولی کے واضح نشان تھے، جیسے کے وڈیو میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس قدر ظلم و جبر، زیادتی، لاشیں تک چُھپا دی گئی؟ حق کے لیے نکلنے والوں کو سِر عام مار کر ان کی لاشوں سے بھی ان کے اہل خانہ کو محروم کر دینا، یہ نا کبھی سُنا تھا نا ہوا ہے ہماری معاشرہ اس قدر تنزلی اور degradation کا شکار ہو چکا ہے۔ 26 نومبر کے بعد سے، ہمارے بہت سے کارکن مسنگ ہیں ہمیں اور ان کے بارے میں بہت سیریس خدشات ہیں۔ سَرد خانے میں اور لاشیں ہونے کی بھی خبریں ہیں۔ حکومت کو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ملک کو کس نہج پہ پوہنچا دیا گیا ہے؟ یاد رکھیے وقت سدا ایک سا نہیں رہتا اج اگر یہ ہمارے ورکرز ہیں تو کل اپ کے بھی ہو سکتے ہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

31,934 görüntüleme • 1 yıl önce

گزشتہ روز کراچی کے فقیر کالونی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر احتجاج ہوا۔ احتجاج کے فوراً بعد جب مظاہرین بس کے ذریعے واپس ملیر جا رہے تھے، تو کراچی پولیس نے فقیر کالونی کے قریب بس کو روک کر تمام مظاہرین کو بس سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔ وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا، بی وائی سی کے مظاہرین کی رہائی کے لیے محمود آباد تھانے پہنچے۔ ابتدا میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر دینے سے انکار کر دیا اور بعد میں کہا کہ رات بارہ بجے آئیں، تب ایف آئی آر دی جائے گی۔ جب رات بارہ بجے وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت چھ وکلا تھانے پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر بند کر کے ایک ایک کر کے بدترین تشدد اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا۔ ان پر انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک مسلسل جسمانی تشدد کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کے تشدد کے بعد، وکلا کو ایک ایک کر کے رہا کر دیا گیا۔ یہ صرف اسی ملک میں ممکن ہے جہاں وکلا، جو اپنے مؤکلوں کے قانونی حقوق کے بارے میں پوچھنے آتے ہیں، خود پولیس کی تحویل میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ ریاست اپنی عقل و شعور کھو چکی ہے اور صحیح و غلط، انصاف و ناانصافی کا فرق مٹ چکا ہے۔

Sammi Deen Baloch

36,511 görüntüleme • 1 yıl önce

#MominaIqbal میں پچھلے ایک سال سے پوسٹیں لگا رہا ہوں کہ اگر ہم جنس پرستی کو نہ روکا گیا تو ایڈز جیسی بیماری اتنی تیزی سے پھیلے گی کہ اپ سنبھل نہیں سکے گے اس کی وجہ بھی میں بتا رہا ہوں پاکستان میں ہم جنس پرست یعنی کہ شی میل اب بہت ماڈرن طریقے سے اپنا کام کر رہے ہیں ہیں یہ لوگ اسلام اباد اور لاہور کراچی کے پوش ایریا ز بڑے بڑے گھر کرائے پر لیتے ہیں اور ان کو امیر لوگوں کے لیے ڈیکوریٹ کرتے ہیں وہاں پر امیر خاندانوں کے کے پڑھے لکھے نوجوان بوڑھے سرکاری افسران جا کر اپنی جنسی لذت پوری کرتے ہیں اسلام اباد کی ہر سیکٹر میں اپ کو 10 12 فلیٹ یا گھر ایسے ملیں گے جو شی میلز کے زیر سایہ یہی دھندا کر رہے ہیں فیمیل بیسکلی عورت ہوتی ہے لیکن ان کا عز و مردانہ ہوتا ہے ہم جنس پرست گیز ان کے پاس جا کے ضروریات کو پورا کرتے ہیں اب ٹوٹر پر جا کر پاکستانی شی میل سرچ کریں یا اسلام اباد شی میل لکھے تو کتنے پیجز تصویریں اور ویڈیوز کے ساتھ ا جائیں گے کہ اپ دنگ رہ جائیں گے میں حیران ہوں کہ حکومت کہاں سوئی ہوئی ہے روزانہ 30 کے قریب ایڈز کے مریض اسلام اباد میں نکل رہے ہیں اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کا کمال بھی بیان دیا ہے کہ ایڈز تیزی سے پھیل رہی ہے اسلام اباد #پاکستان #خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان

Khurram Khan

23,669 görüntüleme • 2 ay önce

عوامی الرٹ🚨🚨فوری جنرل اسپتال پہنچیں،ماں باپ کا کڑیل جوان احمد شاہ پولیس کے بدترین تشدد کی وجہ سے قومہ میں چلا گیا ہے،ظالموں نے ظلم کی انتہا کردی ہے ایک اور ظل شاہ طرز کا سانحہ برپا کرنے کا ارادہ ہے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جب احمد شاہ کو پولیس نے گرفتار کیا تو وہ بالکل ٹھیک حالت میں تھا پولیس کی درندگی چھپانے کے لیے یہ احمد شاہ کے بھائی اور دوستوں کو مقدمے میں شامل کررہے ہیں اور ذاتی لڑائی کا رنگ دے رہے ہیں ڈاکٹر ز پر شدید دباؤ ہے کہ بات باہر نہیں نکلنی چاہیئے احمد شاہ اس وقت جنرل اسپتال کے سیکنڈ فلور پر بدین وارڈ نیورو آسی یو میں زندگی و موت کی جنگ لڑ رہا ہے کپتان کے اس کھلاڑی کے لیے آواز اٹھائیں یہ درندے ماں باپ کے لخت جگر مار رہے ہیں وہ جعلی وزیراعلی مینڈیٹ چور انتقام کی آگ میں ہمارے جوانوں کے خون کی پیاسی بنی ہوئی ہے ظلم بھی ہم پر کررہے ہیں اور مقدمے بھی ہم لوگوں پر ہی درج ہورہے ہیں یہ پاکستانی پولیس نہیں اسرائیلی اور بھارتی درندے بن چکے ہیں

Mehar Sharafat Ali

346,187 görüntüleme • 2 yıl önce

وزیراعلی خیبر پختونخواہ مسلسل اپنے عہدے اور آفس کی بے توقیر ی اور تضحیک کروا رہے ہیں 2014 میں ڈی چوک پہ قبریں کھودنے والے ، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پہ حملہ کرنے والے ایک دفعہ پھر ریاست پہ حملہ آور ہیں 'اوئے آئی جی' 'اوئے ایس ایس پی' ، 'اوئے وزیراعظم' 'میں تمہیں گھسیٹوں گا' والا جتھہ پھر سے حملہ آور ہے پولیس کے سر پھاڑنے، پولیس کی آنکھیں پھوڑنے والے غنڈے پھر سے حملہ آور ہیں 'مار دو'، 'جلا دو'، 'آگ لگادو' والے غنڈے ایک دفعہ پھر ریاست پہ حملہ آور ہونے کے لئے آ رہے ہیں دنیا کے کسی مہذب ملک میں کوئی بھی ریاست پہ جتھے لے کر حملہ آور نہیں ہوسکتا فارن فنڈڈ فتنہ ایک دفعہ پھر پاکستان کے خلاف حملہ آور ہے یہ غنڈے سیاسی جماعت نہیں بلکہ فارن فنڈنگ کے تحت پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کرنے والوں کے سہولت کار ہیں سیاسی جماعت کا لبادہ اوڑھ کر پی ٹی آئی ریاست کے خلاف ہمیشہ دہشت گردی کرتی ہے یہ ڈی چوک میں قبریں کھودنے والا منحوس ٹولہ ہے یہ پی ٹی وی پر حملہ کرنے والے وہی شرپسند ہیں فتنے کا فسادی انداز نہ بدلا اور نہ بدلے گا ملک ڈیفالٹ سے کیوں بچ گیا؟ اس کے خلاف دھرنا دے رہے ہیں دھرنا دنیا میں پاکستان کی سفارتی عزت کی بحالی کے خلاف ہے؟ جس کی تباہی چڑھا کر گئے تھے 27 ستمبر کو 2014 کا 'ری پیٹ' دھرنا اور 9 مئی نہیں ہونے دیں گے فارن فنڈد فتنہ ایک دفعہ پھر سے اپنے ہی ملک کی پولیس اور رینجرز کے سرپھاڑنے کے لئے تیار ہے فتنہ و فساد ٹولہ ایک دفعہ پھر ایمبولینسز جلانے اور آگ لگانے کے لئے تیار ہے فتنہ و فساد ٹولا ایک دفعہ پھر پولیس پر پٹرول بم برسانے کو تیار ہے فتنے اور فسادی غنڈے پاکستان کے عوام کے کاروبار، روزگار، نوجوان کی تعلیم اور مزدور کے رزق کے خلاف ہیں

Marriyum Aurangzeb

19,510 görüntüleme • 4 gün önce

گروپ کپٹن عاصم طارق کو گولی مارنے کے بعد سعد عباسی نے صرف ایک کال کی... پھر فوراً اپنا موبائل بند کر دیا۔ وہ سیدھا غوری ٹاؤن پہنچا، موٹر سائیکل ایک گلی میں چھوڑ دی، بائیکیا لی اور دوست کے میڈیکل سٹور پہنچ گیا۔ بیگ وہیں رکھوایا، پستول دوسری جگہ چھپا دی، پھر کپڑوں کی دکان سے شرٹ بدل کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔ اگلا پڑاؤ فیض آباد بس اڈہ تھا، جہاں اس نے لاہور کی ٹکٹ خریدی اور روانہ ہو گیا۔ ادھر پولیس اس کے دوست تک پہنچ چکی تھی۔ سعد نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے بھیرہ کے قریب بس سے اتر کر دوبارہ اسلام آباد کا رخ کیا۔ اسے لگا پولیس لاہور میں اسے تلاش کرتی رہے گی، مگر اس کا یہی منصوبہ اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔ اسلام آباد پہنچ کر اس نے کسی اور کے فون سے دوبارہ اسی دوست کو کال کی اور کہا: "میں اپنا سامان لینے آ رہا ہوں۔" بدقسمتی سے پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی۔ سعد خود سامنے آنے کے بجائے ایک بچے کو بیگ لینے بھیجتا ہے۔ جیسے ہی بچہ بیگ لے کر اس کے پاس پہنچا، پولیس نے گھیر لیا اور ملزم گرفتار ہو گیا۔ اب اس کے فرار کے دوران مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں، جنہوں نے پوری فرار کی کہانی کو بے نقاب کر دیا۔

Shehroz Azhar

148,619 görüntüleme • 2 ay önce