Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اسمگلنگ کا تیل بیچنا ۔ ایسا شارٹ کٹ ہے جس میں محنت بھی نہیں ہے اور پیسے کئی گنا ہیں ۔ اس لئے یہاں کے مقامی لوگ نوکر بننا پسند نہیں کرتے ۔ اور وہی ملازمتیں پنجاب سے آئے لوگ بخوشی کرلیتے ہیں ۔ بلوچستان میں سروے کرالیا جائے...

54,230 просмотров • 6 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

وقت کچھ ایسا ہے کہ جو بندہ یا بندی اس وقت لوگوں کو حوصلہ دلائے گا اس سے تھوڑا بہت شکوہ کریں گے سب۔ مگر عمران خان جیل سے باہر ہوتے تو مشکل سے مشکل وقت میں بھی حوصلہ ہی دیتے- پاکستان ایک stalemate کیفیت میں ہے جہاں طاقتور لوگ تمام ادارے کنٹرول کرنے کے باوجود بےچینی میں ہیں کیونکہ عمران خان ہار نہیں مان رہا اور اس کے بغیر پاکستان آگے نہیں جا رہا بلکہ پیچھے کی طرف جارہا ہے۔ یہ چیز وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور عمران خان کو پریشر کر رہے ہیں بشریٰ بی بی کی اور ان کی اپنی صحت سہولیات پر ڈیل کی شرط رکھ کر۔ کم ظرف لوگ ہیں جو صرف “delaying the inevitable” کھیل رہے ہیں۔ کچھ فارغ لوگ اور کچھ شوشے سرِ عام چھوڑ رکھے ہیں، تا کہ معیشت، ملک کے خراب حالات اور نظام کے خلاف لوگوں کی نفرت سرخیوں میں نہ رہیں۔ ڈر کی وجہ سے ویسے بھی کوئی بول نہیں رہا سر عام مگر پھر بھی وہ بہت ڈرے ہوئے ہیں اور ظلم بڑھاتے جا رہے ہیں۔ عمران خان ایک بہت ہی عظیم مشن پر ہیں جس میں اس وقت بہت کم لوگ ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اکیلے بھی رہ گئے تو لڑیں گے حقیقی آزادی کے لیے۔ روز سوشل میڈیا پر لوگ اسی مشن کے لیے اپنا قیمتی وقت دیتے ہیں، طریقوں میں فرق ہے لیکن سب کی کاوشیں عمران خان کے مشن کے لیے ہیں۔ اس وقت لاح عمل نہ ہونے کی وجہ سے، ملاقاتیں بند ہونے کی وجہ سے اور عمران خان کی صحت کو لے کر سب سے زیادہ پریشانی ہے پچھلے چار سالوں کی۔ جتنا vent کرنا ہے کریں مگر ایک دوسرے کا پہلے سے زیادہ ساتھ دیں اور ہار ماننے کا سوچیں بھی نہیں۔ کیا ہوا اگر، زندگی ذرا الجھ سی گئی، سوچو تو ذرا جنگلوں میں بھی، راستے تو ہیں ہمیں بھی کوئی مل ہی جائے گا چلو تو سہی، چلو تو سہی راستہ کوئی مل ہی جائے گا #ReleaseImranKhan

Jibran Ilyas

47,083 просмотров • 3 месяцев назад

آپریشن ہیروف 2 کے دوران بی ایل اے سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ نہیں کرسکی تو ریلوے بریج کو اڑا دیا ۔ لیکن یہ ریلوے بریج بلوچ عوام کیلئے تھا ۔ اور اب یہ دوبارہ بنایا جائے گا تو اس پر بلوچ عوام کا ہی پیسہ لگے گا ۔ وہی پیسہ جو تعلیم صحت پر لگنا چاہیے ۔ بی ایل اے کے حملوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو ٹھیک کرنے میں لگ رہا ہے اس میں نقصان تو بلوچ عوام کا ہورہا ہے ۔ کشمیر کیساتھ چین اور پاکستان کی سرحدیں لگتی ہیں کشمیر کی عوام انڈیا کیساتھ رہنا بھی نہیں چاہتے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود آج تک کشمیر آزاد نہیں ہوسکا بلوچستان میں آدھا علاقہ پشتونوں کے پاس ہے ۔ آدھا بلوچوں کے پاس ہے ۔ بلوچ عوام میں بھی صرف چند فیصد لوگ پاکستان سے علیحدہ ملک بنانا چاہتے ہیں واضح اکثریت پاکستان کیساتھ خوش ہے ایسے میں کس طرح بلوچستان کو پاکستان سے توڑنے کا خواب دیکھا جاسکتا ہے یہ کون لوگ ہیں جو اپنی ہی قوم کے دشمن ہیں جو اپنی ہی قوم کا نقصان کررہے ہیں یہ مزاحمت نہیں خودکشی ہے اور یہ لوگ خود بھی مررہے ہیں اور بلوچ قوم کو بھی مار رہے ہیں

Dr Zahra Baloch

20,115 просмотров • 6 месяцев назад

آج پنجابی بھی بول رہا ہے کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے جس طریقے سے افغانوں کو نکالا جا رہا ہے، فوج پھر ہمیں ڈالری جنگ کی طرف بھیج رہی ہے، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کا جوان تو سمجھتا ہے لیکن آج عمران خان کی وجہ سے پنجاب کا نوجوان بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اگر فوج افغانستان کے ساتھ لڑے گی تو وہ ظلم کرے گی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں پاکستانی عوام کبھی بھی پاکستانی فوج کا ساتھ نہیں دے گی اگر وہ ڈالر کے لیے افغانستان کے خلاف لڑے گی، عوام کو پتا ہے کہ یہ ڈالری جنگ لڑی جائے گی یہ کسی اور کی جنگ ہم پر مسلط کریں گے، آج نوجوان اور عوام میں شعور آ چکا ہے یہ عمران خان کا دیا ہوا شعور ہے شعور کا جو جن بوتل سے باہر آ چکا ہے آپ اس کو واپس بوتل میں نہیں ڈال سکتے، دیکھیں یہ سری لنکا کی طرح ہے یہ جس طرح پوری دنیا میں ہو رہا ہے ابھی آپ نے دیکھا نیپال میں ہوا ہے، یہ وقت پاکستان میں بھی آئے گا آج غربت اتنی بڑھ چکی ہے پاکستان کے اندر آج روزگار نہیں رہا ہے، آپ دیکھیں گے کہ عمران خان جو باتیں کہہ رہا ہے یہ سب باتیں درست ثابت ہوں گی۔ #FascismUnderAsimLaw

Qasim Khan Suri

26,408 просмотров • 11 месяцев назад

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 просмотров • 3 месяцев назад

بلوچستان کے حالات پر نیشنل میڈیا کی ہٹ دھرمی برقرار ہے اور بلوچستان میں امن و امان سے متعلق خبروں کا مین سٹریم میڈیا پر مکمل بلیک آؤٹ جاری ہے، صوبے کے 20 سے زائد اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے اور روازنہ کی بنیاد پر دھشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں، بلوچستان کا نوجوان مایوس ہے کیونکہ پاکستان کے کسی بھی شعبے اقتدار، سیاست، اختیار سے لے کر معیشت میں ہمارا حصہ نہیں ہے تو ہمارا مستقبل کیا ہے؟ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا چوالیس فیصد، معدنیات سے مالا مال اور آبادی کے لحاظ سے صرف 1 کروڑ 49 لاکھ والے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے، ریکوڈک، سیندک، گوادر پورٹ اور تیل و گیس سے مالا مال صوبے کی عوام زندگی کی بنیادی سہولیات سے ہی محروم ہے، بجلی بلوچستان کو نہیں مل رہی صوبے سے جو گیس نکل رہی ہے وہ بھی بلوچستان کی عوام کو نہیں مل رہی ہے، بلوچستان پاکستان کے قیام ہی سے فوجی آپریشنز کی زد میں ہے، بلوچستان کے مسائل کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور آئینی ہے لوگوں کو ان کے حقوق دیئے بغیر بلوچستان کا مسلہ حل نہیں ہو سکتا بلکہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، بلوچستان کے لوگوں کو ان کے جائز آیینی حقوق، وفاق میں درست نمائندگی، وفاقی کوٹے میں مقرر کردہ نوکریوں اور بنیادی سہولیات دیئے بغیر ڈنڈے کے زور پر بلوچستان نہیں چل سکتا، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو بلوچستان کو ایک کالونی کی طرح چلانا بند کرنا پڑے گا۔ #Balochistan #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

14,862 просмотров • 8 дней назад