Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اسے کھتے ہیں نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ اب فوج کو دھمکی دینے کا کوئی فائدہ نہیں بلوچستان کے لوگ سوداگروں کے لئے دھرنا نہیں دیں گے۔ جب آپ حکومت میں تھے بلوچوں کی قتل و غارت پر کیا کہتے تھے؟ "پاک فوج بلوچستان میں فتح کے جھنڈے...

17,678 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля کیگدبلوچ
کیگدبلوچ2 лет назад

hasil bezinjo pdaa zindag bot side a nishta🙄

Фото профиля tariqdastibaloch
tariqdastibaloch2 лет назад

ایک یہی آدمی ہے جس نے تربت میں کافی ترقیاتی کام کئے۔تم لوگوں کو شعور دینے کی کوشش کی لیکن تم جاہل کے جاہل رہو گے۔

Фото профиля Dr., Baloch
Dr., Baloch2 лет назад

😄😄

Фото профиля A Baloch
A Baloch2 лет назад

بلوچء آپ یک پٹء آہ پٹ کہ کپیت

Фото профиля Waqar Baloch
Waqar Baloch2 лет назад

😂😂

Фото профиля Sarbazoo
Sarbazoo2 лет назад

😂😂😂😂😂

Фото профиля فرید بلوچ
فرید بلوچ2 лет назад

اب فتح کے جھنڈے کو اپنے سر پہ گاڈو ٹکلے

Фото профиля Asif
Asif2 лет назад

نو دار تی کُنَاھے ڈاکٹر صاب ۰

Фото профиля N509
N5092 лет назад

🤣

Фото профиля A Baloch
A Baloch2 лет назад

انکا کھاتا دپتر میں پہلے کھلا تھا اسلئے اب نئے دپتر کے کھولنے کا تلاش ہے

Похожие видео

یہ ویڈیو لکی مروت کے گاؤں نصرخیل کی ہے، جہاں آج ایک اسکول میں فوج کیمپ لگانے کے لیے آئی تھی۔ اس پر گاؤں کی امن کمیٹی کے لوگ نکل آئے اور انہوں نے فوج کو اسکول سے نکال دیا۔ امن کمیٹی کے لوگ اس ویڈیو میں نعرے لگا رہے ہیں کہ جب یہاں دہشت گرد موجود تھے، تب تم لوگ نہیں آ رہے تھے۔ پھر ہم نے خود امن کمیٹی بنائی، ان کا مقابلہ کیا اور اپنے علاقے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ اب یہاں فوج کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی یہاں فوج کو آنے کی اجازت ہوگی۔ جو لوگ غیرت مند ہوتے ہیں، جو کسی کے ٹاؤٹ یا سہولت کار نہیں ہوتے، جو اپنے وطن، اپنی مٹی اور اپنی سرزمین سے محبت کرتے ہیں، وہ اس طرح معلوم اور نامعلوم، دونوں قسم کے دہشت گردوں سے اپنی مٹی اور اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔ نہ وہ وزیرستان والوں کی طرح فوج سے نفرت کی وجہ سے دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں، نہ اپنے علاقے میں معلوم و نامعلوم دہشت گردوں کو گھسنے دیتے ہیں؛ بلکہ اپنی حریت اور آزادی کے لیے اگر ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پڑے تو اسے سنت سمجھ کر اٹھاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ کسی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر نہیں ہوتے اور نہ ہی متاثرین بن کر زندگی گزارتے ہیں، بلکہ اپنے علاقے میں امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب آپ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کو گھسنے نہیں دیں گے اور ان کی سہولت کاری نہیں کریں گے، تو پھر آپ کو یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہاں فوج کو بھی گھسنے نہ دیں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ دہشت گردوں کے سامنے خاموش رہیں یا پھر ان کی سہولت کاری کریں، اور جب فوج آپ پر بمباری کرے، آپ کو بے گھر کر دے، تو آپ مظلومیت کا رونا بھی روتے رہیں۔

Pakistan Walli

131,670 просмотров • 1 месяц назад

اس مہینے کے شروع میں فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے کیپٹن حمزہ یہ ویڈیو آپریشن غضب للحق کی ہے جب کیپٹن حمزہ اور پاک فوج کے بہادر جوانوں نے طالبان کی چیک پوسٹ اپنے قبضے میں لی۔ ہمارے جوان طالبان کے جھنڈے کو بھی عزت دے رہے ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اس پر کلمۂ لکھا ہوا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں: “اسے عزت سے اتاریں، زمین پر نہ گرنے دیں” یہ ہے پاک فوج کا اصل چہرہ۔ یہ ہے اسلام کا حقیقی روپ۔ وہ دشمن کے جھنڈے کو بھی صرف اس لیے احترام دیتے ہیں کہ اس پر اللہ کا کلمہ ہے۔ اب دوسری جانب ٹی ٹی پی اور طالبان اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں، مساجد اور قرآن کا سہارا لیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ہیں خوارج ہمارے جھنڈے کی توہین، ہمارے شہیدوں کی لاشوں کی بے حرمتی، بے گناہ مسلمانوں کا قتل ۔ فرق بالکل صاف ہے : ایک طرف فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور طالبان دہشتگرد ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں ۔ دوسری جانب پاکستانی فوج ہے جو حقیقی اسلام کی تصویر ہیں ۔ حتیٰ کہ دشمن کے کلمے والے جھنڈے کو بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے۔

Pakistan Defence🇵🇰

28,925 просмотров • 1 месяц назад

اس منافقت کا کوئی جواب ہے پی ٹی آئی والوں کے پاس ؟ یاد رکھیں اگر آپ یہ کہتے رہیں گے کہ آپ تو دودھ پیتے بچے تھے اور آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں تھا تو اس کا مطلب ہے آپ جان بوجھ کر کی گئی اپنی غلطیاں تسلیم نہیں کر رہے اور غلطی تسلیم نہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ غلطی کی اصلاح بھی نہیں کریں گے۔ مانیے کہ آپ جنرل باجوہ اور ثاقب نثار کے ساتھ اُس وقت کی منتخب حکومت کے خلاف سازش میں شریک تھے، تسلیم کیجئے کہ 2018 میں فوج نے آپ کے لیے الیکشن میں دھاندلی کروائی اور بعد میں بھی جیتنے والوں کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا۔ مانئیے کہ آپ اپنا اقتدار بچانے اور بڑھانے کے لیے فوج کے سب سے بڑے ٹاؤٹ اور بوٹ پالشئیے رہے۔ کہئے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سارے مظالم، کرپشن اور کاروبار جانتے ہوئے بھی آپ مصلحتاً خاموش رہے بلکہ ظالم کا ساتھ دیا۔ اعتراف کیجئے کہ آپ نے اپنی حکومت کے جائز ناجائز کاموں کے لئے ایجینسیوں کا استعمال کیا۔ جب تک آپ کھلے دل سے اپنی غلطیاں تسلیم نہیں کرتے آپ پر آئیندہ کے لیے بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

Iqrar ul Hassan Syed

135,089 просмотров • 1 год назад

⚠️حیدر مہدی کا کہنا ہے کہ میں بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح اندھا تھا میں نے بھی انکی پوجا کی ہے۔دراصل ہم لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ہم غلاظت کے گٹر میں ہیں۔ یہ فوج دہشتگرد نما ادارہ ہے۔ یہ نہ آئین کو مانتا ہے نہ قانون کو۔ فوج میں اب غلیظ اقتدار والے خاندانوں سے لوگ لیتے ہیں جو اپنی ماں بہن بیٹیوں کو بیچنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اقتدار والے لوگ اب فوج میں نہیں آتے۔ جو غلطی سے چلا جائے اسے سمجھ آجائے وہ فوج چھوڑ جاتے ہیں۔یہ غلاظت کا مجموعہ بنا کر فوج بنائی ہے یہ تالاب صاف کرنا پڑے گا جو فوج میں خدمت کرنے آئے گا۔جج کو آزاد کرے گا۔ نہ کہیں کہ پاکستانی کچھ نہیں کرتا پاکستانیوں میں قربانی دینے کا جذبہ ہے، اس فسطائیت کے دور میں عاصم منیر جتنا ذیادہ ظلم کر رہا ہے پاکستانیوں پہ جتنی ذیادہ وہ ماؤں بہنوں کی عزتیں لٹواتا ہے۔ جتنا ذیادہ لوگوں کے کاروبار کو ختم کرواتا ہے، جتنا زیادہ لوگوں کو ٹارچر کرواتا ہے، لوگوں کے اندر دہشت پھیلانا چاہتا ہے فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے،اسکو بہت ذیادہ خوف ہے کہ اگر ظلم نہ کیا تو لوگ نظام الٹ دیں گے۔ اسی لیے وہ ہم پر ذیادہ سے ذیادہ ظلم کرتا ہے، تاکہ ہمیں چپ کروا سکے۔ چار سال میں دنیا پلٹ جاتی ہے۔ پھر بھی لوگ باہر نکلتے ہیں اڈیالہ کے باہر پہنچتے ہیں۔ آپ گولیاں چلائیں لوگوں کو مار دیں یہ روکنا نہیں ہے۔کچھ نہیں ہو گا کہنا چھوڑ دیں۔پاکستانی نکلے گا اور اس ملک کا نظام بدلے گا عاصم منیر فوج نواز زردادی چاہے کچھ بھی کر لے۔فوج اٹھارہ کیا چھتیس صوبے بنا لے اگر فوج کا قبضہ رہا، عدلیہ آزاد نہ ہوئی، فوج کا احتساب نہ ہوا، انکو نہ لٹکایا گیا پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔ جس ملک میں حقوق محفوظ نہیں جس ملک میں آپکے کاروبار پر فوجی قبضہ کرلیں۔

Rodium-A

77,210 просмотров • 4 месяцев назад

اللہ نے ہماری زندگی کے ایام ہماری ارواح کو پیدا کرتے ہوئے مقرر کر دیے ہیں ۔ قبر میں جو رات آنی ہے اس کو کوئی نہ گھٹا سکتا ہے نہ بڑھا سکتا ہے۔ ہم عمر کے اس دور میں ہیں اب ہمارا اس قوم کو دینے کا وقت ہے . اس قوم کے آنے والے بچوں کے مستقبل کو بنانے کا وقت ہے ۔ کوئی یہ سمجھے کہ ڈر ، جان کا ڈر ، مال کا ڈر ، عزت کا ڈر ۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر مرنا ہی ہے تو اس قاز کے لیے مر جائیں مر رہے ہیں تو کیوں نہ پاکستان کے لیے مر جائیں ۔ زیادہ سے زیادہ مار سکتے ہیں ۔کتنو کو مارا ہمیں بھی مار دیں ۔ لیکن خدا کی قسم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان میں قانون کا بول بالا نہ ہو۔ جب تک پاکستان میں عدالتوں کی حکمرانی نہ ہو ۔ جب تک پاکستان میں پاکستانی کو سماجی انصاف نہ ملے۔ پاکستانی کو معاشی انصاف نہ ملے اور پاکستانیوں کے گھر میں گھسنے والا ، پاکستانی کے اوپر ڈنڈے برسانے والا ، ٹیر گیس چھوڑنے والا ۔ ان تمام لوگوں کو ہم کیفر کردار تک نہ پہنچائے ۔

Sher Afzal Khan Marwat

121,044 просмотров • 3 лет назад

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

36,656 просмотров • 2 месяцев назад

تین گھنٹوں پر مشتمل افواج پاکستان کے نمائندے کی پریس کانفرنس کا خلاصہ میری باتوں کا جواب تھا،آج میں دس لاکھ بندوں کے ساتھ میدان میں کھڑا ہوں تو کسی دلیل کے ساتھ کھڑا ہوں ، کہا کہ الیکشن کے حوالے سے فوج کا کوئی کردار نہیں ہے، یہی بات ہم بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین اور قانون کے میں فوج کے سیاست میں مداخلت پر کوئی رولز نہیں ہیں ، لیکن سارا رولا ہی سیاست میں مداخلت کا ہے۔ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ فوج پر تنقید بغاوت ہے ، لیکن آپ جب سیاست میں مداخلت کر کے آرٹیکل کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر آپ بھی فوجی نہیں رہتے ، اس لئے ہم بھی آپ پر تنقید کرتے ہیں ، ہم نے اندھی سیاست نہیں کی ہے، میں افواج پاکستان کے آرمی چیف اور دیگر سربراہان کو جانتا ہوں ، میرا دعویٰ یہی کہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے، جب آپ سیاسی بنیں گے تو پھر مجھ پر آپ کا احترام لازم نہیں ہے، اپنے معاملات درست کریں، ہم آپ کا احترام کریں گے۔ پاکستان کے قیام میں فوج کا کوئی رول نہیں ہے ،پاکستان کا جھنڈا ہم نے لہرایا ہے ، لیکن فوج کا کردار پاکستان کو توڑنے میں ہے ، سن 1971 میں 90 ہزار فوج ایک ہندو کے سامنے سرنگون ہوئی ، جس سے پوری قوم کا سر جھک گیا ، تم اگر وردی پہن کر رعب جمانا چاہتے ہیں تو پھر آپ سب مل کر میرے جسم کو چھو نہیں سکتے۔ میں قو م کی تائید سے یہ بات واضح کرتا ہوں کہ اب قبائل سے فوج کو واپس جانا چاہئے ، آپریشن کے نام پر قبائل پر ظلم ڈالے گئے، قبائل کے اونچے شملے نیچے کردئے گئے، اور 2010 سےیہ آپریشن چل رہا ہے ، ہم نے اس وقت بھی قبائل کا جرگہ بنا کر مؤقف دیا تھاکہ یہ آپریشن درست نہیں ہے، آج ہمارا مؤقف درست نکلا ، اگر ہمارا مؤقف درست نہیں تھا تو پھر آج دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہوئی؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

135,821 просмотров • 2 лет назад