正在加载视频...

视频加载失败

اعجاز چوہدری ستر سال کا وہ مرد آہن ہے شاید جسکا کوئی گھر ہے نہ اسکے کوئی بچے ہیں کہ اسکا حوصلہ توڑ ڈالتے یہ کیسا شخص ہے جسے جیل میں گرمی لگی نہ ڈیتھ سیل اسے خوف زدہ کرسکا نہ اسکا کوئی کاروبار ہو گا کہ اسکا ضمیر...

125,152 次观看 • 3 年前 •via X (Twitter)

10 条评论

Samrina Hashmi 的头像
Samrina Hashmi3 年前

@imranza37878546 اللہ ہمت دے اور اعجاز چوہدری صاحب کو اپنے حفاظت میں رکھے

Maqsood Khan 的头像
Maqsood Khan3 年前

کپتان کا سچا سپاہی

Muhammad Imran Khan 的头像
Muhammad Imran Khan3 年前

ہمیں فخر ان وفاکے پیکروں سے جو مرشد کے ساتھ کھڑے ہیں۔سلام ہے آپ سب بہادروں کو

Pathaan 的头像
Pathaan3 年前

Jo asli or nasli Hoga wa Imran Khan ke sath Hoga

Shahmir Keerio 的头像
Shahmir Keerio3 年前

Zinda bad

SABIL KHAN 的头像
SABIL KHAN3 年前

اس کو کہتےہیں پحتہ ایمان ویقین

Ahmed khan 的头像
Ahmed khan3 年前

Zindabad

ṡѧɞєєṅ ɞѧʟȏċһ 的头像
ṡѧɞєєṅ ɞѧʟȏċһ3 年前

سر جی علی محمد خان کہاں ہیں۔۔🤲🏻😢

Sunia Khalid 的头像
Sunia Khalid3 年前

La ilaha ilala 💚🇵🇰 may ALLAH Subhanautala keep him, his family and all belongings in HIS highest protection_ameen Same duas for you too Usman sahb 💚🇵🇰

Muhammad Huzaifa 的头像
Muhammad Huzaifa3 年前

ا نشا ءاللہ یہ تحریک کامیاب ہوگی جیت حق کی ہو گی عمران اور عوام کی ہو گی

相关视频

سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ یہ منظر جو ہم دیکھ رہے ہیں ویڈیو بنانے والے نے بھی آگے بڑھ کر اس دُکاندار کے منہ پر تھپڑ رسید نہ کیا نہ کوئی رپورٹ کی یا مُحلے کو اکٹھا کیا بس ویڈیو بنائی اور شئر کر دی ہو گیا کام۔اج جب سارا سوشل میڈیا اسے دیکھ رہا ہے اس آدمی کا اب بھی کوئی پتہ نہیں نہ شہر کا پتہ نہ مُحلے کا نہ شئر کرنے والے کا شاید مقصد یہ تھا ہی نہیں کہ اس آدمی تک پُنچا جائے مقصد ویوز اور لائکس شئر اور کومنٹس کا تھا ۔مسلۂ ایسے ویڈیوز کو اپلوڈ کرنے اور ریپوسٹ کرنے سے حل نہیں ہو گا ۔مسلۂ تب حل ہو گا جب قانون اپنا کام کرے گا دو چار عبرت ناک سزا پائیں گے اور تعلیم اور شعور معاشرے میں عام ہو گا ۔ اس سب کا زمہ دار اگر کوئی ہے تو ریاست عدلیہ اور مقننہ اور پولیس ہے ۔شاید ہر دوسری تیسری بچی اس تکلیف دہ اور توہین آمیز تجُربے سے اس عمر میں گُزرتی ہے جہاں اُسے گھر کے ملازم سے لیکر ڈرائیور مالی ریڑھی والا چھابڑی والا دُکاندارراہ چلتا یا کسی رشتے دار، قاری یا اُستاد نے اُس کے ساتھ یہ حرکت نہ کی ہو گندے اشارے نہ کیے ہوں ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں بچہ ڈر جاتا ہے اور اسی اپنی غلطی سمجھتا ہے کہ شاید مجھ سے کُچھ غلط ہوا ہے اور کسی کو نہیں بتاتا اور یہی وجہ ہے کہ بچے بار بار اس زہنی اور جسمانی ازیت سے گُزرتے ہیں کہیں خود مائیں چُپ رہنے کے لیے کہتہ ہونگی ۔۔ میں نے ناروے میں ہوتے ہوئے بھی اپنی بیٹیوں کو سکول کے پہلے دن یہ بات سکھائی تھی کہ کوئی آپ کو ٹچ کرے مجھے بتائیں اور اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں نہ ڈرنے کی ضرورت ۔ ہر جگہ بیمار سوچ کے لوگ پائے جاتے ہیں اور کئی بار تعلیم سے بھی اس کا تعلق نہیں ہوتا ۔ اور ہمارے معاشرے کا تو سوا ستیاناس ہے ۔ میں نہیں جانتی کہ راتوں رات اس معاشرے کو کیسے بدلا جائے پر یہ سچ ہے بچیاں اور بچے جو غریب گھرانوں میں پل رہی ہیں سو فیصد غیر محفوظ ہیں ۔ اور کوئی اُنکا مددگار نہیں ۔ اب یہاں بحث نہ مذہب کی ہے نہ مرد کو گالی دینے کی ۔معاشرے کو لگام کی ضرورت ہے جو خُدا جانے کون ڈالے گا ۔
0:26

Sensitive content

سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ یہ منظر جو ہم دیکھ رہے ہیں ویڈیو بنانے والے نے بھی آگے بڑھ کر اس دُکاندار کے منہ پر تھپڑ رسید نہ کیا نہ کوئی رپورٹ کی یا مُحلے کو اکٹھا کیا بس ویڈیو بنائی اور شئر کر دی ہو گیا کام۔اج جب سارا سوشل میڈیا اسے دیکھ رہا ہے اس آدمی کا اب بھی کوئی پتہ نہیں نہ شہر کا پتہ نہ مُحلے کا نہ شئر کرنے والے کا شاید مقصد یہ تھا ہی نہیں کہ اس آدمی تک پُنچا جائے مقصد ویوز اور لائکس شئر اور کومنٹس کا تھا ۔مسلۂ ایسے ویڈیوز کو اپلوڈ کرنے اور ریپوسٹ کرنے سے حل نہیں ہو گا ۔مسلۂ تب حل ہو گا جب قانون اپنا کام کرے گا دو چار عبرت ناک سزا پائیں گے اور تعلیم اور شعور معاشرے میں عام ہو گا ۔ اس سب کا زمہ دار اگر کوئی ہے تو ریاست عدلیہ اور مقننہ اور پولیس ہے ۔شاید ہر دوسری تیسری بچی اس تکلیف دہ اور توہین آمیز تجُربے سے اس عمر میں گُزرتی ہے جہاں اُسے گھر کے ملازم سے لیکر ڈرائیور مالی ریڑھی والا چھابڑی والا دُکاندارراہ چلتا یا کسی رشتے دار، قاری یا اُستاد نے اُس کے ساتھ یہ حرکت نہ کی ہو گندے اشارے نہ کیے ہوں ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں بچہ ڈر جاتا ہے اور اسی اپنی غلطی سمجھتا ہے کہ شاید مجھ سے کُچھ غلط ہوا ہے اور کسی کو نہیں بتاتا اور یہی وجہ ہے کہ بچے بار بار اس زہنی اور جسمانی ازیت سے گُزرتے ہیں کہیں خود مائیں چُپ رہنے کے لیے کہتہ ہونگی ۔۔ میں نے ناروے میں ہوتے ہوئے بھی اپنی بیٹیوں کو سکول کے پہلے دن یہ بات سکھائی تھی کہ کوئی آپ کو ٹچ کرے مجھے بتائیں اور اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں نہ ڈرنے کی ضرورت ۔ ہر جگہ بیمار سوچ کے لوگ پائے جاتے ہیں اور کئی بار تعلیم سے بھی اس کا تعلق نہیں ہوتا ۔ اور ہمارے معاشرے کا تو سوا ستیاناس ہے ۔ میں نہیں جانتی کہ راتوں رات اس معاشرے کو کیسے بدلا جائے پر یہ سچ ہے بچیاں اور بچے جو غریب گھرانوں میں پل رہی ہیں سو فیصد غیر محفوظ ہیں ۔ اور کوئی اُنکا مددگار نہیں ۔ اب یہاں بحث نہ مذہب کی ہے نہ مرد کو گالی دینے کی ۔معاشرے کو لگام کی ضرورت ہے جو خُدا جانے کون ڈالے گا ۔

Sonia Khan khattak(SK)

62,532 次观看 • 3 年前