Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اعلان لاتعلقی تمام سرکاری٬ غیر سرکاری ادارے نوٹ فرمالیں ملک سلیم صاحب نے پکا تعلق ختم کردیا وہ بھی اک خواجہ سرا کے ساتھ نان فائلر کھسرے سے تعلقات ختم

195,266 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطی میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دے دی. فیصلہ اسلام آباد میں وزیرِ اعظم کی زیر صدارت منعقدہ کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات پر اہم اجلاس میں ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر مہنگائی کی لپیٹ میں ہے. سب سے پہلے حکومت اور اشرافیہ سے قربانی کا آغاذ کیا جائے گا. معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کیلئے فیول سبسڈی کا آغاذ ہو چکا. موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر کے تناسب سے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے. وزیراعظم نے سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کو کفایت شعاری اقدامات پر مؤثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں حکومتی اخراجات میں کمی، ایندھن کے تحفظ اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے اضافی کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا . اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کے اقدام پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی۔ ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضروری خدمات کی گاڑیاں اس اقدام سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ انتظامی یا غیر آپریشنل نوعیت کی گاڑیوں کے لیے استثنا کی اجازت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی، سرکاری سطح پر ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور آئی ٹی سے متعلق خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ تین ماہ کے لیے سرکاری دوروں اور بیرون ملک سفری سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی. ناگزیر بیرون ملک دوروں کی صورت میں وزراء، مشیران، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ اجلاس میں سرکاری امور کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ اور ٹیلی کانفرنسنگ کے زیادہ سے زیادہ استعمال، سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر پابندی، سوائے غیر ملکی وفود کے اعزاز میں ضروری عشائیوں اور حکومت کے زیر اہتمام سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کے انعقاد میں غیر ضروری اخراجات سے گریز کرنے کی بھی منظوری دی گئی. اجلاس میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں سنگل ڈش کے اقدام پر بھی عملدرآمد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، بازار اور دیگر عمومی کاروباری مراکز رات 9 بجے، جبکہ شادی ہالز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند ہوں گے۔ ریستوران، کیفے، کھانے پینے کے مراکز اور اسٹینڈ الون فروٹ و سبزی کی دکانوں کے لیے بندش کا وقت رات 11 بجے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا. جبکہ فارمیسیز، طبی مراکز، ہسپتال، بیکریاں، پیٹرول و سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو اوقات کار کی پابندیوں سے استثنا دے دیا گیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ کے اقدامات کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی وزارتوں، ڈویژنز، محکموں، سرکاری اداروں اور صوبائی حکومتوں سے عملدرآمد رپورٹس حاصل کرے گی، عدم تعمیل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی اور وزیراعظم کو ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کے اقدامات پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی اور ایندھن کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 میں پہلے سے نافذ کفایت شعاری اقدامات کو جاری رکھنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جبکہ یہ اقدامات وفاقی حکومت کے منسلک محکموں، سرکاری ملکیتی اداروں، قانونی اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹیز پر بھی لاگو ہوں گے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

27,814 görüntüleme • 8 gün önce

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 görüntüleme • 5 ay önce

🆘 خان کی زندگی شدید خطرے میں ، پنڈی پر نظر رکھیں 🆘 پنڈی کو 26 اپریل تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے ۔ چھتوں پر فوجی سنائپر بیٹھا دیئے گئے ہیں یاد رہے آج سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے فوج کی TEAM A (Asim) اور TEAM B (Malik) کی میٹنگ میں خان کو پھر سے ختم کرنے کا پلان ڈسکس ہوا ہے یاد رہے دونوں ٹیمیں ایک ہی ہیں دونوں خان کو ختم کرنا چاہتی ہیں Team A میں آسم منیر ، زرداری، نواز ، پی ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں Team B میں آسم ملک، پاکستان تحریک انصاف عسکری قیادت اور آصف غفور کے ففتھیے شامل ہیں 🆘۔ Team A کا پیش کردہ پلان آسم نے کہا امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزاکرات ناکام ہوئے تو ہم کو امریکہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ اس جنگ کے لئے عمران خان کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر جنگ لگی تو عوام اور شیعہ کمیونٹی کی وجہ سے سول وار لگ سکتی ہے اور اگر عمران خان زندہ ہوا تو وہ عوام کی امید ہوگا کہ اس جنگ کو خان ہی روک سکتا ہے اس لئے اس کو سول وار کر کے باہر نکالتے ہیں ۔ اس لئے جنگ میں جانے سے پہلے عمران خان کو طبعی طور پر ختم کر دیا جائے 🆘۔ Team B کا پیش کردہ پلان نہیں ہم خان کو امریکہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے اس کے لئے ہمیں امریکہ کی مکمل حمائیت اور گارنٹی چاہئے اور اس میں ہمیں دس سال تک IMF سے ڈالر چاہیں ہونگے اور سعودیہ, مڈل ایسٹ سے loan ریلیف چاہئے ہوگا ۔ اس کے لئے خان کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں پھر ہم خان کو ختم کر دیں گے اور پھر ہم سکون سے ایران کے ساتھ جنگ میں جا سکتے ہیں ℹ️ اس بات پر دونوں ٹیموں نے اکتفا کیا اور فیصلہ ہوا آسم منیر امریکہ جاکر اجازت لے گا اور عوام کو چورن دینے اور engage کرنے کے لئے 19 تاریخ کا جلسہ بھی رکھ دیا گیاہے ۱: ایران سے مزاکرات ناکام ہو چکے ۲: سعودیہ اور مڈل ایسٹ loan کو reschedule کر چُکا ۳: IMF سے بھی بات شروع ہو چُکی ۴: پنڈی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ۵: عوام کو پنڈی کی بجائے مردان جلسے کی طرف لے جایا جا چُکا ۶: سب سے خطرناک ڈیلیپلمنٹ یہ ہی کہ اسم منیر اس وقت امریکہ روانہ ہوچکا ہے اس پوسٹ کا مقصد ان حرامخور غداروں کے گندے پلان کو ایکسپوز کرنا لازم ہے ۔ تاکہ عوام کو آگاہی رہے ان کے sinister plan کی 🙏✊ Imran Khan #خان_کی_زندگی_خطرے_میں
0:10

Sensitive content

🆘 خان کی زندگی شدید خطرے میں ، پنڈی پر نظر رکھیں 🆘 پنڈی کو 26 اپریل تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے ۔ چھتوں پر فوجی سنائپر بیٹھا دیئے گئے ہیں یاد رہے آج سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے فوج کی TEAM A (Asim) اور TEAM B (Malik) کی میٹنگ میں خان کو پھر سے ختم کرنے کا پلان ڈسکس ہوا ہے یاد رہے دونوں ٹیمیں ایک ہی ہیں دونوں خان کو ختم کرنا چاہتی ہیں Team A میں آسم منیر ، زرداری، نواز ، پی ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں Team B میں آسم ملک، پاکستان تحریک انصاف عسکری قیادت اور آصف غفور کے ففتھیے شامل ہیں 🆘۔ Team A کا پیش کردہ پلان آسم نے کہا امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزاکرات ناکام ہوئے تو ہم کو امریکہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ اس جنگ کے لئے عمران خان کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر جنگ لگی تو عوام اور شیعہ کمیونٹی کی وجہ سے سول وار لگ سکتی ہے اور اگر عمران خان زندہ ہوا تو وہ عوام کی امید ہوگا کہ اس جنگ کو خان ہی روک سکتا ہے اس لئے اس کو سول وار کر کے باہر نکالتے ہیں ۔ اس لئے جنگ میں جانے سے پہلے عمران خان کو طبعی طور پر ختم کر دیا جائے 🆘۔ Team B کا پیش کردہ پلان نہیں ہم خان کو امریکہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے اس کے لئے ہمیں امریکہ کی مکمل حمائیت اور گارنٹی چاہئے اور اس میں ہمیں دس سال تک IMF سے ڈالر چاہیں ہونگے اور سعودیہ, مڈل ایسٹ سے loan ریلیف چاہئے ہوگا ۔ اس کے لئے خان کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں پھر ہم خان کو ختم کر دیں گے اور پھر ہم سکون سے ایران کے ساتھ جنگ میں جا سکتے ہیں ℹ️ اس بات پر دونوں ٹیموں نے اکتفا کیا اور فیصلہ ہوا آسم منیر امریکہ جاکر اجازت لے گا اور عوام کو چورن دینے اور engage کرنے کے لئے 19 تاریخ کا جلسہ بھی رکھ دیا گیاہے ۱: ایران سے مزاکرات ناکام ہو چکے ۲: سعودیہ اور مڈل ایسٹ loan کو reschedule کر چُکا ۳: IMF سے بھی بات شروع ہو چُکی ۴: پنڈی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ۵: عوام کو پنڈی کی بجائے مردان جلسے کی طرف لے جایا جا چُکا ۶: سب سے خطرناک ڈیلیپلمنٹ یہ ہی کہ اسم منیر اس وقت امریکہ روانہ ہوچکا ہے اس پوسٹ کا مقصد ان حرامخور غداروں کے گندے پلان کو ایکسپوز کرنا لازم ہے ۔ تاکہ عوام کو آگاہی رہے ان کے sinister plan کی 🙏✊ Imran Khan #خان_کی_زندگی_خطرے_میں

Mr Rumi (✊ #KRBT انقلاب)

19,700 görüntüleme • 5 ay önce

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

Altaf Hussain

11,172 görüntüleme • 3 ay önce

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

Altaf Hussain

33,060 görüntüleme • 3 yıl önce

حملے کے وقت مانیٹر کرنے والی ویڈیو اور شہدا کا لسٹ کس نے پبلک کیا؟ کیا ہماری ملٹری کے آفیسران اتنے غیر زمہ دار ہوچکے ہیں کہ انکی آفیشل ورکنگ کسی واٹس ایپ گروپ میں چل رہی ہوں، کسی فیس بک پیج پر چل رہی ہوں۔ آپ لوگوں کے دماغ میں یہ بات کیوں نہیں بیٹھتا کہ ایک سویلین ملٹری مائنڈ سیٹ کا نہیں ہوتا ہے۔ میں خود ایک سویلین ہوں۔ اگر آپ لوگوں کی آفیشل ورکنگ، دستاویز، ویڈیو کسی واٹس ایپ گروپ، ٹویٹر اکاونٹ، اور فیس بک پیج کے زریعے شیئر ہورہی ہوں تو میرے خیال سے DG ISPR کا ادارہ ختم ہوجانا چاہیئے۔ ویسے حد ہوتی ہے غیر زمہ داری کی۔ آج یہی لسٹیں غیر ملکی اکاونٹ چلا رہے ہیں، یہی ویڈیو غیر ملکی چلا رہے ہیں۔ کیا ایک پروفیشنل فوج اس طرح ہوتی ہے کہ اسکی پرسنل ورکنگ سوشل میڈیا کی زینت ہو؟ وہ بھی محض چند گھنٹوں کے اندر؟ سویلین کے ساتھ اس طرح کی انگیجمنٹ بلکل بھی نہیں ہونی چاہیئے جہاں آپ انسے اپنی ایکٹیوٹی، اپنی موومنٹ شیئر کریں۔ بیشک وہ آپکے اپنے گھر والے ہی کیوں نا ہوں۔ میں یہی گزارش کرونگا، اس ویڈیو اور لسٹ کو جس نے پبلک کیا ہے اس پر کاروائی ہونی چاہیئے، اور یہ بات یقینی بنانی چاہیئے کوئی بھی ملٹری ورکنگ کسی اکاونٹ کی زینت نہیں بنے گا، جب تک آفیشلی وہ پاس نا ہوجائے اور باقاعدہ ایڈٹ کرکے شیئر کیا جائے۔ #Balochistan

مسٹر پاکستانی🕊️

156,434 görüntüleme • 21 gün önce

وقوعہ 67/ڈی پاکپتن نیا رخ اختیار کر گیا..... PFA Vs. Milk Adulteration Mafia محمد تنویر مجید، ڈائریکٹر جنرل پنجاب روڈ سیفٹی اتھارٹی کے مبینہ طور پر ملزم فخر جھیڈو کے ساتھ تعلقات نے عوام میں شدید غصہ اور سوالات پیدا کر دیے ہیں… 👈 سوشل میڈیا پر پولیس افسران کے ساتھ دکھائی دینے والے گہرے مراسم یہ واضح کرتے ہیں کہ بعض اعلیٰ عہدے دار اپنے منصب کی ذمہ داریوں سے ہٹ کر ذاتی تعلقات کے بھرم کو مقدم رکھتے ہیں… اس موقع پر خاص طور پر عاصم جاوید ڈی جی Punjab Food Authority کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عاصم جاوید اپنے منصب کی عظمت اور عوامی توقعات کے مطابق کھڑے ہوں گے اور اس واقعے کو ایک مثال بنا کر انصاف کی راہ ہموار کریں گے یا پھر طاقتور تعلقات اور سرکاری پروٹوکول کی پناہ میں ملزمان کو دوام بخشیں گے؟ عوام کی نظر میں یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کا امتحان ہے۔ شفافیت، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر عہدے دار، چاہے وہ محمد تنویر مجید ہوں یا ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید، اپنے منصب کی تقدیر کو ذاتی مفادات کے آگے مات نہ دے۔ آج اگر انصاف نہ ہوا، تو کل عوامی اعتماد بھی مٹ سکتا ہے… Maryam Nawaz Sharif Chief Minister’s Complaint Cell Salma Butt Deputy Commissioner Pakpattan

Daim Mubashar

11,455 görüntüleme • 5 ay önce

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad
0:13

Sensitive content

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad

Khurram Khan

62,829 görüntüleme • 27 gün önce

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

Amir H. Qureshi

65,422 görüntüleme • 26 gün önce

#ڈھول_پہ_ٹھپہ #سمبڑیال_کپتان_کا ♦️پاکستانیوں آج بتانا ہے نا خان نے ہار مانی ہے ،نا اس کی عوام مانے گی۔ ♦️8 فروری 2024 ۔۔۔۔۔عوام نے تمام تر ظلم فسطائیت کے باوجود اپنا فیصلہ خان کے حق میں کیا۔ ♦️یہ وہ الیکشن تھے،جس میں پارٹی کا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا۔ ♦️اُمیدواروں سے کاغزات نامزدگی چھینے گئے۔ ♦️ پارٹی کے چیئرمین کو ناحق قید میں رکھا گیا۔ ♦️ کمپین سے روکا گیا۔ ♦️اغواء اور گرفتاریوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ جاری رہا۔ ♦️ان سب کے باوجود عوام نا ٹوٹی نا جھکی نا کمزور ہوئی۔ ♦️ تاریخ کا ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھا گیا۔ ♦️تحریک انصاف کے ووٹرز کی تعداد کا جائزہ لگاتے ہوئے،الیکشن کمیشن نے قطاروں میں کھڑے لوگوں کے لیے وقت کی توسیع تک نا کی۔ ♦️کئی جگہوں پہ ووٹس کو ضائع کروانے ڈبل اسٹیپ مارے گئے۔ ♦️لاکھوں ووٹ مسترد کئے گئے۔ ♦️کئی حلقوں میں لوگ برف باری کے باوجود ووٹ ڈالنے آئے اور قومی فریضہ انجام دیا۔ ♦️اس بار کئی نوجواوں نے زندگی کا پہلا ووٹ تحریک انصاف کو دیا۔ ♦️عمران خان نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور احترام کو خاص توجہ دی ہے،اور 2024 کے الیکشن میں خواتین کا بہترین ٹرن آؤٹ رہا۔ ♦️کئی ایسے علاقے تھے جہاں خواتین کو پہلی بار موقع ملا ووٹ ڈالنے کا کیونکہ اس سے پہلے پنچایت سے اجازت نہیں ہوتی لیکن اس بار ملک کو دلدل سے نکالنے ہر مرد عورت ؛بوڑھے جوان نے اپنا فرض ادا کیا۔ ♦️کئی جگہوں پہ بچے کمپین کرتے نظر ائے۔ ♦️تو ساتھ ہی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے دن رات ایک کیا اور گھر گھر مختلف پلیٹ فارمز کے زریعے آگاہی کروائی۔ ♦️ووٹرز کی معلومات میں رکاوٹ کے لیے اور رابطے منقطع کرنے۔۔۔موبائل سروس کو معطل رکھا گیا۔ ♦️انتخابی نتائج میں تاخیر کی گئی۔ ♦️صرف تحریک انصاف کا راستہ روکنے کروڑوں روپے کے الیکشن مینجمنٹ سسٹم کو ناکارہ دیکھایا گیا۔ ♦️اوور رائٹنگ ،نمبرز کی ہیرا پھیری کرکے فارم 47 کے زریعے ریجیکٹڈ امیدواروں کو عوام پہ مسلط کردیا گیا۔ ♦️لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود مینڈیٹ پہ ڈاکے کے باوجود ووٹ۔۔۔۔ملک بھر سے 180 سیٹوں کے ساتھ نتیجہ تحریک انصاف کے حق میں تھا۔ جبکہ عوام پہ مسلط 17 سیٹوں والوں کو کیا گیا۔ ♦️بدقسمتی سے عوام کے حق میں ڈاکہ کی اس واردات کی سہولت کاری میں ہمارے ادارے ہماری عدالتیں بھی شامل رہیں ہیں۔ لیکن ♦️ہم نے ہار نہیں ماننی۔۔۔۔کیونکہ یہ سب ایک جدوجہد کا حصہ ہے،آزادی کی تحریک کا حصہ ہے۔اپنی پہچان حاصل کرنے کی جستجو ہے۔غلامی سے انکار کا اعلان ہے۔ ♦️اس لیے ایک بار پھر یکم جون کو "ڈھول_پہ_ٹھپہ" کے ساتھ بھرپور جواب دینا ہے۔کہ ♦️عوام حق سچ کے ساتھ اپنے عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ♦️ایک بار پھر جیت کا جشن منانا ہے۔ ♦️مخالفین کی ہر چال کو ناکام بنانا ہے۔ ♦️آو قدم بڑھاؤ پاکستانیوں ۔۔۔۔۔خان کو لانا ہے۔ مستقبل کو بچانا ہے۔ ♦️ووٹ صرف خان کا۔۔۔۔ سمبڑیال_کپتان_کا ۔ ♦️ عمران خان کے نامزد امیدوار فاخر نشاط گھمن کے انتخابی نشان ڈھول پر مہر لگا کر کامیاب کروائیں اور ظلم کا بدلہ ووٹ سے لیں۔

𝙁𝘼𝙍𝘼𝙃 𝙆𝙃𝘼𝙉 𝙏𝘼𝙉𝙊𝙇𝙄

16,662 görüntüleme • 1 yıl önce

"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddique

Dr Waqas Nawaz

45,959 görüntüleme • 9 ay önce

میرے خلاف جس انداز میں کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، وہ دراصل اسی سیاسی کلچر کا تسلسل ہے جسے برسوں سے چند نام نہاد سوشل میڈیا ٹرولز نے پروان چڑھایا۔ مسلسل گالم گلوچ، بہتان تراشی، تضحیک اور دھونس کے ذریعے ہر اختلافی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، اور یہی رویّہ بالآخر مجھے اس مقام تک لے آیا جہاں آج میں کھڑا ہوں۔ میں اب پاکستان تحریکِ انصاف کا حصہ نہیں ہوں، اس لیے مجھ پر کسی جماعتی ڈسپلن کی اخلاقی یا سیاسی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ اختلافِ رائے کو غداری اور سوال اٹھانے کو بغاوت قرار دینا دراصل سیاسی عدم برداشت کی بدترین شکل ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ عمران خان صاحب کی غیر منصفانہ سزا کا حوالہ دینے کا مقصد ہرگز کسی کی توہین نہیں تھا بلکہ صرف اُس قانونی اصول کی نشاندہی کرنا تھا جو خود عمران خان صاحب کی درخواست پر سپریم کورٹ نے 2018 میں میاں نواز شریف کے خلاف طے کیا تھا۔ اصول اگر ایک کے لیے قانون بنے تو دوسرے کے لیے بھی وہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ قانون شخصیات کے تابع نہیں بلکہ شخصیات قانون کے تابع ہوتی ہیں۔ پی ٹی آئی اور اس کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے گزشتہ برسوں میں جو طرزِ سیاست اپنایا، وہ آج کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اختلاف کرنے والوں کو گالیاں دینا، ان کی کردار کشی کرنا، جعلی مہمات چلانا اور خاندانوں تک کو نشانہ بنانا ایک کھلا راز بن چکا ہے۔ تمام تر ٹرولنگ، خصوصاً علیمہ خان کے زیرِاثر چلنے والی مہمات کے باوجود، میں نے ہمیشہ خان صاحب کا احترام کیا، ان کا دفاع کیا اور مشکل ترین وقت میں بھی اُن کے ساتھ کھڑا رہا۔ مگر افسوس کہ پارٹی قیادت یا ذمہ دار حلقے میری بات سننے، وجوہات معلوم کرنے یا آئینی عدالت میں دائر مؤقف پر مجھ سے مکالمہ کرنے کے بجائے سیدھا ٹرولز کو چھوڑنے میں مصروف ہوگئے۔ اگر اختلاف تھا تو دلیل سے جواب دیتے، گفتگو کرتے، نظرِ ثانی کی درخواست کرتے، مگر یہاں تو ہر سمت سے صرف بھونکنے کی آوازیں آئیں۔ یاد رکھیں، پی ٹی آئی کے ہر اُس کارکن کی فطرت میں یہ بات شامل ہو چکی ہے کہ جتنا اسے دباؤ، جتنا اسے دیوار سے لگاؤ، وہ اتنا ہی زیادہ خطرناک ردِعمل دیتا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں، ٹرولنگ اور کردار کشی سے مجھے خاموش کرا لیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ میں نے نہ پہلے کبھی کسی کے شور کی پرواہ کی، نہ آج کرتا ہوں۔ البتہ میرا ردِعمل ایسا ضرور ہوگا جو آپ کو بے چین بھی کرے گا، تڑپائے گا بھی اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرے گا۔ سیاست دلیل، برداشت اور کردار سے چلتی ہے، ٹرولز، گالیوں اور ہجوم کے شور سے نہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

19,517 görüntüleme • 4 ay önce

لاہور شہر کی خواتین طالبات سے جُڑی تین خبریں خاتون وزیراعلی مریم نواز کی حکومت خاموش تماشائی پنجاب کالج کا کیمپس 10 گلبرگ جہاں کالج کے گارڈ نے زیرتعلیم طالبہ کا مبینہ ریپ کیا ، میڈیا سمیت کوئی پنجاب کالج کا نام چلانے کو تیار نہیں ، کالج انتظامیہ نے معاملہ دبایا الٹا اسٹوڈنٹس کو احتجاج کرنے پر ڈرایا جارہا لیکن کالج کی طالبات نے آج بھرپور احتجاج کیا ہے ، پولیس نے ملزم گرفتار کیا ہے تاحال وہ بھی نجی کالج کہہ رہے ساتھ میں ملزم کی تفصیلات نہیں دی جارہیں اگر بااثر پنجاب کالج نہ ہوتا تو انتظامیہ پولیس اور میڈیا کا یہی رویہ ہوتا ؟ اب تک کالج کے اندر کی فوٹیج اور سی سی ٹی وی تک چل چکی ہوتی ادارے کا نام پر مریم نواز جائیں پنجاب کالج اور ادارہ سیل کروائیں ساتھ میں بتائیں ابھی تک ایف آئی أر کیوں نہیں ہوسکی ؟ دوسری خبر جیل روڈ پر واقع لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی ہے جہاں مرد عملے پر مسلسل خواتین اسٹوڈنٹس کا ہراساں کرنے کا الزام ہے ، طالبات نے آج احتجاج کیا ہے اور نعرے بازی بھی یہ سرکاری ادارہ ہے یہاں ہی پنجاب حکومت کچھ کرلے یا عورت کارڈ صرف پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلی تک ہی چلانا ہوتا ہے ؟ تیسری خبر پنجاب یونیورسٹی سے ہے جہاں رات ہاسٹل میں طالبہ نے مبینہ خودکشی کی ہے ، بتایا جا رہا لڑکی کسی کی طرف سے بلیک میلنگ کا شکار تھی اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے یہ لاہور شہر کا حال ہے جہاں تاریخ کی پہلی “ خاتون وزیراعلی “ ہیں

Umar Daraz Gondal

232,308 görüntüleme • 1 yıl önce