Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اقبال نے کہا تھا ہم کو تو ميسر نہيں مٹي کا ديا بھي گھر پير کا بجلي کے چراغوں سے ہے روشن اب یہ ویڈیو زیادہ بامعنی ہو گئی ہے ایک طرف غریب کے بچے ہیں جو ٹیکس دیتے مگر سکول میں سادہ پنکھا بھی میسر نہی دوسری طرف...

19,345 просмотров • 3 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کا پروٹوکول اور ڈالہ کلچر ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں عام لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہی ھے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ھے۔ ایسے شاہانہ پروٹوکول طبقاتی تقسیم کو ننگا کرتے ہیں۔ جب عام آدمی کا بچہ سکول جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے، یا بیمار ہو کر سرکاری ہسپتال کے باہر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، تو اسی وقت اشرافیہ کے بچے سرکاری گاڑیوں کے جھنڈوں، مسلح محافظوں اور پولیس کی سرخیاں بچھا کر سڑکوں پر بادشاہوں کی طرح گھوم رھے ہوتے ہی۔ یہ پروٹوکول صرف حفاظت کا نام نہیں، بلکہ ایک نمائشی طاقت اور مراعات کا کھیل ہے۔ بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مفت سہولیات، سرکاری وسائل پر بیرون ملک دورے اور شاپنگ، ٹریفک روک کر راستہ صاف کرانا، جبکہ عام شہری کی ایمبولینس کو بھی راستے میں کھڑا کر دیا جاتا ھے، یہ سب کس کے پیسوں سے؟؟ اسی غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے ٹیکس سے، جس کے بچوں کو ایسا پروٹوکول تو دور کوئی بنیادی سہولیات بھی نہیں ملتی، اشرافیہ کے بچوں کو یہ حق دے دیا گیا ھے کہ پورا نظام ان کی سہولت کے لیے رک جائے۔۔ یہ مراعات نہیں، ظلم ہے۔ یہ طبقاتی تفریق ہے جو معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں۔ کیا ایک بچے کی جان دوسرے بچے سے زیادہ قیمتی ہے صرف اس لیے کہ اس کے والد کی کرسی اونچی ہے؟ یا وہ بہت پیسے والا ھے؟ یا پھر اسکے والد کے بہت تعلقات ہیں؟ آئین پاکستان کے مطابق امیر غریب سب برابر ہیں۔ تو پھر یہ سب کیوں؟ خدارا یہ پروٹوکول ختم کریں، مراعات ختم کریں اور وسائل کو عام عوام تک پہنچائیں جہاں سے یہ آئے ہیں۔ #طبقاتی_انصاف #پروٹوکول_ختم_کرو

چوہدری شاہد محمود

17,651 просмотров • 7 месяцев назад

اپڈیٹ: کراچی کے علاقے بفرزون میں گھر کی سیڑھیوں پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا معاملہ مقدمے میں نامزد ملزم نعمان نے ویڈیو پیغام کے ذریعے کہا ہے کہ انکی ویڈیو سازش کے تحت وائرل کی گئی ہے۔ ملزم نعمان نے کہا کہ ہمارے گھر کے نیچے رہائش پذیر کرائے دار مختیار کافی عرصے سے ہم سے گھر خالی کروانے کا مطالبہ کر رہا تھا اور یہی معاملہ اس تنازع کا سبب بنا۔ پانی کے معاملے پر اس سے قبل بھی مختیار سے جھگڑا ہو چکا تھا، مختیار نے اپنی ماسی کو بھڑکایا اور اس دوران میرے بیٹے پر بھی تشدد کیا گیا، خاتون بچے پر تشدد کر رہی تھی، اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ ملزم نعمان کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد میں خود گبول ٹاؤن تھانے پولیس کے پاس بھی گیا تھا، یہ واقعہ 10 دسمبر کو پیش آیا تھا جبکہ ویڈیو بعد میں وائرل کی گئی۔ میں اپنی غلطی کی وجہ سے پھنس گیا، میں نے معافی کی کوشش بھی کی تاہم مجھ سے پیسوں کا مطالبہ کیا گیا جو میں ادا نہیں کر سکتا۔

Shahid Hussain

42,341 просмотров • 8 месяцев назад

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 просмотров • 2 лет назад

جو جھوٹ بول رہے ہیں کہ قاسم خان/سلیمان خان نے پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو ختم کرنے کی بات نہیں کی، ان پاکستان کے دشمنوں کو پتہ ہونا چاہئیے کہ جس فورم پر گفتگو کی گئی وہاں کوئی بچے نہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ بلاواسطہ بھی ذکر کریں پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کا اور آپ کی اشاروں کنایوں میں کی گئی پاکستان مخالف بات کو کوئی سمجھ نہ سکے۔ پاکستان کے سٹیٹس کو mention کرنے کا مقصد ہی اس بات کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ یہ backhanded approach ہوتی ہے جس میں براہ راست نہ کہہ کر بھی اپنا مدعا بیان کر دیا جائے۔ افسوس کہ وہ بچے جو آج تک غیرمتنازعہ تھے، اب متنازعہ اور سیاسی بن چکے ہیں۔ کسی کے سیاسی اور پاکستان مخالف مقاصد کے ہاتھوں استعمال ہو گئے۔ والد سے گفتگو میں تو عمران خان نے بتایا کہ ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے آنکھ ٹھیک ہو رہی ہے سو یہ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کو جیل میں ہر قسم کے انسانی حقوق عام قیدیوں سے بڑھ کر میسر ہیں۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ Attaullah Tarar کو ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس پاکستان مخالف حرکت بارے پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ اتنے اھم نہیں کہ ریاست کا مرکزی وزیر ان کو جواب دے؛ پاکستان الحمدللہ ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس حرکت سے بہت زیادہ بلند،مضبوط اور باوقار ہے۔ یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہاں اپنا ہی تشخص ضرور بگاڑ لیا۔ پاکستان مخالف دشمنوں کو تکلیف ہی اس بات کی ہے کہ اس ملک کو اس قدر عزت، پذیرائی اور عالمی وقار کیوں حاصل ہو رہا ہے اور وہ بھی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے دور میں ۔۔۔۔۔ لیکن ایک پلان ان کا ہے اور ایک پلان اللہ کا ہے ۔۔۔ اور غالب پلان تو اللہ ہی کا ہے ✌️💯💥🇵🇰 آج صبح جی ٹی وی GTV پر میرا تجزیہ ۔۔۔ 👇 👇 👇

Gharidah Farooqi (T.I.)

30,982 просмотров • 5 месяцев назад

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

31,692 просмотров • 5 дней назад

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 просмотров • 2 месяцев назад

دنیا میں کسی کے لیے، چاہے اس نے سینکڑوں قتل کیے ہوں، چاہے وہ دنیا کا سب سے بڑا اسمگلر ہو، چاہے اس نے دنیا کی بدکاریاں کی ہوں، آج تک کسی کے لیے یہ نہیں ہوا کہ اس کے گھر والوں سے ملاقات پر پابندی ہو۔ عمران خان کا کیا کام؟ ایک سابق وزیراعظم ہے، نہ سہی ایک اچھا کرکٹر رہ چکا ہے، نہ سہی پاکستان کا سٹیزن تو ہے۔ ان سے ملاقات پر پابندی کس بنیاد پر؟ حالات بغاوت کے بھی پکے ہیں، حالات مردہ باد زندہ باد کے بھی پکے ہیں، حالات خانہ جنگی کے پکے ہیں۔ ہمیں صرف یہ ڈر ہے کہ خدانخواستہ اگر ہم عوام کو سڑکوں پر لے آئے تو پاکستان اس کو سہہ سکے گا یا نہیں؟ اس کے نتیجے میں کیا ہوگا، اس کا ہم سب کو ڈر ہے۔ ہم مجرم سمجھتے ہیں شہباز شریف کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں ہر اس پارٹی کو جس نے 24ویں، 25ویں ترامیم میں ووٹ دیا۔ آپ کے ووٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ آپ نے اپنے عدلیہ کے پر کاٹ دیے، آپ نے اپنی میڈیا پر پابندی لگائی، آپ نے اپنے پارلیمنٹ کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ اب آپ کے خلاف جائے گا۔ زرداری صاحب ہو سکتا ہے آپ صدر نہ رہیں، شہباز صاحب ہو سکتا ہے آپ وزیراعظم نہ رہیں کیونکہ آپ نے ایک غلط تالاب میں پانی ڈال دیا ہے۔ یہ ابھی بھی وقت ہے، مہربانی کریں۔" اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

20,224 просмотров • 4 месяцев назад

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 просмотров • 2 месяцев назад

جب حد ہی ختم ہو جائے دنیا میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ کبھی کبھی ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ یہ ماں اور بیٹا ہیں، دونوں ٹک ٹاکر ہیں، لیکن ذرا اس ویڈیو میں استعمال ہونے والے گانے کے بول اور ان کے انداز پر غور کریں۔ کہیں سے بھی یہ ماں بیٹا لگ رہے ہیں؟ رشتوں کی اپنی ایک حرمت، ایک حد اور ایک خوبصورتی ہوتی ہے۔ ماں اور بیٹے کا رشتہ تو ویسے ہی عزت، محبت اور تقدس کا رشتہ ہے۔ صرف چند ویوز، لائکس اور پیسوں کے لیے اس رشتے کو ایسے انداز میں کیمرے کے سامنے پیش کرنا کہ دیکھنے والا خود شرمندہ ہو جائے، آخر یہ کہاں کی سمجھ داری ہے؟ سوشل میڈیا پر مشہور ہونا کوئی بری بات نہیں، لیکن شہرت کے لیے ہر حد پار کر دینا یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب ویوز کی دوڑ میں یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ ہم جو کچھ کیمرے کے سامنے کر رہے ہیں، اسے دیکھنے والے ہمارے رشتے کو کس نظر سے دیکھیں گے۔ آخر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ کہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اور چند ہزار ویوز کے لیے رشتوں کی حدود، شرم و حیا اور خاندانی وقار سب کچھ بھول جاؤ؟

its me میٹھو

19,898 просмотров • 19 дней назад

کچھ ویڈیوز سامنے آچکی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید ویڈیوز بھی سامنے آسکتی ہیں۔ ممکن ہے بچے اور بچیاں ابھی خوف کی وجہ سے خاموش ہوں، یا ان کے والدین نے انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہو۔ اس لیے کسی بھی واقعے کے تمام پہلوؤں پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل شواہد کا سامنے آنا ضروری ہے۔ خاتون کا گریبان پکڑنے یا انہیں ہراساں کرنے کے الزام کی تاحال کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی۔ البتہ ایسی ویڈیوز ضرور سامنے آچکی ہیں جن میں ایک خاتون کو لاتیں چلاتے، پولیس اہلکار سے لاٹھی چھینتے اور بچیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ مزید یہ کہ ویڈیو میں بچیوں کو ایف آئی آر کی دھمکیاں بھی سنائی دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف باحجاب بچیاں صرف ’’وی وانٹ جسٹس‘‘ کے نعرے بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد ہر شخص اپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور کرے کہ اس موقع پر ہراساں کون کر رہا تھا اور انصاف کا مطالبہ کون کر رہا تھا؟ فرعونیت کے سامنے انصاف مانگنا اگر کسی کی رعونت کو ’’ہراساں‘‘ کرنا بن جائے تو پھر مسئلہ انصاف مانگنے والوں میں نہیں، طاقت کے زعم میں ہے۔ جس طرح ایک باحجاب بچی یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ان کے سروں سے دوپٹے کھینچے گئے، لیکن اس دعوے کی تائید میں تاحال کوئی واضح ویڈیو یا قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا، اسی طرح ٹیچر کا گریبان پکڑے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے کے دعوے کے لیے بھی فی الحال کوئی واضح ویڈیو ثبوت موجود نہیں۔ دونوں دعووں کو ایک ہی معیارِ ثبوت پر پرکھا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں ایک اور عجیب پہلو یہ ہے کہ ابتدا میں مذکورہ خاتون کو ’’افسر صاحب کی بیٹی‘‘ کہا گیا، پھر ’’بیوی‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ اب یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ شاید ان میں سے کوئی نسبت درست نہیں۔ اگر یہ دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں تو بھی اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے بجائے حقائق کی تصدیق ضروری ہے۔ معاملہ بنیادی طور پر اتنا سادہ تھا کہ بچے اور بچیاں احتجاج کر رہے تھے۔ اساتذہ کو چاہیے تھا کہ معاملہ باہمی گفتگو سے حل کرتے، طلبہ کی بات سنتے اور انہیں اعتماد میں لیتے۔ ’’امورِ طلبہ‘‘ سے وابستہ ذمہ داران کا بنیادی کام ہی یہی ہے کہ طلبہ کے مسائل سنیں اور تنازعات کو مزید بگاڑنے کے بجائے انہیں حل کریں۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختیار، ذمہ داری کے بجائے طاقت کا احساس پیدا کرنے لگے۔ ایسی صورتِ حال میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو سننے کے بجائے ان پر غصہ، دھمکی یا طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اور حیرت ان لوگوں پر بھی ہے جو ایسی صورتحال میں درجنوں لاشیں گرانے کی باتیں کرتے ہیں، سوال اٹھانے والوں کو گالم گلوچ کا نشانہ بناتے ہیں، یا محض اس بنیاد پر کہ معاملے میں ایک عورت موجود ہے، بغیر شواہد کے اپنی تمام ہمدردیاں ایک ہی فریق کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان سے صرف ایک سوال ہے: اگر یہی طرزِ عمل آپ کی اپنی بچیوں کے ساتھ کسی تعلیمی ادارے میں اختیار کیا جائے تو کیا آپ اسے درست سمجھیں گے؟ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی بچیاں بھی اختلاف یا احتجاج کے جواب میں لاتیں چلائیں، پولیس سے لاٹھی چھینیں اور دوسری بچیوں کی طرف حملہ آور ہونے کی کوشش کریں؟ اگر یہ دعویٰ بھی درست ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ خاتون کا افسر صاحب سے بیٹی یا بیوی کا کوئی رشتہ نہیں، تو پھر ان تمام لوگوں کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو محض کسی بااثر شخصیت سے تعلق یا قربت کے مفروضے کی بنیاد پر ایسے رویے کا دفاع کر رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں طاقتور سے قربت کسی کو قانون، اخلاق اور دوسرے انسانوں کی عزت سے بالاتر نہیں کرتی۔ جہاں تک افسر صاحب کا تعلق ہے، ان کے معاملے کی تحقیقات متعلقہ ادارہ کر رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے اور جو بھی نتیجہ سامنے آئے، اسے شواہد اور قانون کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ اور آخر میں ان لوگوں کے لیے جو ہر صورت میں غلاظت کو ’’کھیر‘‘ ثابت کرنے پر بضد ہیں: آپ اپنی ملازمت، اپنے مفادات اور اپنی مجبوریوں کے مطابق جس طرح چاہیں اسے درست ثابت کرتے رہیں۔ لیکن کم از کم اتنا ضرور یاد رکھیے کہ سچ کو شور، گالم گلوچ یا طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اصل ضرورت کسی فریق کو ہیرو یا ولن بنانے کی نہیں، بلکہ مکمل حقائق سامنے لانے کی ہے۔ جو قصوروار ہو، اسے قانون کے مطابق جواب دینا چاہیے، اور جو بے قصور ہو، اسے محض الزام یا طاقت کے زور پر نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ #fmasimmunirleadingpeace #SarhadUniversity

Muhammad Maaz Siddiqui - ⚖️

11,601 просмотров • 18 дней назад

افغان مہاجرین کی جبری انخلاء کا فیصلہ جذباتی قسم کا ہے،افغانستان سے ناراضگی کا زور ہم ان کے ہم مہاجرین پر نکال کر انہیں تکلیف دے رہے ہیں،یہ مسئلہ 2017 میں اٹھا تھا،اس وقت ہم نے تجویز دی تھی کہ آپ کیٹگریز طے کریں، اس میں ایک کیٹیگری گریجوئیٹ مہاجرین کی ہے، یہ لوگ پاکستان کا اسکل ہیں، ان کو دھکے دے کر نکالنے بجائے ملکی ترقی کے لئے انہیں کھپانا چاہئے۔ دوسری کیٹیگری افغان سرمایہ کار کی ہے جو پچھلے 35 برس سے اقتصادی ترقی میں حصہ ملا رہا ہے، ان کے سرمایہ کو تحفظ دیا جائے، اگر وہ اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کریں گے تو اس کے اثرات معیشت پر ہوں گے۔ تیسری کیٹیگری طلباء کی ہے، جن کی منتقلی سے ان کے نصاب میں فرق آئے گا ان کی تعلیم میں حرج ہوگا۔ ان تجاویز کو اس وقت کی کابینہ نے منظور کیا تھا ، اب کونسی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے اور کس نے منظوری دی ہے ؟ افغان مہاجرین یک طرفہ مسئلہ نہیں ہیں،افغانستان پاکستان کا دو طرفہ مسئلہ ہے اور ہم نے خوشی سے ان کو قبول کیا تھا اور پھر پشتون معاشرے میں جہاں مہمان نوازی ان کا ایک طرہ امتیاز ہے ان کی روایات کا ایک روشن حصہ ہے، آپ چالیس سال تک کسی کو مہمان رکھ کر جب گھر سے نکالے اور لات مار کر نکالیں گے تو آپ کی چالیس پینتالیس سال کی مہمانداری کا نفی ہوجائے گی۔ اس لئے مہاجرین کے انخلاء کے لئے جامع حکمت عملی بنائی جائے،ان کی واپسی کا شیڈول طے کیا جائے،یہ واپسی کا کیسا طریقہ ہے کہ ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے،بین الاقوامی برادری کو اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، تو یہ ساری چیزیں نیگوسئیشن سے طے ہو سکتی ہیں اور ہمیں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے، الیکشن سے قبل جے یو آئی کا وفد افغانستان گیا تھا،ہم وہاں پر ایک ہفتہ گذار کر کامیاب واپس آئے تو لیکن یہاں حکومت اتنی نااہل ہے کہ انہوں نے ان معاملات کی پاسداری نہیں کی،پاکستان اچھے کردار سے نیک نام ہوگا اس طرح کے کردار سے پاکستان کو آپ بیرونی دنیا میں کوئی اچھا نام نہیں دے رہے ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,241 просмотров • 1 год назад

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,674 просмотров • 8 месяцев назад

"ہائبرڈ نظام نجات کا واحد راستہ ہے۔تو اسی ہائبرڈ نظام نے تو یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ آپ کا وزیرِ داخلہ کہہ رہا ہے کہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے۔ اور یہ کولیپس کرنے کا جو اعتراف ہے، یہ تو کل ہم نے خود ان کے منہ سے سنا۔ ہم تو روزِ اول سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سسٹم عام آدمی کو ڈیلیور نہیں کر رہا۔ یہ سسٹم گلگت بلتستان سے لے کر کشمیر تک بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اس کے ثمرات آپ دیکھ رہے ہیں۔ اب آپ خود سوچیں کہ آپ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ سسٹم بیٹھ گیا ہے۔ زور، زبردستی اور دھاندلی سے بنایا ہوا یہ نظام ڈیلیور ہی نہیں کر رہا۔ اس نظام کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ان حساس معاملات کے اوپر فیصلے لے؟ تو ہم ان کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ آپ اس طرف آگے نہ بڑھیں۔ اگر اس طرف آگے بڑھیں گے، تو تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان آپ کے راستے میں کھڑی ہوگی۔ ہم اس کی ہر حد تک مخالفت کریں گے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی Hussain Ahmad yousafzai #زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو

PTI

14,626 просмотров • 1 месяц назад