正在加载视频...

视频加载失败

الارمنگ الرٹ 🚨 اب ڈلیوری کی باتیں یوں ویلاگ میں بتانا ضروری تھی کیا ہی بےحیا اور بے غیرت لوگ پائے گئے ہیں،،، ماشاءاللہ ڈالرز کے چکر میں روز پاکستانی قوم بے حیائ کیطرف نیا قدم اٹھاتے ہیں !!

75,111 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

🚨🚨 اپنے مُحسنوں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے جیل میں نوے روز مُکمل ہونے پر کُچھ یادیں اور باتیں تحریر کی ہیں: “آج نوے دن ہو گئے۔ میں نے دونوں کی نہ تو آواز سنی ہے اور نہ ہی شکل دیکھی ہے۔ نہ ہی ملاقات کر سکا ہوں۔ دونوں اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ ایمان مزاری خواتین کے لئے مختص حصے میں ایک چھوٹے سے سیل میں قید تنہائی گزار رہی ہے جب کہ ہادی علی چٹھہ مردانہ قیدیوں کے لئے مختص احاطہ میں ایک الگ تھلگ چھوٹے سے سیل میں قید تنہائی کاٹ رہا ہے۔ سوچتا ہوں دونوں بنیادی ضروریات سے محروم سارا وقت اپنے چھوٹے سے قید خانے کی دیواروں اور چھت کو دیکھتے ہوئے کیا سوچتے ہوں گے؟ ہم سب کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے کہ ہم نے انہیں کتنے آرام سے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ وہ دونوں سب کے لئے لڑے، بے جگری سے اور بے لوث لڑے لیکن آج یہ معاشرہ اتنا بانجھ ہے کہ ان کے لئے کہیں سے آواز نہیں آ رہی۔ وہ آواز جو ایوان ہلائے جو سب کچھ ہلائے۔” مُکمل آرٹیکل لِنک پر کلک کرکے پڑھیئے:

Asad Ali Toor

173,857 次观看 • 5 个月前

پراکسیز کی دکان اب بلوچستان میں بھی کھل گئ!!! ایران برسوں سے خطے میں فاطمیون، زینبیون اور دیگر مسلح گروہوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتا آیا ہے، اب سراوان کے علاقے گُشت سے سامنے آنے والی اس ویڈیو نے ان الزامات کی مزید تصدیق کردی ویڈیو میں ایک گرلز مڈل اسکول کے اندر مسلح افراد عسکری تربیت کرتے دکھائی دے رہے ہیں، مقامی رپورٹ کے مطابق یہ افراد زینبیون اور فاطمیون کے ہیں اور ویڈیو 20 ستمبر 2026ء کی ہے یرپورٹس صرف یہاں تک محدود نہیں؛ سیستان و بلوچستان کے متعدد علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون سے منسوب افراد کی تعیناتی، نقل و حرکت اور گشت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں بعض رپورٹس مقامی بسیج مراکز ان کے حوالے کیے جانے کا دعویٰ بھی کرتی ہیں، یعنی جو حکومت برسوں دوسروں کے ملکوں میں پراکسیز چلاتی رہی، وہ اب اپنے ملک میں بھی انہی پراکسیز کے سہارے کھڑی ہے اور اگر یہ سب محض معمول کی عسکری مشق ہے تو گرلز اسکول ہی کیوں؟ کیا ایرانی اسکولز میں یہ تعلیم دی جاتی؟ ایرانی عوام معاشی مشکلات اور ریاستی پالیسیوں پر پہلے ہی سوال اٹھاتے رہے ہیں، اوپر سے ستم یہ کہ مہنگائ یا بنیادی حقوق کے لئیے آواز اٹھانے پر ہزاروں مظاہرین کا اجتماعی قتل عام بھی کیا گیا جبکہ ماورائے عدالت پھانسیاں سیستان و بلوچستان میں پاسداران کے مظالم کی داستانیں اب دنیا کے سامنے ہیں اور حالیہ ایام میں سامنے آنے والی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہیکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا ہی جارہا ہے نیز ہمارے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر زینبیون اور فاطمیون کے حوالے ہماری سرحد پر سیستان و بلوچستان کو مضبوط کیا جارہا ہے تو اسکے اثرات ہماری طرف کیا ہونگے ؟ یاد رہے کہ زینبیون کو پاکستان میں کالعدم قرار دیا جاچکا ہے اور اس تنظیم کے متعدد ٹارگٹ کلرز اور تخریب کار اس وقت پاکستانی جیلوں میں اپنے جرائم کی سزا بھگت رہے آفتاب نذیر

Aftab Nazir

22,459 次观看 • 4 天前