Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

🚨🚨🚨 الرٹ میرپور آزاد کشمیر میں الیکشنز کے تاریخی ٹرن آؤٹ کو دیکھ کر کالعدم پارٹی سخت بھوکلاہٹ کا شکار ہے۔ اپنی مری ہوئی تحریک میں جان ڈالنے کے لیے وہ اسوقت لاشوں کے متلاشی ہیں تاکہ یہ ان پر گدھ بن سکیں۔ آج راولاکوٹ دریک میں کن کتروں...

21,383 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

پلندری کا یہ بندر آج سے کچھ سال پہلے دبئی ٹرک چلانے گیا لیکن وہاں یہ را کے ہتھے چڑھ گیا۔ را نے اس کو مینڈیٹ دیا کہ واپس جاؤ اور کشمیر میں آگ لگاؤ۔ اس نے عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں جان بھوج کر پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ اس کے نعروں میں پاکستان بھر میں بہت تشویش ہے لیکن پاکستانی سمجھدار قوم ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس جیسے چند بندروں کا کشمیر سے بھی کوئی تعلق نہیں، یہ ڈالروں کے لیے ماں بیچ چکے، اسلیے جس کسی نے بھی مذمت کی اس کی کی مگر پورے کشمیر کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ اس نے اپنا پلان چوپٹ ہوتا دیکھ دوبارہ سے بکواس شروع کر دی ہے تاکہ پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ کچھ برا ہو جس کو یہ اور اس کے ہندو باپ بیچ کر کھا سکیں۔ او پلندری کی کچی کھسری جو بکواس کرنی ہے کر تیرے دلے کے بہکاوے میں کسی نے نہیں آنا، پر ایک بات تہہ ہے اب ساری زندگی ادھر ہی سڑ۔ اب تم دبئی نہیں جا سکتے کیونکہ اس کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

17,793 görüntüleme • 1 yıl önce

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 görüntüleme • 9 ay önce

بریکنگ نیوز 🚨ڈاکٹر شہباز گل کی قوم سے بڑی اپیل، طاقتور لوگوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا کہے دیا۔ قوم کو مکمل ترکیب بھی بتادی 🔥🔥 اب ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان سب کا boycott کریں۔ یہ میں آپ کو کال دے رہا ہوں۔ پاکستانی عوام کے پاس آج سے حل یہ ہے کہ جب آپ کی بہنوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ عمران خان قوم کے لیے قیمت دے رہا ہے۔ بڑا آسان ہے اس کے لیے بھی نواز شریف بننا۔ وہ آپ سب کے لیے جیل کے اندر ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے اور آج اس کے دشمن بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے۔ تو پھر میں آپ سے یہ اپیل کرتا ہوں یہاں سے پرزور کہ آج سے، آج اکیس ستمبر سے آپ ہر قسم کی فوجی products کا boycott کریں۔ چاہے آپ CSD سے چیزیں خریدتے ہیں یا آپ ان کے چاول خریدتے ہیں یا آٹا خریدتے ہیں یا ان کا سیریل خریدتے ہیں یا آپ ان کی insurance یا آپ عسکری بینک یا آپ کوئی بھی ان کی یونیورسٹیاں، ان کے کالج، ان کے سکول، جو بھی ان کی products آپ استعمال کرتے ہیں۔ یا آپ انہیں اپنی شادیوں میں بلاتے ہیں یا آپ انہیں اپنی غمی پہ بلاتے ہیں یا خوشی پہ بلاتے ہیں یا یہ آپ کو بلاتے ہیں اور آپ جاتے ہیں، آپ ان کے شادی ہالوں کے اندر شادیاں کرتے ہیں، جو بھی آپ کا ان کے ساتھ کاروبارِ زندگی ہے اس کو آج سے معطل کریں، اس کا boycott کریں۔ ان کا social boycott کریں۔ عسکری بینک ہے تو وہاں سے اپنے پیسے نکلوائیں۔ ان کی کوئی insurance ہے تو وہاں سے insurance cancel کروا کے دوسری جگہ insurance کروائیں۔ ان کے عسکری بینک کے، ان کے جتنے بھی products یہ آپ کو بیچتے ہیں جو اصل میں ان کی life line ہے جس کے اوپر سے یہ پیسہ اکٹھا کر کے آپ پر یہ سارا ظلم کرتے ہیں، اس کو بند کریں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے بچے شاید باہر نکل کے نہیں مروا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ خود لاٹھی گولی نہیں کھا سکتے، آپ میں سے بہت سارے لوگ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی طرح، سری لنکا کی طرح، نیپال کی طرح ہمارے لوگ ابھی وہاں نہیں پہنچے کہ باہر نکلیں۔ تو پھر آپ سے میں صرف جو گزارش کر رہا ہوں وہ اتنی کر رہا ہوں کہ آپ یہ تو کر سکتے ہیں نا۔ میں جتنے بھی پاکستان تحریک انصاف کے social میڈیا کے volunteers ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ میری اس کال کے clip کاٹیں اور اس کو پھیلائیں کیونکہ جب یہ ہمارے گھروں کو نہیں چھوڑیں گے، گھر کی عورتوں کو نہیں چھوڑیں گے، کسی جگہ پر یہ نہیں رک رہے تو پھر ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم ان کا social boycott اب کریں۔ تو ان کی شادیوں میں جانا بند کریں، ان کی ہر ایسی جگہ پر جہاں سے انہیں تکلیف ہو سکتی ہے وہاں ان کا social boycott کریں، نہ انہیں اپنے گھروں پر بلائیں نہ ان کی طرف جائیں، ان کی سالگرہ، منگنی، شادی، جو بھی ان کی خوشی غمی ہے اس کا مکمل طور پر boycott کریں۔ جہاں پر ستائیس ستمبر کی بھرپور ہم نے تیاری کرنی ہے ساتھ ساتھ اس boycott کو بھرپور طریقے سے implement کریں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,212 görüntüleme • 11 gün önce

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,079 görüntüleme • 2 ay önce

صحافی کِیا بلوچ نے گزشتہ روز ہمارے ہفتہ وار پوڈکاسٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ عسکری قیادت ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی تھی لیکن مار رنگ سے بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی انوار کاکڑ نے عسکری قیادت کو گمراہ کرکے مذاکرات کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ اب کاکڑ اور ان کے ساتھی صحافیوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ نے مذاکرات سے انکاری تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماہ رنگ ہمیشہ سے مذاکرات کے لیے تیار رہی ہیں۔ دسمبر 2023 میں وہ کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ کرکے پہنچی تھیں تاکہ حکام کے ساتھ بات چیت کی جا سکے۔ جولائی 2024 میں گوادر میں بلوچ راجی مُچی کے دوران بھی انہوں نے بلوچستان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ آج بھی، جیل سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے ایکس (ٹوئٹر) پر چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے کارکنوں کو منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جائے۔ کاکڑ اور بگٹی جیسے لوگ چاہتے ہیں کہ ماہ رنگ ان کے سامنے سر جھکا دیں اور ان کے احکامات کی پابندی کریں۔ لیکن ان کی شخصیت اور اصول پسندی سے تو یوں ہی لگتا ہے کہ ماہ رنگ کبھی ان کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کریں گی۔

Ahmad Noorani

55,673 görüntüleme • 20 gün önce

سابق ایم این اے فہیم خان پر بدعنوانی اور سیاسی چالوں کے الزامات کراچی، [28 جنوری 2025] – سابق رکن قومی اسمبلی فہیم خان، جنہوں نے حال ہی میں الیکشن 2024 میں استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں اپنی نامزدگی کے کاغذات جمع کرائے ہیں، بدعنوانی، سیاسی چالوں اور زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ متعدد ذرائع کے مطابق، فہیم خان نے انتخابات سے پہلے استحکام پاکستان پارٹی (IPP) میں شمولیت کی کوشش کی۔ ان کے IPP کے عہدیداروں، بشمول محمود مولوی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں، مبینہ طور پر ریکارڈ کی گئی ہیں اور اس کی تصدیق دیگر جماعتوں نے بھی کی ہے۔ ان کی شمولیت کا اعلان کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن جب ISI کراچی کے باس سے اپروول لی گئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان کے لیے پی ٹی آئی میں زیادہ فائدہ مند ہیں اور انکی شمولیتی پریس کانفرنس رکوا دی گئی "میرے پاس IPP کے سندھ انفارمیشن سیکرٹری کی ایک آڈیو ریکارڈنگ ہے جو اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے، لیکن میں اس کو عوامی سطح پر پیش نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس میں میری آواز شامل ہے," ایک قریبی ذریعہ نے بیان دیا۔ خان کی سیاسی چالاکیوں کا سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) سے ایم این اے کی ٹکٹ کے لیے درخواست دی، جسے فریال talpur نے مسترد کر دیا، انہوں نے خان کے پچھلے رویے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ وہی شخص ہیں جنہوں نے ہم سے سینیٹ میں پیسے لئے اور پھر ہمارے خلاف آواز اٹھائی۔ خان کی شہرت مزید بدعنوانی کے الزامات سے متاثر ہوئی ہے، جن میں سینیٹ کے انتخابات کے دوران ووٹ بیچنے کا الزام بھی شامل ہے، جس کی حمایت علی موسیٰ گیلانی کی ویڈیو نے کی، جسے بعد میں "اسٹنگ آپریشن" قرار دیا گیا۔ کراچی بلدیاتی الیکشنز میں، فہیم خان پر انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ساز باز کرنے کے الزامات ہیں، خاص طور پر کورنگی کریک کے کینٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر ہارنے والے امیدواروں کو میدان میں اتارا تاکہ PPP کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ان کے مقامی حکومت کے انتخابات میں ملوث ہونے پر بھی تنقید کی گئی ہے، جہاں یہ رپورٹیں ہیں کہ انہوں نے جن امیدواروں کی حمایت کی، وہ انتخابات کے بعد اپنی وفاداریاں تبدیل کر گئے، جس کے نتیجے میں PPP کنٹرول حاصل کر لی۔ اس کے علاوہ، خان پر حکومت کے فنڈز کے غلط استعمال کا الزام ہے، انہوں نے وفاقی حکومت سے تقریباً 130 کروڑ روپے حاصل کیے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے 30-40% کمیشن اپنے پاس رکھے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی جانب سے خان کے خلاف بدعنوانی اور بھتہ خوری کی شکایات بھی درج کی گئی ہیں، جس کے ساتھ ایک بدعنوانی کا کیس KIA پولیس اسٹیشن میں زیر التوا ہے، جو سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے دبایا گیا۔ ان کے حلقے کے رہائشیوں نے خان کی جانب سے پانی اور سیوریج کی پائپ لائنوں کے منصوبوں کے لیے بھتے لینے کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے، یہ دعویٰ ان کے حلقے میں ایک عام راز کی طرح معروف ہے۔ مزید برآں، خان کا زمینوں پر قبضے کی سرگرمیوں میں راجہ اظہر اور راجہ آصف کے ساتھ تعلقات ہیں، جن کے بارے میں رپورٹس ہیں کہ انہوں نے مقامی شادی ہالوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے بھتہ لینے میں تعاون کیا۔ راجہ آصف کا حالیہ پیپلز پارٹی میں شامل ہونا ایک سوالیہ نشان ہے، کیونکہ یہ ان کے جاری غیر قانونی کاموں کو مستحکم کرتا نظر آتا ہے۔ ان الزامات کے مضمرات خان کی سیاسی زندگی اور متعلقہ جماعتوں کے لیے اہم نتائج پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ای سی پی ان کے نامزدگی کے کاغذات کا جائزہ لے رہا ہے۔ جیسے جیسے یہ صورت حال ترقی پذیر ہے، فریقین اور حلقے کے رہائشیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کراچی میں ابھرتے ہوئے سیاسی حالات سے باخبر رہیں۔

Adil Raja

202,210 görüntüleme • 1 yıl önce