Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں! امریکا ایران جنگ میں تیزی سے تنہا ہوتا جا رہا ہے نا صرف یورپ میں، نیٹو میں، بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی جہاں یہ جنگ ہر گزرتے دن کے ساتھ غیرمقبول ہوتی جا رہی ہے آج امریکی عوام کی اکثریت جنگ مخالف ہوچکی...

29,993 views • 5 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

صدر ٹرمپ تھکے ہوں یا نہیں امریکی عوام ایران جنگ سے تنگ آرہے ہیں اور اس جنگ کو مسترد کررہے ہیں تازہ سرویز بتاتے ہیں کہ زیادہ تر امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔ ادھر میدانِ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی شدید فضائی کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت اور معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے باوجود ایران کی ریاستی ساخت اور قیادت بدستور قائم ہے۔اسی دوران جنگ کی شدت میں بھی کچھ کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ جنگ اب اپنے زور سے محروم ہو رہی ہے؟آج کے On My Radar میں اہم موضوع پر گفتگو کریں گے پاکستان کے تجربہ کار سفارتکار اور امریکہ و چین میں سابق سفیر مسعود خان اور عالمی مالیات کے ماہر اور سابق انویسٹمنٹ بینکر یوسف نذر۔دونوں مہمان اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امریکی عوام کی رائے کیوں بدل رہی ہے، جنگ کے معاشی اثرات کیا ہوں گے اور کیا آخرکار واشنگٹن اور تہران کو سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا؟مکمل گفتگو دیکھنے کے لیے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

33,612 views • 6 months ago

پاکستان ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جو طالبان کبھی پاکستان کے قریب ترین اتحادی سمجھے جاتے تھے، آج وہی پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ سرحد پار فضائی حملے، سخت بیانات اور تمام سیاسی قیادت کی غیر معمولی یکجہتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاست سمجھتی ہے کہ اب سرخ لکیر عبور ہو چکی ہے۔یہ صرف بیرونی جنگ نہیں، پاکستان اندرونِ ملک دہشتگردی اور شورش کے خلاف بھی ایک شدید جنگ لڑ رہا ہے، جس کی جڑیں افغانستان سے جڑی بتائی جا رہی ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ یہ تعلق کہاں اور کیسے ٹوٹا؟ آج کے On My Radar میں اس جنگ اور بدلتے سیکیورٹی منظرنامے پر نہایت گرم اور فکر انگیز گفتگو کی گئی ہے۔ پروگرام میں ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز ملک اور سینئر صحافی و مصنف زاہد حسین کھل کر تجزیہ کرتے ہیں۔مکمل اور تفصیلی گفتگو کے لیے On My Radar کی مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں۔

Kamran Khan

34,513 views • 6 months ago

جنگ اب صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں ہے ایک خطرناک نیا محاذ کھل چکا ہے۔ ایران کی جانب سے سینکڑوں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں نے خلیج کی ریاستوں یو اے ای، سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین کو براہِ راست جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات قطر کے حساس علاقوں، بندرگاہوں، ایئرپورٹس اور سعودی عرب کی اہم آئل تنصیبات بحرین کی رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے سے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ میں آ گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ایران اس محاذ کو کھول کر خود کو عرب دنیا سے مستقل دوری کی طرف لے جا رہا ہے؟ اور کیا اس کے نتیجے میں ایران کی عالمی معیشت میں واپسی اور اقتصادی بحالی کا راستہ مزید مشکل ہو جائے گا؟آج کے On My Radar میں ان اہم سوالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں میرے ساتھ شریک ہیں پاکستان کے سابق سفیر اور سینئر سفارتکار عبدالباسط اور AGP لمیٹڈ کے سی ای او کامران ناصر جو امریکہ ایران جنگ کے سفارتی اور معاشی اثرات کا گہرا تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔مکمل تجزیہ دیکھنے کے لیے On My Radar کا پورا وی لاگ دیکھیں اور نیچے دیے گئے YouTube لنک پر کلک کریں.

Kamran Khan

39,201 views • 6 months ago

مغربی مبصرین کی اکثریت کے تجزیات کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی فوجی اور قومی قوت کو غلط پڑھ لیا؟ اور چار دن کی جنگ نے وہ مفروضہ توڑ دیا ہے کہ ایران دباؤ میں ٹوٹ جائے گا۔ 9 کروڑ ایرانی عوام پہلے سے زیادہ متحد نظر آ رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی منصوبہ بندی جسے “تیز اور فیصلہ کن کارروائی” سمجھا جا رہا تھا، اب طویل اور غیر یقینی جنگ میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ایران نے نہ صرف خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنایا بلکہ توانائی کے محاذ پر بھی عالمی معیشت کی شہ رگ کو دبا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال، تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ، اور گلف ریاستوں پر بڑھتا دباؤ اس جنگ کو عالمی معاشی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔آج کے on my radar میں ہمارے ساتھ ہیں سابق قومی سلامتی مشیر اور سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور IQI سنگاپور کے چیف اکانومسٹ شان سعید، جو اس جنگ کے فوجی، اسٹریٹجک اور معاشی پہلوؤں کا گہرائی سے تجزیہ کریں گے۔مکمل تجزیہ دیکھنے کے لیے آج کا On My Radar ضرور دیکھیں اور یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

160,028 views • 6 months ago

انتہائی سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے بظاہر پاکستان اس وقت ایک خطرناک جغرافیائی بھنور میں پھنس رہا ہے۔ایک طرف بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات غیر معمولی تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ تجارت تقریباً ختم ہو چکی ہے، سفارتی رابطے منقطع ہیں اور سرحدی کشیدگی اپنی انتہا پر ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر نے اندرونی سلامتی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔تیسرا اور سب سے خطرناک محاذ ایران ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کو انسانی بحران، مہاجرین کے دباؤ اور معاشی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آج On My Radar میں سینیئر سیاستدان اور خارجہ امور کے ماہر مشاہد حسین سید ان تمام علاقائی خطرات پر گہرا اور بے لاگ تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔مکمل اور تفصیلی تجزیہ کے لیے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

37,126 views • 6 months ago

ایران کی جنگ اب اپنی بقاء کی جنگ ہے مسلسل امریکی اور اسرائیلی بمباری نے ایران کے فوجی اور معاشی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، مگر اس کے باوجود بچی کھچی ایرانی ریاست پوری قوت سے لڑ رہی ہے ہار ماننے کے بجائے ایک طویل اور مہنگی جنگ کی حکمت عملی اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیجی ریاستوں میں بھی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اسی دوران عرب ممالک میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ دہائیوں سے امریکی سیکیورٹی نظام پر انحصار کرتے آئے تھے، مگر اب وہی نظام ان کے لیے خطرے کا باعث بنتا دکھائی دے رہا ہے۔آج کے On My Radar میں ہم جائزہ لیں گے کہ کیا ایران واقعی کمزور ہو رہا ہے یا یہ جنگ خطے کی طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔اس اہم بحث میں میرے ساتھ شامل ہیں ایئر مارشل (ریٹائرڈ) ارشد ملکسابق وائس چیف آف ایئر اسٹاف پاکستان ایئر فورس، اور مفتاح اسماعیل، معروف ماہرِ معاشیات اور سابق وزیر خزانہ پاکستان۔ان کی بصیرت افروز گفتگو سننے کے لیے آج کے On My Radar کا مکمل episode دیکھیں۔ مکمل تجزیہ جاننے کے لیے نیچے دیے گئے YouTube لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

34,129 views • 6 months ago

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو “پتھر کے دور میں دھکیلنے” کی دھمکی دے کر دنیا کو ہلا دیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اب ان کی بات پر کوئی یقین کرتا ہے؟ گزشتہ 24 گھنٹوں میں جنگ ختم کرنے کے دعوے اور پھر نئی دھمکیاں—یہ تضاد عالمی سطح پر بے چینی بڑھا رہا ہے۔دوسری جانب ایران نے سخت مزاحمت دکھائی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کی فوجی طاقت کو نقصان پہنچا ہے اور انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ آنے والے دن ایران کے لیے مزید مشکل اور طویل ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ خطہ پہلے ہی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔اسی دوران سفارتی راستے مکمل بند نہیں ہوئے اور پاکستان مذاکرات کے ممکنہ مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔کیا یہ واقعی جنگ کا اختتام ہے… یا ایک اور خطرناک دھوکہ؟ آج کے On My Radar میں میرے ساتھ موجود ہیں ایئر وائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری، جو اس صورتحال کا گہرا، مدلل اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتے ہیں۔مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

15,637 views • 5 months ago

مذاکرات کی باتیں بہت مگر باقاعدہ مذاکرات ابھی کہیں دور ہیں اس کے برعکس امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شدت اختیار کر رہی ہے، مگر پھر بھی پس پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان indirect negotiations میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔اس کے باوجود زمینی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں، جس نے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات اور درآمدی بل کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔آج کے On My Radar میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح انداز میں کہا کہ یہ جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی اور اس کا واحد حل مذاکرات ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران عالمی سمندری قوانین کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں پر کوئی پابندی یا ٹیکس عائد نہیں کر سکتا، اور پاکستان کو فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا ہوگا تاکہ عالمی جھٹکے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ OMR مکمل شو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

14,804 views • 5 months ago

بیشک انٹرنیشنل میڈیا بشمول امریکی میڈیا گزشتہ تین مہینوں سے جاری امریکہ ایران جنگ کے فوجی محاذ پر ایران کو فاتح قرار دے رہا ہے اب اصل مقابلہ دوحہ میں مذاکرات کی میز پر جاری ہے، وہاں بھی اب بظاہر ایران مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی جاری ہے ، آبنائے ہرمز پر ایرانی غلبہ اور مستقل آمدن کا زریعہ تسلیم کیا جارہا ہے ایران کی مرضی کے مجوزہ معاہدے پر اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہیں ۔ اسی دوران ہرمز میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ، عالمی توانائی کی سلامتی اور تیل کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کیا یہ مستقل امن کی بنیاد بنے گا یا صرف ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگا؟ آج On My Radar میں انہی اہم سوالات کا جامع تجزیہ۔ پروگرام میں پاکستان کی ممتاز سفارتکار، سابق مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ اور امریکا و برطانیہ میں سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا خصوصی اور بصیرت افروز انٹرویو بھی شامل ہے۔ مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے OMR کے یوٹیوب لنک پر ضرور کلک کریں۔

Kamran Khan

19,211 views • 2 months ago

دنیا کی معیشت گھٹنوں پر آ رہی ہے؟امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران نے دنیا کی اہم ترین آبی گزر گاہ Strait of Hormuz کو بند کردیا ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں ، خلیج کے اہم تجارتی راستوں میں خطرات اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی نے عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔آج کے On My Radar میں ہم جائزہ لیتے ہیں کہ یہ جنگ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی، تجارت اور مالیاتی نظام کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔اس اہم گفتگو میں میرے ساتھ شامل ہیں دو ممتاز ماہرین: ڈاکٹر سلمان احمد — فیڈیلیٹی کے گلوبل ہیڈ آف میکرو اینڈ اسٹریٹجک ایسیٹ ایلوکیشن اور شان سعید — چیف اکنامسٹ آئی کیو آئی سنگاپور دونوں مہمانوں نے اس بحران پر انتہائی بصیرت افروز اور دور اندیش تجزیہ پیش کیا۔مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے آج کے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

21,815 views • 5 months ago

پاکستانی معیشت پر جنگ کا خطرناک وار!امریکا، اسرائیل اور ایران کی بڑھتی ہوئی جنگ نے پاکستان کی معیشت کو بری طرح جھنجھوڑ دیا ہے۔ عالمی آئل مارکیٹ میں ہلچل، تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ اور ہرمز کی آبنائے کے گرد غیر یقینی صورتحال نے پاکستان جیسے درآمدی معیشت کو خطرناک دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج ہفتے میں دو بار بری طرح کریش کر گئی، روپے پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد مہنگائی کا نیا طوفان سر اٹھا رہا ہے۔اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلتا ہے تو پاکستان کو نہ صرف بڑھتے ہوئے امپورٹ بل بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی قدر اور بیرون ملک سے آنے والی remittances پر بھی سنگین دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہی وہ خطرناک منظرنامہ ہے جو پاکستان کی نازک معیشت کو ایک اور بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ آج کے On My Radar میں اس بڑے معاشی بحران کے تمام پہلوؤں پر گہرا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں سابق وزیر خزانہ اسد عمر اور سینئر معاشی صحافی شہباز رانا نے پاکستان کی معیشت کو درپیش اس مشکل ترین صورتحال پر نہایت بصیرت افروز تجزیہ اور اہم پیش گوئیاں پیش کی ہیں۔مکمل تجزیہ سننے کے لیے آج کے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

22,212 views • 5 months ago

مغربی فوجی ماہرین کو یقین تھا ایران کی فوجی اور عوامی مزاحمت چند دنوں میں ٹوٹ جانے کا یقین تھا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایران نہ صرف ڈٹا ہوا ہے بلکہ بھرپور جواب دے رہا ہے، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ تیسرے دن میں داخل ہو چکی ہے، مگر وہ تمام اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں ایران کا امریکہ اسرائیل کو بھر پور جواب دینے کے اثرات اب عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور اسٹاک مارکیٹس تک پہنچ چکے ہیں۔آج کے On My Radar میں اس نازک صورتحال پر گہری اور بصیرت افروز گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں سابق دفاعی سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لو دھی نے جنگی اور اسٹریٹیجک پہلوؤں کا تجزیہ پیش کیا، جبکہ سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے سفارتی محاذ، عالمی ردِعمل اور ممکنہ سیاسی نتائج پر روشنی ڈالی۔اس گفتگو کا ایک اہم پہلو ایران میں سپریم لیڈر کے جانشین کا سوال بھی تھا۔ زیرِ بحث آیا کہ کیا قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی ایک نسبتاً معتدل راستہ اختیار کرتے ہوئے ایران کو معاشی بحالی اور عالمی برادری سے دوبارہ جڑنے کی طرف لے جا سکتے ہیں؟ مکمل اور تفصیلی تجزیے کے لیے On My Radar کی مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

94,993 views • 6 months ago

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 views • 8 months ago

پاکستان کی معیشت ایک نئے اور خطرناک طوفان کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اگر امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو اس کے جھٹکے براہِ راست پاکستان کی معیشت کو ہلا سکتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ، بڑھتے شپنگ اخراجات اور روپے پر دباؤ پاکستان کے لیے ایک بڑے معاشی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ہر گزرتا ہفتہ مہنگائی میں اضافہ، ایندھن کی قیمتوں میں ممکنہ بڑا جھٹکا اور عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ لا سکتا ہے۔ آج کے On My Radar میں اسی سنگین خطرے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ میرے ساتھ گفتگو میں شامل ہیں معروف معاشی تجزیہ کار خرم حسین اور سابق وزارتِ خزانہ کے عہدیدار اور ماہرِ معیشت خاقان نجیب، جنہوں نے نہایت بصیرت افروز اور اہم تجزیہ پیش کیا۔ مکمل اور گہرائی سے سمجھنے کے لیے On My Radar کا پورا پروگرام دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے YouTube لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

26,823 views • 5 months ago

امریکہ اسرائیل ایران جنگ کا اینڈ گیم شروع ہو گیا ہے ایک ماہ طویل جنگ اب اپنے اختتام کے قریب ہے؟گزشتہ 48 گھنٹوں میں حالات نے اچانک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا ہے کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل سکتا ہے چاہے کوئی ڈیل ہو یا نہ ہو۔ یہ بیان خود اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب جنگ کو سمیٹنے کے موڈ میں ہے۔ساتھ ہی ٹرمپ نے سیز فائر کو آبنائے ہرمز کی بحالی سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ ایران نے پہلی بار مشروط لچک دکھائی ہے۔ یوں ایک ماہ سے جاری یہ خطرناک جنگ شاید اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔پسِ پردہ پاکستان کی سفارتکاری اہم کردار ادا کر رہی ہے، جو فریقین کو قریب لانے کی کوشش کر رہی ہے۔آج کے On My Radar میں میرے ساتھ ہیں باقر سجاد سید، ممتاز صحافی اور اسٹریٹیجک و عسکری امور کے ماہر، جو پیش گوئی کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کل اپنے خطاب میں ایران جنگ کے خاتمے کا واضح پلان دیں گے۔مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے آج کے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

30,230 views • 5 months ago