正在加载视频...

视频加载失败

امریکہ سے دس ارب ڈالر لینے کی خبریں، حکومت کا پلان کیا ہے۔ موجودہ معاشی حالات اور مہنگائی سے عوام تنگ ہیں ، کیا حکومتی شخصیات مہنگائی کے مسئلے اور اسے کے حل پر آپس میں بات کرتی ہیں؟ وزیراعظم کے معاشی امور پر کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل سے گفتگو۔

14,819 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 次观看 • 7 个月前

بنوں میں امن کی آواز اٹھانے والے پر امن لوگوں پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ ناقابلِ یقین اور افسوسناک عمل ہے پتا نہیں طاقتور حلقے ملک کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں، آپریشنز اور جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہیں یہ مسئلوں کا حل کیا دیں گے، عمران خان نے بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی ہمیشہ سے مخالفت کی ہے اور معاملات کے سیاسی حل اور بات چیت کے حامی رہے ہیں، عمران خان نے 9/11 کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کی سی این این پر تب مخالفت کی تھی جب جنرل مشرف سمیت پوری دنیا امریکہ کے آگے لیٹ گئی تھی، 'وار آن ٹیرر' کے نام پر اس جنگ سے پاکستان کی اکانومی کو تقریباً 100 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ایک لاکھ سے زیادہ شہادتیں ہوئیں اور امریکہ نے کھربوں ڈالرز گنوا کر 20 سال بعد پھر وہی کام کیا جو عمران خان نے بتایا تھا یعنی مذاکرات کر کے امریکہ اور نیٹو افغانستان سے نکلے۔ عمران خان کی اسی پالیسی کیوجہ سے خیبرپختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت میں دہشت گردی کا تقریباً خاتمہ ممکن ہوا جس میں خیبرپختونخواہ حکومت کو عوام کا تعاون حاصل تھا، عوام کے تعاون کے بغیر کہیں بھی امن و امان قائم نہیں کیا جا سکتا ہے، فارم 47 کی وفاقی حکومت اور اس کے ھینڈلرز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے اور نہ انہیں آپریشنز اور جنگ کی تباہ کاریوں کا احساس ہے کیونکہ ان تمام لوگوں کے کاروبار اور جائیدادیں ملک سے باہر پڑی ہوئی ہیں اور استحکام کے نام پر آپریشن اور تباہی پھیلا کر ڈالرز جمع کر کے یہ سب ملک سے باہر بھاگ جائیں گے اور عوام دربدر ہو جائے گی اسی وجہ سے عمران خان نے جیل سے اس مرتبہ بھی خیبرپختونخواہ میں کسی بھی قسم کے آپریشن اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے اور ملک کی 95 فیصد عوام کو عمران خان پر اعتماد ہے۔ #BannuBleed #BannuAmanMarch #UndeclaredMartialLaw

Qasim Khan Suri

28,531 次观看 • 2 年前

آج کشمیر، میرپور اور کوٹلی سے وفد آیا۔ وفد نے مجھے کشمیر کی صورتِ حال پر بریف کیا۔ بہت افسوس ہے کہ کشمیر میں جانی نقصان ہوا ہے اور وہاں بحران ہے۔ میری وفد سے جتنی بات ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ کشمیری پاکستان سے بہت محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے، وہاں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسائل افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔ جو معاہدہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہوا تھا، اس پر عمل کیا جائے۔ موجودہ صورتِ حال سے متعلق معاملات مفاہمت، مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے چاہییں۔ کشمیری ہم سے بھی زیادہ اچھے پاکستانی ہیں اور وہ ہم سے زیادہ پاکستان کے لیے درد رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسمبلی میں، میں نے اور اپوزیشن لیڈر نے کشمیر کی صورتِ حال پر بات کی۔ ہم کشمیر کا دورہ بھی کریں گے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔

Asad Qaiser

30,936 次观看 • 3 个月前

صدر ٹرمپ تھکے ہوں یا نہیں امریکی عوام ایران جنگ سے تنگ آرہے ہیں اور اس جنگ کو مسترد کررہے ہیں تازہ سرویز بتاتے ہیں کہ زیادہ تر امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔ ادھر میدانِ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی شدید فضائی کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت اور معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے باوجود ایران کی ریاستی ساخت اور قیادت بدستور قائم ہے۔اسی دوران جنگ کی شدت میں بھی کچھ کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ جنگ اب اپنے زور سے محروم ہو رہی ہے؟آج کے On My Radar میں اہم موضوع پر گفتگو کریں گے پاکستان کے تجربہ کار سفارتکار اور امریکہ و چین میں سابق سفیر مسعود خان اور عالمی مالیات کے ماہر اور سابق انویسٹمنٹ بینکر یوسف نذر۔دونوں مہمان اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امریکی عوام کی رائے کیوں بدل رہی ہے، جنگ کے معاشی اثرات کیا ہوں گے اور کیا آخرکار واشنگٹن اور تہران کو سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا؟مکمل گفتگو دیکھنے کے لیے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

33,612 次观看 • 6 个月前

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 次观看 • 6 个月前